انسان کے لئے لازمی امر ہے کہ وہ استغفار میں ہمیشہ مشغول رہے
(مغفرت ) لغت میں ایسے ڈھانکنے کو کہتے ہیں جس سے انسان آفات سے محفوظ رہے۔اسی وجہ سے مِغْفر جوخَود کے معنی رکھتا ہے اسی میں سے نکالا گیا ہے اور مغفرت مانگنے سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ جس بلا کا خوف ہے یا جس گناہ کا اندیشہ ہے خدا تعالیٰ اس بلا یا اس گناہ کو ظاہر ہونے سے روک دے اور ڈھانکے رکھے۔ (نور القرآن، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۵۶،۳۵۵)
تو بہ واستغفار کرنی چاہئے۔بغیر توبہ استغفار کے انسان کر ہی کیا سکتا ہے؟ سب نبیوں نے یہی کہا ہے کہ اگر تو بہ واستغفار کرو گے تو خدا بخش دے گا۔سونمازیں پڑھو اور آئندہ گناہوں سے بچنے کے لئے خدا تعالیٰ سے مدد چاہو اور پچھلے گناہوں کی معافی مانگو اور بار بار استغفار کرو تا کہ جو قوت گناہ کی انسان کی فطرت میں ہے وہ ظہور میں نہ آوے۔انسان کی فطرت میں دو طرح کا ملکہ پایا جاتا ہے ایک تو کسب خیرات اور نیک کاموں کے کرنے کی قوت ہے اور دوسرے بڑے کاموں کو کرنے کی قوت اور ایسی قوت کو روکے رکھنا یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور یہ قوت انسان کے اندر اس طرح سے ہوتی ہے جس طرح کہ پتھر میں ایک آگ کی قوت ہے اور استغفار کے یہی معنی ہیں کہ ظاہر میں کوئی گناہ سرزد نہ ہو اور گناہوں کے کرنے والی قوت ظہور میں نہ آوے۔انبیاء کے استغفار کی بھی یہی حقیقت ہے کہ وہ ہوتے تو معصوم ہیں مگر وہ استغفار اس واسطے کرتے ہیں کہ تا آئندہ وہ قوت ظہور میں نہ آوے۔اور عوام کے واسطے استغفار کے دوسرے معنے بھی لئے جاویں گے کہ جو جرائم اور گناہ ہو گئے ہیں ان کے بدنتائج سے خدا بچائے رکھے اور ان گناہوں کو معاف کر دے اور ساتھ ہی آئندہ گناہوں سے محفوظ رکھے۔
بہر حال یہ انسان کے لئے لازمی امر ہے کہ وہ استغفار میں ہمیشہ مشغول رہے۔یہ جو قحط اور طرح طرح کی بلائیں دنیا میں نازل ہوتی ہیں۔ان کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ لوگ استغفار میں مشغول ہوجائیں مگر استغفارکا یہ مطلب نہیں ہے جو استغفر اللّٰه!استغفر اللّٰه! کہتے رہیں۔اصل میں غیر ملک کی زبان کے سبب لوگوں سے حقیقت چھپی رہی ہے۔عرب کے لوگ تو ان باتوں کو خوب سمجھتے تھے مگر ہمارے ملک میں غیر زبان کی وجہ سے بہت سی حقیقتیں مخفی رہی ہیں بہت سے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے اتنی دفعہ استغفار کیا۔سوتسبیح یا ہزار تسبیح پڑھی۔مگر جو استغفار کا مطلب اور معنے پوچھو تو بس کچھ نہیں ہکا بکا رہ جاویں گے انسان کو چاہئے کہ حقیقی طور پر دل ہی دل میں معافی مانگتا ہے کہ وہ معاصی اور جرائم جو مجھ سے سرزد ہو چکے ہیں ان کی سزا نہ بھگتنی پڑے اور آئندہ دل ہی دل میں ہر وقت خدا سے مدد طلب کرتا رہے کہ آئندہ نیک کام کرنے کی توفیق دے اور معصیت سے بچائے رکھے۔
خوب یا درکھو کہ لفظوں سے کچھ کام نہیں بنے گا اپنی زبان میں بھی استغفار ہوسکتا ہے کہ خدا پچھلے گناہوں کو معاف کرے اور آئندہ گناہوں سے محفوظ رکھے اور نیکی کی توفیق دے اور یہی حقیقی استغفار ہے کچھ ضرورت نہیں کہ یونہی استغفر اللّٰه!استغفر اللّٰه! کہتا پھرے اور دل کو خبر تک نہ ہو۔یادرکھو کہ خدا تک وہی بات پہنچتی ہے جو دل سے نکلتی ہے۔اپنی زبان میں ہی خدا سے بہت دُعائیں مانگنی چاہئیں۔اس سے دل پر بھی اثر ہوتا ہے۔زبان تو صرف دل کی شہادت دیتی ہے اگر دل میں جوش پیدا ہو اور زبان بھی ساتھ مل جائے تو اچھی بات ہے بغیر دل کے صرف زبانی دُعا ئیں عبث ہیں، ہاں ! دل کی دُعائیں اصلی دُعائیں ہوتی ہیں۔جب قبل از وقت بلا انسان اپنے دل ہی دل میں خدا سے دُعائیں مانگتا رہتا ہے اور استغفار کرتا رہتا ہے۔تو پھر خداوند رحیم و کریم ہے وہ بلا ٹل جاتی ہے لیکن جب بلا نازل ہو جاتی ہے پھر نہیں ٹلا کرتی۔بلا کے نازل ہونے سے پہلے دُعائیں کرتے رہنا چاہئے اور بہت استغفار کرنا چاہئے اس طرح سے خدا بلا کے وقت محفوظ رکھتا ہے۔(الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۴بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد ۲ صفحہ ۳۵۸ تا ۳۶۰)
مزید پڑھیں: فدیہ توفیق کے واسطے ہے




