امریکہ (رپورٹس)

سرینام میں اسلام احمدیت (قسط5۔ آخر)

(لئیق احمد مشتاق ۔ مبلغ سلسلہ سرینام، جنوبی امریکہ)

مختصر تاریخ، مبلغین سلسلہ کی مساعی، ملکی اخبارات میں جماعتی خبریں ۔

اخبار و ٹی وی کوریج

 رمضان المبارک کی فرضیت، اہمیت اور برکات کے حوالے سے ایک مضمون روزنامہ Dagblad SURINAME میں 4اگست2011ء کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی فضیلت اور اعتکاف کے مسائل کے حوالے سے ایک مضمون مو رخہ 20اگست بروز ہفتہ روزنامہ (Times of SURINAME)میں یہی مضمون روزنامہ Dagblad SURINAME میں بدھ 24اگست کوشائع ہوا۔

امسال ایک ٹی وی چینل نے روزانہ مختلف مساجد میں جاکر افطار اور نماز کی ریکارڈنگ اور لوگوں سے انٹر ویو کا سلسلہ شروع کیا۔ سات اگست کو ان کی ٹیم ہماری مسجد میں آئی۔افطار اور نماز کی ریکارڈنگ کے علاوہ تین افراد جماعت کا انٹر ویو لیا۔ محترم صدر صاحب نے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور نظام جماعت کا تعارف کروایا، قرآن مجید کے تراجم، ایم ٹی اے اور جماعت کی عالمی خدمات کا مفصل ذکر کیا۔یہ پروگرام 8اگست کو ٹی وی پر نشر ہو۔ 19اگست کو اِس ٹی وی چینل کی انتظامیہ کا فون آیا کہ ہماری ٹیم 15 مساجد میں جا چکی ہے،جو تکریم اور عزت افزائی انہیں آپ کی مسجد میں ملی ہے وہ اور کسی جگہ نہیں ملی۔ لہٰذا وہ ایک بار پھر آپ کی مسجد میں آنا چاہتے ہیں ۔ چنانچہ 21 اگست کو یہ لوگ پھر ہماری مسجد میں آئے اور تین گھنٹے سے زائد وقت یہاں گزارا۔بچوں کی نظم ریکارڈ کی، نماز مغرب، نمازِ تراویح اور کھانے کی ریکارڈنگ کی اور پانچ افراد جماعت کا انٹر ویو لیا۔جس میں انہیں رمضان المبارک کی برکات اور آخری عشرہ کی فضیلت کے علاوہ ایک بار پھر جماعت احمدیہ کی عالمی حیثیت اور عقائد سے آگاہ کرنے کا موقعہ ملا۔گفتگو کے دوران اُس نمائندے نے یہ سوال بھی کیا کہ آپ نے ہمارا بہت اچھا استقبال کیا اور مہمان نوازی کی، آپ نے یہ طریق کہاں سے سیکھے ہیں ۔ اس پر انہیں مہمان نوازی کے حوالے سے حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے عاشق صادق حضرت مسیح موعودؑ کی سنت کے بارے میں بتانے کی توفیق ملی۔ اس پروگرام کی مکمل ریکارڈنگ 23اگست کو ٹی وی پر نشر ہوئی۔

بچوں کے لئے پارک کا افتتاح

مشن ہائوس کے ساتھ تقریباًایک کنال زمین خالی پڑی ہے۔ جس کاایک حصہ بچوں کی کھیل کود کے لئے مختص کرنے کا پروگرام بنایا گیا۔اور وقار عمل کے ذریعہ 2بڑے جھولے بنائے گئے۔ کرین کی مدد سے زمین صاف کی گئی تین بڑے ٹرک سمندری ریت منگواکر وقار عمل کرکے پھیلائی گئی۔ تمام کام ڈونیشن اور وقار عمل کے ذریعہ مکمل کیا گیا۔ اس طرح تقریباً تین ہزار سرینامی ڈالر یعنی ایک ہزار امریکی ڈالر رقم کی بچت کی گئی۔ 6نومبر2011ء کو عید الاضحی کے دن اس پارک کا افتتاح ہوا۔

