نمازجنازہ حاضر وغائب
٭…مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری اطلاع دیتے ہیں کہ 11؍فروری 2016ء بروز جمعرات۔قبل نماز ظہر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد فضل لندن کے باہر تشریف لاکر مکرم محمد نعمان شاکر صاحب (آف لندن) اور مکرمہ رضیہ طاہر صاحبہ اہلیہ مکرم کلیم احمد طاہرصاحب (آف ریڈ برج۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور کچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
( 1) مکرم محمد نعمان شاکر صاحب۔ لندن (ابن مکرم محمد لطیف شاکر صاحب)
7؍فروری 2016ء کو50سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ بہت نیک، نماز باجماعت کے پابند، چندوں کی ادائیگی میں باقاعدہ، خلافت کے اطاعت گزار اور سلسلہ کی خدمت کرنے والے مخلص انسان تھے۔ جماعتی پروگراموں میں باقاعدگی سے شمولیت اختیار کرتے تھے۔ آپ بہت خوش اخلاق اور ہنس مُکھ طبیعت کے مالک تھے۔ اپنا کام بہت دیانتداری سے کیا کرتے تھے۔ اپنی بیماری کے دوران بہت صبر کا مظاہرہ کیا۔پسماندگان میں والدین اور اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں یادگار چھوڑی ہیں ۔
(2) مکرمہ رضیہ طاہر صاحبہ (اہلیہ مکرم کلیم احمد طاہر صاحب۔ ریڈ برج۔یوکے)
7؍فروری 2016ء کو50سال کی عمر میں وفات پاگئیں ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ دین کی خدمت کرنے والی بہت نیک خاتون تھیں ۔ آپ کو دوبار صدر لجنہ اماء اللہ ریڈ برج کے طور پر کام کرنے کی توفیق ملی۔اس کے علاوہ لوکل جماعت میں لجنہ کے مختلف شعبہ جات میں خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ ہیومینٹی فرسٹ اور جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی مختلف شعبوں میں خدمت کی توفیق پائی۔ پسماندگان میں خاوند کے علاوہ دو بیٹے یادگار چھوڑے ہیں ۔
اس موقع پر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ غائب بھی ادا کی گئی:
(1)مکرم راجہ محمد یعقوب خان صاحب (ابن مکرم راجہ مددخان صاحب آف ربوہ۔ حال منڈی بہاؤ الدین)
30جنوری 2016ء کو93سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے والد مکرم راجہ مددخان صاحبؓ اور والدہ مکرمہ اصغری بیگم صاحبہ دونوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں شامل تھے۔ آپ فرقان فورس میں بھی شامل رہے۔ آپ نے قادیان اور ربوہ میں لمبا عرصہ مختلف جماعتی خدمات کی توفیق پائی۔1948ئمیں ربوہ کے پہلے قائد خدام الاحمدیہ کے طور پر خدمت بجا لاتے رہے۔ آپ37سال صدر محلہ دار الصدر شرقی بھی رہے۔ اس دوران متعدد بار قائم مقام صدر عمومی ربوہ کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے۔ 61سال خلافت لائبریری اور مختلف جماعتی دفاتر میں خدمت کی توفیق پائی۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے یادگار چھوڑے ہیں ۔
(2)مکرم ملک مبشر احمد صاحب (ابن مکرم ملک محمد یعقوب صاحب۔راولپنڈی)
22نومبر 2015ء کو65سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ اپنے حلقہ میں زعیم انصاراللہ، سیکرٹری تعلیم القرآن اور سیکرٹری امور عامہ کے طور پر خدمت کی توفیق پارہے تھے۔ آپ بہت نیک اور مخلص انسان تھے۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
…………………………
٭…مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری اطلاع دیتے ہیں کہ 13؍فروری 2016ء بروز ہفتہ۔قبل نماز ظہر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد فضل لندن کے باہر تشریف لاکر مکرمہ طاہرہ الیاس صاحبہ (آف پیٹر برا۔ یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور کچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
