خطاب حضور انور

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا مجلس انصار اللہ برطانیہ کے سالانہ نیشنل اجتماع 2025ء کے موقع پر پُر معارف اختتامی خطاب کا خلاصہ

’نحن انصار اللّٰہ‘ کا جو نعرہ لگاتے ہیں وہ حقیقت میں ایسا نعرہ ہو جو حضرت مسیح موعودؑ کے مشن کو پورا کرنے والے لوگوں کا نعرہ ہے

٭…غور کریں کہ کیا آپ وہ نمونہ ہیں، جنہوں نے بیعت کے حقیقی معیاروں کو حاصل کر لیا ہے، یا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اگر نہیں تو یہ بڑی قابلِ فکر بات ہے کیونکہ

آپ کے نمونے دیکھ کر ہی اگلی نسلوں نے اپنی اصلاح کرنی ہے یا اپنی کمزوریوں کو دیکھنا ہے

٭… انصار کی عمر کو پہنچنے والوں میں کوئی بُرائی ہو گی تو اگلی نسل میں بھی بُرائیاں پیدا ہوتی جائیں گی۔ پس انصار کی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے

٭…یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی حالتوں کو بہتر بنائیں، ہَوا و ہَوس سے اپنے آپ کو روکیں، آجکل دنیا کی جو خواہشات ہیں، ہَوا و ہَوس ہے، ماحول ہے

اِس نے تو اب بڑوں چھوٹوں ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اِس سے بچنا انتہائی ضروری ہے اور انصار اللہ کو اِس کے لیے بنیادی کردار ادا کرنا ہو گا

٭…کینیڈا اور برکینا فاسو میں مجلس انصار اللہ کے سالانہ اجتماعات کے براہ راست مناظر دکھائے گئے

(۲۸؍ستمبر ۲۰۲۵ء، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲۸؍ستمبر ۲۰۲۵ء بروز اتوار مجلس انصاراللہ برطانیہ کے سالانہ اجتماع (منعقدہ ۲۶تا۲۸؍ستمبر ۲۰۲۵ء) سے بصیرت افروز اختتامی خطاب ارشاد فرمایا۔ یہ خطاب ایم ٹی اے کے مواصلاتی رابطوں کے توسّط سے پوری دنیا میں براہ راست دیکھا اور سنا گیا۔ امسال مجلس انصاراللہ کا اجتماع گلفورڈ میں واقع Hook Lane پر موجود پچاس ایکڑ زمین پر منعقد ہوا جس کا مرکزی موضوع ’’یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ‘‘ تھا۔

چار بج کر چھ منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اجتماع گاہ میں تشریف لائے۔ نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد حضورِانور چار بج کر ۲۳ منٹ پر کرسیٔ صدارت پر رونق افروز ہوئے جس کے بعد اختتامی اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

محمود وردی صاحب نے سورة البقرۃ کے پہلے رکوع (آیات ۱تا۷) کی تلاوت کی۔ متلو ّآیات کا انگریزی زبان میں ترجمہ توبان افرام (Toban Ephram) صاحب کو پیش کرنے کی سعادت ملی۔ بعد ازاں حضور انور کی اقتدا میں تمام حاضرین نے انصاراللہ کا عہد دہرایا۔ اس کے بعد منیر عودہ صاحب نے حضرت اقدس مسيح موعودؑ کا عربی قصیدہ

عِلْمِي مِنَ الرَّحْمٰنِ ذِي الْأٰلَاءِ

بِاللّٰہِ حُزْتُ الْفَضْلَ لَا بِدَهَاءِ

(القصائد الاحمدیہ صفحہ ۲۲۸)

ميں سے منتخب اشعار پيش کيے۔ بعد ازاں ان اشعار کا اردو ترجمہ عبدالمومن طاہر صاحب نے پیش کیا۔ عمر شریف صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کے منظوم کلام

