متفرق مضامین

حضرت ابراہیمؑ و برہماجی کی مماثلت اورہندوستان و ایران کا آلِ ابراہیم سے تعلق(قسط اوّل)

(تحقیق : طاہر احمد۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل۔ فن لینڈ)

ہر دور میں اللہ کچھ ایسے جلیل القدر اشخاص پیدا فرماتا رہا ہے جن سے عظیم الشان سلسلوں کی بنیادیں پڑیں اور یہ شرف صرف حضرت ابراہیمؑ کو حاصل ہے کہ آنحضرتﷺ نے آپؑ کو اور آپؑ کی آل کو درود شریف میں شامل فرمایا اور آپﷺ نےاپنے لیے اور اپنی آل کے لیےاسی طرح رحمت و فضل کی دعا سکھائی جس طرح حضرت ابراہیمؑ اور آپؑ کی آل پر رحمت و فضل ہوئے تھے

مئی ۲۰۲۵ء میں مجلس انصاراللہ فن لینڈ کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی، جہاں خاکسار کو حضور انور سے حضرت ابراہیمؑ اور ہندوؤں میں منسوب دیوتا برہما میں مماثلت سے متعلق سوال کرنے کا موقع ملا جس کے جواب میں حضور انور نے نہایت شفقت سے خاکسار کی نہ صرف راہنمائی فرمائی بلکہ مضمون لکھنے اور تحقیق کرنے کی طرف توجہ بھی دلائی اور حوصلہ افزائی بھی فرمائی۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ خاکسار کو مولوی نعمت اللہ خان گوہر صاحب کی کتاب ’’تحفہ ہند و یورپ‘‘ بھی پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں انہی موضوعات کو انہوں نے اپنے طریق پر بہت مدلّل اور تفصیلی انداز میں تحریر کیا ہے۔ خاکسار نے اپنے انداز میں مزید پہلوؤں کے ساتھ اور نئے تحقیقی حوالوں کے ساتھ ان موضوعات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام تاریخِ ادیان کی ان عظیم المرتبت شخصیات میں سے ہیں جن کی ذاتِ بابرکت نہ صرف اسلام بلکہ یہودیت اور عیسائیت جیسے بڑے مذاہب کے لیے بھی ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآن کریم نے آپؑ کو ایک موحد، اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ بندہ اور خلیل اللہ قرار دیا، جبکہ آپؑ کی ذات سے متعدد اقوام، انبیاء اور دینی سلسلوں کا تعلق قائم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی دعوتِ توحید اور آپؑ کی اولاد و نسل کے پھیلاؤ کو سمجھنا محض ایک مذہبی موضوع نہیں بلکہ تاریخِ مذاہب اور تہذیبوں کے باہمی تعلق کے مطالعہ کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ آنحضرتﷺ کے ظِل و غلامِ صادق حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے ہندوستان کی سرزمین میں مبعوث فرمایا اور جہاں آپ کو ’’جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء ‘‘ کا خطاب عطا فرمایا تو وہیں آپؑ نے خود کو ابراہیم بھی فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ جب قدیم ہندوستان کی مذہبی روایات کا مطالعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تاریخِ نبوت کے ساتھ تقابلی انداز میں کیا جاتا ہے تو بعض ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جو محض اتفاقی مشابہت سمجھ کر نظر انداز کر دینا آسان نہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام وہ جلیل القدر نبی ہیں جنہوں نے اپنے ماحول میں رائج شرک اور بت پرستی کے مقابل توحید کا عَلم بلند کیا اور جن کی دعوت نے بعد کی نسلوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آپؑ کی شخصیت، آپؑ کی ذریت اور آپؑ کے اثرات کا دائرہ عرب، شام اور فلسطین تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی روایت کے برہما اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان بیان کی جانے والی بعض مماثلتیں خصوصی توجہ کی طالب ہیں۔ برہما کو خالق، باپِ اقوام اور ایک عظیم قدیم شخصیت کے طور پر پیش کرنے والی روایات، ان کی اولاد، ازدواجی زندگی، قربانی اور دیگر متعلقہ واقعات کے بعض پہلو جب حضرت ابراہیمؑ کے حالات کے ساتھ رکھے جاتے ہیں تو ایک دلچسپ تقابلی منظر سامنے آتا ہے۔ زیرِ نظر تحقیق میں انہی مماثلتوں کا جائزہ لیا جائے گا؛ تاہم مقصد یہ نہیں کہ محض مشابہت کی بنیاد پر کسی قطعی تاریخی نتیجے کا اعلان کر دیا جائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ان روایات کے درمیان کوئی تاریخی، تہذیبی یا مذہبی رشتہ تلاش کیا جا سکتا ہے؟

یہ سوال اس وقت مزید گہرا ہو جاتا ہے جب ہندوستانی مذہبی روایات میں منو کی داستان کا مطالعہ کیا جائے۔ ایک عظیم طوفان، اس سے پیشگی آگاہی، کشتی کی تیاری، چند مخصوص مخلوقات اور انسانوں کا محفوظ رہنا اور پھر ایک نئی انسانی آبادی کا آغاز (منو کو ہندو مت میں پہلی قربانی پیش کرنے کے طور پر جانا جاتا ہے نیز اسے پہلا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے جو عالمی سیلاب سے بچ نکلا اور کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے تمام لوگ اس کی نسل ہیں۔ https://www.britannica.com/topic/Manu

حضرت نوح علیہ السلام کے واقعۂ طوفان سے اتنی غیرمعمولی مشابہت کیا محض اتفاق ہے؟یا قدیم انسانی حافظے میں محفوظ کسی حقیقی واقعہ کی دور کی بازگشت؟ اس سوال کا فیصلہ ایک الگ تحقیقی بحث کا متقاضی ہے، جس میں روایت، تاریخ اور مذہبی لٹریچر تینوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔اس کے بعد نگاہ وید کی طرف اٹھتی ہے۔ ہندوستان کی قدیم مذہبی روایت کو سمجھنے کے لیے وید بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، لیکن وید کی قدامت، ان کے موجودہ متن کی تدوین، ان میں زمانہ کے ساتھ ہونے والی تبدیلیوں اور ان کی مذہبی تعبیر کے مسائل بھی اپنی جگہ نہایت اہم ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں ایک طرف موجودہ ویدوں میں پائی جانے والی خرابیوں اور باہمی اختلافات کی نشان دہی فرمائی، لیکن دوسری طرف ان کے بزرگوں کو بُرا کہنے سے بھی منع فرمایا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں یہ تحقیق محض دو مذہبی شخصیات کی مماثلت کے مطالعہ سے آگے بڑھ کر تاریخِ اقوام اور تاریخِ ہدایت کے ایک وسیع تر سوال میں داخل ہو جاتی ہے۔ہمارے عقیدے کے مطابق تمام مشترک زبانوں کی ماں زبان عربی ہے لیکن سنسکرت کو ہندو احباب پرمیشر کی بولی مانتے ہیں حالانکہ وید میں کسی ایک جگہ بھی یہ دعویٰ نہیں بلکہ بہت مورخین نے تو وید کو زرتشتی مذہب کی کتاب ژند اوستا کا چربہ تک قرار دیا ہے۔ بہرحال اگر قدیم ہندوستان اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کے درمیان انسانی آمدورفت اور تہذیبی روابط موجود تھے تو یہ بھی ممکن ہے کہ مذہبی تصوّرات، روایات اور انبیائے کرام سے متعلق بعض یادیں بھی انہی راستوں سے ایک خطے سے دوسرے خطے تک پہنچی ہوں۔ چنانچہ وادیٔ سندھ اور میسوپوٹیمیا کے قدیم تجارتی روابط، عراق کے شہر اُر سے ہندوستان کے تعلقات، ایران اور وسطی ایشیا کے ساتھ ہندوستانی روابط اور قدیم اقوام کی نقلِ مکانی اس تحقیق میں خصوصی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ قدیم دنیا کے اس نقشے میں میسوپوٹیمیا کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وادیٔ سندھ اور میسوپوٹیمیا کے درمیان تجارت اور سفری روابط کے شواہد اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہزاروں سال قبل بھی انسانوں کے درمیان ایسے رابطے قائم تھے جنہیں موجودہ زمانے کی جغرافیائی دوریوں سے سمجھنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ وادیٔ سندھ کے تجارتی سامان کا میسوپوٹیمیا تک پہنچنا، اُر کے شاہی قبرستانوں میں ہندوستانی اشیاء کا ملنا اور قدیم اقوام کے درمیان بحری و زمینی راستوں کا استعمال اس بات کا تاریخی پس منظر فراہم کرتا ہے کہ مذہبی و تہذیبی اثرات کے انتقال کے امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