ہال میں ٹائل

 مسجد کے دائیں جانب 11میٹر لمبااور 7میٹر چوڑا ایک ہال ہے جو مختلف جماعتی پروگرامز کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس ہال میں وقار عمل کے ذریعہ ٹائل لگانے کا پروگرام بنایا گیا۔ 29اکتوبر2011ء کو پہلا اجتماعی وقار عمل ہوا۔پہلے مرحلے میں پرانا فرش توڑ کر صفائی کی گئی۔نئے فرش کے لئے خرچ اندازہ سے بہت زیادہ ہواجسے افراد نے عطایا کے ذریعہ پورا کیا۔بعد ازاں دواجتماعی وقار عمل کرکے اس کام کو مکمل کیا گیا اور بفضل خدا قریباً چھ ہزار سرینامی ڈالر بچائے گئے۔

ڈرائنگ کا مقابلہ

23دسمبر کو انڈین کلچر ل سنٹرسرینام نے بچوں کے لئے ڈرائنگ کے ایک مقابلے کا اہتمام کیا اور جماعت کو بھی اس پروگرام میں شرکت کی دعوت دی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے محمد صہیب اسد نے اس مقابلے میں پہلی او رلبنیٰ لئیق نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ 27 دسمبر کو روزنامہ De Ware Tijdنے اس مقابلہ کی تفصیل اور بچوں کی تصویر شائع کی۔

مذہب کا عالمی دن

15جنوری2012ء بروز اتوار مذہب کے عالمی دن کے حوالے سے شہر کے مرکزی کانفرنس ہال میں ایک سیمینار کا پرگرام تھا۔اس سیمینار میں قرآن مجید کی نمائش لگانے کے لئے خصوصی تیاری کی گئی۔ عظمت قرآن کے متعلق قرآنی آیات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات تیار کئے گئے۔ مختلف بینرز لگائے گئے اور تراجم قرآن کی نمائش کے ساتھ جماعتی کتب کا سٹال لگایا گیا۔ جماعت احمدیہ عالمگیر کی مساجد اور جلسہ ہا ئے سالانہ کی تصاویر ایک لیپ ٹاپ پر سلائڈ شو کی صورت میں لگائی گئیں ۔اس دن شہر میں جماعت کے تعارف پر مبنی فولڈر سینکڑوں کی تعداد میں تقسیم کئے گئے۔ صبح ساڑھے نو بجے سیمینار کا افتتاح ہوا۔16افراد جماعت اس پروگرام میں شریک ہوئے۔جماعت کی طرف سے محترم غفارننھے خان صاحب نے اس ڈسکشن میں حصہ لیا۔ گفتگو کے دوران موصوف نے جماعت کا تعارف کروایا، نوبل انعام یافتہ احمدی سائنسدان محترم ڈاکٹر عبد السلام کی مثال پیش کی کہ انہوں نے اپنی تحقیق کی بنیاد قرآن مجید پررکھی، جماعت کی ویب سائٹ اور اس پر موجود مواد کا ذکر کیا۔ایم ٹی اے کے بارے میں بتایا اورجما عت کی عالمی خدمات اور جدید ایجادات سے مثبت فائدہ اٹھانے کی مثالیں پیش کیں ۔ 5ممبران جماعت جماعتی سٹال پر ہمہ وقت موجود رہے اور مہمانوں کے سوا لات کے جواب دینے کے ساتھ ساتھ جماعتی لٹریچر اور فولڈرز تقسیم کرنے کا کام کیا۔مہمانوں کو جماعت کی خدمت قرآن سے آگاہ کیا گیا، اور اسلام کی عالمگیر امن اور بھائی چارے کی تعلیم کی وضاحت کی گئی۔تین مختلف ٹی وی چینلز نے سٹال اور نمائش کی ریکارڈنگ کی۔ محترم صدر صاحب جماعت اور ایک ممبر کا انٹر ویو لیا۔ ایک چینل والے نے جماعتی تصاویر کے سلائڈ شو کی بطور خاص ریکارڈنگ کی اور اسی رات خبروں میں دکھایا۔دو سو سے زائد افراد نے نمائش دیکھی۔ متعدد مہمانوں کو چندجماعتی کتب تحفۃً دی گئیں ۔ بھارتی سفیر مسٹر کنول جیت سنگھ سوڈھی صاحب جو اس پرو گرام میں مہمان تھے، خاص طور پر سٹال پر تشریف لائے اور نمائش بھی دیکھی۔ اس پروگرام میں لیکچر دینے والے دونوں افراد کو جماعتی لٹر یچر اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب Revelation Rationalityتحفتاً پیش کی گئیں ۔

