نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۶؍فروری ۲۰۲۶ء بروز جمعرات بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم طیب احمد صاحب ابن مکرم چودھری مبارک احمد صاحب (آف شرلی۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرم طیب احمد صاحب ابن مکرم چودھری مبارک احمد صاحب (آف شرلی۔یوکے)
13؍فروری کو 61 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم شرلی سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے بیت الفتوح آرہے تھے کہ راستے میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، خلافت سے وفا کا تعلق رکھنے والےایک نیک اور مخلص خادم سلسلہ تھے۔لاہور میں آپ کو قائد مجلس خدام الاحمدیہ کے علاوہ ضلعی عاملہ میں بھی خدمت کا موقعہ ملا۔ یوکے آنے کے بعد بھی ہمیشہ جماعتی کاموں میں سرگرم رہے اور بیت الفتوح ریجن میں زعیم اعلیٰ مجلس انصار اللہ اورسیکرٹری ضیافت کے علاوہ جلسہ سالانہ یو کے پر بطور ناظم مرکزی مہمانان خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دوبیٹے اوردو بیٹیاں شامل ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔ مکرم محمد احمد صاحب (سابق صدر جماعت کوٹ سوندھا ضلع شیخو پوره)
9؍جنوری 2026ء کو 86 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ تقریباً تیس سال سے زائد عرصہ اپنی جماعت کوٹ سوندھا ضلع شیخو پورہ کے صدر رہے۔ 1974ء کے ابتلا میں ایک دن مخالفین کے جلوس نے آپ کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا تو آپ نے اس موقعہ پر بڑی بہادری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ جب وہ لوگ آپ کو ڈنڈوں سے مارتے تو آپ بلند آواز سے کلمہ طیّبہ پڑھتے جاتے۔ آپ کو عبادت سے خاص شغف تھا۔ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، بار بار نماز کے وقت کا پوچھنا، بچوں کو نماز کی تلقین کرنا ان کی عادت میں شامل تھا۔ تہجد میں باقاعدہ تھے اور روزانہ بلند آواز سے قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے گھر میں مسجد بنانے کی بھی توفیق دی۔ آپ بڑے مہمان نواز تھے۔ واقفین زندگی اور جماعتی عہدیداروں کے ساتھ بہت احترام اور ادب سے پیش آنے والے ایک مخلص فدائی احمدی تھے۔ مالی قربانی بھی بڑی بشاشت سے کرتے۔ بچے اگر کوئی رقم ذاتی خرچ کے لیے دیتے تو اسے اپنی ذات پر خرچ نہ کرتے بلکہ چندہ کی رسید کٹوا لیتے۔ مرحوم کو جماعتی کتب کے مطالعہ کا بھی بہت شوق تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی بہت سی نظمیں، اقتباسات اور دعائیں زبانی یاد تھیں جنہیں بڑے والہانہ انداز میں سنایا کرتے تھے۔اکثر الفضل اپنی جیب میں رکھتے تھے۔ خلافت سے گہراعشق تھا۔ ایم ٹی اے کے بڑے دیوانے تھے۔ آپ نے بڑی پاکیزہ اور درویشانہ زندگی گزاری اورکم وسائل کے باوجود بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور اولاد کی بہت اچھی تربیت کی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور پانچ بیٹے اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم ناصر احمد قمر صاحب کے والد تھے۔
۲۔مکرمہ اقبال بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم محمود احمد صاحب مرحوم (چک نمبر 275 رب کر تار پور تحصیل و ضلع فیصل آباد)
13؍جنوری 2026ء کو 75 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، مہمان نواز،بڑی غریب پروراور خوش اخلاق خاتون تھیں۔ اپنی آخری بیماری میں بھی جب تک ہوش میں رہیں نماز نہیں چھوڑی۔ خلافت کے ساتھ گہرااخلاص و وفا کا تعلق تھا۔ وفات سے پہلے خطبہ جمعہ کے وقت گھر والوں نے ان کی بیماری کی وجہ سے ان کے خطبہ سننے کا انتظام نہ کیا تو خود کہہ کر انتظام کروایا اور اپنی زندگی کا آخری خطبہ جمعہ بھی پوری توجہ اور انہماک سے سنا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹیاں اور چار بیٹے اور بہت سے پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں شامل ہیں۔
