اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان
۲۰۲۵ء میں سامنےآنے والے چند تکلیف دہ واقعات سے انتخاب
بین الاقوامی انسانی حقوق ڈیسک کی بنیاد حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے رکھی تا کہ پاکستان اور دنیا بھر کے احمدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کو ریکارڈ کیاجا سکے ، اس کاجائزہ لیا جاسکے اور ان کا سدباب کرنے کی کوشش کی جا سکے۔اس ڈیسک کے کام کی بنیاد انسانی حقوق کے اس ڈھانچے پر قائم ہے جس کی آگہی ہمیں انصاف کے متعلق اسلامی تعلیمات،عزت و تکریم،مذہبی آزادی ،عقائد اور ضمیر کی آزادی میں ملتی ہے۔
۲۰۲۵ء میں اس ڈیسک نے قانون کا سہارا لے کر کیے جانے والے امتیازی سلوک ،معاشرتی مقاطعہ اور جماعت احمدیہ کے افراد کو ظلم و ستم کا نشانہ بنائے جانے کے باوجود اپنا کام جاری و ساری رکھا۔علاوہ ازیں انتہائی جانفشانی کے ساتھ گہرائی میں جا کر حاصل کی جانے والی دستاویزات ،تحقیقات اور استدلالوں کے ذریعے اس ڈیسک نے ان تمام تر پیش رفت کو وسیع تر قانونی،سیاسی اور معاشرتی حالات کے دائرے میں رکھا تاکہ ایک انسانی حقوق سے متعلق ایک ایسا اصولی نقطہ نظر وضع کیا جاسکے جو کہ کسی بھی ملک اور جماعت کی حد سے بالاتر ہو۔
اپنے امام کے ارشاد کی اطاعت میں ہم، احمدی مسلمان، اپنے اوپر ہونے والے ظلم و زیادتی کا بدلہ نہیں لیتے اور نہ ہی پر تشدد کارروائیوں کا سہارا لیتے ہیں۔بلکہ ہم ان سب کا جواب امن سے دیتے ہیں اور یہی وہ تعلیم ہے جو ہمارا مذہب اسلام ہمیں دیتا ہے۔
سنہ ۲۰۲۵ء میں یہ محرکات ایک ایسی سمت کی طرف گامزن ہوئے جس نےاحمدیوں کی زندگی کے ہر پہلو کو بری طرح متاثر کیا۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی احمدی کی شناخت کے ظاہر ہو جانے کا مطلب ممکنہ طور پر اس کے کسی بھی سنگین خطرے سے دوچار ہونا بن گیا۔
۱۰؍اکتوبر کو جمعہ کی نماز سے کچھ ہی دیر پہلے جماعت احمدیہ کے مرکز ربوہ میں احمدیہ مسجد مہدی کے باہر ایک حملہ آور نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ حملہ آور صبح کے وقت اپنی گاڑی میں آیا اور گاڑی کو گول بازار میں مسجد کے قریب ہی کھڑا کیا۔ اور پھر تقریبا ایک بجکر تئیس منٹ پر اس نے مسجد کے باہر ڈیوٹی پر مامور افراد اور ایک قریبی حفاظتی پوسٹ پر حملہ کر دیا۔ ۸ افراد جماعت اس حملے میں زخمی ہوئے ۔جبکہ مسجد میں موجود دیگر نمازیوں کو باحفاظت مسجد سے نکال لیا گیا۔ حملہ آور جوابی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا ۔بعدازاں پولیس نے حملہ آور اور اس کے اسلحہ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔اس واقعہ کے بعد مذہبی شخصیات نے جماعت احمدیہ پر ہی یہ شکوک و شبہات ظاہر کرنے شروع کر دیے کہ انہوں نے خود ہی کسی شخص کو اپنے عزائم پورے کرنے کےلیے استعمال کیا ہوگا۔
یہ حملہ پاکستان میں عرصہ دراز سے احمدیوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنائے جانے،احمدیوں کے حقوق کی پامالی اور احمدیوں کی طرف اس متشددانہ رویے کو عیاں کرتا ہے جس سے سنہ ۲۰۲۵ء بھرا پڑا ہے۔ یہ واقعہ ریاست کی جانب سے تحفظ کی عدم فراہمی کو بھی واضح کرتا ہے کیونکہ جماعت کو اپنی حفاظت کے لیے بھی اپنے ہی نوجوانوں پر انحصار کرنا پڑتاہے۔ ساتھ ہی اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ جماعت احمدیہ کو اپنی روزمرہ کے مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے بھی کس قدر مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایسے متشدد معاشرے میں جو کہ احمدیوں پر حملوں کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے احمدیوں پر حملہ کرنا کس قدر آسان ہے ۔ ربوہ پاکستان میں جماعت احمدیہ کا مرکز ہے اور اس کی اکثریت آبادی احمدی ہی ہے۔ لیکن وہاں بھی احمدی محفوظ نہیں ہیں تو اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ملک بھر میں احمدی کس قدر عدم تحفظ اور نفرت انگیزی کا شکار ہیں۔