اخبار میں مضامین کی اشاعت

 ایڈزکے حوالے سے ایک تفصیلی مضمون جس میں اس مرض کے اسبا ب، قرآن مجید میں اس کا تذکرہ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایڈز کے بارے میں پیش خبریاں اور تنبیہات شامل ہیں جماعت کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔اس مضمون میں ایڈز سے بچائو کے لئے احتیاطی تدابیر بھی شامل ہیں ۔ اس کا ڈچ میں ترجمہ جماعت ہالینڈ کی ویب سائٹ پر موجود ہے جس کا عنوان (De Plaag van AIDS: Positieve bestrijdsmaatregelen tegen aids) یعنی ‘‘ایڈز کی طاعون، اور اس سے بچائو کی تدابیر’’ہے۔یہ مضمون اخبارات کو بھجوایا۔روزنامہ Times of SURINAME نے 17اور18فرور ی 2012ء بروز جمعہ، ہفتہ دو اقساط میں اس تفصیلی مضمون کو صفحہ نمبر 6پر شائع کیا۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے پوپ کو بھجوائے گئے خط کے حوالے سے جماعت کے پریس ڈیسک کی جانب سے 6دسمبر 2011ء کو جو پریس ریلیز جاری کیا گیا تھا،اس کا ترجمہ روزنامہ Dagblad SURINAMEنے 2مارچ 2012ء بروز جمعۃ المبارک صفحہ نمبر A6پر شائع کیا۔

کانفرنس ہال میں بک سٹال

 تین جون 2012ء بروز اتوار ایک اسلامی تنظیم کی طرف سے شہر کے مرکزی کانفرنس ہال میں ایک سیمینار کا پروگرام تھا جس میں جما عت کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی۔ہم نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انتظامیہ سے ہال میں بک سٹال لگانے کی اجازت چاہی۔اس پروگرام کی بھر پور تشہیر کی گئی تھی اور شرکاء کی بڑی تعدا د اس پروگرام میں شامل ہوئی۔پروگرام شروع ہونے سے قبل ہم نے اپنا سٹال سیٹ کر لیااوریہ اس پروگرام میں واحدبک سٹال تھا۔ اردگرد کے علاقوں اور پروگرام کے لئے آنے والوں میں جماعت کے تعارف پر مبنی قریباً چارسو مختلف فولڈر تقسیم کئے گئے۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے کثیر تعداد میں لوگ ہمارے سٹال پر آئے اور بیسیوں افراد سے گفتگو اور جماعت کے تعارف کا موقعہ ملا۔

رمضان المبارک

 اسلام میں عبادات کے حوالے سے عورت کو جو احکامات دیئے گئے ہیں ان سے متعلق ایک مضمون ‘‘عورت اور روزہ’’ کے عنوان سے تیار کرکے تمام اخبارات کو بھجوایا گیا۔ روزنامہ Dagblad SURINMAE نے 7اگست 2012ء بروز جمعرا ت اس مضمون کو صفحہ نمبر 6پر شائع کیا۔ملک کے سب سے قدیم اور کثیر الاشاعت روزنامہ ‘‘داوارٹیڈ’’ (De Ware Tijd)کے ایڈیٹر نے ایک صحافی کی ڈیوٹی لگا ئی کہ وہ اس مضمون کے حوالے سے جماعت سے مزید معلومات حاصل کرے۔چنانچہ اس صحافی نے جماعت سے رابطہ کیااور اِس مضمون سے متعلق معلومات کے ساتھ ساتھ اعتکاف اور شب قدر کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں ۔ اس روزنامہ نے اعتکاف اور لیلۃ القدر کا مضمون 11اگست بروز ہفتہ صفحہ A8پر اور عورت اور عبادت والا مضمون 13اگست بروز پیر صفحہ A8پر شائع کیا۔

عید الفطر کے حوالے سے اسلامی تعلیم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی ایک مضمون روزنامہ De Ware Tijdنے 21اگست کوصفحہ نمبر A8پر نمایاں طور پر شائع کیا، اور اس مضمون کا بیک گرائونڈ باقی صفحے سے الگ رکھا۔