بابِ رحمت خود بخود پھر تم پہ وا ہو جائے گا

جب تمہارا قادرِ مطلق خدا ہو جائے گا

میں سے منتخب اشعار پیش کیے۔ بعد ازاں مکرم صاحبزادہ مرزا وقاص احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ برطانیہ نے اجتماع کی رپورٹ پیش کی۔

بعدہٗ  کرنل شاہد لطیف صاحب قائد عمومی مجلس انصاراللہ برطانیہ نے بتایا کہ عَلَم انعامی کے لیے مقابلہ میں تیسری پوزیشن مجلس Burntwood اور دوسری پوزیشن مجلس Selsdon نے حاصل کی جن کو انعامات دیے جا چکے ہیں۔ امسال قیادت بیت الفتوح ساؤتھ علم انعامی کی حق دار قرار پائی۔ اس مجلس کے زعیم کو حضور انور کے دست مبارک سے عَلَم انعامی وصول کرنے اور جملہ ممبران عاملہ کو تصاویر کھنچوانے کی سعادت نصیب ہوئی۔

۴ بج کر ۵۴ منٹ پر حضور انور منبر پر تشریف لائے اور اختتامی خطاب کا آغاز فرمایا۔

خلاصہ خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ

حضور انورنے تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ پہلے تو مَیں یہ بتا دوں کہ آج ہمارے ساتھ کینیڈا اور برکینا فاسو کی مجالس انصاراللہ کا بھی اجتماع ہو رہا ہے اور وہ بھی براہِ راست آج یہاں شامل ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں یعنی جماعتِ احمدیہ میں آپ یعنی انصار وہ لوگ ہیں، جو اپنی عمر، سوچوں اور تجربے کے لحاظ سے انتہائی بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ اِس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ جماعت کے لیے آپ کو ایک رول ماڈل اور نمونہ ہونا چاہیے۔

پس

غور کریں کہ کیا آپ وہ نمونہ ہیں، جنہوں نے بیعت کے حقیقی معیاروں کو حاصل کر لیا ہے، یا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اگر نہیں تو یہ بڑی قابلِ فکر بات ہے۔ کیونکہ آپ کے نمونے دیکھ کر ہی اگلی نسلوں نے اپنی اصلاح کرنی ہے یا اپنی کمزوریوں کو دیکھنا ہے۔

پس یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو انصار پر ہے اور اِس کی بنیادی شرط تقویٰ ہے۔

اگر ہم میں تقویٰ ہو، تو ہم بہت ساری بیماریوں سے بچنے والے بھی ہوں گے اور اُس بیعت کا بھی حق ادا کرنے والے ہوں گے، جس کا عہد ہم نے حضرت مسیح موعودؑ سے جُڑنے کےبعد کیا ہے۔ اپنے عہد کو بھی نبھانے والے تبھی ہم ہوں گے۔

تقویٰ کے بارے میں حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ تقویٰ اختیار کرو، تقویٰ ہر چیز کی جڑ ہے، تقویٰ کے معنی ہیں ہر ایک باریک در باریک گناہ سے بچنا۔ تقویٰ اُس کو کہتے ہیں کہ جس اَمر میں بدی کا شائبہ بھی ہو، اُسے بھی وہ نہ کرے۔ فرمایا: دل کی مثال ایک بڑی نہر کی سی ہے، جس میں سے اور چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں، دل کی نہر میں سے بھی چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں مثلاً زبان ہے یا اِسی طرح کے بعض اعضاء ہیں۔ اگر چھوٹی نہر کا پانی خراب ہو اور گندا اور میلا ہو تو قیاس کیا جا سکتا ہے کہ بڑی نہر کا پانی بھی خراب ہو گا۔ پس اگر کسی کو دیکھو کہ اِس کی زبان یا دست و پا وغیرہ میں سے کوئی عضو ناپاک ہے، تو سمجھو کہ اُس کا دل بھی ایسا ہی ہے، یعنی پاک نہیں ہو سکتا۔

