حالاتِ حاضرہ

فیفا ورلڈ کپ۲۰۲۶ء

فٹ بال کا تئیسواں عالمی ٹورنامنٹ،تین ممالک کی مشترکہ میزبانی،۴۸؍ٹیموں کی تاریخی شمولیت،۱۶؍شہروں میں۱۰۴؍مقابلے، ۳۹؍دنوں میں ساڑھے نوہزار منٹ کا کھیل، تین سو سے زائدگول اوربالآخر سپین کی فٹ بال پرآئندہ چارسال کے لیےدوبارہ حکمرانی قائم ہوئی۔

۱۹؍جولائی۲۰۲۶ء، ایسٹ ردرفورڈمیں واقع نیویارک نیو جرسی اسٹیڈیم،اسّی ہزارسےزائدتماشائیوں کی موجودگی اور فیصلہ کن معرکہ، جس میں دفاعی چیمپئن ارجنٹیناکوموجودہ یوروپین چیمپئن اور۲۰۱۰ء کی عالمی چیمپئن ہسپانوی ٹیم نے صفرکے مقابلہ میں ایک گول سے ہرادیا۔

مقررہ وقت میں سپین نے مخالف ٹیم پر تابڑتوڑحملے کیے لیکن Emiliano Martinez سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے اورمقابلہ بغیرکسی اسکورکے برابر رہا۔اضافی نصف گھنٹے کےسولہویں منٹ میں وہ لمحہ آیاجب بالآخر Ferran Torres نے گیندجال میں پہنچا کرلیونل میسی،ارجنٹینا اور ان کے لاکھوں مداحوں کے خواب بکھیردیے ۔یہ سبقت کھیل کے اختتام تک قائم رہی اوریوں سپین کی ٹیم فٹ بال ورلڈکپ جیت گئی۔

سپین اپنے روایتی کھیل کی بدولت پورے میچ میں حاوی رہا،گیند پربے مثال قابو ہو یا پاس دینے کی غیرمعمولی صلاحیت، بروقت حملہ کرنے کی قابلیت ہو یا دفاع کو ناقابلِ تسخیربنانے کی اہلیت، ہسپانوی ٹیم نے ۱۲۰؍منٹ کے کھیل میں کمال مہارت کا مظاہرہ کیا۔ان کی میچ پر گرفت اس قدرمضبوط رہی کہ۹۰؍منٹ کے کھیل میں ارجنٹینا کی ٹیم ایک باربھی مخالف گول پر حملہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی، میسی کا جادوچل سکا نہ ایلواریزکی پھرتی کام آسکی،اوریوں ارجنٹینا لگاتاردوسری مرتبہ ورلڈچیمپئن بننے سے محروم ہوگیا۔ البتہ سپین ایک ایسی ٹیم ثابت ہوئی جس نےنہ صرف فائنل بلکہ پورے ٹورنامنٹ میں حریف ٹیموں کو بے بس کرکے رکھا،آٹھ مقابلوں میں چیمپئن ٹیم کے خلاف صرف ایک گول ہوسکا جوکہ کوارٹرفائنل میں بیلجیم نے کیا، بقیہ مقابلوں میں کوئی نامور ٹیم اور کوئی مایہ ناز اسٹرائیکرسپینش ٹیم کے آہنی دفاع کو نہ توڑ سکا۔