19اگست 2012ء بروز اتوارملک میں عید الفطر منائی گئی۔اس خوشی کے موقعہ پر نیشنل اسمبلی کے ممبر، سابق منسٹر اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے صدر مسٹر چند ریکا پرشاد سنتو کھی کو مہمان خصو صی کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ ان کے ساتھ ان کی پارٹی کی مرکزی عاملہ کے ممبران سمیت بارہ مہمان تشریف لائے، جبکہ جماعت کی خصوصی درخواست پر ملک کے سابق نائب صدر مسٹر رام دین سارجو بھی مسجد تشریف لائے۔ نماز عید کی ادائیگی اور اختتامی دعا کے بعد مہمانان گرامی مسجد میں آگئے اور مسٹر سارجو اور مسٹر سنتوکھی نے افراد جماعت کو عید کی مبارکباد دی۔ملک کے سابق نائب صدر نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ وہ جماعت احمدیہ کی مسجد میں آکر بہت محبت اور اپنائیت محسوس کرتے ہیں ۔ وہ اسلام کے احیاء کے لئے جماعت احمدیہ کی خدمت کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،اور یہ جماعت جس جہد مسلسل میں مصروف ہے وہ اس پر جماعت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔اس جماعت میں ممبران کی تربیت کا بہت عمدہ نظام موجود ہے جو بہت قابل قدر ہے۔مسٹر سنتوکھی نے عید سعید کی مبارکباد کے ساتھ ساتھ مذہبی اقدار اور بھائی چارے کے قیام کے لئے جماعت کی کوششوں کی تعریف کی اور جماعت کو خراج تحسین پیش کیا۔ تمام مہمانوں کی خدمت میں جماعتی روایات کے مطابق ظہرانہ عید کے لوازمات کے ساتھ پیش کیا گیا۔بعد ازاں مسٹرچندریکا پرشاد سنتو کھی کو ڈچ ترجمہ والا قرآن مجید، اسلامی اصول کی فلاسفی اور جماعت کے تعارف پر مشتمل فولڈر اور باقی مہمانوں کی خدمت میں اسلامی اصول کی فلاسفی اور فولدڑز پیش کئے گئے۔

ابن مریم کی ہجرت کشمیر

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہجرت کشمیر اور قبر مسیح کے بارے میں Films Divisionگورنمنٹ آف انڈیا نے تقریبا55منٹ کی ایک ڈاکومنٹری تیار کی ہوئی ہے،جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کشمیر ہجرت اور سرینگر میں آپ کی قبر ہونے کے ثبوت پیش کئے گئے ہیں ،اورحضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دیگر محققین کی تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔یہ ڈاکومنٹری (Radika TV Ch.14)نے 2012ء کے اواخر میں دو دفعہ نشر کی۔اور ملک میں اس کا خوب چرچا ہوا۔ اور متعدد افراد نے اس حوالے سے سوالات بھی کئے۔

عید الا ضحی2012ء

26اکتوبر 2012ء بروز جمعۃ المبارک ملک میں عید الا ضحی منائی گئی۔ اس موقعہ پر ٹی وی چینل 12 (Algemene Televisie Verzorging, A.T.V) کے نمائندے مسجد میں آئے۔انہوں نے قربانی کے مناظر ریکارڈ کئے۔اور محترم صدر صاحب کا تفصیلی انٹرویو لیا،اور قربانی کے فلسفے اور گوشت خوری کے حوالے سے سوالات کئے۔یہ ریکارڈنگ شام 6بجے چینل 12اور رات ساڑھے سات بجے چینل 2پر خبروں میں دکھائی گئی۔یہ دونوں چینل اسی کمپنی کی ملکیت ہیں ۔

عیدالاضحی کی اہمیت اور فلاسفی کے حوالے سے ایک مضمون ملک کے دو روزناموں Dagblad SURINAME اور Times of SURINAME میں 25 اکتوبر شائع ہوا۔