۳۔مکرم رانا عبد الرزاق خان صاحب ابن مکرم عبد الجبار صاحب (جرمنی)
10؍جنوری 2026ء کو 85سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے دادا حضرت چودھری غلام قادر خان صاحب رضی اللہ عنہ، نانا حضرت چودھری عبد الواحد خان صاحب رضی اللہ عنہ اور پڑنانا حضرت چودھری رحمت خان صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔مرحوم نے پاکستان ایئر فورس میں چیف وارنٹ آفیسر کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد کراچی میں رہائش رکھی۔ آپ نے آٹھ سال اپنی جماعت کے صدر کے علاوہ مختلف شعبہ جات میں خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کے داماد مکرم رانا ظفر اللہ خان صاحب کو سانگھڑ میں جمعہ کی نماز سے واپسی پر شہید کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پھر آپ مخالفت کی وجہ سے اپنی فیملی کے ساتھ جرمنی آگئے۔ مرحوم پنجوقتہ نمازوں کے پابند، جماعت سے اخلاص و وفا کا تعلق رکھنے والے ایک نیک فطرت انسان تھے۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
۴۔مکرمہ امۃ الرشید صاحبہ اہلیہ مکرم محمد صدیق صاحب (ربوہ)
7؍جنوری 2026ء کو 86 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت میاں پیر محمد صاحب پیر کوٹی رضی اللہ عنہ کی پوتی اور مکرم مولوی محمدعبداللہ صاحب پیر کوٹی (آف بشیر آباد اسٹیٹ سندھ) کی بیٹی تھیں۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند،دینی شعار کا خیال رکھنے والی ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ بچوں کی بڑی اچھی تربیت کی اور گھر میں روزانہ بچوں کی تربیتی کلاس کرواتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹیاں اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔آپ مکرم محمد عثمان شاہد صاحب اور مکرم محمد لقمان صاحب کی والدہ تھیں۔ان کے علاوہ آپ کے ایک بیٹے مکرم نعمان احمد صاحب یوکے میں ریجنل امیر کے طور پر اور دوسرے بیٹے مکرم ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب غانا میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
۵۔مکرمہ رشیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم بشیر احمد صاحب مرحوم (جرمنی)
15؍جنوری 2026ء کو80 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کا نظام جماعت اور خلافت کے ساتھ اخلاص کا تعلق تھا۔ نمازوں اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، بڑی پر ہیز گار اور اچھے اخلاق کی مالک ایک نیک خاتون تھیں۔ چندوں میں بڑی باقاعدہ اور دیگر مالی تحریکات میں بھی حصہ لیتی تھیں۔ آپ نے بچوں کی اچھی تربیت کی۔ آپ کے سب بچے جماعت سے مضبوط تعلق رکھنے والے اور خدمت کرنے والے ہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے، دو بیٹیاں اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔
۶۔مکرم گلزار احمد صاحب ابن مکرم خدابخش صاحب (محلہ دار الفتوح ربوہ۔ حال پٹنی یوکے)
3؍جنوری 2026ء کو 74 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم خود بھی اوران کے والد بلکہ ساری فیملی ربوہ کے ابتدائی آباد کاروںمیں سے تھے اور گولبازار ربوہ میں ’’گلزار احمد سبزی فروش‘‘ کے نام سے سبزی کا کا روبار کرتے تھے۔ آپ 2013ء میں اہلیہ کےساتھ یوکے آگئے تھے۔مرحوم بڑے مخلص، نیک اور جماعت کے فدائی وجود تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔ مرحوم مكرم ادریس احمد صاحب ڈار (كاركن جامعہ احمدیہ برطانیہ) كے پھوپھی زاد بھائی تھے۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