La Roja کے نام سے معروف سپینش فٹ بال ٹیم کا اس ورلڈکپ میں آغازتوقعات کے مطابق نہ تھا۔گروپ ایچ میں پہلا ٹاکرا نوآموزافریقن ٹیم کیپ وردے کےساتھ بغیر کسی گول کے برابررہا۔اس میچ کے ہیرو Cabo Verdeکے گول کیپر Josimar Jose Evora Dias رہے۔ Vozinhaکے نام سے پکارے جانے والےچالیس سالہ اس کھلاڑی نے سپین کے آٹھ حملوں کو کامیابی سے پسپا کیا۔ تاہم اس میچ کے بعد سپین نے پیچھے مڑکرنہ دیکھا اور مقابل پر آنے والے ہر حریف کوچاروں شانے چِت کیا۔سعودی عرب کو چارصفراوریوروگوئے کو ایک صفرسے ہراکرسپین ناک آؤٹ مرحلہ میں پہنچا جہاں اس نے آسٹریا کوتین صفر،پرتگال کو ایک صفر،اوربیلجیم کو۲۔۱؍ سے شکست دی۔ سیمی فائنل میں ایمباپے کی مضبوط ٹیم فرانس کو دوصفر اور فائنل میں میسی کی ارجنٹینا کوایک صفر سے پچھاڑکر دوسری مرتبہ عالمی فٹ بال کا تاج اپنے سر پر سجایا۔

اس ورلڈ کپ میں ابتدا سے لے کر اختتام تک سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے۔ ناموراورمنجھے ہوئے تجربہ کار کھلاڑیوں نے اپنے دلکش کھیل کا جادوجگایا توکئی نئے ستارے بھی فٹ بال کے افق پر نمودارہوئے۔ میکسیکو کے ۱۷؍سالہ Gilberto Moraنے مڈفیلڈمیں مؤثرکھیل دکھا کر اپنے تابناک مستقبل کی نوید سنائی۔ سپین کے ابھرتے ہوئے ستارےPau Cubarsiنے اپنی ٹیم کے دفاع میں نمایاں کرداراداکیا، ۱۹؍سالہ بارسلونا کےسٹرائیکر Lamine Yamalبھی ورلڈ کپ میں اپنا پہلا گول کرنے میں کامیاب ہوئے۔ Erling Haaland نے اپنے روایتی اندازمیں قابلِ دید کھیل پیش کیااورراؤنڈآف ۱۶؍میں برازیل کے خلاف دو لاجواب گول کرکے ناروے کو پہلی مرتبہ فیفا ورلڈکپ کے کوارٹرفائنل میں پہنچایا۔ ۴۱؍سالہ پرتگال کے رونالڈو واحد کھلاڑی بنے جنہوں نے چھ مختلف ورلڈ کپ ایونٹس میں اپنی ٹیم کے لیے گول کیا تاہم پرتگال کی ٹیم اپنے مداحوں کی امیدوں پر پورانہ اترسکی او ر اس کا سفرکوارٹرفائنل سے قبل اختتام پذیرہوا۔ ٹورنامنٹ کے بڑے اَپ سیٹس میں سے ایک اُس وقت دیکھنے میں آیا جب سابق عالمی چیمپئن جرمنی کو پیراگوئے نے راؤنڈ آف ۳۲؍میں حیران کن شکست دے دی۔