اسی سلسلۂ تحقیق میں صابیین کا ذکر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ قرآن کریم میں صابیین کا تذکرہ موجود ہے اور اسلامی مفسرین و مؤرخین نے ان کے مذہبی تشخص اور اصل وطن کے بارے میں مختلف آراء بیان کی ہیں۔ بعض تاریخی تحقیقات انہیں قدیم میسوپوٹیمیا اور حران سے وابستہ کرتی ہیں، جبکہ اسلامی روایت میں ان کے عقائد اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کے تعلق کے مختلف پہلو بھی بیان ہوئے ہیں۔ مزید برآں بعض مسلم مؤرخین نے صابی روایات کے ہندوستانی اور ایرانی مذہبی تصوّرات سے تعلق کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ اس لیے صابیین کا مطالعہ اس تحقیق میں ایک اہم کڑی کے طور پر سامنے آتا ہے، جو ہندوستان، میسوپوٹیمیا، ایران اور ابراہیمی روایت کے ممکنہ تاریخی روابط کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں مدد دیتی ہے۔

اس کے بعد بحث ایران اور اہلِ فارس کے آلِ ابراہیم سے تعلق کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ اسلامی روایات میں اہلِ فارس کے بارے میں ایسے ارشادات ملتے ہیں جو ان کے لیے محض ایک غیر متعلق قوم کا تصور پیش نہیں کرتے بلکہ انہیں ایک روحانی اور نسبی قربت کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ بعض روایات میں آلِ فارس کو حضرت اسحاق بن ابراہیم علیہما السلام کی اولاد سے منسوب کیا گیا ہے، جبکہ دیگر روایات میں فارس والوں کو اہلِ بیت سے قربت کے الفاظ میں یاد کیا گیا ہے۔ ان روایات کی تاریخی حیثیت اور دلالت کا جائزہ اس لیے اہم ہے کہ اگر ایران اور ہندوستان کے قدیم باشندوں کے درمیان لسانی، تہذیبی اور جغرافیائی روابط موجود تھے تو ان کے مذہبی اور نسلی اثرات کا سوال بھی ازخود پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کا اہلِ فارس کے ساتھ رشتہ نیز آپؑ کے آلِ ابراہیم ہونے سے متعلق بات کی جائے گی۔

اس پوری بحث میں ایک بنیادی تحقیقی احتیاط بہرحال ملحوظ رہنی چاہیے۔ مشترک مذہبی تصور یا کسی تہذیبی روایت کی مماثلت اس وقت زیادہ معنی خیز بنتی ہے جب اسے دیگر تاریخی شواہد، نقلِ مکانی، جغرافیائی روابط اور قدیم مصادر کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔ اس لیے زیرِ نظر مضمون میں حتّی الامکان ان مختلف قرائن کو ایک مجموعی تاریخی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔پس یہ تحقیق دراصل ایک ایسے سوال کی جستجو ہے جس کا تعلق صرف ماضی کی تہذیبوں سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عالمگیر سنتِ ہدایت سے بھی ہے۔اگر ربّ العالمین نے مختلف اقوام میں اپنے ہادی بھیجے، تو کیا ان کی تعلیمات کے کچھ نقوش وقت کی گرد میں دب جانے کے باوجود مختلف قوموں کی مذہبی روایات میں باقی رہ سکتے ہیں؟ اور اگر ایسا ہے تو کیا ہندوستان اور ایران کی قدیم مذہبی روایات میں بھی ابراہیمی تعلیم یا آلِ ابراہیم کی کوئی ایسی یاد محفوظ ہے جسے تاریخی، مذہبی اور تقابلی شواہد کی روشنی میں پہچانا جا سکے؟

حضرت ابراہیمؑ: کی تین بیویاں تھیں ۔

٭…حضرت سارہ جن سے حضرت اسحٰقؑ پیدا ہوئے اور ان کے بیٹے حضرت یعقوبؑ سے منسوب بنی اسرائیل میں انبیاء کا سلسلہ جاری ہوا اور حضرت عیسیٰؑ پر اختتام پذیر ہوا جبکہ بعض مورخین کے نزدیک حضرت یعقوبؑ کے جڑواں بھائی عیسو کی نسل سے حضرت ایوبؑ پیدا ہوئے ۔

٭…حضرت ہاجرہ جن سے حضرت اسماعیلؑ پیدا ہوئے جن سے رحمت العالمین حضرت اقدس محمد مصطفیٰﷺ پیدا ہوئے۔

٭…حضرت قطورہ جن سے بعض روایات کے مطابق مدین اور بعض کے مطابق کُل چھ بیٹے زمران، یقسان، مدان، مدین، اسباق اور شوخ پیدا ہوئے جن کی نسل میں حضرت شعیبؑ پیدا ہوئے۔ اللہ نے آپؑ کی ذرّیت ، آپؑ کی سنت اور آپؑ کے دین کو بہت پھیلایا۔

برہما: ہندو مذہب کے ایک بڑے دیوتا ہیں، جنہیں کائنات کا خالق مانا جاتا ہے۔ وہ تری مورتی (برہما، وشنو، شیو) میں شامل ہیں، یہ ہندوؤں کا تثلیث کی طرح کا عقیدہ ہے۔ ان کے چار چہرے اور چار بازو ہوتے ہیں۔ برہما کا مسکن برہما لوک کہلاتا ہے۔ ہندو مت میں ان کی پوجا کم کی جاتی ہے، اور ان کا مشہور مندر پشکر (راجستھان) میں ہے۔ تری مورتی (برہما، وشنو، شیو) کا واضح اور منظّم تصور ویدوں میں موجود نہیں بلکہ یہ تصور بعد میں مہا بھارت اور پرانوں میں ابھرا۔ ویدوں میں ان تینوں دیوتاؤں کا انفرادی ذکر ضرور ہے: برہما کو ’’پرجاپتی‘‘ یا ’’براہمن‘‘ کے طور پر، وشنو کو محدود صفات کے حامل دیوتا کے طور پر، اور رودر (جو بعد میں شیو کہلائے) کو غضبناک فطرت والے دیوتا کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ تاہم، ویدوں میں ان تینوں کو ایک وحدانی کائناتی نظام یعنی ’’تری مورتی‘‘ کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ تری مورتی کا باقاعدہ تصور سب سے پہلے مہا بھارت (تقریباً ۴۰۰ قبل مسیح سے ۴۰۰ عیسوی کے درمیان) میں سامنے آیا، جہاں برہما کو خالق، وشنو کو محافظ، اور شیو کو فنا کرنے والا تسلیم کیا گیا۔ اس تصور کو مزید تفصیل سے پرانوں میں بیان کیا گیا، جہاں تری مورتی کو ہندو مت کے کائناتی نظام کا مرکزی ستون قرار دیا گیا۔ بعض تاریخی حوالے شیو اور وشنو کو خدا کی طرف سے بھیجے گئے اور مواحد قرار دیتے ہیں اور قدیم ہندوستان میں بھی واحدانیت ہی مذہب تسلیم کیا جاتا ہے جو بعد کے عقائد میں بگاڑ سے مشرک مذہب بن گیا اور ہو سکتا ہے کہ کسی نبی کے آنے کے وہ منتظر ہوں اور جب انہیں ابراہیمؑ کی خبر ملی تو انہیں بھی اوتار تسلیم کر کے اور دیوتا بنا کر اسے اپنے عقیدہ میں داخل کر دیا ہو۔ واللّٰہ اعلم