احمدیہ مساجد پر حملے جماعت احمدیہ سے معاشرتی مقاطعہ کا ایک مخصوص پہلو بن کر ابھرے ہیں۔اس سال کا آغاز ہی ڈسکہ کلاں ضلع سیالکوٹ میں جماعت احمدیہ کی ایک انتہائی تاریخی مسجد کو مسمار کرنے سے ہوا اور اس حملے کا جواز یہ بتایا گیا کہ یہ مسجد تجاوزات کی زد میں آتی ہے۔اس عمل نےایک ایسے سال کی جھلک پہلے سے ہی دکھا دی جس میں بالخصوص پنجاب میں اکیس(۲۱) احمدیہ مساجد پر حملہ کر کے انہیں مسمار کرنے کی کوشش کی گئی ۔ان کے مینا ر اور محراب توڑے گئے ،چھتوں کو نقصان پہنچایا گیا اور زبردستی ان کی وضع قطع میں تبدیلی کردی گئی ۔
تحریک لبیک پاکستان اور اسکی حامی مولویوں کے منظم گروہ کسی بھی سرکاری حکم نامے کی عدم موجودگی کے باوجود احمدیہ مساجد کے خلاف شورش برپا کرنے میں سر فہرست رہے۔ اور پولیس اور مقامی انتظامیہ نے بھی اپنی قانونی ذمہداریاں پوری کرنے کے بجائے ان گروہوں کی جانب سے فرقہ وارانہ بنیادوں پر کی جانے والی درخواستوں کو فوقیت دی ۔کئی مواقع پر احمدی نمازیوں کو ناجائز حراست میں لیا گیا، مخالفین کے تحفظات کو دور کرنے کےلیے احمدی عہدیداران کو گرفتار کیا گیا اور ان ناجائز قانونی کارروائیوں کو ریکارڈ کرنے کی کوششوں کو روک دیا گیا۔
۲۰۲۵ء کے رمضان میں جماعت احمدیہ کے پرامن طریق سے اپنے عقائد پر عمل کرنے میں روکنے کے ریاستی عزائم واضح ہوگئے۔احمدیوں کو ملک کے مختلف صوبوں میں پورے ماہ رمضان اور بعد کے دنوں میں منظم طریق پر گھیراؤ،جھوٹے مقدمات اور زبردستی نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔
۲۸؍فروری کو ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں چاردیواری کے اندر قائم ایک مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کرتے وقت ۲۲؍افراد جماعت کو حراست میں لیا گیا جن میں بچے بھی شامل تھے۔ آنے والوں ہفتوں میں ملک بھر میں مختلف کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔ان اطلاعات میں پولیس کی جانب سے نگرانی،مساجد کو سیل کرنا،نمازیوں کو زبردستی منتشر کرنا،احمدیوں کے خلاف مخصوص دفعات کے تحت مقدمات درج کرنا اور نمازیوں کو حفاظتی تحویل میں لینا شامل ہیں۔ اس کے برعکس مخالفین احمدیت کو کسی بھی ایسی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
قانون نافذکرنے والے اداروں نے فرقہ وارانہ دباؤ سے بچنے کے لیے اس مقدس مہینے میں بار بار نماز جمعہ کے دوران احمدیوں کو گرفتار کیا،ان کے ساتھ تحقیر آمیز سلوک کیا اور انہیں مختلف مقدمات میں گرفتار کیا۔ نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی کا یہ عمل ماہ اپریل سے ماہ جولائی تک جاری رہا۔
ملک بھر کے بیس(۲۰) اضلاع میں نماز عید کے ادائیگی میں روکاوٹ اور ۱۵۲ ایسے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئیں جن میں احمدیوں کو قربانی سے روکا جانا،ان کے ساتھ نامناسب رویہ ،قربانی کے جانوروں کی ضبطی اور زبردستی تحریری حلف ناموں پر دستخط کروانا شامل ہیں۔
ریاست کی جانب سے احمدیوں کی مذہبی رسومات کی ادائیگی میں مداخلت ماہ رمضان کے علاوہ عید اور بطور خاص عید الاضحی پر بھی نظر آئی ۔جس کے باعث ایک بار پھر پاکستان میں احمدیوں کا مذہبی فرائض ادا کرنا ریاست کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے شروع کی جانے والی ایک مہم ملک گیر مہم بن گئی جس میں انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ احمدیوں کو نماز عید کی ادائیگی ،جانوروں کی قربانی اور کسی بھی ایسے کام سے روکا جائے جو کہ اسلام سے منسوب ہے۔ اسی طرح کے مطالبے تحریک لبیک پاکستان اور مقامی بار ایسوسی ایشنوں کی جانب سے کیے گئے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے ان مطالبات کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئےاحمدی عہدیداران کو طلب کیا اور ان سے زبردستی حلف نامے لکھوائے،ضمانتی مچلکے بھروائے،مساجد کو سیل کردیا،نمازوں کے اوقات تبدیل کروائےاور جانوروں کی قربانی کے متعلق مقدمات درج کیے۔
