۲۹؍جنوری ۱۹۲۶ء: تاریخ میں پہلی بارصداقت حضرت مسیح موعودؑ پر دنیا کی چوبیس زبانوں میں تقریریں
یہ سب تقریریں جو مختلف زبانوں میں صداقت مسیح موعود علیہ السلام پر ہوئی ہیں، یہ ساری مل کر بجائے خود بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل ہیں(حضرت مصلح موعودؓ)
۲۲؍جنوری ۱۹۲۶ء بعد نماز جمعہ مسجد اقصیٰ (قادیان) میں مولوی عبد الرحیم صاحب نیؔر کی زیر صدارت مجلس ارشاد کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں مولوی محمد الدین صاحب بی اے مبلغ امریکہ نے انگریزی میں امریکہ کے حالات سنائے۔ بعد نماز عصر انٹرکالیجیٹ ایسوسی ایشن نے مولوی محمدالدین صاحب کو ٹی پارٹی دی اور ایڈریس پیش کیا۔ جس کے جواب میں مولوی صاحب نے تقریر کی اور حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے بھی تقریر فرمائی۔ اس موقع پر جناب مفتی محمد صادق صاحب پریذیڈنٹ انجمن ارشاد نے اعلان کیا کہ آئنده جمعہ ۲۹؍جنوری ۱۹۲۶ء کو بعد نماز جمعہ مسجد اقصیٰ میں بیس(۲۰)اصحاب مختلف زبانوں میں صداقت مسیح موعود علیہ السلام پر تقریریں کریں گے۔(الفضل قادیان ۲۶؍جنوری ۱۹۲۶ء )
پھر ۲۹؍جنوری ۱۹۲۶ء کو (حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کے زیر انتظام) پہلی بار ایک جلسہ ہوا جس میں بیس کی بجائے ہندوستان سمیت دنیا کی چوبیس زبانوں میں تقریریں ہوئیں۔ حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ بھی مجلس میں رونق افروز تھے۔ اور اخیر میں حضوؓر نے ایک مختصر سی تقریر بھی فرمائی۔ اس بابرکت تقریب کے آخر پر مختلف زبانوں میں تقریر کرنے والوں کا فوٹو بھی لیا گیا۔
اس جلسہ کے مقررین کو عالمی اور مقامی زبانوں کے لحاظ سے یوں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مبلغ مصر (عربی)، حضرت میر قاسم علی صاحبؓ ایڈیٹر فاروق(اردو)، جندب صاحب (جاوی)، حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحبؓ فاضل ہلالپوری ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ (فارسی)، حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ (عبرانی)، حضرت مولوی عبدالرحیم صاحبؓ نیر (انگریزی)، علی قاسم صاحب ابن مولوی ابوالہاشم صاحب (بنگالی)، ابراہیم صاحب سیلونی (سیلونی)، احمد سریڈو صاحب (ڈچ)، ملک محمد حسین صاحب نیروبی (سواحیلی)
جبکہ ہندوستان کی مقامی زبانیں یہ تھیں: فخر الدین صاحب مالا باری (ملیالم)، عبدالواحد صاحب (کشمیری)، شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر ’’نور‘‘ (گورمکھی)، حسن خان صاحب (اڑیا)، محمد نور صاحب طالب علم مدرسہ احمدیہ (ملایا)، خواجہ میاں صاحب (مرہٹی)، میاں شاہ ولی صاحب (گوجری)، مولوی ارجمند خاں صاحب (پشتو)، مہاشہ محمد عمر صاحب (سنسکرت)، حضرت ماسٹر عبدالرحمٰن صاحبؓ نو مسلم (پنجابی)، ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم مبلغ علاقہ ملکانہ (پوربی)، احسان الحق صاحب (ریاستی)، ضیاء اللہ صاحب (سندھی)، احمد حسین صاحب وکیل (کنڑی)
تقریر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ
ان تقاریر کے بعد حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ نےدرج ذیل تقریر فرمائی کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰة و السلام ، حضرت مسیح ناصری کے مثیل تھے اور حضرت مسیح ناصری کے متعلق آتا ہے کہ ان کے حواریوں کے متعلق پیشگوئی تھی کہ وہ غیرزبانوں میں تقریر کریں گے(اعمال باب ۲)۔ چنانچہ لکھا ہے کہ حضرت مسیحؑ کے واقعہ صلیب کے بعد ایک موقعہ پر جب مختلف علاقوں کے یہودی آئے تو حضرت مسیح ناصری کے حواریوں نے ان کے سامنے مختلف زبانوں میں تقریریں کیں۔ مجھے اس کے متعلق نہایت تعجب آتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ اس بات کو کس طرح غلط طور پر سمجھا گیا ہے عام طور پر عیسائی بھی اسی طرح پیش کرتے ہیں اور اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ حواری غیر زبانوں میں باتیں کرتے تھے۔
حالانکہ اسی واقعہ سے ثابت ہے کہ وہ غیر زبانوں میں نہیں بلکہ یہودیوں کی مختلف زبانوں میں باتیں کرتے تھے۔ کیونکہ لکھا ہے کہ یہودی مختلف علاقوں سے آئے تھے ان کے سامنے انہوں نے مختلف زبانوں میں تقریریں کیں اور وہ ان زبانوں کو سمجھتے تھے لیکن اگر غیر زبانوں میں تقریریں ہوتیں تو پھر یہودی کس طرح سمجھ سکتے تھے۔ حقیقت یہی ہے کہ یہودی قبیلوں میں جس طرح باتیں کی جاتی تھیں اسی طرز میں حواریوں نے تقریریں کیں اور وہ بھی غلط تھیں۔ کیونکہ لکھا ہے کہ یہودی ہنستے اور کہتے تھے۔ تقریر کرنے والے شراب کے نشہ میں مست ہو رہے ہیں۔ اب اگر کوئی فرانسیسی زبان میں اعلیٰ طور پر تقریر کرے تو کیا اسے کہا جائے گا کہ یہ شراب میں بد مست ہے۔ ان کے یہ کہنے کا مطلب یہی تھا کہ حواری غلط بولتے تھے۔ انہیں دوسرے قبیلوں کی زبانیں اچھی طرح نہ آتی تھیں۔ لیکن ان میں جوشِ تبلیغ اتنا تھا کہ جس جس قبیلہ کے لوگ وہاں جمع تھے۔ اسی کی زبان میں تقریریں کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اور جب وہ کوئی لفظ غلط بولتے تو سننے والے ان کی زبان پر ہنستے تھے۔ جیسے اب بھی جس وقت کسی کے منہ سے کوئی ایسا لفظ نکل گیا جو غلط تھا تو اس پر لوگ ہنس پڑتے تھے۔
غرض حضرت مسیح کے حواریوں کے متعلق جو یہ پیشگوئی تھی کہ مختلف زبانیں بولیں گے وہ اس طرح پوری ہوئی کہ ان میں اس قدر جوش پیدا ہو گیا کہ انہوں نے یہودیوں کے مختلف قبیلوں کی زبانوں میں ان کو تبلیغ کی۔
مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہلے مسیح سے اعلیٰ تھے اور العود احمد کے مطابق ان سے بالا تھے۔ اس لیے اگر پہلے مسیح کے حواریوں کو یہ توفیق ملی کہ انہوں نے یہودیوں کی مختلف زبانیں بولیں تو حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت کو یہ فضیلت حاصل ہوئی کہ اس میں غیر زبانیں بولنے والے پیدا ہو گئے۔ یہودی قبیلوں کی زبانوں میں اگرچہ کچھ نہ کچھ اختلاف تھامگر درحقیقت ان کی زبان ایک ہی تھی۔ جیسے اردو زبان ہے۔ جو کئی قسم کی ہے۔ حیدر آباد کی اَور ہے، یو پی کی اَور ہے، دہلی، لکھنؤ کی اَور ہے ، پنجاب کی اَور ہے۔ ہماری جماعت میں اس قسم کے لوگ بھی ہیں جو ہر قسم کی اُردو بولتے ہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پنجاب میں مبعوث ہوئے۔ اور پنجابی زبان بھی کئی قسم کی ہے۔ سیالکوٹ کے علاقہ کی اَور ہے، جھنگ اور لائل پور کی اَور ہے فیروز پور، لدھیانہ کی اَور ہے۔ گجرات اور جہلم کی اَور ہے۔ اور ان سب زبانوں میں کلام کرنے والے ہماری جماعت میں موجود ہیں۔ اس طرح حضرت مسیح ناصری سے مشابہت پوری ہو جاتی ہے۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی جماعت کو اس سے بڑھ کر یہ فضیلت ہے کہ اس میں غیر زبانیں بولنے والے موجود ہیں۔ جو دوسرے علاقہ جات اور ممالک میں بولی جاتی ہیں۔
پھر کسی ملک کی زبان سیکھ لینا اور بات ہے۔ مگر ان ممالک اور علاقوں کے لوگوں کا پکڑے ہوئے جماعت میں داخل ہونا او ر بات ہے۔ بہت لوگ ہیں۔ہندو۔ پٹھان۔ آریہ مسلمان وغیرہ جو انگریزی سیکھ کر انگریزی بولتے ہیں۔ مگر اس سے کوئی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔
لیکن اگر کوئی انگریز کسی اَور مذہب میں داخل ہو تو اس مذہب کی فضیلت ہوگی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو اس قدر فضیلت دی گئی کہ اس قدر مختلف قوموں کے لوگ آپ کی جماعت میں داخل ہو ئےجس قدر حضرت مسیحؑ کی جماعت میں نہ داخل ہوئے تھے۔ بیشک اب عیسائیت میں مختلف ممالک کے لوگ داخل ہیں مگر حضرت مسیح کے زمانہ میں اور پھر ان کے بعد تین سو سال تک تین چار ممالک میں ہی عیسائیت پھیلی تھی لیکن حضرت مسیح موعودؑ کی وفات پر ۱۷ سال گذرے ہیں کہ اب تک احمدیت تیس کے قریب غیر ممالک میں پھیل چکی ہے۔
پس یہ سب تقریریں جو مختلف زبانوں میں صداقت مسیح موعود علیہ السلام پر ہوئی ہیں، یہ ساری مل کر بجائے خود بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل ہیں۔ (الفضل ۲؍فروری ۱۹۲۶ء صفحہ ۲)
پس جہاں ایک جانب بائبل میں مذکور پیشگوئی مسیح ناصری کے حواریوں اور مسیح محمدی کے اصحاب کے ذریعہ پوری ہوئی وہیں مسیح محمدی کے بارے میں مذکور پیشگوئی کہ امام مہدی ایک جگہ بیٹھ کر خطاب کرے گا اور دنیا میں بیٹھا ہر شخص اسے سنے گا اور اسے اپنی زبان میں سمجھے گا، بڑی شان سے پوری ہو رہی ہے۔
صرف ایم ٹی اے انٹرنیشنل کی ایپ کے ذریعہ ہی ۲۳؍زبانوں میں خطبہ جمعہ کا ترجمہ مہیا ہے۔ دنیا بھر میں ایم ٹی اے کے سٹوڈیوز ، احمدیہ مسلم ریڈیوز عالمی یا مقامی رسائل و جرائد کے ذریعہ بھی مزید زبانوں میں قلمی یا ملخص پیش کیا جاتاہے۔ مقامی جماعتیں اور ذیلی تنظیمیں خلاصہ جات یا مکمل متن دوران ِہفتہ احبابِ جماعت تک پہنچاتے ہیں۔ اس طرح ہر دو پیشگوئیوں کا کمال ظہور عمل میں آتا ہے۔
آج جبکہ تاریخ احمدیت کے اس سنگِ میل پر ایک سوسال مکمل ہو رہے ہیں احمدیت اپنی ترقی کی اس وسیع شاہراہ پر کئی سنگِ میل گاڑ چکی ہے۔ الحمد للہ
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت مولانا حکیم فضل الرحمٰن صاحب۔ مبلغ افریقہ