وضاحت: یہاں مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ ’’برہما ہی حضرت ابراہیمؑ تھے یا حضرت ابراہیم برہما تھے۔‘‘ سب سے پہلے ہندو مذہبی اصطلاحات کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ برہما (Brahmā)، برہمن (Brahman) اور برہمنسپتی (Brahmaṇaspati) صوتی اعتبار سے ایک دوسرے سے مشابہ محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن ہندو مذہبی و فکری روایت میں یہ یکساں اصطلاحات نہیں ہیں۔۔ اس لیے ویدی حوالوں میں موجود ہر برہما کو بعد کے دور کے تری مورتی والے برہما کے معنی میں لینا بھی درست نہیں ہوگا۔… اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستانی روایت میں ایسے دیگر عناصر بھی موجود ہیں جو کسی قدیم توحیدی روایت، کسی پیغمبرانہ تعلیم، یا مغربی و وسطی ایشیا سے آنے والی مذہبی روایت کے ہندوستان پہنچنے کی طرف اشارہ کر سکتے ہوں؟ اگر ایسے متعدد مستقل قرائن موجود ہوں تو برہما سے متعلق مماثلت بھی اسی مجموعۂ قرائن کا ایک حصہ بن سکتی ہے۔

وید: وید وں کی کُل تعداد چار ہے؛ رگ وید،یجر وید، سام وید اور اتھر وید۔ روایات اور ذیادہ تر تاریخی حوالوں کے مطابق ویدوں کی ابتدا اور زبانی روایت ۱۵۰۰ قبل مسیح سے پہلے کی ہے لیکن اتنی پہلے کی نہیں جیسا کہ اکثر ہندو احباب بتاتے ہیں اور وید کو ہزاروں بلکہ لاکھوں سال پہلے کا گردانتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ان دعوں کو اپنی تحریرات میں عقلی اور نقلی شواہد سے مکمل مسترد فرمایا ہے۔وید جو کہ ۱۵۰۰قبل مسیح سے ۵۰۰ قبل مسیح کے درمیان لکھے گئے کیونکہ تب تک ان کو زبانی ہی یاد رکھنے کا رواج تھا اور ہندوستان میں تحریر کا رواج نہیں تھا۔ اسی لیے ابتدائی ویدی تعلیم زبانی طور پر ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہی۔پہلی تحریری شکل ہزارقبل مسیح کے قرب ایک ویدک رشی یا عالم جو وید ویاس یا بیاس کے نام سے معروف ہیں (جنہیں مہا بھارت لکھنے والا بھی کہا جاتا ہے)نے انہیں مرتب کیا۔ لیکن یہ پہلے لکھے گئے ویدی نسخے جو ۱۰۰۰ قبل مسیح کے قریب تیار ہوئے معدوم ہو گئے۔ اس کی وجہ تحریری مواد کی کمزوری ہے۔قدیم زمانے میں پتھر، کھال یا پتّوں پر لکھا جاتا تھا، جو وقت کے ساتھ گل سڑگئے۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ ہند-آریائی یا بعد کے حملہ آوروں (جیسے سکندر یا دیگر) کے ہندوستان میں آنے کے بعد وید ناپید ہوگئے یا انہوں نے ویدوں کو تلف کر دیا۔ ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ اس وقت زبانی روایت پر انحصار ہوتا تھا ، برہمنوں نے ویدوں کو زبانی یاد کرنے پر زور دیا، تحریری نسخوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ یہاں تک کہ نچلی ذات شودروں کو ان کا سننا بھی منع تھا اور سننے کی صورت میں سیسہ پگھلا کر ان کے کانوں میں ڈالا جاتا تھا۔

موجودہ ویدی نسخے کیوں اور کب لکھے گئے؟

تحریر کا رواج ۵۰۰ عیسوی کے بعد عام ہونے کے بعد جب دیوناگری رسم الخط شروع ہوا، تو برہمن علماء نے اپنی یاداشتوں کی بنا پر ویدوں کو دوبارہ لکھنا شروع کیا۔ اب موجود لکھے ہوئے نسخوں میں سے کوئی بھی ہزار سال سے پرانا نہیں ہے ،ہارورڈ یونیورسٹی پریس کی شائع کردہ کتاب ’’Two oldest Vedas manusrip‘‘ کے مطابق وید کے اب تک کے سب سے قدیم نسخے نیپال اور تبت سے ملے ہیں جو ۱۱۵۰عیسوی کے قریب یعنی ذیادہ پرانے نہیں ہیں۔ جبکہ یورپین مستشرقین (میکس میولر وغیرہ) نے ۱۸۰۰ عیسوی میں ویدوں کو دوبارہ شائع کیا۔

ان تمام مماثلتوں نیز اوپر بیان کردہ حوالوں سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ محض اتفاقی نہیں ہو سکتا، یا تو حضرت ابراہیمؑ ہندوستان تشریف لائے تھے جیسا کہ بعض ہندو مورخین کا خیال ہے لیکن اس خیال کے ثبوت میں وہ کوئی بھی تاریخی یا مذہبی ثبوت و حوالہ پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ دوسری بات یہ ہو سکتی ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی ابتدائی نسل میں سے کچھ لوگ ہندوستان آئے ہوں۔ یجر وید میں مذکور ’’منو‘‘ کی کہانی حضرت نوحؑ کے واقعہ سے حیرت انگیز مشابہت رکھتی ہے۔ دونوں واقعات میں ایک عظیم سیلاب، الہامی تنبیہ، کشتی کی تعمیر اور نسل انسانی کے نئے سرے سے آغاز جیسے مشترکہ عناصر پائے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوبی ہند میں منو کو ’’مہانوو‘‘ کہا جاتا ہے، جس میں ’’نوو‘‘ کا لفظ ’’نوح‘‘ سے قریب تر محسوس ہوتا ہے۔ مزید برآں، ہندو مت کے موجودہ دور ’’کل یگ‘‘ کا آغاز بھی ایک عظیم سیلاب سے ہوتا ہے، جو اس مماثلت کو مزید تقویت دیتا ہے۔ یہ تمام قرائن اس خیال کو تقویت دیتے ہیں کہ آرین قوم یہ کہانی اور ابراہیمی تعلیم اپنے ساتھ لائے ہوں (نعمت اللہ خان گوہر صاحب کی تحقیق کے مطابق حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے اور حضرت اسحاقؑ کے جڑواں بھائی عیسو کی قوم جو کہ ادومی کہلاتی ہے وہ ہندوستان آئی جو اپنے ساتھ صُحفِ ابراہیم کا کچھ حصہ لائے جس سے ہندوستان میں دینِ ابراہیم پھیلا) اور ہندوستان کی بت پرست سوسائٹی میں اپنی تعلیم کا اکثر حصہ بھول گئے ہوں اور اسی وقت ہی ہندو یا سندو قوم نے وہ تعلیم اپنے اندر سمو لی ہو اور جیسا کہ قرآن و بائیبل سے گذشتہ اقوام میں نبیوں کو خدا بنانے کا بھی پتہ چلتا ہے اور ان کی تعلیم میں بگاڑ کا بھی۔ حضرت عیسیٰؑ کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ کس طرح ان کی کشمیر کی جانب ہجرت کرنے کے بعد لوگوں نے ان کی تعلیم بگاڑ دی اور ان کو خدا کا درجہ بھی دے دیا۔ عقیدہ تثلیث کا تصور بھی قدیم مصریوں، جاپانیوں ، ہندوستانی اور بابلی pagans(عمومی طور پر دنیا میں موجود ا ن لوگوں کو کہا جاتا ہے جو دین ِ ابراہیم یا توحید کی تعلیم سے پہلے مختلف مظاہر یا خداوں پر یقین رکھتے تھے اور شرکیہ رسوم و رواج پریکٹس کرتے تھے۔) میں نظر آتا ہے چنانچہ جیسے عیسائیت میں لوگوں کو خوش کرنے اور ان کو عیسائیت کے مذہب میں شامل کرنے کے لیے پولوس نے pagans کے نظریۂ تثلیث (جس کے مطابق تین خدا ، دنیا کی خدائی میں شریک ہیں۔ مثلا عیسائیوں میں باپ خدا، بیٹا خدا اور روح القدس) کا سہارا لیا اور عیسیٰؑ کو خدا بنا لیا ، ایسا لگتا ہے کہ جب دین ِ ابراہیم کو ماننے والے لوگ جو دینِ ابراہیم ساتھ لائے ہوں گے کو ہندو کاہنوں نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا اور اس کو اپنی بگڑی ہوئی تعلیم میں ضم کر کے کچھ حصہ دینِ ابراہیم کا لے لیا اور ان کو ’’تری مورتی‘‘ یعنی ہندو عقیدہ تثلیث میں وشنو اور شیو کے ساتھ ساتھ خدا تسلیم کر لیا۔

جبکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیۡفًا ؕ وَلَمۡ یَکُ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ (النحل: ۱۲۱) ترجمہ:یقیناً ابراہیم (فی ذاتہٖ) ایک امت تھا جو ہمیشہ اللہ کا فرمانبردار، اسی کی طرف جھکا رہنے والا تھا اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نےتو پہلے ہی اعلان فرما دیا کہ جو بھی کہہ لو مگر ابراہیمؑ مشرکین میں سے نہیں تھا۔ بنی اسرائیل کے مذاہب یعنی یہودیت و عیسائیت نیز اسلام میں حضرت ابراہیمؑ ایک موحد و نبی کے طور پر ہی بیان ہوئے ہیں اور چار ہزار برس گزرنے کے باوجود اب تک ان مذاہب کے پیروکاروں میں وہ توحید پرست کے طور پر ہی یاد کیے جاتے ہیں۔ صرف ہندوستان میں ہی ایک ایسا دیوتا یا خدا موجود ہے جو کہ نہ صرف اپنے نام میں بلکہ اپنی صفات میں بھی حضرت ابراہیمؑ سے مشابہت رکھتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک خاص اور حیرت انگیز استثناء ہمیں نظر آتا ہے کہ بطور ’’خالق‘‘ خدا کے طور پر وہ ان کے عقیدہ تثلیث میں داخل ہے لیکن جہاں وشنو اور شیو کے لاکھوں مندر اور کروڑوں پجاری ہیں وہیں ان کی پوجا کرنے والے گنتی ہی کے افراد ہیں اور گنتی کے مندر ان کی عبادت کے لیے مخصوص نظر آتے ہیں۔

آریہ قوم ، وید و ہندو مذہب کے بارے میں حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات سے چند مثالیں

پہلے چونکہ ہم یہ دیکھ آئے ہیں کہ کس طرح تاریخ ان مماثلتوں میں تعلق کے امکان کو ظاہر کر رہی ہے نیز وید کی تاریخ بھی اس امکان کو مزید تقویت پہنچا رہی ہے۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ ویدوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ آپؑ لکھتے ہیں کہ ’’اور خلاصہ مطلب اس دلیل کا یہ ہے کہ زبانوں پر نظر ڈالنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام زبانوں کا باہم اشتراک ہے۔ پھر ایک دوسری عمیق اور گہری نظر سے یہ بات بپایۂ ثبوت پہنچتی ہے جو ان تمام مشترک زبانوں کی ماں زبان عربی ہے جس سے یہ تمام زبانیں نکلی ہیں۔ نیز مزید فرمایا ’’قوم آریہ میں جن کے زعم باطل میں یہ ہے کہ انہیں کی زبان سنسکرت پر میشر کی بولی ہے اور وہی نہایت کامل اور الہامی اور اُمّ الالسنہ ہے حالانکہ آج تک کوئی ایک شُرتی وید کی بھی پیش نہیں کی گئی جس سے معلوم ہو کہ وید نے اپنے منہ سے ایسادعویٰ بھی کیاہے۔‘‘(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد ۹صفحہ۱۲۹ تا ۱۳۰ )

مجوسیوں کا الزام: فرمایا: ’’مجوسیوں کا اب تک یہ الزام چلا آتا ہے کہ وید ان کی پاک کتابوں کے مضامین چورا کر لکھا گیا ہے اور بیاس کا ایران پہنچنا اور ان بزرگوں کی شاگردی اختیار کرنا اس پر ایک دلیل بھی ہے جس سے انکار نہیں ہو سکتا چونکہ وید میں کوئی ذاتی روشنی نہیں ہے اور نہ کوئی ذاتی معجزانہ طاقت ہے اور صرف ایسی باتیں ہیں جو دوسری کتابوں سے نقل ہو سکتی ہیں اس لئے وید کا اس الزام سے بری ہونا مشکل ہے خاص کر ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ وید میں اگنی کی پوجا فارس کے گبروں سے لی گئی ہے اسی طرح رگوید کی بہت سی تعلیمیں ژند کی تعلیم کی سرقہ معلوم ہوتی ہیں لیکن قرآن شریف تو بجائے خود ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔ ‘‘(چشمہ معرفت،روحانی خزائن جلد ۲۳ ، صفحہ ۲۷۰، ۲۷۱)

ہندوؤں کے بزرگوں کو مکار اور جھوٹا مت کہو: ’’ہم کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے بزرگوں کو مکار اور جھوٹا مت کہو مگر یہ کہو کہ ہزار ہا برسوں کے گذرنے کے بعد یہ لوگ اصل مذہب کو بھول گئے مگر بمقابل ہمارے یہ نا پاک طبع لوگ ہمارے برگزیدہ نبیوں کو گندی گالیاں دیتے ہیں اور ان کو مفتری اور جھوٹا سمجھتے ہیں۔ ‘‘(روحانی خزائن جلد ۲۰، قادیان کے آریہ اور ہم، صفحہ۴۳۱)

ایک اَور جگہ آپؑ فرماتے ہیں: ’’اس جگہ وید کے لفظ سے وہ تعلیم مراد ہے جو آریہ سماج والوں نے اپنے زعم میں ویدوں کے حوالہ سے شائع کی ہے۔ ورنہ یا د رکھنا چاہئے کہ ہم وید کی اصل حقیقت کو خدا کے حوالہ کرتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے اس میں کیا بڑھایا اور کیا گھٹایا جبکہ ہندوستان اور پنجاب میں وید کی پیروی کا دعویٰ کرنے والے صد ہا مذہب ہیں تو ہم کسی خاص فرقہ کی غلطی کو دید پر کیونکر تھوپ سکتے۔ پھر یہ بھی ثابت ہے کہ وید بھی محرف ہو چکا ہے۔ پس بوجہ تحریف اس سے کسی بہتری کی امید بھی لا حاصل ہے۔‘‘(روحانی خزائن جلد ۲۰، قادیان کے آریہ اور ہم ، صفحہ۴۵۲ حاشیہ)

