ارشادِ نبوی

قرض کا بدلہ (قرض کی) ادائیگی اور شکریہ ادا کرنا ہے

حضرت عبداللہ بن ابو ربیعہ مخرویؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے تیس ہزار یا چالیس ہزار قرض لیا۔ پھر جب نبی ﷺ (غزوہ سے واپس) تشریف لائے تو انہیں قرض ادا کر دیا، پھر نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تیرے گھر بار میں اور تیرے مال میں برکت عطا فرمائے۔ قرض کا بدلہ (قرض کی) ادائیگی اور شکریہ ادا کرنا ہے۔

(سنن ابن ماجه كتاب الصدقات باب : حسن القضاء حدیث ۲۴۲۴)

مزید پڑھیں: اطاعتِ امیر

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button