حضور انور ایدہ اللہ کے خطبہ جمعہ فرمودہ 21ستمبر 2012ء کی اشاعت

 آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے حوالے سے دشمنان اسلام نے جو بیہودہ فلم بناکر مسلمانوں کے جذبا ت کا خون کیا، اس اہانت کے جواب میں اسلامی رد عمل کو واضح کرنے کے لئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک بصیرت افروز خطبہ ارشاد فرمایا۔یہ پُر معارف خطبہ تین دفعہ مقامی ٹی وی چینل رادیکا (Radika) پر اور دو دفعہ ریڈیو (Radika)رادیکا پر نشر کیا گیا۔ ریڈیو پر خطبہ شام چھ سے سات اور ٹی وی پر رات ساڑھے سات سے ساڑ ھے آٹھ بجے نشر ہوتا رہا۔پورے خطبہ کے دوران حضور کا نام اور خطبہ کا موضو ع سکرین پر چلتا رہا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز کے خطبہ جمعہ اور پریس کانفرنس کے حوالے سے جاری کئے گئے پریس ریلیز کا مکمل ڈچ ترجمہ سات نومبر کو روزنامہ (Dagblad SURINAME) میں صفحہ نمبر 12پر شائع ہوا۔ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز کے خطبہ جمعہ کا ڈچ ترجمہ فولڈر کی صورت میں تیار کرکے پرنٹ کروایا گیا اور کثرت سے تقسیم کیا گیا۔متعدد افراد نے اس خطبہ کو سن کر افراد جماعت سے رابطہ کیااور اسے ایک بہترین ردّ عمل قرار دیا۔ اور حضور انور کی بیان فرمودہ تجاویز کو انتہائی مثبت اور وقت کی ضرورت قراردیا۔

ایک شخص نے کہاکہ اس نے پہلی دفعہ کسی مسلمان رہنما کو اتنے باوقار اور مہذب انداز سے تقریر کرتے اور لوگوں کو اتنے سکون سے سنتے دیکھا۔اور آپ کے امام نے جو تجزیہ پیش کیا ہے اور جس طرح توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرنے والوں کے خلاف قانون سازی کو وقت کی ضرورت قرار دیا وہ بہت ہی قابل تعریف ہے۔

جلسہ سالانہ سرینام دسمبر 2012ء

خدا تعالیٰ کے فضل و احسان سے جماعت احمدیہ سرینام کو تیس نومبراور یکم دسمبر 2012ء بروز جمعہ ہفتہ اپنا 33واں جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق ملی۔اس جلسہ کے لئے ‘‘بانیان مذاہب کا احترام’’عنوان چنا گیا۔اس جلسہ میں گیانا کے مبلغ انچارج کی قیادت میں جماعتی وفد شامل ہوا۔امسال پہلی دفعہ جماعت کے بچوں کو مختلف گریڈز میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے پر تعلیمی ایوارڈز دئے گئے۔ 26 نومبر کودن کے وقت RBN TV.Ch 5 کا نما ئندہ اپنے حالات حاضرہ کے پروگرام کے لئے محترم صدر صاحب کا انٹر ویو لینے آیا۔ انٹر ویو میں اس نے جلسہ کے مقاصد اور طریق کار کے بارے میں سوالات کئے۔ انٹرویو کے دوران اس نے خاص طور پر جلسہ کے اخراجات کے حوالے سے بھی سوال کیاکہ اس جلسہ کے اخراجات آپ کیسے پورے کریں گے؟ اس پر محترم صدر صاحب نے اسے چندہ کے نظام کے بارے میں بتایااور سمجھایا کہ ہم اپنے تمام کام جماعت کے ممبران کے چندہ سے پورے کرتے ہیں ۔یہ انٹر ویو اسی شام سات بجے اور رات بارہ بجے راپار ٹی وی کے پروگرام’‘حالات‘‘ (Halaat)میں نشر ہوا۔ اُسی شب مقامی اخبار De Ware Tijd اور Dagblad SURINAME کے نمائندوں نے جماعت سے رابطہ کیا اور جلسہ کے موضوع، مقاصد اور جماعت کے بارے میں معلومات حاصل کیں ۔ اس جلسہ میں اراکین پارلیمنٹ اور مختلف مذاہب کے نمائندے شامل ہوئے۔جماعتی تقاریر کے بعدمہمانوں کو سٹیج پر بلانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔سب سے پہلے پار لیمنٹ کے ممبر مسٹر راجکمار رنجیت سنگھ (Mr.Radjkoemar Randjietsing) کو دعوت دی گئی،جو اپنے ساتھی رکن پارلیمنٹ مسٹر گنیش کمار کندھا ئی کے ساتھ جلسہ میں شامل ہوئے۔موصوف متعدد باروزیر بھی رہ چکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں نے سارا پروگرام توجہ سے سناہے اور نوٹس بھی لئے ہیں ۔میں بانیان مذاہب اور خاص طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے حوالے سے آپ کی جماعت کے مئوقف کی قدر کرتا ہوں اور ہم سب کو اس نمونہ پر چلنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور ان کے مقام کو جس انداز سے پیش کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کلچرل یونی سرینام (Culturele Unie Suriname)کے صدر Mr.Ashwien Adhin تھے۔انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذا تِ بابرکات سے کیااور بتایا کہ امسال جنوری میں مجھے اس جماعت کی طرف سے اسلامی اصول کی فلاسفی نامی کتاب تحفۃً دی گئی تھی۔یہ ایک بہترین کتاب ہے جو مجھے پڑھنے کا موقعہ ملا۔اس کتاب کو پڑھنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام انتہائی اعلیٰ پائے کے مصنف اور فلاسفر تھے۔ اور اس کتاب میں انہوں نے خَلق اور خُلق کی جو تشریح بیان فرمائی ہے وہ بہت ہی لطیف اور روحانی معارف سے پُر ہے، اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے آپ بہترین انسان بن سکتے ہیں اور ہم سب کو مل کر ایسے معاشرے کی قیام کے لئے کوشش کرنی چاہیے جہاں بااخلاق انسان رہتے ہوں ۔

