متفرق شعراء
خوفِ خدا
نظر اعمال پر جب ڈالتی ہوں
بہت خوفِ خدا سے کانپتی ہوں
ادا کرتی نہیں بیعت کا حق میں
اگرچہ سب شرائط جانتی ہوں
نہیں رہتی نمازوں میں توجہ
یوں ہی سوچوں میں غوطے مارتی ہوں
کروں گی دیں کو دنیا پر مقدّم
مگر یہ عہد اکثر ٹالتی ہوں
نہ ہو جائے کہیں ناراض مولا
یہ باتیں سوچ کر بھی کانپتی ہوں
گناہوں کی پشیمانی میں یارب
تری جانب ہی سرپٹ بھاگتی ہوں
مجھے تسلیم ہے کمزور ہوں میں
میں تیری دست گیری چاہتی ہوں
نہ ہو رُسوائی یوم حشر میری
یہ رو رو کر دعائیں مانگتی ہوں
مجھے بس پیار کی نظروں میں رکھنا
میں تجھ سے تیری بخشش مانگتی ہوں
(امۃ الباری ناصر۔ امریکہ)
مزید پڑھیں: مسرور سبھی تیرے، انداز ہیں شاہانہ