مکرمہ طاہرہ الیاس صاحبہ۔آف پیٹر برا (اہلیہ مکرم الیاس احمد صاحب شہیدآف بیت النور ماڈل ٹائون لاہور)
8؍فروری2016ء کو71سال کی عمر میں وفات پاگئیں ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ پنجوقتہ نمازوں کی پابند، تہجدگزار، دعا گو، مہمان نواز، انتہائی شفیق، ملنسار،نیک اورمخلص خاتون تھیں ۔خلافت سے آپ کو والہانہ لگائو تھا۔قرآن کریم کی تلاوت بڑی باقاعدگی سے کرتی تھیں ۔اپنا چندہ بروقت ادا کیاکرتی تھیں ۔مرحومہ موصیہ تھیں ۔پسماندگان میں ایک بیٹی اور تین بیٹے یادگار چھوڑے ہیں ۔ اس موقع پر درج ذیل مرحومین کی نماز جنازہ غائب بھی ادا کی گئی:
(1) مکرم خواجہ نذیر احمد صاحب (ابن مکرم خواجہ فقیرمحمد صاحب۔ فرینکفرٹ۔ جرمنی)
31دسمبر2015ء کومختصر علالت کے بعد85سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کے دادا حضرت خواجہ حفیظ الدین صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے جنہوں نے 1894ء میں احمدیت قبول کی تھی۔ خواجہ نذیر احمد صاحب نے بہت چھوٹی عمر میں قادیان میں الفضل میں ملازمت اختیار کی۔ اس وقت کے ایڈیٹر صاحب نے آپ کی ڈیوٹی لگائی کہ روزانہ حضرت مصلح موعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ کی صحت سے متعلق دریافت کرکے انہیں مطلع کیا کریں ۔ چنانچہ آپ حضورؓ کی صحت کے بارہ میں جو بھی رپورٹ دیتے وہ الفضل میں شائع کی جاتی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد رتن باغ( لاہور) میں بھی کچھ عرصہ اخبار الفضل میں کام کیا۔ 1953ء میں حالات کی خرابی کی وجہ سے اخبار الفضل بند ہوا تو آپ کراچی چلے گئے اور وہاں ‘‘ اخبار المصلح ’’میں کام کرتے رہے۔ جب حالات ٹھیک ہوئے تو پھر واپس لاہور آگئے۔اسی طرح ربوہ آکر بھی الفضل سے منسلک رہے اور ضیاء الاسلام پریس میں بھی خدمت بجالاتے رہے۔1970ء کی دہائی میں بعض گھریلو مشکلات کی وجہ سے پریس میں کام جاری نہ رکھ سکے تو اس دوران گھر میں جماعت کی کتب کی بائنڈنگ کا کام شروع کردیا۔ آپ نے ہزاروں کی تعداد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور دیگر جماعتی کتب ولٹریچر کی بائنڈنگ کا کام کرنے کی توفیق پائی۔ آپ گو واقف زندگی تو نہ تھے لیکن ساری زندگی ایک واقف زندگی کی طرح ہی محنت اور دیانت داری سے خدمت بجالاتے رہے۔آپ صوم وصلوٰۃ کے پابند، نیک دل، غریب پرور، مہمان نواز، ملنسار، خوش اخلاق، ہر ایک کے ہمدرد اور باوفا انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں چار بیٹیاں اور سات بیٹے یادگار چھوڑے ہیں ۔
(2) مکرم راجہ ناصر احمد صاحب (سلور سپرنگ۔ USA)
6؍فروری 2016ء کو63سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ ننھیال کی طرف سے حضرت منشی محمد خان صاحب کپورتھلوی صحابی حضرت مسیح موعودؑ کی نسل میں سے ہیں ۔ آپ کے والد محترم راجہ فضل داد خان صاحب اپنے گائوں ڈلوال( ضلع چکوال) کے پہلے احمدی تھے۔ آپ تعلیم الاسلام کالج اولڈ ایسوسی ایشن امریکہ کے فعال رکن تھے اور تین سال تک ایسوسی ایشن کے ابتدائی جنرل سیکرٹری بھی رہے۔ رسالہ‘‘ المنار’’(امریکہ) کے ایڈیٹر کے طور پر بھی خدمت کی توفیق پائی۔ اطفال کی تربیتی کلاسیں بھی لیتے رہے۔ بہت شفقت اور پیار سے بچوں کوپڑھاتے اور ان کی دلجوئی کیا کرتے تھے۔وفات سے قبل جماعت امریکہ کے جنرل سیکرٹری آفس میں رضاکارانہ خدمت بجالارہے تھے۔ انتہائی ملنسار، دلیر اور متوکل علی اللہ انسان تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور دو بیٹے یادگار چھوڑے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور مرحومین کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
…………………………