۲۰۲۵ء میں ہونے والی قانونی کارروائیوں نے احمدیوں کی مذہبی زندگی کو مزید تنگ کر دیا۔ ۲۴؍دسمبر کو مبارک ثانی ثانی کے مقدمے کے فیصلے نے اس بات کو واضح کر دیا کہ کیسے افراد جماعت احمدیہ کی ذاتی نوعیت کی سرگرمیوں پر بھی سخت سزا دینے کے لیے توہین مذہب اور احمدیت مخالف قانونی دفعات لگا دی جاتی ہیں۔ ایک ایڈیشنل سیشن عدالت نے مبارک ثانی کو ایک تقریب کے دوران تفسیر صغیر (قرآن کریم کی احمدیہ نقظہ نظر سے کی گئی تفسیر) بچوں میں تقسیم کرنے کے جرم میں ۲۹۵۔بی کے تحت عمر قید اور ۲۹۸۔سی کے تحت اضافی تین سال کی قید کی سزا سنا دی۔
اس مقدمے کی سماعت کا آغاز سے اختتام تک جائزہ لینے پر یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ایسے مقدمات کی سماعت میں کس قدر قانو نی سقم موجود ہیں جن میں توہین مذہب کے الزامات شامل ہوتے ہیں۔ فروری ۲۰۲۴ء میں سپریم کورٹ نے آرٹیکل ۱۲(۱) کے تحت انہیں عبوری ضمانت دے دی اور آرٹیکل ۲۰ کے تحت محدود پیمانے پر ذاتی طور پر احمدیوں کی مذہبی آزادی کو تسلیم کیا ۔اس توجیح نے مذہبی اور سیاسی عناصر کی جانب سے ایک ناقابل برداشت دباؤ کو جنم دیا۔ اس کے بعد اس فیصلے پر نظر ثانی کا عمل شروع ہوا۔مذہبی اداروں نے مداخلت کی اور نتیجۃً ذاتی زندگی میں مذہبی آزادی والی سطور کو خارج کر دیا گیا۔عدالت کی جانب سے بعد میں آنے والے فیصلے میں مخصوص مذہبی افکار کو اپنالیا گیا اوراحمدیوں کو آئین پاکستان میں دی گئی پہلے سے ہی محدودآزادی کو مزید محدود کردیا۔
اس مقدمے کے فیصلے کے نتائج منفی نکلے۔ اس نے احمدیوں کی ذاتی زندگی میں تحفظ کے احساس کو مزید کم کر دیا، توہین کے مقدمہ نیز مذہبی زبان اور تحریرات کے استعمال کو جرم کا ثبوت قرار دیا۔اوراس میں ظہیر الدین بمقابلہ ریاست والے مقدمے پر بھی انحصار کیا گیا۔ مجموعی طور پر اس فیصلے کی رو سے احمدیوں کے حقوق نہ صرف مشروط ہیں بلکہ کم بھی کیے جا سکتے ہیں اور ساتھ ہی جماعت احمدیہ کو ایک ایسے آئینی بحران کا بھی شکار کر دیا جس میں بیرونی دباؤ کے نتیجے میں احمدیوں پر ناجائز قانونی دھونس بھی جمائی جا سکتی ہے۔
ایک افسوسناک منظر دسمبر کے اوائل میں آئینی سطح پر اس وقت دیکھنے کو ملا جب ۲دسمبر کو پارلیمان نے اقلیتوں کے حقوق کے لیے ایک قومی اقلیتی کمیشن کی بنیاد رکھی لیکن اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ احمدی اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہوں گے ۔ پارلیمانی بحث کے دوران بھی متعدد بار وزراء نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ کمیشن کا اطلاق احمدیوں پر نہیں ہو گا۔احمدیوں کے ساتھ یہ امتیازی سلوک ۲۰۲۰ کے ایک ایسے ہی فیصلے کی بازگشت معلوم ہوتا ہے۔ اگرچہ احمدی کسی بھی ایسے ادارے کا حصہ بننے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں جس میں انہیں بطور غیر مسلم شامل ہونا پڑے لیکن پارلیمان میں کی جانے والی بحث ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ اس بحث سے پارلیمان نے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ احمدی ریاست کی جانب سے بھی تسلیم شدہ شہریت، مسلم اکثریت یا اقلیت، کسی بھی زمرے میں نہیں آتے ۔اسی لیے وہ اس نام نہاد اور محدود تحفظ کے بھی حق دار نہیں ہیں جو کہ دیگر اقلیتوں کو دیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر مبارک ثانی کے مقدمے کے فیصلے اور اس کمیشن سے احمدیوں کے اخراج سے پتا چلتا ہے کہ کس طرح سے ایک ایسا نظام وضع کیا جارہا ہے جس میں احمدیوں کے حقوق مشروط،قابل تنسیخ،اور سختی کے ساتھ کسی بھی قانونی اور معاشرتی شناخت کے دائرے سے باہر ہیں۔
(جاری ہے)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: محب وطن پاکستانی احمدیوں کو عبادات سے روکنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے


