جماعت احمدیہ یوکے کے49 ویں جلسہ سالانہ کے موقع پر22اگست2015ء کوسیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا حدیقۃالمہدی، آلٹن میں دوسرے دن بعد دوپہر کا خطاب
2015 – 2014 ء میں جماعت احمدیہ عالمگیر پر نازل ہونے والے بے انتہا فضلو ں کا ایمان افروز تذکرہ
خدا تعالیٰ کے فضل سے اِس وقت تک دنیا کے 207ممالک میں احمدیت کا پودا لگ چکا ہے۔ اس سال پورٹو ریکو(Puerto Rico)میں جماعت احمدیہ کا نفوذ ہوا۔
2015-2014 ء میں پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں 776نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ نئی جماعتو ں کے قیام کے دوران ایمان افروز واقعات۔ دوران سال 401مساجد کا اضافہ ہوا۔ ان میں سے 156مساجد نئی تعمیر ہوئیں جبکہ 245بنی بنائی مساجد نمازیو ں سمیت عطا ہوئیں۔ مساجد کی تعمیر کے تعلق میں دلچسپ واقعات۔
جماعت احمدیہ کے زیر اہتمام شائع شدہ مکمل تراجم قرآن کریم کی تعداد 74ہو چکی ہے۔ دوران سال سنہالی اور برمی زبان میں قرآن کریم کے مکمل تراجم شائع ہوئے۔
105ممالک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق امسال 761مختلف کتب، پمفلٹ، فولڈرز وغیرہ 58 زبانو ں میں ایک کروڑ 23لاکھ 74ہزار 800 کی تعداد میں طبع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلی مرتبہ ایک سال میں شائع ہونے والے لٹریچر کی تعداد ایک کروڑ سے اوپر ہو ئی۔
ایڈیشنلوکالت اشاعت (طباعت )ایڈیشنل وکالت اشاعت( ترسیل)، وکالت تعمیل و تنفیذ، رقیم پریس اور افریقن ممالک کے پریسو ں کی مساعی کا تذکرہ
اس سال 2460نمائشو ں اور 13ہزار 735بکسٹالز کے ذریعہ لاکھو ں افراد تک اسلام احمدیت کے پیغام کی تشہیر۔
نمائشو ں اور بکسٹالز کے تعلق میں زائرین کے نیک تأثرات کا تذکرہ۔
اس سال دنیا بھر کی جماعتو ں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 36لاکھ سے زائد لیف لیٹس کی تقسیم۔ تقسیم لڑیچر کے دوران دلچسپ واقعات کا تذکرہ۔
مختلف مرکزی ڈیسکس، پریس اینڈ میڈیا آفس، احمدیہ ویب سائٹ، ریویو آف ریلیجنز کی مساعی کا تذکرہ۔
اس وقت دنیا کی 28زبانو ں میں 140 اخبارات و رسائل شائع ہو رہے ہیں۔
جماعت احمدیہ یوکے کے49ویں جلسہ سالانہ کے موقع پر22اگست2015ء کوسیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا حدیقۃالمہدی، آلٹن میں دوسرے دن بعد دوپہر کا خطاب
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
آج اس وقت دوران سال جو اللہ تعالیٰ کے فضل جماعت احمدیہ پر ہوئے ہو ں ان کا مختصر ذکر کیا جاتا ہے لیکن جو مختصر خلاصہ بھی تیار کیا جاتا ہے وہ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ سب بیان نہیں کیا جا سکتا اور بہت سارا حصہ اس میں سے چھوڑنا پڑتا ہے۔ آج میں نے ویسے بھی ارادہ کیا ہے کہ جتنا زیادہ مختصر کر سکو ں کرو ں اور ایک گھنٹے کے اندر اندر یہ ختم ہو جائے۔ اب دیکھیں میری کوشش کامیاب ہوتی ہے کہ نہیں۔
خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت دنیا کے 207 ممالک میں احمدیت کا پودا لگ چکا ہے اور اس سال جو نیا ملک شامل ہوا ہے پورٹو ریکو(Puerto Rico) ہے جس میں احمدیت کا نفوذ ہوا۔ یہ چھوٹا سا سپینش ملک ہے۔ انگریزی زبان بھی بولی جاتی ہے۔ تینتیس لاکھ پینتالیس ہزار کی آبادی ہے۔ قریباًساڑھے تین ہزار مربع کلو میٹر رقبہ ہے۔ یہا ں ایک داعی الی اللہ حسن پرویز باجوہ صاحب کے ذریعہ سے پہلے پیغام پہنچا۔ ایک بیعت ہوئی۔ اس کے بعد امریکہ سے مبلغین نے اس کا دورہ کیا اور پروگرام وغیرہ ہوتے رہے ریڈیو پروگرام بھی ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے سات مزید بیعتیں ہوئیں۔
نئے ممالک میں نفوذ کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 54ممالک میں وفود بھجوا کر احمدیت میں نئے شامل ہونے والو ں سے رابطے کئے گئے۔ پرانے لوگو ں سے رابطہ کر کے ان کے لئے تعلیم و تربیتی پروگرام بنائے گئے۔ لائبریریو ں میں لٹریچر رکھوایا گیا۔ اخبارات میں انٹرویو شائع ہوئے اور بے شمار ممالک ہیں جن میں یہ سارے کام ہوئے۔
اللہ کے فضل سے اس سال دنیا بھر میں پاکستان کے علاوہ جو نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں ان کی تعداد 776ہے اور ان جماعتو ں کے علاوہ 1280نئے مقامات پر پہلی بار احمدیت کا پودا لگا ہے۔
نئی جماعتو ں کے قیام میں سرفہرست بینن کا نمبر ہے جہا ں اس سال 155نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ دوسرے نمبر پر سیرالیون ہے جہا ں 136 نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ تیسرے نمبر پر مالی ہے جہا ں 65نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ اس کے علاوہ اور بہت سارے ممالک ہیں جن میں یوکے بھی شامل ہے جہا ں بیس بائیس سے اوپر نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ قیام کے دوران بہت سارے ایمان افروز واقعات سامنے آتے ہیں۔ اس وقت بیان کرنے مشکل ہیں۔
بینن سے لوکل مشنری عالیو صاحب لکھتے ہیں کہ ہم ایک گاؤ ں لانتیری(Lanterie) میں تبلیغ کے لئے گئے۔ وہا ں جب تبلیغ شروع کی تو لوگ اسلام کی موجودہ حالت پر باتیں کرنے لگ گئے کہ آج مسلمان یہ کرتے ہیں وہ کرتے ہیں یعنی ہر قسم کی خرابیا ں گنوانے لگ گئے۔ تب ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کا مقصد بیان کیا کہ اسی حالت کی درستی کے لئے اور لوگو ں کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کے لئے توآپ علیہ السلام آئے ہیں۔ آپ مسیح اور امام مہدی بن کر آئے ہیں۔ اس پر بعض لوگو ں نے کہا کہ اگر یہی امام مہدی ہیں تو پھر کوئی معجزہ بیان کریں۔ تو مشنری کہتے ہیں میں معجزات کی باتیں کرنے لگا تو ایک شخص کھڑا ہوا اس نے کہا چھوڑو کہ معجزات کیا کیا بیان ہوئے۔ ہمارے یہا ں اس علاقے میں عرصے سے بارش نہیں ہوئی۔ دعا کرو کہ بارش ہو جائے۔ ہم تب مانیں گے۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچانے آئے ہیں اور اگر تم یہی نشان مانگتے ہو تو میں بھی اس اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے تمہیں کہتا ہو ں کہ بارش ہو جائے گی۔ اور کہتے ہیں ہم نے دعا کی۔ اگلے دن دوسرے شہر میں جب پہنچے ہیں تو پیچھے ان کی اطلاع آئی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے رات ہی بہت بارش ہو گئی۔
امیر صاحب کانگو لکھتے ہیں کہ مشرقی صوبے میں دورہ کیا۔ پمفلٹ تقسیم کئے۔ مخالفین نے یہ کوشش کی کہ لوگ پیغام نہ سنیں۔ گھر گھر جا کر لوگو ں کو منع کیا۔ لیکن الحمد للہ اس کوشش کے باوجود ساؤتھ کے جس شہر میں وہ گئے تھے وہا ں اب تک ساٹھ سے زیادہ لوگ احمدیت قبول کر چکے ہیں اور اس کے علاوہ اس علاقے میں مختلف جگہو ں پر پانچ جماعتیں قائم ہو چکی ہیں اور صوبے میں دو ہزار سے زیادہ بیعتیں ہو چکی ہیں۔
امیر صاحب کانگو ہی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی اپنے کام سے کنشاسا آیا اور احمدیہ مشن بھی آ گیا۔ اس نے بتایا کہ ’پَوپَوکاپاکا‘(Popokapaka)میں کئی سو احمدی ہیں (ایک جگہ کا نام ہے) ان کو مدد کی ضرورت ہے اس لئے ان کو بھی کچھ مدد دیں۔ کہتے ہیں وہا ں گئے۔ ہمارے ریکارڈ میں تو یہ جماعت تھی ہی نہیں۔ ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا کہ یہ جماعت یہا ں قائم ہے۔ بہرحال جائزہ لینے کے بعد معلم بھجوایا۔ جب ہمارا معلم وہا ں پہنچا اور وہا ں کے مولوی کو پتا لگا کہ یہ احمدی ہے۔ اس نے کہا تم لوگ کافر ہو ہم تمہاری بات نہیں سنیں گے یہا ں سے چلے جاؤ۔ لیکن بہرحال رمضان کے مہینے میں ایک واقعہ ہوا۔ مسلمانو ں کی مسجد کا جو امام تھا وہ کچھ دنو ں کے لئے وہا ں سے کہیں گیا ہوا تھا۔ تراویح اور نمازیں پڑھانے کے لئے ان کو کوئی نہیں مل رہا تھا۔ چنانچہ اگلے روز انہو ں نے معلم سے کہا کہ مسجد میں آ جاؤ اور نمازیں پڑھاؤ، تراویح پڑھاؤ۔ دو تین دن تو معلم نے پڑھائیں لیکن جب وہا ں کے امام کو دوسرے شہر میں یہ خبر پہنچی کہ احمدی معلم نمازیں پڑھا رہا ہے تو اس نے پیغام بھجوایا کہ اس کو فوراً مسجد سے نکال دو۔ بہرحال ایک شریف النفس عیسائی نے معلّم کو اپنے ہا ں ٹھہرا لیا۔ اپنے گھر میں نماز ادا کرنے کی اجازت دے دی اور ایک جگہ مہیا کر دی۔ معلّم نے لوگو ں کو کہا کہ جو میرے ساتھ نماز ادا کرنا چاہتے ہیں وہ اس گھر میں آ جایا کریں۔ تیسرے دن ہی وہا ں نماز شروع ہو گئی اور اس کے بعد پھر معلّم کی رہائش اور نماز سینٹر کے لئے مکان کرائے پر لے لیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہا ں اب ایک جماعت قائم ہے اور عید پر بھی مقامی مسجد میں جتنے لوگ جاتے تھے اس سے زیادہ ہمارے معلم کے پیچھے لوگ نمازیں پڑھنے کے لئے آ رہے تھے اور بیعت کر لی۔
مبلغ انچارج گنی کناکری کہتے ہیں کہ لیف لیٹس کی تقسیم کے انتہائی بابرکت منصوبے کے تحت ہر جگہ جماعت کا تعارف ہو چکا ہے۔ ایک گاؤ ں میں جہا ں پہلے سے اطلاع بھجوائی گئی تھی کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی پیغام لے کر آ رہے ہیں۔ یہ گاؤ ں والے اور قریب کے گاؤ ں کے امام اور چیف ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ چنانچہ جب ہم وہا ں پہنچے تو ایک غیر معمولی جوش و جذبہ دیکھنے کو ملا۔ تقریباً چار گھنٹے کی مجلس سوال وجواب کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام گاؤ ں بشمول امام اور چیف اور اسی طرح ساتھ کے گاؤ ں کے امام اور گاؤ ں کے لوگ بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہو گئے۔ الحمد للہ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ایک بنی بنائی خوبصورت مسجد بھی جماعت کو عطا فرمائی۔ گاؤ ں کا چیف امام کہنے لگا کہ آپ کی باتیں سن کر لگ رہا تھا کہ میں آج حقیقی مسلمان ہوا ہو ں۔ لہٰذا آپ میری تربیت کریں اور مجھے صحیح اسلام سکھائیں۔
برکینا فاسو میں بھی یہ کہتے ہیں کہ ہمارے ریجن کے ایک گاؤ ں بومبیں (Bombain)میں ہمارے مشنری تبلیغ کی غرض سے پہنچے۔ نماز عشاء کے بعد تبلیغ کا آغاز کیا گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے حوالے سے دلائل پیش کر کے لوگو ں کی تسلی کروائی گئی۔ تبلیغ کے اختتام پر ایک شخص نے بتایا کہ جب میں چھوٹا تھا تو میرے والد نے ایک خواب سنائی تھی کہ ایک شخص ہاتھ میں تلوار لئے آسمان سے زمین کی طرف آ رہا ہے۔ میرے والد نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ امام مہدی کے آنے کا وقت ہے۔ کیونکہ اب میں بوڑھا ہو چکاہو ں ہو سکتا ہے کہ اس کی یہ آمد میری زندگی میں نہ ہو اور میرے مرنے کے بعد ہو۔ بہرحال تمہیں نصیحت کرتا ہو ں کہ جب بھی امام مہدی آئیں تو ان کو قبول کر لینا۔ آج آپ لوگو ں کے منہ سے امام مہدی کے ظہور کی خبر سن کر مجھے میرے والد کی نصیحت یاد آ گئی۔ اس لئے میں آج اپنے خاندان سمیت احمدی ہونے کا اعلان کرتا ہو ں۔ اللہ کے فضل سے اس گاؤ ں میں 59 افراد نے بیعت کی۔
نئی مساجد کی تعمیر اورجماعت کو عطا ہونے والی مساجد
جماعت کودوران سال اللہ تعالیٰ کے حضور جو مساجد پیش کرنے کی توفیق ملی، تعمیر کرنے کی توفیق ملی۔ ان کی مجموعی تعداد 401ہے۔ جن میں سے 156مساجد نئی تعمیر ہوئی ہیں اور 245 بنی بنائی ملی ہیں۔ اس میں امریکہ اور بہت سارے دوسرے ممالک ہیں جہا ں مساجد تعمیر کی گئیں۔
مختلف ممالک میں جماعت کی پہلی مسجد کی تعمیر ہوئی۔ دوران سال ستمبر میں آئرلینڈ میں تعمیر مکمل ہوئی۔ مڈغاسکر میں ہوئی۔ برازیل میں ہوئی۔ اور جاپان کی مسجد بھی آخری مراحل میں ہے۔
مساجد کے تعلق میں واقعات
مساجد کے تعلق سے واقعات میں آئیوری کوسٹ سے ہمارے ایک معلم کریم صاحب ہیں وہ لکھتے ہیں کہ دو ہفتہ قبل خواب میں دیکھا کہ گاؤ ں میں بہت سے لوگ اکٹھے ہو کر ایک طرف جا رہے ہیں جبکہ ایک شخص ان کے آگے چل رہا ہے جس کے ہاتھ میں ایک عصا ہے۔ جو لوگ خواب میں اس کے پیچھے چل رہے تھے انہی میں سے بعض نے یہ کہنا شروع کیا کہ ہم جس آدمی کے پیچھے چل رہے ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بابرکت وجود ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ سنا تو میں بھی خواب میں بھاگ کر ان لوگو ں میں شامل ہو گیا۔ جب قریب سے دیکھا تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے جو ہماری ہدایت کے لئے ہمارے آگے چل رہے تھے۔ چنانچہ ہم ان کے پیچھے چلتے رہے۔ تھوڑی دور جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا عصا زمین میں گاڑتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگ یہا ں اپنی مسجد بنائیں گے۔ چنانچہ ابھی چند دن پہلے جب گاؤ ں کے چیف نے ہمیں مسجد کے لئے زمین دکھائی تو وہ عین وہی جگہ تھی جہا ں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواب میں مجھے اپنا عصا گاڑ کر دکھایا تھا۔
اروشہ ریجن تنزانیہ سے مربی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک نئی جماعت کسوانی(Kisiwani) میں وقار عمل کے ذریعہ پانچ ہزار اینٹ تیار کی جا رہی ہے۔ وقار عمل میں نومبائعین شامل ہو رہے ہیں اور دو ہزار اینٹیں بن چکی ہیں۔ ان اینٹو ں کو پکایا جائے گا۔ وہا ں نومبائعین بھی بڑی محنت سے مسجد تعمیر کر رہے ہیں۔ اس طرح اوربہت سارے واقعات ہیں۔
مسجد کی تعمیر میں مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
برکینا فاسو کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ تینکو دُوگو (Tenko Dogo)ریجن کی ایک ابتدائی جماعت کوکو نوغیں (Koko Nogain) میں کویت سے مولویو ں کا ایک گروپ آیا اور ان کو ایک شاندار مسجد بنانے کی پیشکش کی۔ لیکن گاؤ ں والو ں نے جب ان کو بتایا کہ ہمارا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے تو مولوی جماعت کے خلاف بولنے لگ گئے اور کہا کہ اگر آپ جماعت احمدیہ کو چھوڑ دیں تو ہم آپ کو بہت اچھی مسجد بنا کر دیں گے۔ اس پر گاؤ ں کے احمدی امام نے انہیں جواب دیا کہ اگر آپ مسجد بنانا چاہتے ہیں تو بنائیں لیکن یہ خیال مت کرنا کہ ہم جماعت احمدیہ کو چھوڑ دیں گے کیونکہ ہماری زندگیو ں کا نچوڑ احمدیت ہے اور اس مٹی کی مسجد میں ہی ہم خوش ہیں۔ جو کچی مسجد بنی ہوئی ہے اسی میں ہم خوش ہیں اور اسی مٹی کی مسجد میں ہی ہم احمدی ہونے کی حالت میں مرنا پسند کریں گے اور جب تک میں زندہ ہو ں اس جماعت میں کوئی فتنہ پیدا نہیں ہونے دو ں گا۔ یہ جواب ساری جماعت کے ایمان کی تقویت کا باعث بنا۔ یہ صورتحال دیکھ کر مولوی وہا ں سے اٹھے اور برا بھلا کہتے ہوئے چلے گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب وہا ں مٹی کی مسجد نہیں بلکہ ان کو مسجد کی منظوری دی گئی تھی اورپکی مسجد تکمیل کے مراحل میں ہے، تقریباً مکمل ہونے والی ہے۔
تراجم قرآن کریم
ایڈیشنل وکالت تصنیف کی رپورٹ کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جو مکمل تراجم قرآن کریم جماعت احمدیہ کی طرف سے طبع کروائے جا چکے ہیں ان کی تعداد اب تک 74 ہو چکی ہے۔ گزشتہ سال یہ 72 تھی اس سال دو نئی زبانو ں سنہالی اور برمی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ مکمل ہو اہے۔ اسی طرح مختلف قسم کی کتب اور فولڈر 22زبانو ں میں شائع ہوئیں اور بہت سارے ابھی چھپوائی کے مراحل میں ہیں۔
کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تبصرے۔ چین میں کتب کی نمائش کے دوران ایک رسالے کی مدیرہ صاحبہ ہمارے سٹال پر آئیں اور کتب کو دیکھتے ہوئے ’اسلامی اصول کی فلاسفی‘ کو کھول کر دیکھا۔ وہ کچھ دیر کھڑی ہو کر ورق گردانی کرتی رہیں۔ پھر بیٹھ کر پڑھنا شروع کر دیا اور تقریباً ایک گھنٹہ تک بیٹھی پڑھتی رہیں۔ پھر کہنے لگیں یہ کتاب اتنی دلچسپ تھی کہ چھوڑنے کو دل نہیں کرتا تھا۔ میں نے اسّی فیصد تو یہا ں پڑھ لی ہے اور باقی گھر جا کر پڑھو ں گی۔ اپنا رابطہ اور پتہ وغیرہ بھی دیا اور کہنے لگیں کہ انہیں اور لٹریچر بھجوایا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس عظیم الشان مضمون کے بالا ہونے کے نظارے بار بار دیکھنے کو ملتے ہیں۔
آئیوری کوسٹ کے بسّم(Bassam) ریجن کے معلّم لکھتے ہیں کہ میں ایک جماعتی سکول کے کام کے سلسلہ میں بَونُوآ (Bonoua) شہر میں ایک سرکاری افسر سے ملنے اس کے دفتر گیا۔ دفتر میں جب مشن کا تعارف کروایا تو ایک اہلکار نے کہا کہ وہ جماعت احمدیہ سے کسی حد تک واقف ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس نے ایک بک سٹال سے ’ اسلامی اصول کی فلاسفی‘ کا فرنچ ترجمہ خریدا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ مذہباً عیسائی ہے مگر یہ کتاب اکثر اس کے مطالعہ میں رہتی ہے کیونکہ اس کے مضامین نہایت گہرے اور حیرت انگیز ہیں۔
وکالت اشاعت (طباعت )
وکالت اشاعت طباعت کا جو شعبہ ہے اس کی رپورٹ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال 105 ممالک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق 761مختلف کتب، پمفلٹ اور فولڈر 58 زبانو ں میں ایک کروڑ تئیس لاکھ چوہتر ہزار آٹھ سو کی تعداد میں شائع کئے۔ اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ کا بڑا احسان ہے کہ پہلی دفعہ جماعت کی طرف سے دنیا بھر میں شائع ہونے والے لٹریچر کی تعداد ایک کروڑ سے اوپر گئی ہے۔
میا ں قمر احمد مبلغ بینن کہتے ہیں کہ امیر صاحب فلسطین اور صدر صاحب مصر کے دورے کے بعد خاکسار مدرسۃ الاسلامیہ العربیہ کے ڈائریکٹر امام موسیٰ سے ملنے گیا۔ موصوف رمضان کے تیس دن پورتونووکے بڑے ریڈیو پر درس دیتے ہیں۔ موصوف امام نے بہت محبت سے استقبال کیا اور کہاکہ میرے پاس آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ آپ کے لٹریچر نے میری آنکھیں کھول دی ہیں۔ میں صرف یہ کہو ں گا کہ میں زبان سے تو احمدی نہیں مگر دل سے احمدی ہو ں۔
وکالت اشاعت (ترسیل)
رپورٹ وکالت اشاعت ترسیل۔ وکالت اشاعت کا یہ ترسیل کا شعبہ جو بنایا گیا ہے ان کے مطابق دوران سال دنیا کے مختلف ممالک کو 38 مختلف زبانو ں میں نئی شائع شدہ کتب تین لاکھ پانچ ہزار تین سو کی تعداد میں یہا ں لندن سے بھجوائی گئیں۔ اور ان کتب کی کل مالیت تین لاکھ سینتالیس ہزار پاؤنڈز تھی۔
قادیان سے کتب کی ترسیل بھی جاری ہے اور وہا ں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے پریس کام کر رہا ہے اور مختلف ممالک کی مرکزی اور ریجنل لائبریریو ں میں اور فروخت کے لئے دو کروڑ چھیاسٹھ لاکھ روپے کی مالیت کی کتب بھجوائی گئیں۔
جماعتو ں میں ریجنل اور مرکزی لائبریریز کا قیام ہوا۔ 220سے زائد ریجنل اور مرکزی لائبریریو ں کا مختلف ممالک میں قیام ہو چکاہے۔ ان کے لئے لندن اور قادیان سے کتب بھجوائی گئیں۔ مزید جماعتو ں میں لائبریریو ں کے قیام کے لئے کوشش کی جا رہی ہے۔
وکالت تعمیل و تنفیذ
وکالت تعمیل و تنفیذ لندن۔ وکالت تعمیل و تنفیذ کے کامو ں میں بھارت، نیپال اور بھوٹان کے کام ہو رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کامو ں میں کافی وسعت پیدا ہو چکی ہے۔
رقیم پریس اور افریقن ممالک کے احمدیہ پریس
رقیم پریس اور افریقن ممالک کے جو مختلف احمدیہ پریس ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال رقیم پریس لندن کے ذریعہ چھپنے والی کتب کی تعداد دولاکھ نوے ہزار سے اوپر ہے۔ الفضل انٹرنیشنل، چھوٹے پمفلٹ، لیف لیٹ اور جماعتی دفاتر کی سٹیشنری اس کے علاوہ ہے۔
فارنہام(Farnham) میں رقیم پریس کے لئے ایک نئی عمارت خریدی گئی ہے انشاء اللہ یہ اسلام آباد سے وہا ں شفٹ ہو جائے گا۔
افریقن ممالک کے پرنٹنگ پریس بھی کام کر رہے ہیں جن میں گھانا، نائیجیریا، سیرالیون، گیمبیا، آئیوری کوسٹ، برکینا فاسو، کینیا اور تنزانیہ شامل ہیں۔ اس سال وہا ں جو لٹریچر طبع ہوا ہے اس کی تعداد دس لاکھ پچاسی ہزار ہے۔
فضل عمر پریس قادیان کے لئے جدید اور تیز رفتار بائنڈنگ اور فولڈنگ مشین خرید کر بھجوائی گئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہا ں اس مشین کے ذریعہ سے کام ہو رہا ہے۔ گیمبیا میں پہلا جدید کمپیوٹرائزڈ پریس سسٹم لگایا گیا۔
نمائشیں و بک سٹالز
نمائش اور بک سٹالز، بک فیئرز جو ہیں ان کے ذریعہ سے اس سال چوبیس سو ساٹھ نمائشو ں کے ذریعہ سترہ لاکھ نو ہزار سے اوپر افراد تک اسلام کا پیغام پہنچا۔ اس سال تیرہ ہزار سات سو پینتیس بک سٹالز اور بک فیئرز میں شمولیت کے ذریعہ سترہ لاکھ اٹھانوے ہزارافراد تک پیغام پہنچا۔
نمائشو ں کے تعلق میں واقعات و تأثرات
نمائشو ں کے حوالے سے واقعات اور تاثرات۔ نائیجریا کی سٹیٹ اوسون(Osun) کے گورنر کے نمائندے نے یہ لٹریچر وغیرہ دیکھ کر کہا: ہم جماعت احمدیہ کی انسانیت کی خدمت کے معترف ہیں اور آپ کی امن کے لئے کی گئی کوششو ں کو سراہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان میں برکت ڈالے۔ لکسمبرگ میں ایک نمائش کے موقع پر ایک جرمن آدمی ہمارے سٹال پر آیا اور مختلف کتب دیکھ کر کہنے لگا کہ میں ویسے تو دہریہ ہو ں لیکن آپ کے اس پُرامن پیغام کو دیکھ کر میں کہتا ہو ں کہ کاش ہر ایک اس پیغام کو مان لے تب ساری دنیا امن سے بھر جائے۔ میں امید کرتا ہو ں کہ آپ یہ پیغام ہر ایک تک پہنچائیں گے۔ اس پر ایک خادم نے کہا کہ ہم پہنچا رہے ہیں اس لئے تو یہا ں بھی آئے ہیں۔
لیگوس نائیجیریا کے سیکیورٹی آفیسر کو جب مختلف لیکچرز کی جو میری کتاب ہےPathway to Peace دی گئی تو کہنے لگے: یہ کتاب پڑھ کر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ حقیقی سچائی اور امن کی تبلیغ کی۔ اگر ہر مذہبی لیڈر اس عالمی امن کے لئے امام جماعت احمدیہ عالمگیر کا ساتھ دے تو دنیا میں امن کی بارش ہونے لگ جائے اور ہمیں امن نصیب ہو جائے۔
اس سال بینن میں تراجم قرآن کریم اور کتب سلسلہ کی نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر کالج کے پروفیسر ہوبرٹ ماگا (Hubert Maga)صاحب نے ہمارے مربی کو نمائش دیکھنے کے بعد کہا کہ میں مذہباً عیسائی ہو ں۔ اسلام کے بارے میں میڈیا سے بہت کچھ سنا اور دیکھا تھا لیکن نمائش دیکھنے کے بعد سب کچھ اس کے برعکس پایا۔ مجھے یہا ں آ کر معلوم ہوا ہے کہ اسلام امن کی تعلیم دیتا ہے۔ جو لوگ متشددانہ کارروائیا ں کرتے ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جماعت احمدیہ اسلام کا بہترین تصور پیش کر رہی ہے۔ چنانچہ موصوف نے جاتے ہوئے فرنچ ترجمہ کے ساتھ قرآن کریم اور اسلام کی دیگر کتب بھی خریدیں۔
کبابیر کے مبلغ لکھتے ہیں کہ حیفا یونیورسٹی میں کبابیر جماعت کی طرف سے نمائش کی کتب اور ایک سٹال کا اہتمام کیا گیا۔ ہمارے بک سٹال پر ایک غیر احمدی نوجوان آیا اور کتابو ں کو بغور دیکھنے لگا۔ اسی اثناء میں اس کی نظر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب’ اسلامی اصول کی فلاسفی‘ پر پڑی اور کہا کہ اس کتاب کی قیمت کیا ہے؟ میں دس کتابو ں کی قیمت ادا کرنا چاہتا ہو ں تا کہ میری طرف سے یہ لوگو ں میں تقسیم کی جائیں۔ ہم نے اس سے پوچھا کیا آپ نے اس کتاب کو پڑھا ہے۔ تو کہنے لگا میں اس کتاب سے اچھی طرح واقف ہو ں۔ اس نے دس کتابو ں کی قیمت ادا کی کہ میری طرف سے لوگو ں کو دے دیں۔
نائیجیریا کے ایک پروفیسر نمائش کے موقع پر آئے۔ اپنے تاثرات میں کہتے ہیں کہ بہت عمدہ پروگرام ہے۔ میری خواہش ہے کہ دوسرے مسلمان بھی اسلام کی امن کی تعلیم ہمارے ملک اور ساری دنیا میں پھیلانے میں آپ کا ساتھ دیں۔
بُک سٹال اور بُک فیئرز کے حوالے سے واقعات
بُک سٹالز اور بک فیئرز کے حوالے سے بعض اور ایمان افروز واقعات۔ ابوطاہر منڈل صاحب مرشد آباد بنگال کہتے ہیں کہ ہم نے لال باغ میں ایک بک سٹال لگایا جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت کامیاب رہا۔ کچھ مخالفین نے ہمارے بک سٹال کی مخالفت کی جس میں مرشد آباد کے اخبار کے ایڈیٹر سکھندو منڈل صاحب سٹال پر آئے اور مخالفین کو مخاطب کر کے کہنے لگے۔ میں اس جماعت کو اچھی طرح جانتا ہو ں ایک دن یہی جماعت پوری دنیا کو فتح کرے گی۔
مبلغ انچارج جاپان لکھتے ہیں کہ ہمارے بک سٹال پر ایرانی سفارت خانے کے ایک عہدیدار آئے اور درّثمین فارسی اور دیگر کتب حاصل کیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ کہنے لگے کہ 1980ء کے اواخر میں مشرقی افریقہ کے ممالک میں تعینات تھا تو ایک دن میں نے سواحیلی ترجمہ قرآن دیکھا تھا۔ مجھے اس وقت سخت حیرانگی ہوئی تھی کہ یہ وہی قرآن ہے جو ہم پڑھتے ہیں لیکن اس کا سواحیلی ترجمہ اس جماعت کو کرنے کی توفیق ملی ہے جسے ہم مسلمان نہیں سمجھتے۔ اسی طرح انہو ں نے جماعت احمدیہ جاپان کی طرف سے شائع کردہ اسلامی لٹریچر میں غیر معمولی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے جاپان میں اسلام کی زبردست خدمت کو سراہا جو جماعت احمدیہ جاپان انجام دے رہی ہے۔
لیف لیٹس اور فلائرز کی تقسیم
لیف لیٹس اور فلائرز کی تقسیم کا منصوبہ جو جاری کیا گیا تھا اس سال دنیا بھر کی جماعتو ں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ چھتیس لاکھ سے زائد لیف لیٹس تقسیم ہوئے اور اس ذریعہ سے تین کروڑ اٹھاسی لاکھ انتالیس ہزار سے اوپر افراد تک پیغام پہنچا۔
اس وقت فلائرز اور لیف لیٹس کے ذریعہ پیغام پہنچانے کے لحاظ سے نمایا ں کام کرنے والو ں میں امریکہ جہا ں بیالیس لاکھ فلائرز تقسیم کئے گئے۔ اسی طرح گزشتہ چھ سالو ں میں مجموعی طور پر امریکہ میں اکہتر لاکھ سے اوپر فلائرز تقسیم ہوئے۔ ان فلائرز کے علاوہ بک فیئرز، نمائشیں ، اخبارات، ٹیلیویژن وغیرہ کے انٹرویو بھی ہیں ان کے ذریعہ سے ساٹھ ملین سے زائد افراد تک احمدیت کا پیغام پہنچا۔ کینیڈا والو ں نے چار لاکھ چھیاسٹھ ہزار فلائرز تقسیم کئے اور ان کے ذریعہ سے پندرہ لاکھ افراد تک احمدیت کا پیغام پہنچا۔ جرمنی میں دو لاکھ نو ہزار لیف لیٹس تقسیم ہوئے۔ وہا ں تیس ملین سے زائد افراد تک پیغام پہنچا۔ سویڈن میں ایک لاکھ پچاس ہزار فلائرز تقسیم ہوئے۔ دولاکھ سے اوپر لوگو ں تک پیغام پہنچا۔ سوئٹزرلینڈ میں ایک لاکھ ترانوے ہزار فلائرز تقسیم ہوئے۔ تین لاکھ لوگو ں تک پیغام پہنچا۔ اسی طرح ٹرینیڈاڈ پچپن ہزار۔ گوئٹے مالا ایک لاکھ۔ برازیل پچیس ہزار۔ جمائیکا وغیرہ بہت سارے ملک ہیں۔ ہیٹی اور بیلیز۔ اور آسٹریلیا میں چار لاکھ پچاس ہزار سے زائد پمفلٹس تقسیم کئے گئے۔ چار لاکھ سے اوپر لوگو ں تک پیغام پہنچا۔ فجی میں پندرہ ہزار، نیوزی لینڈ پچیس ہزار، مارشل آئی لینڈ۔ یوکے میں پانچ لاکھ بارہ ہزار سے زائد فلائرز تقسیم ہوئے۔ ناروے کی جماعت نے اس سال دو لاکھ نوّے ہزار اور اب تک مجموعی طور پر دس لاکھ افراد تک پیغام پہنچایا۔ بیلجیئم نے اس سال تین لاکھ لیف لیٹس تقسیم کئے۔ نولاکھ افراد تک پیغام پہنچا۔ ہالینڈ ایک لاکھ تیئس ہزار۔ سپین پانچ لاکھ چار ہزار۔ فرانس دو لاکھ ستر ہزار پرتگال سولہ ہزار۔ ڈنمارک میں بھی اس سال دو لاکھ لیف لیٹس تقسیم ہوئے۔ کروشیا پچیس ہزار۔ اور نائیجیریا نولاکھ پچاس ہزار۔ تنزانیہ دولاکھ۔ ٹوگو تیس ہزار۔ برکینا فاسو اٹھاون ہزار۔ کانگو کنشاسا ایک لاکھ پچاس ہزار۔ کینیا ایک لاکھ سینتیس ہزار۔ بینن چار لاکھ تریسٹھ ہزار۔ اور مختلف ملک جو لاکھ سے اوپر ہیں میں بتا دیتا ہو ں۔ مالی ایک لاکھ تہتر ہزار۔ یوگنڈا ایک لاکھ تیئس ہزار۔ سیرالیون دو لاکھ اسّی ہزار۔ انڈیا میں پانچ لاکھ چھ ہزار سے زائد فلائر تقسیم کئے گئے جن کے ذریعہ سے اتنے ہی افراد تک احمدیت کا پیغام پہنچا۔ بنگلہ دیش میں کہتے ہیں کہ تین لاکھ افراد تک پیغام پہنچایا۔ اسی طرح نیپال، بھوٹان میں بائیس ہزار اور دو ہزار آٹھ سو لیف لیٹس تقسیم ہوئے۔ جاپان میں کہتے ہیں دو لاکھ افراد تک پیغام پہنچایا۔ اسی طرح سنگاپور، تھائی لینڈ، کبابیر وغیرہ مختلف ممالک ہیں۔
اس سال سپین میں جامعہ یوکے سے جو طلباء فارغ ہوئے تھے ان کو لیف لیٹس تقسیم کرنے کے لئے بھجوایا گیا تھا اور انہو ں نے وہا ں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں لیف لیٹس چھپوا کر دو لاکھ بیاسی ہزار کی تعداد میں چھیاسی چھوٹے بڑے شہرو ں اور قصبو ں میں سپین کے لوگو ں کو تقسیم کئے۔ پولیس نے بعض جگہ ان کو تقسیم کرتے دیکھ کر تلاشیا ں بھی لیں پھر لیف لیٹ پڑھ کے معذرت بھی کی۔ کہتے ہیں اس سال کئی نئی جگہو ں پر اسلام کا پیغام پہنچا۔ پھر ستمبر کے شروع میں ایک اور جامعہ کا گروپ وقف عارضی پر وہا ں گیا تھا۔ انہو ں نے پچپن ہزار کی تعداد میں لیف لیٹ تقسیم کئے۔ میکسیکو میں فلائر کی تقسیم کا غیر معمولی کام ہؤا۔ ان کو میں نے لاس اینجلس میں خطبے کے دوران کہا تھا کہ اس علاقے میں تبلیغ کریں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہا ں جو انہو ں نے کام کیا ہے بہت بڑی تعداد یہا ں سپینش بولنے والی ہے۔ گوئٹے مالا سے ایک وفد یہا ں بھجوایا گیا تھا۔ میکسیکو میں پرانے مایاؔ تہذیب کے بعض لوگ مسلمان ہیں۔ خیاپاس (Chiapas) میں ان کی مسجد بھی ہے۔ چنانچہ پیغام بھجوایا گیا تو ستّر افراد نے مسجد اور امام سمیت احمدیت قبول کی۔ اس سال وہا ں جامعہ کینیڈا کے طلباء بھجوائے گئے تھے۔ انہو ں نے بہت بڑی تعداد میں فلائر تقسیم کئے۔ مریڈا(Merida) شہرکی آبادی ایک ملین ہے۔ پُرامن شہری ہیں ، بیس یونیورسٹیا ں ہیں۔ گزشتہ آٹھ ماہ میں ڈیڑھ ملین فلائر وہا ں تقسیم کئے گئے ہیں اور آٹھ ماہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسّی بیعتیں بھی ہو چکی ہیں۔
پھر لیف لیٹس کی تقسیم کے دوران پیش آنے والے بعض واقعات۔ عبدالنور عابد صاحب لکھتے ہیں کہ فلائر کی تقسیم کے نتیجہ میں ہماری ایک شخص سے ملاقات ہوئی اس نے اپنا فون نمبر دیا۔ بعد میں ہم امیر صاحب کے ساتھ اس کے شہر اس سے ملنے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ تمام خاندان بیروت سے 1930ء میں گوئٹے مالا آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ ہم سب احمدی تھے۔ بچپن سے میں احمدی ہو ں۔ میرے ما ں باپ احمدی ہونے کی حالت میں فوت ہوئے ہیں۔ اس کی عمر ساٹھ سال تھی اور ایک یونیورسٹی میں اکانومسٹ ہے۔ کہتے ہیں الحمد للہ کہ لیف لیٹس کے ذریعہ سے ہی پرانے ایک گمشدہ احمدی سے بھی رابطہ بحال ہو گیا۔ لیف لیٹ کی تقسیم کی وجہ سے گوئٹے مالا میں 91بیعتیں حاصل ہوئیں۔
ڈنمارک کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ انصار اور خدام کے فلائر تقسیم کرنے کے پروگرام میں سابق وزیراعظم ڈنمارک کی بیٹی نے بھی فلائر لئے اور گھر جا کر اس نے کچن کی میز پر رکھ دئیے۔ جب سابق وزیر اعظم نے ہمارا فولڈر Muslims for Loyalty دیکھا اور پڑھا تو اس کو اتنا پسند آیا کہ انہو ں نے اس کو اپنے فیس بک (Facebook) کے اکاؤنٹ پر ڈال دیا جس کو اندازاً تین چار لاکھ افراد نے وِزٹ کیا۔
امیر صاحب فرانس کہتے ہیں کہ فرانس کے ایک شہر لی آن(Lyon) میں بعض مولویو ں نے جماعت کے خلاف الزامات لگائے اور لوگو ں سے کہا کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں۔ اس شہر میں جماعت کی طرف سے جب پمفلٹ تقسیم کئے گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور اسلامی تعلیم پر مشتمل ایک پمفلٹ ایک امام کو ملا۔ اس نے جب پمفلٹ پڑھا تو اپنے جمعہ کے خطبہ میں کہا کہ میں نے جماعت احمدیہ کا پمفلٹ پڑھا ہے۔ یہ لوگ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں آج کے بعد میں ان کو غیر مسلم نہیں سمجھتا۔
مبلغ انچارج گنی کناکری کہتے ہیں کہ جماعتی تعارف پر مشتمل دو صفحو ں کا لیف لیٹ خدا تعالیٰ کے فضل سے ملک کے طول و عرض میں پھیل چکا ہے اور ہمیں ملک کے دور دراز علاقو ں سے فون کالز موصول ہو رہی ہیں کہ ہم اپنے بزرگو ں سے امام مہدی اور مسیح کے بارے میں سنا کرتے تھے اب آپ کا یہ لیف لیٹ دیکھ کر ہمیں اشتیاق ہے کہ ہم آپ سے ملیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے جب ہم امّت مسلمہ کو ایک مصلح کی ضرورت ہے۔ اس طرح لیف لیٹنگ (Leafletting) کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے لوگ ہمارے سے رابطہ کر رہے ہیں۔
نسیم مہدی صاحب مبلغ انچارج امریکہ لکھتے ہیں کہ میکسیکو کے شہر کین کیون(Cancune)میں لیف لیٹس کی تقسیم کے دوران ایک خاتون نے ہمارے مبلغ کو روک کر کہا کہ میں اسلام میں دلچسپی رکھتی ہو ں اور آج ہی مسلمان ہونا چاہتی ہو ں اور موصوفہ نے ایک مبلغ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ میں نے رات کو اس کو خواب میں دیکھا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ یہ لڑکا اپنے ساتھیو ں کے ساتھ مل کر اسلام کے بارے میں اشتہار تقسیم کر رہا ہے۔ چنانچہ موصوفہ نے اسی وقت بیعت کر لی اور ان کا بڑا وسیع کاروبار ہے اور اپنا ایک گھر بھی انہو ں نے ہمارے مبلغ کو پیش کر دیا۔
مبلغ سوئٹزرلینڈ لکھتے ہیں کہ اب تک ملک میں تیرہ لاکھ لیف لیٹس تقسیم ہو چکے ہیں اور اس کا بہت اچھا فِیڈ بیک (feedback) مل رہا ہے۔
کیتھولک چرچ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے لکھا کہ آج ایک بچے نے مجھے ایک فلائر دیاتھا۔ جب میں نے اس کو پڑھا تو اس نے میرا دل موہ لیا۔ مسلمانو ں کی طرف سے اس طرح کے مضامین کی تشہیر نہایت حوصلہ افزاء اور اطمینان بخش ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ کی یہ تحریر دوسرے مسلمانو ں کو بھی متحرک کرنے میں کامیاب ہو گی۔
کتاب ’لائف آف محمدؐ‘ کی تقسیم اور اس پر غیرو ں کے تأثرات۔ یہ بڑے وسیع پیمانے پر تقسیم کی جا رہی ہے اور مجلس انصار اللہ یوکے نے مجموعی طور پر سٹالز کے ذریعہ سے یہ تقریباً انچاس ہزار سے اوپر کی تعداد میں ’ لائف آف محمدؐ ‘ اور پینتیس ہزار سے اوپر پاتھ وے ٹو پِیس(Pathway to Peace…) تقسیم کی ہے اور لوگ کھڑے ہو کر مانگتے ہیں۔ آکسفورڈ سٹریٹ میں ایک سٹال لگایا تھا کہتے ہیں کہ ایک عرب خاتون جس کا تعلق قطر سے تھا آئیں اور انتہائی جذباتی ہو گئیں اور کہنے لگیں کہ اس سے بہتر کوئی جواب نہیں دیا جا سکتا جو آپ ان کتابو ں کے ذریعہ سے دے رہے ہیں اور زبردستی پچاس پاؤنڈ بھی دے گئیں۔
کہتے ہیں کہ ایک سٹال پر ایک افریقن خاتون آئی اور کتاب حاصل کرنے کے بعد بینر love for all دیکھ کر کہنے لگی آپ لوگ تو احمدی ہیں اور میں ہوم آفس کرائیڈن میں کام کرتی ہو ں اور بہت سے احمدیو ں کے کیسز پاس کرچکی ہو ں۔ آپ لوگ بہت بہادری کا کام کر رہے ہیں۔ اب میں پہلے سے بھی بڑھ کر احمدیو ں کے کیسز کا خیال رکھو ں گی۔ اور احمدی بھی خیال رکھیں کہ سچائی پر قائم رہنا ہے، جھوٹ بول کے کیس نہیں پاس کروانا۔
عربک ڈیسک کے تحت گزشتہ سال تک جو کتب اور پمفلٹس عربی زبان میں تیار ہو کر شائع ہوئے ان کی تعداد ایک سو دس ہے اور اب مزید کتابیں بھجوائی گئی ہیں جن میں روحانی خزائن جلد 4 اور حضرت مصلح موعود کی بہت ساری کتب شامل ہیں جن کا ترجمہ ہو گیا ہے، شائع ہو رہی ہیں۔
عربو ں کے بعض واقعات ہیں۔ تیونس سے ایک خاتون لکھتی ہیں کہ میری رہنمائی خدا تعالیٰ نے احمدیت کی طرف خود فرمائی۔ کہتی ہیں میں ایک دینی مسئلے کے حل کے لئے مختلف مذہبی چینل دیکھ رہی تھی کہ ایم ٹی اے مل گیا اور باقاعدگی سے دیکھنے لگی۔ پھر میں نے آپ کو چار دفعہ خواب میں دیکھا۔ وہ مجھے لکھ رہی ہیں کہ آپ کو چار دفعہ خواب میں دیکھا اور میرا دل مطمئن ہو گیا۔ ایک دن میرے داماد آئے اور کہنے لگے کہ ایم ٹی اے دیکھا کریں۔ میں نے کہا کہ میں تو پہلے ہی باقاعدگی سے دیکھتی ہو ں۔ جب صدر جماعت تیونس ہمیں ملنے آئے تو میں نے بیعت کر لی۔ اس کے بعد اپنے میا ں کو تبلیغ کی تو انہو ں نے بھی بیعت کر لی۔
اسی طرح مراکش سے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں نے بیعت کے وقت تو شرائط بیعت کا سطحی اعتراف کیا تھا لیکن اب جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی کتاب پڑھتا ہو ں یا خطبات جمعہ سنتا ہو ں یا جماعت کے علماء کو سنتا ہو ں تو حقیقی ادراک نصیب ہوا ہے۔
پھر دمشق سے ایک صاحب لکھتے ہیں مجھے امام مہدی کی آمد کی پیشگوئی کا علم تھا اور میں مختلف مجالس علم میں گیا مگر سب میں بھٹکتا ہی رہا اور ہلاکت کی طرف ہی بڑھتا رہا۔ آخر کار ایک دوست سے ایم ٹی اے کا علم ہوا اور احمدی احباب سے ملاقات ہوئی۔ جس روز ان احمدی دوستو ں نے میرے گھر آنا تھا اس روز میرے آٹھ سالہ بیٹے نے خواب میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کو دیکھا جو اسے نہایت خوبصورت باغ کا دروازہ کھول کر کہہ رہے ہیں کہ آؤ تم اور تمہارے والد اس میں داخل ہو جاؤ۔ اس واضح پیغام کے بعد میں بیعت کر کے خلافت حقہ سے وابستہ ہونا چاہتا ہو ں۔ قبول فرمائیں۔ یہ لکھ رہے ہیں۔
الجزائر سے ایک صاحب لکھتے ہیں میں نے بیعت سن 2013ء میں کی ہے۔ مجھے لکھتے ہیں کہ ایک خواب میں دیکھا کہ میں آپ کے ساتھ ہو ں اور بہت سے لوگ مخالفو ں کی طرح آوازیں دیتے ہیں اور ہمیں مارنے کے لئے کھڑے ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ خدا کی قسم یہ حق پر ہیں اور امام مہدی علیہ السلام کے خلیفۂ خامس ہیں۔ اس پر ایک شخص مجھے مارنے اور گرانے کے لئے نکلا۔ میں نے اسے مارا اور زمین پر دے مارا اور وہ بے حس ہو کر پڑا رہا۔ پھر دوسرا آیا اسے بھی مار کر پہلے پر دے مارا اور وہ بھی بے حرکت پڑا رہا۔ اور پھر تیسرا نکلا اس کا بھی یہی حشر ہوا۔ اس پر مجھے خواب میں معلوم ہوا کہ میں حق پر ہو ں اور جماعت احمدیہ حق پر ہے اور خدا کی طرف سے مؤید و منصور ہے۔