ناک آؤٹ مرحلے میں بیلجیم نے سینیگال کے خلاف دو گول کے خسارے میں جانے کے بعد یادگارواپسی کی اور کھیل کے آخری لمحات میں تین گول کرکے فتح حاصل کی۔کیپ وردے کی ٹیم اپنے تینوں گروپ میچز ڈراکرکے ناک آؤٹ راؤنڈ میں پہنچی توجنوبی کوریا، ترکی،چیکیہ،قطر،تیونس، ایران، یوروگوائےاورسعودی عرب جیسی ٹیمیں پہلے مرحلے میں ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئیں۔ ۳۲؍کےمرحلےمیں برازیل نے کانٹے دارمقابلہ کے بعدجاپان کو شکست دی۔ اسی طرح لوقا موڈرِچ اورکروشیاکاکارواں بھی اسی مقام میں پرتگال کے ہاتھوں لٹ گیا۔ ورلڈکپ کے سب سے دلچسپ مقابلوں میں سے ایک ارجنٹینا اور مصرکے مابین سولہ کے مرحلے میں ہوا۔ مصر نے عمدہ کھیل پیش کیا اور دوگول کی برتری حاصل کی اوردفاعی چیمپئن کی کشتی بیچ منجدھارڈولنے لگی لیکن میچ کے صرف آخری پندرہ منٹ میں کھیل کا پانسہ یکسربدلااورRomero،MessiاورEnzo Fernandez نے ایک کے بعد ایک گول کرکےشکست کے پنجوں سے فتح چھین لی۔یہ میچ ریفری کے متعدد فیصلوں کی وجہ سے شدیدمتنازعہ رہا، مصر کے کھلاڑیوں اور کوچ نے بغیر کسی ڈھکی چھپی کےاپنے جذبات کا اظہارکیااور فیفا اورمیچ کےریفریز کوکھلی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ٹورنامنٹ کے فیصلہ کن مراحل کی بات کی جائے تو ورلڈکپ میں لگاتار دوسری مرتبہ غیرمعمولی کھیل پیش کرنے والی مراکش کی ٹیم کےبرق رفتارسفرکو کوارٹرفائنل میں فرانس نے گھر کی راہ دکھائی۔فرنچ ٹیم کی طرف سے Kylian Mbappe اور Ousmane Dembeleنے کھیل کے دوسرے ہاف میں گول کیے۔سپین اوربیلجیم کے مابین کھیلاگیادوسراکوارٹر فائنل سپین کےنام رہا۔تیسرے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ نے ناروے کے خلاف ایک کے مقابلہ میں دوگول سے کامیابی حاصل کی۔مقررہ وقت میں میچ ایک ایک گول سے برابررہا، اضافی وقت میں Jude Bellinghamنے میچ میں اپنا دوسرا گول کرکے انگلینڈ کوایک بارپھر سیمی فائنل میں پہنچایا۔ارجنٹینا نے کوارٹرفائنل میچ میں سوئٹزرلینڈکو ۳۔۱؍سے شکست دی۔یہ مقابلہ بھی مقررہ وقت میں ایک ایک گول سے برابرتھا، اضافی وقت میں ارجنٹینا کے Julian AlvarezاورLautaro Martinezنے گول کرکے اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنارکیا۔یوں فٹ بال ورلڈکپ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ فیفا کی عالمی درجہ بندی میں پہلی چارپوزیشنزپر موجودٹیمیں ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

پہلے سیمی فائنل میں سپین اورفرانس مدمقابل آئے،کھیل کے۲۲ویں منٹ میں Mikel Oyarzabalنےپینلٹی پرگول کرکے سپین کو سبقت دلائی اورپھر۵۸ویں منٹ میںPedro Porroنے شاندارگول داغ کرفرانس کی امیدوں پرپانی پھیردیا۔ موجودہ دَورکے بہترین سٹرائیکرز مائیکل اولیزے، عثمان دمبیلے، بریڈلی بارکولا، ڈزیرے ڈوئے اورکپتان ایمباپے کی ایک نہ چلی اور فرانسیسی ٹیم کا لگاتارتیسری مرتبہ فائنل کھیلنے کا خواب شرمندۂ تعبیرنہ ہوسکا۔

دوسرے سیمی فائنل میں ارجنٹینا اور انگلینڈ کااعصاب شکن مقابلہ ہوا۔ میچ کے ۵۵ویں منٹ میں انتھونی گورڈن(Anthony Gordon)نے گیندکو جال کی راہ دکھا کر انگلینڈ کوبرتری دلائی، لیکن اس کے بعد ارجنٹینا کی طرف سے نہایت جارحانہ کھیل دیکھنے میں آیا اور انگلش ٹیم مسلسل دباؤمیں رہی۔۸۵ویں منٹ میں Messiکے بہترین کارنرپرEnzo Fernandezنے گیند گول میں بھیج دی اور پھرانجری ٹائم میں میسی کے پاس پرLautaro Martinezنےڈی کے باہر سے زوردارشاٹ لگا کر فاتحانہ گول اسکورکیا۔

