پریس ریلیز (Press Release)

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الم انگیزداستان (قسط نمبر 188)

(’عبد الرحمان‘)

{ 2014ء میں سامنے آنے والے چند تکلیف دہ واقعات سے انتخاب}

قارئین الفضل کی خدمت میں 2015ء کے دوران پاکستان میں احمدیوں کی مخالفت کے متعددواقعات میں سے بعض کا خلاصہ پیش ہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو محض اپنے فضل سے اپنے حفظ وامان میں رکھے، اسیران کی رہائی اورشریروں کی پکڑ کا جلد سامان فرمائے۔ آمین

…………………

سانحہ گوجرانوالہ پر اَپ ڈیٹ

گوجرانوالہ: ہماری گزشتہ رپورٹس میں اس امر کا تفصیلی طور پر ذکر آ چکا ہے کہ 27؍ جولائی 2014ء کو گوجرانوالہ میں ایک احمدی نوجوان پر جھوٹے طور پر یہ الزام لگا کر کہ اس نے فیس بُک پر نعوذباللہ خانہ کعبہ کی بے حرمتی کی ہے ایک ہجوم کو اکٹھا کر کے مشتعل کیا گیا اور اس کے بعد علاقہ میں موجود احمدیوں کے گھروں پر دھاوا بول دیا گیا۔ ان کے گھروں کو لُوٹ لینے کے بعد اس بپھرے ہوئے ہجوم نے گھروں میں موجود احمدی خواتین و حضرات و بچوں کو محبوس کر کے آگ لگا دی۔ اسلام کی غیرت کا نام استعمال کرتے ہوئے ملّاں نے جھوٹ کو بنیاد بنا کر نہتے احمدیوں پر جو حملہ کروایا اس افسوسناک واقعہ میں تین احمدی خواتین نے جن میں ایک سات ماہ کی بچی بھی شامل تھی جامِ شہادت نوش کیا۔ اور مزید اس پر یہ کہ یہ تمام کارروائی عوام کی ’ محافظ ‘ پولیس کی نفری کی موجودگی میں کی گئی اور پولیس نے مشتعل ہجوم کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

اس واقعہ کے بعد علاقہ کے تمام احمدیوں کو اپنی حفاظت کے لئے علاقہ سے کسی اور مقام پر منتقل ہونا پڑا اور کئی ماہ تک یہ لوگ اپنے گھر بار سے دور مقیم رہے۔ اگرچہ اس واقعہ کے بعد درج کروائی جانے والی FIRمیں کئی ایسے مجرموں کو نامزد کیا گیا تھا جنہوں نے اس واقعہ سے قبل عوام کے جذبات میں جھوٹ بول کر اشتعال پیدا کیا تھا یا براہِ راست جلوس کا حصہ بن کر احمدیوں کے گھروں کی لُوٹ مار میں شامل ہوئے تھے لیکن پھر بھی کافی عرصہ تک ان شقی القلب لوگوں کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی نہ کی گئی۔اس کے برعکس احمدی نوجوان کو جس پر خانہ کعبہ کی گستاخی کا الزام لگا تھا فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا تھا اور باوجودیکہ تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہو چکا تھا کہ اس پر لگایا جانے والا الزام سراسر بے بنیاد اور جھوٹا ہے اسے ضمانت پر رہا نہیں کیا جا رہا تھا۔ چنانچہ ایک سال سے کچھ زائد عرصہ تک اسیرِ راہِ مولیٰ رہنے کے بعد اس نوجوان پر لگایا جانے والا الزام غلط ثابت ہو گیا اور انہیں باعزت بری قرار د ے دیا گیا۔

اس واقعہ کے بعد مُلّاں پارٹی نے زاہد الراشدی کی سرکردگی میں ختم نبوّت کی تنظیم کے دیگر مُلّاؤں کے ساتھ مل کر ایک جوائنٹ کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی کا مقصد سانحہ گوجرانوالہ کے حملہ آوروں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ اس کمیٹی نے قانونی امور کو حل کرنے کے لئے ایک او رکمیٹی بنائی جس نے حکومتی انتظامیہ سے ملاقاتیں کر کے انہیں حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کرنے سے باز رہنے کا کہا۔ ابتداء ً تو یہ لوگ اپنے مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب رہے کیونکہ کئی مہینے تک سانحہ گوجرانوالہ کے ذمہ داروں اور اس میں باقاعدہ طور پر شامل ہونے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ یہاں تک کہ جب دہشت گردوں نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر انتہائی ظالمانہ حملہ کیا توحکومت نے اس حملہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان تجویز کیا۔ اس نیشنل ایکشن پلان میں دہشت گردوں، شدّت پسندوں اور انتہاپسندوں کے خلاف بلا کسی تفریق کے کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد حکومتی انتظامیہ حرکت میں آئی اور سانحہ گوجرانوالہ کے بعض مجرموں پر ہاتھ ڈالاگیا۔