ایک صاحب الجزائر سے لکھتے ہیں کہ میرا تعارف جماعت سے کئی سال سے ہے لیکن بیعت کی توفیق مجھے چار ماہ قبل ملی۔ آپ سے بے پناہ محبت ہے اور جب بھی ایم ٹی اے پر آپ کو دیکھتا ہو ں تو فوراً جذباتی ہو جاتا ہو ں۔ مجھے اس عظیم محبت کا راز معلوم نہیں ہے۔ حالانکہ کہتے ہیں صرف ایک سال قبل جماعت کے بارے میں غلط خیالات کی وجہ سے میں آپ کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا۔ لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت کہ بیعت سے پہلے جتنی نفرت تھی خدا تعالیٰ نے سب محبت میں بدل دی۔
الجزائر سے ہی ایک صاحب لکھتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے امام الزما ں کی بیعت کی توفیق عطا فرمائی۔ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے عہد بیعت پر قائم ہیں اور ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ایران سے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ میری عمر 35سال ہے۔ میرے دو بچے ہیں۔ میرا جماعت احمدیہ سے تعارف ایم ٹی اے کے ذریعہ سے ہوا اور میں نے حضرت اقدس مسیح موعود کی تصویر دیکھتے ہی ان کو سچا مان لیا۔ مجھے 2014ء میں شرف بیعت حاصل ہوا۔ اور پھر یہ والدین کے لئے اور اہلیہ کی قبول احمدیت کے لئے دعا کی درخواست بھی کر رہے ہیں۔
مختلف زبانو ں کے ڈیسکس کی رپورٹ
رشین ڈیسک۔ رشیا اور دیگر ریاستو ں میں مبلغین اور معلمین اپنے اپنے ممالک میں رہتے ہوئے انٹر نیٹ کی سہولت کی وجہ سے بڑی محنت سے رشین ڈیسک کے ساتھ کام کرنے کی توفیق پا رہے ہیں۔ خطبات جمعہ اور دوسرے لٹریچر کے ترجمے ہو رہے ہیں اور ماشاء اللہ یہ بڑا اچھا کام ہو رہا ہے۔ کافی وسعت آ چکی ہے۔
فرنچ ڈیسک میں بھی کافی کام ہو رہا ہے۔ خطبات کا ترجمہ، کتب کا ترجمہ، یُوٹیوب کے ذریعہ سے ان کا ایک آفیشل چینل بھی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا ترجمہ ہو رہا ہے۔
بنگلہ ڈیسک۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا کام کر رہا ہے اور ایم ٹی اے پر لائیو پروگرام بھی ان کے چل رہے ہیں۔
ٹرکش ڈیسک۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چار پانچ کتب کا ترجمہ تیار ہو چکا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ جَلد شائع ہو جائیں گی۔
چینی ڈیسک۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا کام کر رہا ہے اور کتابیں اور لٹریچر شائع کر رہا ہے۔
پریس اور میڈیا آفس۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب بہت زیادہ وسیع ہو گیا ہے۔ ان کے ذریعہ سے بڑی اچھی کوریج دنیا میں جماعت کو مل رہی ہے اور میڈیا فورمز کے ذریعہ انٹرویو بھی کیا جاتا ہے۔ بی بی سی آبزرور اور ایل بی سی ریڈیو شامل ہیں جنہو ں نے کوریج دی۔
پھر پریس اینڈ میڈیا آفس کے ممبران نے دوران سال 250انٹرویو دئیے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ اچھا کام کر رہے ہیں۔
سالانہ رپورٹ احمدیہ ویب سائٹ یہ ہے۔ ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ یہ کام کر رہے ہیں۔ اللہ کے فضل سے یہا ں اچھا کام ہو رہا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور ملفوظات آڈیو صورت میں بھی ’الاسلام‘ میں دستیاب ہیں۔ اَور بہت ساری کتب ہیں۔ یہا ں وزٹ کریں گے تو آپ کو پتا لگ جائے گا۔
ریویو آف ریلیجنز کا کام بھی بڑا وسیع ہو چکا ہے۔ یوکے، کینیڈا اور انڈیا میں پرنٹ ہوتا ہے۔ تیرہ ہزار پانچ سو سے زائد کاپیا ں پرنٹ ہوتی ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجی جاتی ہیں۔ طلباء کے لئے اس سال قیمت پندرہ پاؤنڈ سے کم کر کے دس پاؤنڈ کر دی گئی ہے۔ اسی طرح کینیڈا وغیرہ میں بھی ان کو میں نے اگلے سال کے لئے بیس ہزار کا ٹارگٹ دیا تھا اب دیکھیں یہ پورا کرتے ہیں یا نہیں۔ ان کے بعض خصوصی نمبر شائع ہوتے رہے ہیں اور بڑے اچھے مضامین ہوتے ہیں اب اسے کو لوگو ں کو پڑھنا چاہئے۔ بعض لوگو ں کا خیال ہے کہ اس کا معیار اچھا نہیں۔ لیکن اب تو غیر بھی اس کے معیار کی تعریف کرنے لگ گئے ہیں۔ کئی غیرو ں نے لکھا ہے کہ ہم نے رسالہ دیکھا اور بڑے اعلیٰ معیار کے مضمون ہوتے ہیں۔ اس کو پڑھنا چاہئے۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو بہت عالم سمجھتے ہیں ، بعض تنقید بھی کرتے ہیں لیکن میرے خیال میں بغیر دیکھے تنقید ہو رہی ہے۔ امریکہ میں خاص طور پر اس کی تعداد بڑھانی چاہئے۔ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کو کوشش کرنی چاہئے۔
مختلف ممالک سے رسالو ں کی اشاعت
اس سال مختلف ممالک میں مقامی طور پر رسالو ں کی جو اشاعت ہوئی۔ 105 ممالک سے جو رپورٹ موصول ہوئی اس کے مطابق 28زبانو ں میں 140 تعلیمی، تربیتی اور معلوماتی مضامین پر مشتمل رسائل و جرائد مقامی طور پر شائع کئے جا رہے ہیں۔ ان زبانو ں میں عربی، فرنچ، نارویجئن، اردو، جرمن انگریزی وغیرہ مختلف زبانیں شامل ہیں۔
……………………
(باقی آئندہ)




