متفرق شعراء
تمہاری یاد مری جستجو کا حاصل ہے

ہوا کے دوش پہ بکھری رہی فضاؤں میں
تمہاری یاد کی خوشبو مری دعاؤں میں
تمہاری یاد مری جستجو کا حاصل ہے
تمہارا نام ہی رہتا ہے التجاؤں میں
سفر جو دل کا میری خاکِ بے نوا سے اٹھا
ملی ہے روشنی تب سے مجھے خلاؤں میں
تمہارا نام لیا جب بھی زیرِ لب میں نے
عجیب نور سا برسا مری فضاؤں میں
میں اپنی قید سے نکلا تو روشنی پائی
عیاں ہے نور الٰہی تری عطاؤں میں
ہر ایک درد نے سجدے کو خوشگوار کیا
نکھر گئی مری سوچیں مری خطاؤں میں
(افضل مرزا۔ امریکہ)
مزید پڑھیں: میری دھرتی بچا، ظالموں کو مٹا