خلاصہ کلام یہ کہ آپؑ نے مختلف مقامات پر آریہ قوم، وید اور ہندو مذہب کے متعلق اظہارِ خیال فرمایا ہے۔ آپؑ نے لسانی تحقیق کی بنیاد پر عربی کو دیگر زبانوں کی اصل قرار دیا اور سنسکرت کے ’’امّ الالسنہ‘‘ ہونے کے دعوے کو غیر ثابت شدہ قرار دیا۔ نیز آپؑ نے یہ بھی لکھا کہ بعض لوگوں نے وید کی تعلیمات پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ان میں مجوسی اور قدیم ایرانی مذہبی روایات کے اثرات پائے جاتے ہیں، بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ طویل زمانہ گزرنے کے ساتھ اصل تعلیمات میں تحریف اور تغیر واقع ہو گیا۔ اسی لیے آپؑ نے موجودہ ویدوں کی قطعی تاریخی حیثیت کے بارے میں احتیاط برتنے کی تلقین فرمائی اور واضح کیا کہ ان کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ان ارشادات کو سابقہ تاریخی شواہد کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو یہ امکان مزید تقویت پاتا ہے کہ قدیم ایران، میسوپوٹیمیا اور ہندوستان کے درمیان موجود تہذیبی و مذہبی روابط کے نتیجے میں بعض ابراہیمی یا توحیدی تعلیمات ان علاقوں تک پہنچی ہوں، جو بعد کے ادوار میں مختلف ثقافتی اور مذہبی اثرات کے باعث اپنی اصل صورت سے بدلتی چلی گئیں۔

حضرت ابراہیمؑ کے دور اور ان کے بعد میسوپوٹیمیا ، عرب اور ہندوستان کا باہمی ربط: تاریخ کے تناظر میں

آئیے اب اس زاوئیے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا یہ تاریخی طور پر ممکن بھی ہے؟ اور کیا ایسے تعلقات ہندوستان اور قدیم عرب میں موجود بھی تھے ؟ عرب و ہندوستان کے اسلام سے قبل کے باہمی تعلقات پر محترم آصف محمود باسط صاحب نے اپنی تحقیق میں بہت اچھی روشنی ڈالی ہے جس کے تفصیلی ذکر کی یہاں ضرورت نہیں خلاصۃََ، قدیم عرب میں ہندوستانی نژاد لوگوں کی آبادکاری کے تاریخی شواہد متعدد ماخذوں سے ثابت ہوتے ہیں۔ عرب جغرافیہ دانوں کے مطابق، ’’زط‘‘ (جٹ/جاٹ) نامی قوم ہندوستان سے تعلق رکھتی تھی جو سندھ و بلوچستان کے علاقوں سے عرب تک پھیل گئی تھی۔…تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اقوام (زط، مید، بیاسرہ) صدیوں پہلے سے عرب معاشرے کا حصہ تھیں۔ ساسانیوں کے ہندوستان سے گہرے تعلقات اور بحر ہند کی تجارت نے ان کی نقل مکانی کو ممکن بنایا۔ قابل ذکر بات یہ کہ ’’السند‘‘ اور ’’الہند‘‘ کی اصطلاحات کو قرون وسطیٰ میں ایک دوسرے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جو دونوں خطوں کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔(ماخوذ از جبل ہندی، سیف ہندی، مسیح ہندی اور غزوہ ہند۔ ’’الہند‘‘ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی نظر میں)

Ancient Mesopotamia with current borders
(Source:https://commons.wikimedia.org/wiki/
File:N-Mesopotamia_and_Syria_english.svg)

یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ احادیث و تاریخ کی کتابوں سے وہ حوالے درج کر دیے جائیں جن سے اہلِ عجم و فارس اور اہلِ ہندیعنی انڈو۔آرین لوگوں کا کا آلِ ابراہیم یا بنو اسحاق سے ہونا ثابت ہوتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کچھ جگہ ’’فارس‘‘ آیا ہے اور کچھ جگہ‘‘عجم‘‘، اور یہ ثابت شدہ بات ہے کہ عجم لفظ اہل فارس کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور ہر غیر عربی کے لیے بھی ، جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا کہ ’’ نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر(مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحہ ۴۱۱۔مؤلف ابوعبداللہ احمد بن حنبل۔ناشر دارالفکر بیروت روایت۲۳۵۳۶)

یہاں معلومات کے لیے عرض ہے کہ اصطلاح ’’آرین‘‘ (سنسکرت آریہ اور پرانی فارسی آریہ سے) اصل میں ہند-یورپی قبائل کے گروہ کو کہا جاتا ہے جو اکثر مورخین کے نزدیک ۱۵۰۰۔ ۲۰۰۰ قبل مسیح کے آس پاس ایران اور شمالی ہندوستان میں ہجرت کر گئے تھے اور یہاں موجود اکثر آبادیوں کا تعلق اسی گروہ سے ہے۔ اس کو ایران کہنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ آریوں کا ملک تھا۔ یہ سلطنت بلوچستان، کچ، مکران، کرمان، غور، بامیان، ہندوکش، سیستان، زابلستان، خراسان، ماوراء النہر، رشت، اصفہان، مازندران، استرآباد، گرگان، فارس، لارستان، خوزستان، افغانستان، کابلستان، پنجاب، کردستان، شیروان، بابل، موصل، اور دیاربکر پر مشتمل تھی۔ (دائرہ معارف اسلامیہ اردو صفحہ۶۲۷ جلد۳ طبع اول ۱۹۶۸ء نقش۱۹۸۰، زیر اہتمام دانشگاہِ پنجاب۔ لاہور)

Ancient India, ca. 2500 BCE
Source: Audrey Truschke “India- 5000 years of history on the subcontinent” -published by Princeton University Press

نوٹ: انسائکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مطابق تاریخی اعتبار سے فارس کی Achaemenid Empire (550–330 قبل مسیح) نے گندھارا اور سندھ پر حکومت کی تھی نیز اسی طرح بعد میں ایک وسطی ایشیائی خاندان نے جو کہ چین کے شمال مغربی علاقہ Yuezhi سے تعلق رکھتے تھے لیکن ایرانی مذہب و تقافت کے زیرِ اثر تھے نے شمالی ہندوستان پر حکومت کی۔ ’’شہنشاہ ایران شاہ پور یعنی یہ وہ بادشاہ ہے جو آنحضرت ﷺ سے تقریباً تین سو سال پہلے تھا کے زمانہ میں سمر قند ایرانی سلطنت کی سرحدی ریاست سوگ دیانہ کا دار الخلافہ تھا اور سمر قند سے سرحد کا فاصلہ ایک سو بیس کلو میٹر سے بھی زیادہ تھا اس حد تک ایرانی ریاست آگے بڑھی ہوئی تھی اور دوسری طرف اس کی حکومت دریائے سند ھ تک پہنچی ہوئی تھی۔ (انسائیکلو پیڈیا برٹینکا جلد 9 & 1 https://www.britannica.com/place/Samarkand-Uzbekistan)

مندرجہ بالا تاریخی امکانات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کے دور اور اس کے بعد میسوپوٹیمیا، ایران، عرب اور ہندوستان کے درمیان تجارتی، ثقافتی اور انسانی روابط موجود تھے۔ وادیٔ سندھ اور میسوپوٹیمیا کے باہمی تعلقات، فارسی سلطنت کے برصغیر تک پھیلاؤ، عرب میں ہندوستانی اقوام کی آبادکاری اور انڈو۔آرین اقوام کی نقل مکانی اس امر کی تائید کرتی ہے کہ ان علاقوں کے درمیان مسلسل رابطہ قائم رہا۔ اس تاریخی پس منظر میں یہ امکان بعید از قیاس نہیں کہ دینِ ابراہیم کی بعض توحیدی تعلیمات ، وہاں کے رسوم و رواج نیز آپؑ کی عظیم شخصیت کے واقعات اور اثرات قدیم ہندوستان تک نہ پہنچے ہوں۔ اس امکان کو مزید پرکھنے کے لیے دیکھتے ہیں کہ تاریخ دان وید پر ان اثرات کے بارے میں کیا لکھتے ہیں۔

میسوپوٹیمین تہذیب نے ویدک مذہب پر اثر ڈالا: Hugo Winkler، جو بیسویں صدی کا ایک مشہور تاریخ دان اور آرکیالوجسٹ تھا اور جو panbabylonism نظریے کے اہم حامی تھا، نے شواہد کے ساتھ بحث کی ہے کہ میسوپوٹیمیا کی تہذیب اور ثقافت، خاص طور پر بابلی، نے قدیم مشرقی نزدیک کی دیگر ثقافتوں کو گہرے طور پر متاثر کیا، جس میں ویدک مذہب بھی شامل ہے۔

رگ وید کی تعلیمات کی تیسری صدی قبل مسیح کے میسوپوٹیمیائی مذہب سے مماثلت: اس کے علاوہ ایس ایچ لیوٹ نے اپنے آرٹیکل ’’The Dating of the Indian Tradition‘‘ میں یہ بنیادی دلیل پیش کی ہے کہ رگ وید کا مذہب تیسری صدی قبل مسیح کے میسوپوٹیمیا کے مذہب سے مماثلت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریگ وید میں بیان ہونے والے بعض دیوتاؤں، تصوّرات اور ادبی اشارے میسوپوٹیمیا کے مذہبی متنوں میں بھی ملتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں تہذیبوں کے درمیان ثقافتی تبادلے کا عمل ہوا ہو گا۔ لیوٹ کے مطابق، یہ مشابہتیں محض اتفاق نہیں بلکہ تاریخی رابطوں اور باہمی اثرات کا نتیجہ ہیں، جو قدیم ہندوستان اور میسوپوٹیمیا کے درمیان گہرے ثقافتی روابط کو ظاہر کرتی ہیں۔(S- H- Levitt, ’’The Dating of the Indian Tradition‘‘, journal Anthropos, volume 98, issue 2, pages 341-359)

وادئ سندھ کی تہذیب اور میسوپوٹیمیا کی تہذیب میں تجارتی و سفری رابطے: اب یہاں حال ہی میں (جون ۲۰۲۵ء) میں امریکہ کی Rutgers University کی تاریخ کی پروفیسر محترمہ Audrey Truschkeکی شائع ہونے والی کتاب India- 5000 years of history on the subcontinent سے چند حوالے درج کروں گا۔ آپ لکھتی ہیں کہ ’’وادیٔ سندھ کے لوگ تجارتی اور سفری نیٹ ورکس کے ذریعے ان تہذیبوں اور دیگر ثقافتوں، خاص طور پر میسوپوٹیمیا، سے جڑے ہوئے تھے۔ انہوں نےدرآمدات، برآمدات اور دوبارہ برآمد ہونے والے سامان کی رواں تجارت کو فروغ دیا۔ مثلاًوادیٔ سندھ کے تاجر افغانستان سےلاجورد (lapis lazuli) درآمد کرتے تھے اور اکثر اسے میسوپوٹیمیا برآمد کر دیتے تھے۔ ممکنہ طور پر یہ پھر مصر تک بھی پہنچتا تھا، جہاں اسے زیورات اور فراعنہ کے جنازوں کے ماسک بنانے میں استعمال کیا جاتا تھا۔ وادیٔ سندھ کے لوگ فیروزہ (turquoise) وسطی ایشیا سے اور تانبا شاید عمان سے درآمد کرتے تھے۔ وادیٔ سندھ کے موتی بہت مقبول تھے اور ممکن ہے کہ چین میں اسی طرز کے موتیوں کی تخلیق پر اثر انداز ہوئے ہوں۔ ان اشیاء کی پیمائش کے لیے، اور شاید ان چیزوں کی بھی جو آثار قدیمہ کے ریکارڈ میں کم نظر آتی ہیں جیسے مصالحے اور اناج، وادیٔ سندھ کے تاجر معیاری مکعب نما وزن استعمال کرتے تھے۔ یہ وزن اکثر سندھ کے بالائی علاقے روہڑی کی پہاڑیوں سے حاصل کیے گئے پتھروں سے بنائے جاتے تھے۔ یہ وزن وادیٔ سندھ کی تہذیب کے مختلف حصوں کے علاوہ میسوپوٹیمیا جیسے دور دراز علاقوں میں بھی دریافت ہوئے ہیں۔ ‘‘

حضرت ابراہیمؑ کے شہر اُر(UR) اور وادئ سند ھ میں تعلق: مزید لکھتی ہیں کہ ’’وادی سندھ کی تہذیب کا سب سے بڑا بین الاقوامی تجارتی شراکت دار میسوپوٹیمیا تھا۔ ۲۳۰۰ قبل مسیح کے قریب اکدی سلطنت کے بانی سارگون کے ایک کتبے میں میلوہا (وادی سندھ تہذیب) سے آنے والے جہازوں کا ذکر ملتا ہے۔ اگرچہ فاصلہ بہت زیادہ تھا، وادی سندھ اور میسوپوٹیمیا کے درمیان بحری و زمینی دونوں راستوں سے بڑے پیمانے پر تجارت ہوتی تھی۔ وادیٔ سندھ کے لوگ تل کا تیل، لکڑی، موتی، جانور اور لاجورد، میسوپوٹیمیا برآمد کرتے تھے۔ عراق کے شہر اُور URکے شاہی قبرستان (۲۶۰۰-۲۵۵۰ قبل مسیح) میں وادی سندھ کے عقیق کے موتی ملے ہیں، جو سمیری تحریروں میں مذکور ’’میلوہا کے قیمتی عقیق‘‘ کے ثبوت ہیں۔ بعد کی سمیری تحریروں میں افغانستان سے درآمد شدہ لاجورد کا ذکر ملتا ہے۔ وادی سندھ میسوپوٹیمیا سے کیا درآمد کرتی تھی اس بارے میں واضح معلومات نہیں، ممکن ہے کہ خام مال یا دیگر ایسی اشیاء جن کے آثار کم ملتے ہیں۔‘‘

Indian delegation in a tribute procession on the eastern stairway at the Apadana, fifth century BCE, Persepolis, Iran.
’’Source: Audrey Truschke “India- 5000 years of history on the subcontinent –
published by Princeton University Press page 42