لیکن یہاں بھی انتظامیہ اس بات کی رعایت کرتی ہوئی صاف نظر آئی کہ نیشنل ایکشن پلان میں شدّت پسندوں پر ہاتھ ڈالنے کا جو عہد کیا گیا ہے اس سے یہ قطعًا مراد نہیں کہ احمدیوں پر حملہ کرنے والے لوگوں پر بھی نیشنل ایکشن پلان کی شقیں لاگو کی جائیں گی کیونکہ

٭ سینکڑوں افراد کے اس ہجوم میں سے صرف آٹھ لوگوں کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔ ان میں سے بھی تین کے بارہ میں پولیس نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ معصوم ہیں۔ اس لئے انہیں رہا کر دیا گیا۔

٭ اس واقعہ کے بعد پولیس کی جانب سے کی جانے والی انکوائری کے مطابق کل ملا کر چونتیس کے چونتیس ملزمان بآسانی ضمانت پر آزادانہ طور پر پھر رہے ہیں۔ ملّاں زاہد قادری جس نے باقاعدہ میگافون استعمال کرتے ہوئے ہجوم کو اشتعال دلانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی اسے ستمبر 2015ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن اب وہ بھی ضمانت پر رہا ہو چکا ہے۔

٭ سمیع اللہ جو کہ بھاگ گیا تھا اور اسے اشتہاری قرار دے دیا گیا تھا اسے بالآخر 10؍ دسمبر کو رہا کیا گیا۔

٭ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس واقعہ کے اصل ذمہ دار ملّاں جنہوں نے علی الاعلان اس سانحہ میں ملوّث قاتلوں اور لٹیروں کے حق میں آواز اٹھانے، ان کی خاطر حکومتی انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے اور ان کے تحفظ کے لئے سب کچھ کر گزرنے کے عہد کیے اور ان پر عمل بھی کیا ان میں سے کسی کے بھی خلاف انتظامیہ کارروائی کرتی دکھائی نہیں دی!

…………………………

ایک احمدی کی حالتِ زار

چمن آباد، ضلع راولپنڈی؛ دسمبر 2015ء: یہاں کے رہائشی مرید حسین نے 2000ء میں جماعتِ احمدیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس وقت سے انہیں اپنے گھر والوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ ایک مرتبہ انہیں شدید طور پر زد و کوب بھی کیاگیا۔ اب کی مرتبہ ان کے سسرال والوںنے ان کے دفتر انچارج کو یہ ’خبر‘ دی کہ مرید حسین ’قادیانی‘ ہو گیا ہے ، اس سے پوچھ گچھ کی جائے۔ اس پر ان کے دفتر کی انتظامیہ نے مرید حسین سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک بیانِ حلفی جمع کروائیں جس میں وہ اس کی تردید کریں۔ مرید حسین نے بیان حلفی جمع کروانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے مرید حسین کے مذہبی عقائد کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی اور انہیں اپنی رہائش اور دفتر کے علاوہ کسی اور جگہ جانے سے منع کر دیا۔ انتظامیہ نے مریدحسین کے کمرے کی تلاشی بھی لی اور ان کی جماعت احمدیہ سے ہونے والی خط و کتابت کے ریکارڈ کو ضبط کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔

…………………………

مخالفت پر تُلے ہوئے ہمسائے

چک نمبر 7ج ب، ضلع ننکانہ صاحب؛ 10؍دسمبر 2015ء: اعجاز احمد خان کی فیملی اس گاؤں میں واحد احمدی فیملی ہے۔ انہیں احمدی ہونے کی وجہ سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ 10؍ دسمبر کے روز تحریکِ ختمِ نبوّت سے تعلق رکھنے والے شرّ پسندوں نے یہاں ایک مجلس کی۔ انہوں نے ملّاں محمد عرفان برق کو تقریر کے لئے بلا رکھا تھا۔ اس نے اپنی تقریر میں جماعتِ احمدیہ کے خلاف سبّ و شتم سے کام لیتے ہوئے نہایت نامناسب زبان استعمال کی اور عوام کے جذبات کو احمدیوں کے خلاف ابھارا۔ اس نے یہ فتویٰ صادر کر دیا کہ احمدیوں کو قتل کرنے والا خدا تعالیٰ سے اجر کا مستحق قرار پاتا ہے: ’احمدی مردود ہیں اور مرتد واجب القتل ہوتا ہے۔‘اس مجلس کے اختتام پر سوال و جواب بھی ہوئے۔ اس مرحلہ پر بھی یہ شقی القلب ملّاں احمدیوں کے خلاف جھوٹی باتیں کر کے انہیں برا بھلا کہتا رہا۔ اس مجلس کے بعد تو گاؤں کے لوگوں نے اعجاز احمد خان کے گھر والوں سے کلی طور پر مقاطعہ کر رکھا ہے۔ اعجاز کے خلاف گاؤں کی گلیوں میں ناروا زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ گاؤں کے لوگ علاقہ کے شر پسندوں کو اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ کوئی اعجاز احمد کے گھر پر حملہ کر کے ان کے گھر والوں کو جانی و مالی نقصان پہنچائے۔ اندرایں حالات اعجاز احمد خان کا یہاں رہنا نہایت مشکل بنا دیا گیا ہے لیکن وہ بہت صبر اور حوصلہ کے ساتھ یہیں مقیم ہیں۔