 یکم دسمبر کوملک کے دو روزناموں De Ware Tijd اور Dagblad SURINAMEنے جلسہ کی خبر کو تفصیل سے شائع کیا۔ اوّل الذکر اخبار نے اسلام مخالف فلم کے حوالے سے جماعت کے مئو قف کی وضاحت کی اور لکھاکہ:’‘ آجکل بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق امریکہ میں بنائی گئی ایک فلم کا کافی چرچا ہے اس لئے جماعت احمدیہ سرینام نے اپنے جلسہ سالانہ کا پروگرام اسی حوالے سے ترتیب دیا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو ہی جلسہ کا عنوان بنایا ہے تاکہ دین اسلام کے بارے میں پیدا شدہ غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے۔جما عت احمدیہ کا مئو قف ہے کہ کسی مسلمان کے ذاتی عمل کی وجہ سے دین اسلام کی تضحیک کرنا درست نہیں ، کیو نکہ اسلام کی تعلیم بہت پاک سچی اور حقیقت پر مبنی ہے۔ اسلام مخالف فلم کے حوالے سے اس جماعت کے امام حضرت مرزا مسرور احمد دنیا کے سامنے اپنا مئوقف پیش کر چکے ہیں کہ آزادی رائے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کسی مذہب کے بانی کے بارے میں بیہودہ گو ئی کی جائے’’۔اور مئوخر الذکر نے جماعت سرینام کے جلسہ ہائے سالانہ کی مختصر تاریخ اور جلسہ کے اغراض و مقاصد کو نمایا ں طور پر شائع کیا۔اور لکھا کہ‘‘اس جماعت کے بانی نے جماعت کے قیام کے دو سال بعد ممبران کی روحانیت اور دینی علم کو بڑھانے کے لئے جلسہ سالانہ کا نظام جاری کیا،اور یہ جلسہ اسی نظام کا حصہ ہے۔اس جلسہ کاموضوع بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت ہے۔کیونکہ آجکل بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملے ہورہے ہیں ’’۔

جماعتی خبروں کی تلاش

گزشتہ اقساط میں 1988ء میں شاہ احمدنورانی کی ملک بدری کا واقعہ گزر چکا ہے۔اس واقعہ کی تفصیلات تو موجود تھیں مگر معین تاریخ نہیں مل رہی تھی،جس کی تلاش کے لئے 16اپریل 2013ء کو جماعتی وفد نیشنل آرکائیوز سرینام (National Archives) کی لائبریری میں گیا، اور بفضل خدا 1988ء کی پہلی سہ ماہی اخبارات کی جو پہلی جلد چیک کرنے کے لئے اٹھائی اس کے پہلے صفحہ پر ہی شاہ احمد نورانی کی گرفتا ری اور ملک بدری کی خبر مل گئی۔ اگلے چند دنوں میں اس لائبریری سے جماعتی ریکارڈ میں مذکور اکثر اخباری حوالے تلاش کرنے کی توفیق ملی۔اورخدا تعالیٰ کے فضل سے عزیزہ لبنیٰ لئیق نے 23اپریل2013ء کو اکتوبر 1956ء کے اخبار سے مولانا شیخ رشید احمد اسحق کی سرینام آمد کی خبر تلاش کی جو جماعت کی سب سے پہلی خبر بھی ہے۔ مجموعی طور پر 16جماعتی خبریں اور مضامین اور جماعت سے متعلقہ 12 خبریں تلاش کی گئیں ۔کئی سالوں کے اخبار بوسیدہ ہونے کی وجہ سے انتظامیہ نے دکھانے سے معذرت کی۔ اور جما عتی خبروں کی معین تاریخ معلوم ہونے کے باوجود انکا ریکارڈ نہیں لیا جا سکا۔تمام دستیاب اخباری تراشے scan کرواکے محفوظ کر لئے گئے ہیں ۔