پس یہ ہے وہ معیار تقویٰ کا، جس کو ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہیے، اور جب ہم یہ معیار اپنے سامنے رکھیں گےتو ہم اپنے عہدِ بیعت کو بھی نبھانے والے ہوں گے اور اِس پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں گے۔

پس ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کس حد تک ہم اِس کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں اور جب ہم یہ کر رہے ہوں گے تو پھر ہم جیسا کہ مَیں نے کہا کہ دوسروں کے لیے ایک نمونہ یا رول ماڈل بن رہے ہوں گے۔

حضرت مسیح موعودؑ نے ہم سے جو بیعت لی، اِس میں بہت ساری شرائط تھیں، جن میں سے پہلی اور سب سے بڑی شرط ایک یہ تھی کہ شرک سے پرہیز کیا جائے گا۔ شرک ایک ایسی چیز ہے جو بعض دفعہ شیطان ایسے راستوں سے ہمارے دلوں میں پیدا کرتا ہے جس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا۔ پس

باریکی سے یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ہم کسی بھی طرح، کسی بھی قسم کے شرک میں مبتلا نہ ہوں۔

آجکل کی دنیا میں، اِس کے ماحول میں ملوث ہو کر اور دنیا کی فکروں میں ڈوب کر ہم بہت ساری ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو مخفی شرک کہلاتی ہیں۔ پس ہر ایک احمدی کو عمومی طور پر اور ہر ناصر کو خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ اِن کی عمر ایسی ہے، جہاں وہ اپنی عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی عمر کے آخری حصے میں داخل ہو رہے ہیں، جس کے بعد پھر اگلا جہان ہی ہے۔ اِس لیے ہمیشہ غور کریں کہ کیا ہم ہر طرح کے مخفی شرک سے پاک ہیں؟ کیا ہمارا ہر عمل اور فعل خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہے؟ کیا ہر عمل ہمارا تقویٰ پر چلنے والا ہے؟ پس یہ بنیادی چیز ہے جس کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے۔

پھر آپؑ نے بیعت کرنے والوں کو یہ بھی فرمایا کہ جھوٹ سے بچنا ہے۔

جھوٹ ایک بہت بڑی بُرائی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے کہ فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ مِنَ الۡاَوۡثَانِ وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ یعنی پس بُتوں کی پلیدی سے احتراز کرو اور جھوٹ کہنے سے بچو۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں، وہ خالص منافق ہے، اور اگر اِس میں نفاق کی ایک خصلت بھی پائی جائے، یہاں تک کہ وہ اُسے چھوڑ دے، تو پھر ہی وہ نفاق سے پاک ہو گا۔ اور وہ چار باتیں یہ ہیں کہ جب وہ گفتگو کرتا ہے، تو کذب بیانی سے کام لیتا ہے، یعنی اپنی باتوں میں جھوٹ ملا رہا ہوتا ہے۔ جب معاہدہ کرتا ہے تو غداری کا مرتکب ہوتا ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ بہت سارے لوگ خود جائزہ لیں کہ ہم کتنے معاہدے کرتے ہیں اور پھر اِن پر عمل نہیں کر رہے ہوتے، مقدمے چل رہے ہوتے ہیں۔ تیسری بات کہ جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔ یہ بھی جھوٹ کی قسم ہے۔ ایک تو پہلے معاہدے ہو گئے، جوتحریری معاہدے ہورہے ہوتے ہیں، کاروباری معاہدے ہو رہے ہوتے ہیں، تجارتوں میں ہوتے ہیں یا اَور بعض معاملات میں ہوتے ہیں اور بعض وعدے انسان کر رہا ہوتا ہے جو بظاہر معمولی ہوں لیکن بہت اہم ہیں۔ دونوں ہی ایسی چیزیں ہیں جو منافقت کی طرف لے جاتی ہیں۔ پھر فرمایا کہ جب جھگڑتا ہے تو گالی گلوچ سے کام لیتا ہے، چوتھی بات یہ ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ اِن ساری باتوں کا تعلق جھوٹ سے ہے۔ جھوٹا انسان ہی ہے جو اِس قسم کی حرکتیں کر رہا ہوتا ہے۔ پس