…………………………

ضلع حافظ آباد میں اینٹی احمدیہ کانفرنس

کوٹ شاہ عالم، ضلع حافظ آباد؛ 24؍ نومبر 2015ء: یہاں پر مخالفینِ احمدیت نے ختمِ نبوّت کانفرنس کروائی۔ اس کانفرنس میں اڑھائی سو کے قریب لوگوں نے شرکت کی جو ارد گرد کے گاؤں سے بھی آئے ہوئے تھے۔ اس گاؤںمیں چھ احمدی گھرانے ہیں جنہوں نے انتظامیہ کو کانفرنس سے پہلے ہی اطلاع دے رکھی تھی۔ اس لئے اس موقع پر چار پولیس اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے۔ لیکن اس کے باوجود مُلّاں نے اپنا وطیرہ نہ چھوڑا اور احمدیوں کے خلاف گندہ دہنی کرتے رہے۔

…………………………

پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے حملوں کے بارہ میں یو ایس کمیشن  فار انٹرنیشنل ریلیجئس فریڈم کی طرف سے پریس ریلیز

واشنگٹن: یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن فار انٹرنیشنل ریلیجئس فریڈم نے 30؍ نومبر کو درج ذیل فوری پریس ریلیز کا اجراء کیا:

’’واشنگٹن ڈی سی ۔ یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن فار انٹرنیشنل ریلیجئس فریڈم(USCIRF) 21اور22نومبر 2015ء کو پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع ضلع جہلم میں احمدیوں کی ملکیتی فیکٹری اور ایک مسجد پر حملہ کی پر زور مذمت کرتا ہے۔

’’ USCIRF کے چیئر مین رابرٹ پی جورج (Robert P. George)نے کہا ہے کہ USCIRFپاکستان میں احمدی مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ احمدیوں کو اپنی جان بچانے کے لئے اپنے گھروں سے بھاگنا پڑ رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے علاقہ میں امن و امان کی صورتحال کو قائم کرنے کے لئے پاک فوج کو چارج دے دیا ہے جنہوں نے چالیس سے زائد شر پسندوں کو گرفتار بھی کر لیا ہے لیکن حکومت کا فرض بنتا ہے کہ معاشرہ کی بہتری اور لوگوں کے درمیان نفرتوں کو ابھارنے والے عناصر کے سدِّ باب کے لئے ضروری اقدامات کرے۔ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے پہلے مرحلہ کے طور پر حکومت کو چاہیے کہ جماعتِ احمدیہ کو تحفظ فراہم کرے اور ملّاں کی نفرت انگریز اور پُر تشدّد تقاریر پر لگام ڈالی جائے۔‘‘

یہاں پر جن حملوں کا ذکر آیا ہے یہ پاکستان چِِپ بورڈ فیکٹری جہلم ہے۔ بعض شر پسندوں نے اس فیکٹری کے ایک احمدی ملازم پر یہ الزام لگایا تھا کہ اس نے نعوذ باللہ قرآن کریم کی بے حرمتی کی ہے ۔ اور پاکستان کے قانون میں گستاخ قرآن کی سزا موت ہے۔ اس خبر کے پھیلنے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے ایک ہجوم کی شکل میں فیکٹری پر دھاوا بول دیا اور اسے نذرِ آتش کر دیا۔ دیگر رپورٹس سے معلوم ہوا کہ ملّاں کی نفرت آمیز تقاریر اگلے ہی روز کالا گجراں میں جماعتِ احمدیہ کی مسجد پر حملہ کا باعث بنیں۔

…………………………

کچھ پاکستان کے اخبارات سے

پاکستان کے اخبارات میں جن میں بطورِ خاص اردو اخبارات سرِ فہرست ہیںآئے دن احمدیوں کے خلاف گلی محلہ کے ملّاؤں کے بیانات کو دو کالمی اور سہ کالمی خبریں بنا کر شائع کیا جاتا ہے جو کہ سراسر جھوٹ اور ملمع سازی پر مبنی ہوتی ہیں۔ جبکہ احمدیوں کی طرف سے ان خبروں کا جواب یا تردید جو بلا ناغہ انہیں بھجوائے جاتے ہیں کوئی شائع کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ اس کا واضح نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملاّں اپنی مرضی کے مطابق احمدیوں کی تصویر عوام کے سامنے پیش کر کے احمدیوں کے خلاف سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے اور مذہبی غیرت کے نام پر ان کے جذبات کو احمدیوں کے خلاف ابھارنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اور غالبًا آج یہی ان کا مقصود و مطلوب و تمنّا بن چکا ہے۔

چنانچہ روزنامہ اوصاف لاہور نے اپنی اتوار 27؍ دسمبر کی اشاعت میں اور روزنامہ خبریں لاہور نے اپنی 28؍دسمبر کی اشاعت میں ایسی ہی گمراہ کُن، جھوٹ اور افتراء پر مبنی اشتعال انگیز خبریں شائع کیں۔

(باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button