تیسری پوزیشن کے میچ میں انگلینڈاورفرانس کے کھلاڑیوں نے میامی سٹیڈیم میں گولوں کی برسات کردی ۔پہلے ہاف میں انگلش ٹیم نے چارگول کرکے سب کو ورطۂ حیرت میں ڈالاتودوسرے ہاف میں فرنچ ٹیم نے سیمی فائنل کے صدمہ کوبھلا کر یکے بعددیگرے تین گول کرتے ہوئے میچ میں اعلیٰ درجےکی واپسی کی، تاہم میچ کے آخری لمحات میں Bukayo Sakaنے پینلٹی پر گول کرکے اپنی ہیٹرک مکمل کی اور چندلمحات کے بعدJude Bellinghamنے لاجواب گول داغ کر انگلینڈ کی فتح کو یقینی بنادیااور میچ ۶۔۴؍کے سکورپرانگلش ٹیم کے حق میں ختم ہوا۔یوں ۱۹۶۶ء کی فاتح انگلینڈنے ۶۰؍سال میں پہلی مرتبہ فیفاورلڈکپ کی پہلی تین ٹیموں میں جگہ بنائی۔ انگلینڈکے اس یادگارسفر میں کپتانHarry Kaneنے چھ جبکہ Jude Bellinghamنے سات گول کیےاور برونز بوٹ کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔

دیگر انفرادی اعزازات کی بات کی جائے توفرانس کے شہرہ آفاق کھلاڑی Kylian Mbappeنے انگلینڈکے خلاف برونز میڈل میچ میں دوگول کیے اور یوں وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔اس ورلڈکپ میں دس گول کرکے وہ مسلسل دوسری بار گولڈن بوٹ ایوارڈ کے بھی حقدارقرارپائے۔ لیونل میسی نے آٹھ گول کیے اور سلوربوٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔سپین کےمڈفیلڈر کپتانRodriورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے بہترین کھلاڑی قرارپائے اورانہیں گولڈن بال کے ایوارڈ سے نوازاگیا۔ لیونل میسی سلوربال کے حقداربنے جبکہ برونزبال کلیان ایمباپے کے حصہ میں آیا۔ سپین کےUnai Simonبہترین گول کیپرکا ایوارڈGolden Gloveحاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔اسی طرح چیمپئن ٹیم کے Cubarsiکو ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی کا ایواڈ ملا۔فیفافیئرپلے ٹرافی نیدرلینڈزکو دی گئی۔

اس ورلڈکپ کی فاتح ٹیم کو پچاس ملین امریکی ڈالرکی رقم انعام میں ملی۔رنراَپ ٹیم ۳۳؍ملین ڈالرجبکہ تیسری پوزیشن پر آنے والی ٹیم ۲۹؍ملین ڈالر کی حقدارٹھہری۔

فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء ۱۱؍جون سے ۱۹؍جولائی تک جاری رہا، اَن گنت یادوں، متفرق جذبات، مسلسل اتارچڑھاؤ اورمختلف تنازعات سےبھرپور یہ سپورٹس میلہ ایک بارپھرثابت کرتا ہے کہ یہ کہنا بے جانہیں کہ فٹ بال دنیا میں سب سے زیادہ پسندکیاجانے والا، سب سے زیادہ کھیلاجانے والا اور بلا شبہ سب سے زیادہ دیکھا جانے والا کھیل ہے۔ کرۂ ارض کے ہر خطّے میں اس گیم کے ماہرِفن موجود ہیں، زمین کے ہر کونے میں اس کھیل کے چاہنے والے پائے جاتے ہیں، دنیا کے ہرعلاقے میں اس کھیل کی ایک پہچان ہے۔یہی وجہ ہے جب ہر چارسال بعدجب فیفاورلڈکپ کی آمدہوتی ہے تولوگ اپنی جغرافیائی حدودکو فراموش کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں اور ٹیموں کی سپورٹ میں جذباتی رنگ میں رنگین دکھائی دیتے ہیں۔مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک صرف ایک ہی کھیل گفتگو کا محور بن جاتا ہے۔گلیاں اور کوچے میدانوں میں بدلنے لگتے ہیں، بازاراورمارکیٹیں اسٹیڈیمز کاروپ دھارلیتی ہیں اورہر چھوٹا بڑا ایک کرّےکے گرد گھومنے لگتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ فٹ بال ورلڈ کپ دنیا کی سینکڑوں کھیلوں کے ہزاروں مقابلوں میں ایک نہایت منفرد اور خاص حیثیت کا حامل ہے۔

