مالٹا میں بین المذاہب روزہ کی تقریب کا انعقاد
اللہ تعالیٰ کےخاص فضل وکرم سے جماعت احمدیہ مالٹا کو مورخہ ۲۷؍فروری ۲۰۲۶ء بروز جمعۃ المبارک مقامی رومن کیتھولک چرچ کے باہمی تعاون سے مالٹا میں کامیاب ’بین المذاہب روزہ کی تقریب‘ منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک

یہ پروگرام چرچ کے ملحقہ حصہ (Parvis) میں منعقد ہوا جس میں ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ قریبی گھروں اور ملحقہ راستوں سے گزرنے والے لوگوں نے بھی اس پروگرام سے فائدہ اٹھایا۔
پروگرام سے قبل اس کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی گئی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ہزاروں لوگوں تک جماعت کا پیغام پہنچا۔ اسی طرح مالٹا کے نیشنل ٹیلیویژن پر ایک انٹرویو بھی دیا گیا جس کے دیکھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
اس پروگرام کا آغاز مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے بچوں کے پیغامات سے ہوا۔ بچوں نے اپنے اپنے مذہب کی تعلیمات کی روشنی میں روزہ، امن اور ہم آہنگی کے حوالے سے اپنے پیغامات پیش کيے۔ اس کے بعد چار تقاریر ہوئیں۔ افتتاحی تقریر مالٹا کے رومن کیتھولک چرچ کے بین المذاہب مکالمہ کمیشن کے سربراہ مکرم پادری جوزف ایلول صاحب نے کی۔ مکرم پادری مارک چھانتر صاحب نے عیسائیت میں روزہ اور خاکسار (مبلغ سلسلہ مالٹا) نے ’اسلامی روزہ کی فلاسفی‘ کے موضوع پر اپنی گزارشات پیش کیں۔ اختتامی تقریر مالٹا کی سابق صدر عزت مآب Marie-Louise Coleiro Preca صاحبہ کی تھی۔

تقاریر کے بعد جماعت کی طرف سے مہمانوں کاکھجور اور دودھ کے ساتھ روزہ افطار کروایا گیا اور کھانے سے تواضع کی گئی۔ اسی طرح چرچ کی طرف سے Vegetarian Couscousکے ذریعے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔
اس پروگرام میں مختلف مذہبی نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا اور کل ۷؍مذاہب یا مذہبی تنظیموں نے نمائندگی کی۔ اسی طرح مختلف مذاہب اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے ۱۲۰؍کے قریب لوگوں نے اس بین المذاہب روزہ پروگرام میں شرکت کی جن میں مسلمان بھی بڑی تعداد میں شامل ہوئے۔
کھانے کے دوران افراد جماعت مہمانوں کے ساتھ محوگفتگو رہے اور یہ مزید تعارف اور تبلیغ کا باعث بنا۔ اسی طرح مہمانوں کی خدمت میں مالٹی زبان میں جماعت احمدیہ کا تبلیغی رسالہ Id-Dawl کے رمضان المبارک کے حوالے سے شائع کردہ دو شمارہ جات بھی پیش کيے گئے۔
اس موقع پر شاملین اور منتظمین نے بہت اچھے الفاظ میں اس پروگرام کا ذکر کیا۔ لوگوں نے جماعت کی مہمان نوازی اور اس پروگرام کے انعقاد پر تہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اکثر مہمانوں نے جماعت احمدیہ کی معاشرے میں ہم آہنگی، برداشت اور باہمی بھائی چارے کے فروغ کے ليے مساعی کی بہت تعریف کی۔ چرچ کے انٹرفیتھ کمیشن کے سربراہ بھی بہت متاثر ہوئے، چونکہ وہ عربی زبان سے واقفیت رکھتے ہیں اس ليے بار بار کہتے رہے بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ۔ بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ۔ سابق صدر مملکت مالٹا نے کہا کہ ’’اس بین المذاہب اجتماع کے لیے مدعو کیا جانا میرے ليے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔‘‘
چرچ کے پادری صاحب نے کہا کہ جماعت نے بہت کام کیا ہے اور حاضری ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہے۔
مالٹا کے نیشنل ٹیلیویژن نے اس پروگرام کو خصوصی کوریج دی اور اپنے رات کے خبرنامہ میں اس کی تفصیلی خبر اور رپورٹ پیش کی۔ یہ خبر نامہ تقریباً ہر گھر میں دیکھا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے اس بین المذاہب روزہ پروگرام کی خبر ہر گھر تک پہنچی۔ فالحمدللہ علیٰ ذلک
اس پروگرام کے انعقاد میں ۹؍خدام و انصار اور ۵؍بچوں نے تعاون کیا۔ فجزاہم اللہ احسن الجزاء
اللہ تعالیٰ ہماری اس حقیر کوشش کو قبول فرمائے، اس کے مثبت ثمرات حسنہ عطا فرمائے، ہمیں احسن رنگ میں خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بیعتوں سے نوازے۔ آمین اللّٰہم آمین(رپورٹ:لئیق احمد عاطف۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
مزید پڑھیں: مالی کے ریجن سکاسو میں جدید سہولیات سے آراستہ ’احمدیہ کمپلیکس‘ اور ’مسجد ناصر‘ کا افتتاح




