قانونِ خدا

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)
طبع زادِ ناقصاں ہم ناقص ست
گر ترا گوشے بود حرفے بس ست
ناقصوں کے خیالات بھی ناقص ہی ہوتے ہیں اگر تیرے کان ہیں تو یہی ایک لفظ نصیحت کے لیے کافی ہے
حق منزّه از خطا تو پُر خطا
داوریہا کم کُن و بر حق بپا
خدا غلطی سے پاک اور تو غلطیوں کی پوٹ ہے۔جھگڑا نہ کر بلکہ حق پر قائم رہ
عقلِ تو مغلوب صد حرص و ہواست
تکیہ بر مغلوب کارِ اشقیاست
تیری عقل حرص و ہوا کی مغلوب ہے اور مغلوب پر بھروسہ کرنابد بختوں کا کام ہے
از کس و ناکس بیاموزی فنوں
عار داری زاں حکیمِ بے چگوں
تو ہر کس و ناکس سے علم سیکھتارہتا ہے مگر اس لاثانی حکیم سے سیکھنے میں تجھے شرم آتی ہے
از تکبّر راہِ حق بگذاشتی
ایں چه کردی ایں چه تخمے کاشتی
تو نے تکبر کی وجہ سے حق کا راستہ چھوڑ دیا۔یہ تو نے کیا کیا ! یہ تو نے کیسا بیج بویا !
اے ستمگر ایں ہماں مولائے ماست
کز عطِیّاتش ہمہ ارض و سماست
اے ظالم !یہی تو وہ ہمارا آقا ہے جس کی عطا سے یہ سب آسمان اور زمین ( کی نعمتیں ) ہیں
ابر و باران و مہ و مہر آفرید
کرد تابستان و سرما را پدید
جس نے بادل، بارش، چاند اور سورج پیدا کئے اور گرمی سردی کو ظاہر کیا
تا بفضلِ او غذائے خود خوریم
زندہ مانیم و تنِ خود پروریم
تاکہ ہم اُس کے فضل سے اپنی خوراک کھاتے رہیں اور زندہ رہیں اور اپنی پرورش کریں
آنکہ بر تن کرد ایں لُطفِ اتم
کے کند محروم جاں را از کرم
جس نے ہمارے بدن پر کمال درجہ کی مہربانی کی ہے وہ ہماری جان کو کب اپنے کرم سے محروم کرسکتا ہے
وحیٔ فرقان ست جذبِ ایزدی
تا برندت از خودی در بے خودی
قرآن کی وحی خدا کی ایک کشش ہے تا کہ وہ تجھے نفسانیت سے روحانیت کی طرف لے جائے
ہست قرآں دافعِ شرکِ نہاں
تا مر او را ہم ازو یابی نشاں
قرآن اندرونی شرک کو دور کرتا ہے تا کہ تو خدا کا نشان خدا کی طرف سے ہی پائے
تا رہی از کبر و خودبینی و ناز
تا شوی ممنونِ فضلِ کارساز
تا کہ تو تکبر خود بینی اور فخر سے نجات پائے اور اس کا رساز کے فضل کا ہی ممنون ہو
(براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۱۷۱تا ۱۷۲، بحوالہ درثمین فارسی مترجم صفحہ ۸۸-۸۹)
مزید پڑھیں: قانونِ خدا