آخرپرہم ۲۰۲۶ء کے ورلڈ کپ کی طرف عود کرتے ہیں جوکہ کئی حوالوں سے تاریخ ساز ثابت ہوا۔ پہلی مرتبہ تین ممالک یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکونے مشترکہ طور پر ورلڈ کپ کی میزبانی کی۔ میکسیکو دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے تین مختلف ادوار میں ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز حاصل کیا۔اس عالمی کپ میں پہلی مرتبہ۴۸؍ٹیموں نے شرکت کی جنہیں بارہ گروپس میں تقسیم کرکےمیچز ہوئے،۳۲؍ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچیں اورمیچزکی کل تعداد ۶۴؍سے بڑھ کر ۱۰۴؍ہوگئی۔اس ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی بال کو Trionda یعنی ’’تین لہریں‘‘ کانام دیا گیا۔اس بال میں ایک مخصوص چِپ لگائی گئی جس میں بال ٹریکنگ اورامپائرنگ کے فیصلوں میں مدد کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔اس ورلڈکپ کے مقابلے سولہ شہروں میں منعقد ہوئے جہاں سٹیڈیمزمیں آنے والے تماشائیوں کی مجموعی تعدادقریباً ۶۸؍لاکھ رہی یعنی اوسطاً ۶۵؍ہزارسے زیادہ تماشائی ہر میچ کو دیکھنے کے لیے سٹیڈیم میں موجود ہوئے۔اسی طرح اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں اس ٹورنامنٹ کے ناظرین کی مجموعی تعداد کئی ارب تک پہنچ گئی۔

یہی وجہ ہے کہ فیفا ورلڈ کپ محض ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ انسانی جذبوں، قومی شناخت، مسابقت کی لگن اور عالمی یگانگت کا ایسا تہوار بن چکا ہے جو ہر چار برس بعد پوری دنیا کو ایک ہی گیند کے گرد جمع کر دیتا ہے۔ ٹرافی اگرچہ صرف ایک ٹیم کے حصے میں آتی ہے، مگر ورلڈ کپ اپنے پیچھے ایسی داستانیں چھوڑ جاتا ہے جو نسلوں تک یاد رکھی جاتی ہیں۔

۲۰۳۰ءمیں فٹ بال ورلڈکپ کی ایک صدی مکمل ہوگی اور اسی تاریخی موقع پرچوبیسواں فیفا ورلڈکپ مراکش،سپین اورپرتگال کی مشترکہ میزبانی میں منعقدہوگا۔تاہم۱۹۳۰ءکے ورلڈکپ کی یادمیں۲۰۳۰ء کا ایک میچ یوروگوائے میں بھی کھیلا جائے گا۔اسی طرح ارجنٹینااورپیراگوئے کو بھی ایک ایک میچ کی میزبانی ملے گی۔یوں آئندہ ورلڈکپ تین براعظموں کے چھ ممالک میں کھیلاجائے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ۲۰۳۰ء کے فیفاعالمی کپ میں ۴۸؍ٹیمیں حصہ لیتی ہیں یا ان کی تعداد ۶۴؍تک بڑھا دی جاتی ہے۔

(تحقیق وتحریر: ن۔ م۔ طاہر)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button