اہلِ فارس و وسطی ایشیا کے مقامات کا ویدوں میں ذکر و تاریخی نقل مکانی: پروفیسر صاحبہ لکھتے ہوئے مزید کہتی ہیں کہ ’’لسانی شوہد اتنے مضبوط ہیں کہ وہ خود ہی ۱۷۰۰ سے ۱۲۰۰ قبل مسیح کے درمیان شمال مغربی ہندوستان میں انڈو-یورپی بولنے والوں کی قدیم نقل مکانی کے ثبوت کے طور پر کافی ہیں، لیکن اس کے ساتھ نظریاتی روابط بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔ ویدک دیوتاؤں کے مماثل دیوتا ہندوستان سے باہر کی ثقافتوں میں بھی ملتے ہیں- جن میں فارس کے زرتشتوں، اناطولیہ کےHittites، شام اور شمالی میسوپوٹیمیا کے مِتّانیوں، اور بابل کےKassitesشامل ہیں – جو ایک مشترکہ، غیر برصغیری ماخذ کی طرف مزید اشارہ کرتے ہیں۔ویدوں اور قدیم ترین اویستائی متنوں (جو فارس (موجودہ ایران) کے زرتشت برادریوں میں استعمال ہوتے تھے) کے درمیان مماثلتیں خاص طور پر زیادہ ہیں۔ مزید برآں، ویدوں میں فارس اور وسطی ایشیا کے مقامات کا ذکر ملتا ہے، نیز اس بات کا بھی کہ کس طرح گروہوں نے ‘‘کئی دریاؤں کو پار کیا‘‘ اور ’’تنگ راستوں سے گزرے‘‘ جو ممکنہ طور پر تاریخی نقل مکانی کی یادیں ہو سکتی ہیں۔‘‘ ( Audrey Truschke “India- 5000 years of history on the subcontinent” -published by Princeton University Press pp. 11-19)

یہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ قدیم میسوپوٹیمیا، ایران اور وادیٔ سندھ کے درمیان مضبوط تجارتی، ثقافتی اور فکری روابط موجود تھے، جن کے نتیجے میں مذہبی تصوّرات اور روایات کا باہمی تبادلہ بھی ممکن تھا۔ ویدک مذہب اور میسوپوٹیمیائی روایات میں پائی جانے والی بعض مماثلتیں، نیز وادیٔ سندھ اور میسوپوٹیمیا کے ثابت شدہ روابط خاص کر حضرت ابراہیمؑ کے علاقہ ’’اُر‘‘ میں سندھی موتیوں کی دریافت ، ویدوں اور متانیوں اور اوستائی وغیرہ میں مماثل دیوتاوں کا وجود، مزیدبراں ویدوں میں ان علاقوں سے نقل مکانی کے اشارے اس امکان کو مزیدتقویت دیتےہیں کہ ان علاقوں کی مذہبی روایات ایک دوسرے سے متاثر ہوئی ہوں یا کسی مشترک قدیم روایت سے وابستہ ہوں۔

Indo-European-speaking migrations, ca. 1700–1200 BCE
Source: Audrey Truschke
’’India- 5000 years of history on the subcontinent‘‘
-published by Princeton University Press page 16

یہاں سے یہ تحقیق ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے جہاں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ کون لوگ ہو سکتے ہیں جو ان روابط کے نتیجے میں یہاں آ کر بس گئے۔ ایک نظریے کے مطابق ادومی النسل اور ادوم (Edom) کےرہائشی جو عیسو بن اسحاقؑ کا ہی نام تھا اور انہی کے نام سے آباد ہوا۔ ادوم کے بالواسطہ تجارتی اور ثقافتی روابط ہندوستانی علاقوں سے موجود تھے۔ ادومی بحیرہ احمر کے ذریعے مصری اور یمنی تجارتی نیٹ ورکس سے جڑے ہوئے تھے، جو بالآخر ہندوستان تک پھیلے ہوئے تھے۔ جب ایرانیوں (ہخشامی دور (۵۳۹–۳۳۰ قبل مسیح)) نے مصر اور فلسطین فتح کیا، تو ادوم بھی ہخامنشی سلطنت کا حصہ بنا۔ بعض ادومی ہخامنشی دور میں ایران چلے گئے، کیونکہ وہ ایرانی سلطنت کے ماتحت تھے۔ (ماخوز از کتاب تحفہ ہند و یورپ ،مصنفہ مولوی نعمت اللہ خان گوہر،طبع وزیر ہندپریس امرتسر،۱۹۲۸ء قادیان)

لیکن خاکسار ایک اور پہلو اور گروہ کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہے جنہیں عُرفِ عام میں ’’صابی‘‘ کہا جاتا ہے۔

صابی یا الصابئین کا عراق ، عرب و ہندوستان سے تعلق: باکو سٹیٹ یونیورسٹی کی پروفیسر Aida Shahlar Ggasimova اپنے تحقیقی آرٹیکل ’’ The Sabians as One of the Religious Groups in Pre-Islamic Arabia and Their Definition through the Qur›an and Medieval Arabic Sources‘‘ میں لکھتی ہیں کہ ’’مسلم مفسرین مثلاً ابن جریر طبری اور ابن کثیر صابیین کے بارے میں متضاد آراء رکھتے ہیں۔ بعض انہیں اہل کتاب میں سے زبور پڑھنے والا فرقہ بتاتے ہیں، تو بعض انہیں مجوسی یا عیسائیوں سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی خصوصیات میں جنوب کی طرف قبلہ، حضرت نوحؑ سے نسب، فرشتوں کی پرستش، جانوروں کی قربانی اور شادی بیاہ جیسی رسومات شامل ہیں۔ مختلف تفسیری روایات کے باوجود، صابیین کی صحیح تعریف اور عقائد کے بارے میں واضح اتفاق رائے موجود نہیں۔ ’’ مزید لکھتی ہیں کہ ’’ صابیین کے اصل وطن کے بارے میں کچھ اختلافی آراء پائی جاتی ہیں۔… ان کا وطن یا تو حرّان تھا یا موصل(قدیم میسوپوٹیما میں عراق کے علاقے )۔ ابن الندیم حرّانی-کلدانیوں (میسوپوٹیمیا یعنی موجودہ عراق کا علاقہ اور یہاں کے لوگ)کو صابیین سے تعبیر کرتے ہیں اور انہیں ایک پراسرار گروہ قرار دیتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ اپنا مذہب عظیمون اور ہرمیس کے علاوہ افلاطون کے ننھیال سے منسوب کرتے تھے۔… ایک اور مصنف الشہرستانی صابیین کا تعلق ہندیوں، فارسیوں، نبطیوں اور رومیوں سے بھی بیان کرتےہیں۔‘‘ (ARAM Periodical 2010, volume 22, pp. 243-261)

آنحضرتﷺ کے زمانہ میں کفار عام طور پر مسلمانوں کو صابی کہا کرتے تھے۔ (بخاری۔ کتاب المغازی باب بعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم خالد بن ولید الی بنی جذیمہ) و (التاریخ الکبیر جلد ۷ صفحہ۴۲۱۔ از امام بخاری۔ بیروت)جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صابی یا صائبین آنحضرتﷺ کے دور میں وہاں آباد تھے اور عرب کے لوگ ان سے اچھی طرح واقف تھے۔ چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے‘‘صابیین ایک الگ اور مستقل مذہبی گروہ تھے، نہ تو مجوسی، نہ یہودی، نہ عیسائی اور نہ ہی مشرک۔ وہ ان کسی بھی موجودہ مذہب کے پیروکار نہیں تھے۔ اسی بنیاد پر ابتدائی دورِ اسلام میں مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں کو ’’صابی‘‘ کہہ کر پکارا، کیونکہ اسلام بھی ان تمام مذاہب سے الگ ایک نیا دین تھا۔ اس سے صابیین کی منفرد مذہبی حیثیت کا پتہ چلتا ہے۔‘‘ ( تفسیر ابن کثیر، جلد اول، صفحہ ۱۰۸؛ طبری، جامع البیان، جلد اول، صفحہ ۳۶۰)

دسویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان ، ایرانی مفکر، سائنسدان، مورخ ، زبان دان و موازنہ مذاہب وغیرہم کے ماہر البیرونی ’’حقیقی صابی‘‘ اُن یہودی قبائل کو گردانتے تھے جو بادشاہ سائرس (خورس اعظم) کے زمانے میں جب کہ دوسرے قبائل یروشلم چلے گئے لیکن وہ بابل (Babylon)میں ہی رہ گئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے سورہ الحج کی آیت ۱۸ میں ’’صابی‘‘ لوگوں کی تشریح اپنی ترجمۃ القرآن کلاس میں ان الفاظ میں کی ہے ’’اور وہ لوگ جن لوگوں پر دیگر ملکوں میں مختلف وقتوں میں الٰہی تعلیم اتاری گئی۔‘‘ ( اُردو ترجمہ القرآن کلاس نمبر ۱۷۳،سورہ الحج ۱۵ تا ۳۱)

یہاں خاکسار محترم آصف محمود باسط صاحب کے مضمون سے استفادہ کرتے ہوئے ایک حوالہ نقل کرے گا۔ آپ الشہسرستانی کو درج کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ’’ابو فتح الشہرستانی نے ہندو بت پرستی کے الہٰیاتی پہلوؤں پر غور کیااور اپنی مشہور تصنیف ’’کتاب الملل والنحل‘‘ میں ہندو مذہب کی جڑیں صابئین میں تلاش کیں اور وشنو اور شیو کو انبیاء کی حیثیت دی۔ یعنی ایسی دو روحانی شخصیات جنہیں وہ ’’روحانیت‘‘کہتے ہیں اور جو الہند کے لوگوں کی راہنمائی کے لیے بھیجی گئیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن کے تینوں مقامات (سورة البقرہ:۶۳، سورة المائدہ: ۷۰، سورة الحج: ۱۸) پرحضرت مسیح موعودؑ نے ’’صابی‘‘ لوگوں کو ستارہ پرست قرار دیا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں تفسیر حضرت مسیح موعودؑ، جلد ۲ صفحہ ۱۸۰، جلد ۴ صفحہ ۵۸، جلد ۵ صفحہ ۳۷۱) ا ور انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مطابق ’’حقیقی ستارہ پرستی صرف میسوپوٹیمیا کی کچھ قدیم تہذیبوں میں موجود اور اس سے وابستہ تھی۔‘‘ جبکہ یالے یونیورسٹی کے پروفیسر Kevin Van Bladelکے مطابق ان میں حران(Harran) کے صابی بھی شامل ہیں، ایک ناقص سمجھے جانے والے قدیم سامی مذہب کے پیروکار جو بالائی میسوپوٹیمیا کے شہر حران میں واقع ہے، جنہیں شامی عیسائی مذہب پرستوں نے ستارہ پرستوں کے طور پر بیان کیا ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے انہیں ’’ستاروں کو پوجنے والے اور ہمہ حق کہنے والے صابی‘‘ قرار دیا ہے۔نیز آپؓ لکھتے ہیں کہ ’’صابی حضرت ابراہیمؑ کو عظیم الشان مانتے ہیں۔ حضرت یحیٰ  کو بھی۔ وضو کرتے۔ نماز قبلہ رُخ ادا کرتے ہیں لیکن محمدﷺ کے ماننے میں تامل ہے۔‘‘ ( تفصیل کے لیے دیکھیں حقائق الفرقان ، جلد۱صفحہ ۲۳۱، جلد ۲صفحہ۳۱۷)ایک اور مقام پر آپؓ نے صابیوں کے تین گروہ یا مذہب گنوائے اور فرمایا کہ آپ ان سب کا مسلمانوں پر اثر دیکھتے ہیں اول ٹونے ٹوٹکے اور ستاروں کا خیال کرنے والے، دوم صوفیانہ طبیعت رکھنے والے اور سوم نماز،وضو کرنے والے بغداد میں رہنے والے لیکن مسلمان نہیں۔ ( تفصیل کے لیے دیکھیں حقائق الفرقان ، جلد۴صفحہ ۱۱۱)

پس ان حوالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں مختلف ماخذ میں ان کی تعریف اور عقائد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہےوہیں اس بات پر اکثر مورخین متفق ہیں کہ صابیین ایک قدیم مذہبی گروہ تھے جن کا تعلق قدیم میسوپوٹیمین تہذیب کے شہروں حرّان یاموصل (عراق)سے تھا۔ قرآن اور احادیث میں ان کا ذکر موجود ہے۔ ابتدائی اسلامی دور میں مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو بھی طنزاً ’’صابی‘‘ کہا، جو اس گروہ کی منفرد مذہبی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ نہ یہودی تھے نہ عیسائی، بلکہ ان کا الگ مذہبی تشخص تھا جن میں کچھ، فرشتہ پرستی وغیرہ جیسے عقائد رکھتے تھے اور حضرت نوحؑ سے ان کا نسب تھا (ابن کثیر، طبری)۔ الشہرستانی کے مطابق ہندو مت کے بعض عقائد کی جڑیں صابیین سے ملتی ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ان کو ستارہ پرست قرار دیا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے ہمہ حق کہنے والے ، حضرت ابراہیمؑ کو عظیم الشان سمجھنے والے بغداد میں مقیم مخصوص قوم جبکہ خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے نزدیک یہ ان لوگوں میں ہیں جن پر الٰہی تعلیم اتاری گئی۔

خلاصہ و نتیجہ: صابیین کے بارے میں اگرچہ قدیم مفسرین اور مؤرخین کے ہاں مختلف آراء پائی جاتی ہیں، تاہم تاریخی شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ایک قدیم مذہبی گروہ تھا۔ قرآن و حدیث میں ان کا ذکر اور عرب معاشرے میں ان کی پہچان اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ اسلام سے پہلے اور ابتدائی اسلامی دور میں ایک معروف مذہبی جماعت تھے۔ مختلف روایات کے مطابق ان کے عقائد میں ستاروں، فرشتوں، روحانی ہستیوں اور بعض انبیاء سے تعلق کے تصوّرات پائے جاتے تھے۔ بعض مسلم مصنفین، خصوصاً الشہرستانی، نے ان کے اثرات کو ہندوستانی مذہبی روایات تک بھی جوڑا ہے۔ان کے عقائد اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم دنیا میں مختلف اقوام کے درمیان مذہبی تصوّرات کا تبادلہ جاری تھانیز صابی مذہب یا لوگوں کا ماخذ بھی عراق میسوپوٹیمیا کا تقریباً وہی علاقہ مانا جاتا ہے جہاں کے حضرت ابراہیمؑ تھے نیز صابی لوگوں کا عرب میں رہنا نیز ہندوستان سے تعلق بھی یہ بتاتا ہے کہ آرین لوگوں جن میں سے کچھ صابی مذہب کے ماننے والے تھے نے ہندو مذہب پر اثر ڈالا لیکن دوسری طرف حضرت ابراہیمؑ سے متعلق مماثلتیں یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ آرین لوگوں میں دین ابراہیمؑ کے ماننے والے بھی تھے کیونکہ جب وہ آئے تو اس کے بعد ہی ویدک دور شروع ہوا اور اس میں ان کی جھلک نظر آتی ہے۔

اب تک کی تکرار اور تاریخ کے مختلف حوالوں وغیرہ کے مطالعہ سے یہ بات تو اب کافی حد تک عیاں ہو چکی ہے ،مذہبی، لسانی، تجارتی، انسانی روابط کی بنیاد پر کہ یہ امکان کہ ابراہیمی نظریات ہندوستان پہنچے ہوں، بہت بڑھ جاتا ہے، اب دیکھتے ہیں کہ آخر اس امکان کو موضوعِ مضمون بنانا اتنا اہم کیوں ہے اور حضرت مسیح موعودؑ کا اس بات سے کیا تعلق ہے نیز کیا آنحضرتﷺ نے اس بارہ میں کچھ فرمایا ہے؟

(جاری ہے)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button