مضامین کی اشاعت

9جولائی2012ء کو Times of SURINAMEمیں صفحہ نمبر 5پر ‘‘روزہ ایک عالمگیر عبادت ’’کے عنوان سے جماعتی مضمون شائع ہوا۔ اسی روز شام کے اخبار (De West)میں یہی مضمون صفحہ نمبر 11پر شائع ہوا۔ 25جولائی2012ء بروز منگل روزنامہ (De Ware Tijd)میں صفحہ نمبر A7پر ‘‘مرد وعورت کے لئے اسلامی عبادات کے احکام’’کے عنوان سے جماعتی مضمون شائع ہوا۔

ٹی وی انٹر ویو

ملک کی ایک معروف ٹی وی کمپیئر اور صحافی Mrs.Caria Boetiusنے یکم جولائی2014ء کو محترم صدر صاحب جماعت کا انٹر ویو لینے کے لئے سٹوڈیو میں دعوت دی اور جماعت کا تعارف اور دوسرے مسلمانوں سے فرق پوچھا۔اس سوال کے جواب میں محترم صدر صاحب نے مذاہب عالم میں موجود ایک مصلح کی آمد کی پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کی تفصیل بتائی۔اس کے علاوہ رمضان المبارک، جہاد،اسلام میں عورت کا مقام اور غلامی کے تصور کے حوالے سے سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے۔گفتگو کے دوران پس منظر میں جماعتی تصاویر اور جماعتی لٹریچر کی نمائش بھی دکھا ئی گئی۔اس انٹر ویو کے لئے بیس منٹ کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ اور وقت ختم ہونے کے بعد کیمرہ مین نے اشارے کرنے شروع کئے مگر میزبان نے انٹرویو جاری رکھا اور قر یباً 35 منٹ کا انٹر ویو ریکار ڈ کیا۔ یہ انٹر ویو 2 جولائی2014ء دوپہر ساڑھے بارہ بجے Algemene Televisie Verzorging,ATV Ch 12) ( پر اور رات 8بجے TV2پر نشر ہوا۔ اس انٹر ویو کو بہت پذیرائی ملی اور بہت سے افراد نے جن میں یونیورسٹی کے پروفیسر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شامل ہیں اسے سراہا اور پسندیدگی کا اظہار کیا۔

رمضان پروگرام

خداتعالیٰ کے فضل سے جماعت سرینام کو 2001ء سے باقاعدگی کے ساتھ ہرسال رمضان المبارک میں 15منٹ دورانیہ کے 35یا اس سے زائدٹی وی پروگرام پیش کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ محض خدا تعالیٰ کے فضل سے2015ء میں تین مختلف ٹی وی چینلز نے ہمیں روازانہ پروگرام کا وقت دینے کی دعوت دی اور اس سال ہمیں مجموعی طور پر90 پروگرام پیش کرنے کی توفیق ملی، جن کا دورانیہ 22گھنٹے 30منٹ تھا۔

الیکٹرانک میڈیا میں پہلا مضمون

 سال 2015ء میں مختلف جائزہ رپوٹس سے یہ بات سامنے آئی کہ ملک میں الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا سے زیادہ مقبول ہے۔ چنانچہ جماعت نے اس طرف توجہ دی اور بفضل خدا پہلی بار متعددجماعتی مضامین آن لائن اخبارات میں شائع ہوئے۔ 4جولائی 2015ء کو ‘‘آخری عشرہ کی فضیلت’’ کے عنوان سے جماعت کا پہلا آرٹیکل ‘‘ سٹار نیوز ’’میں شائع ہوا۔ سٹار نیوز ملک کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویب سائٹ ہے۔ سرینام اور ہالینڈ میں اس کے قارئین کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔‘‘عورت روزہ اور عبادت’’کے موضوع پر دوسرا مضمون 10جولائی کو gfcnieuwsمیں شائع ہوا۔ یہی مضمون 11جولائی کو سٹار نیوز میں شائع ہوا۔ ‘‘عورت روزہ اور عبادت’’والا مضمون سٹار نیوز سے لے کر ایک اور اخبار ‘‘سرینام نیوز’’(srniuews)نے 11 جولائی کو شائع کیا۔ یہی مضمون ہالینڈ کے ایک اخبار ‘‘ڈرمبل نیوز’’ (drimble.nl)نے 10جولائی کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا۔‘‘آخری عشرہ کی فضیلت’’ کے عنوان سے ایک مضمون 11جولائی کو ‘‘جی ایف سی نیوز’’ میں اور 12جولائی 2015ء کوسٹار نیوز میں شائع ہوا۔ ‘‘عیدالفطر’’کے عنوان سے ایک مضمون 16جولائی کو جی ایف سی نیوز اور 17جولائی کو سٹار نیوز میں شائع ہوا۔ بفضل خداجولائی 2015ء سے فروری 2016 ء تک10مختلف جماعتی مضامین چار مختلف ویب سائٹس پر شائع ہو چکے ہیں اور اس طرح لاکھوں افراد تک اسلام کا حقیقی پیغام پہنچ چکا ہے۔

اسلامی پردہ

 فروری 2016ء میں ایک جاوی مسلمان خاتون ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لئے گئی۔ اس خاتون نے سر پر سکارف باندھا ہوا تھا۔ ٹیسٹ سے قبل پولیس انسپکٹر نے اسے سکارف اتارنے کے لئے کہا۔ خاتون نے انکار کیا۔ بات تلخی تک پہنچی اور خاتون ٹیسٹ دئے بغیر چلی گئی اور بالا افسر کو شکایت کی۔ اس افسر نے سکارف اتارنے پر اصرار کرنے والے انسپکٹر کو سرزنش کی اور اخبار میں معذرت شائع کروائی۔ اس کے بعد اسلامی پردے کے حوالے سے اخبار میں بحث چھڑ گئی اور متعدد افراد نے اس پر رائے زنی شروع کر دی۔ پردے کے حوالے سے جماعتی مئوقف جاننے کے لئے روزنامہ ‘‘ٹائمزآف سرینام ’’ کی ایک رپورٹر نے محترم صد ر صاحب جماعت کو فون کیا اور تفصیلی بات چیت کی۔ یہ انٹر ویو 21جنوری2016ء کو اس روزنامہ میں شائع ہوا۔ اس کے بعد پردے کے حوالے سے قرآنی تعلیم پرایک مضمون تیار کر کے آن لائن شائع ہونے والے اخبارات کو بھجوایا گیا اور GFC News نے 27جنوری2016ء کو یہ مضمون اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا۔ اسی ویب سائٹ پر 20فروری2016ء کو‘‘کیا خواتین مردوں سے کمتر ہیں؟’’ کے عنوان سے جماعتی مضمون شائع ہوا۔

ملکی اخبارات میں جماعتی خبریں

خدا تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ عشرہ کے دوران ٹی وی اور ریڈیو پر بیسیوں جماعتی خبروں کے علاوہ مارچ 2002ء سے فروری 2016ء تک چار مختلف اخبارات میں 85جماعتی مضامین اور خبریں شائع ہوئیں ،جن کے ذریعہ مسیح آخرالزمان، خلافت حقہ اور جماعت احمدیہ کے عقائد عوام و خواص تک پہنچانے کی توفیق ملی اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔اس عرصہ میں 10غیر از جماعت اور غیرمسلم طلباء و طالبات نے ڈگری اور ڈپلومہ حاصل کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کی تاریخ، عقائداور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی اور دعویٰ کے بارے میں مقالہ جات تحریر کئے۔

قارئین الفضل سے جماعت احمدیہ سرینام کے نفوس و اموال میں برکت کے لئے دعا کی درخواست ہے۔

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button