ہمیں باریک سے باریک باتوں میں سچائی کی تلاش کرنی چاہیے۔ باریک سے باریک رنگ میں سچائی کی تلاش کرنی چاہیے۔ پس ایک احمدی کو، ایک مومن کو، جس نے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کی ہے، اِس کو اِس طرف خاص توجہ دینی چاہیے کہ ہمیں کس قدر جھوٹ سے نفرت کرنی چاہیے، کیونکہ یہ ہمیں شرک کے قریب لے جارہا ہے۔

پھر بُرائیوں سے بچنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپؑ نے فرمایا کہ تب ہی تم حقیقی بیعت کرنے والے شمار ہو گے، جب بُرائیوں سے بچو گے، اور بُرائیوں میں سے ایک زنا ہے۔ اِس کے بارے میں کہ زنا کی تعریف کیا ہے، حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ زنا کے قریب مت جاؤ کہ یعنی ایسی تقریبوں سے دُور رہو جن سے دل میں یہ خیال بھی پیدا ہو سکتا ہو، اور اُن راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اِس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔ جو زنا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے، زنا کی راہ بہت بُری ہے یعنی منزلِ مقصود سے روکتی ہے۔ اور تمہاری آخری منزل کے لیے سخت خطرناک ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ پس یہ ایک معیار ہے، جسے انصار کو حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ ہمارے اندر کوئی بُرائی ہو گی،

انصار کی عمر کو پہنچنے والوں میں کوئی بُرائی ہوگی تو اگلی نسل میں بھی بُرائیاں پیدا ہوتی جائیں گی۔پس انصار کی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

گو ایک عمر کے بعد تو اِس طرح کے خیال نہیں آتے، لیکن چالیس سے ساٹھ سال تک کی عمر کے جو انصار ہیں وہ بعض دفعہ بعض بُرائیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ اِس لیے اُنہیں اپنی حالتوں کی طرف نظر رکھنی چاہیے۔ اور آجکل بہت سی شکایات آتی ہیں، لوگوں کی بیویوں کی طرف سے شکایات آتی ہیں کہ انصار کی عمر کو پہنچ چکے ہیں لیکن ٹی وی پروگراموں میں یا انٹرنیٹ پر ایسے غلط پروگرام دیکھتے ہیں جو بُرائیوں کی طرف لے جانے والے ہیں۔ جو ایک قسم کا زنا ہی ہے۔ پس اِس سے بھی بچنے کی ہر ایک کو کوشش کرنی چاہیے۔ اگر پانچ دس فیصد بھی ہمارے اندر ایسے لوگ ہیں، تو وہ بھی ایک بہت خطرناک نسبت ہے، جس سے ہمیں بچنا چاہیے۔

اِسی طرح بد نظری سے بچنے کا آپؑ نے فرمایا کہ بدنظری سے بھی بچنا چاہیے، یہ بھی تمہارے احمدی ہونے کے لیے ایک شرط ہے۔

پھر آپؑ نے ایک احمدی کے لیے یہ شرط بھی قرار دی کہ وہ فسق و فجور سے بچے گا اور فسق ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ آنحضرتؐ سے فسق کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپؐ نے فرمایا کہ فاسق دوزخی ہے۔ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہؐ! فسّاق کون لوگ ہیں؟ اِس پر آنحضرتؐ نے فرمایا کہ جو لوگ شکرگزاری نہیں کرتے، اور جب اِن پر آزمائش آتی ہے، صبر نہیں کرتے، وہ فاسق ہوتے ہیں۔ اِس میں آپؐ نے عورتوں کی مثالیں بھی دی ہیں۔ اب یہ بات عورتوں میں ہی نہیں بلکہ مرد بھی ایسے ہیں جو باتیں کرتے ہیں اور فاسق ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے یہ تنبیہ فرمائی کہ ظالم فاسق کی دعا قبول نہیں ہوا کرتی۔ کیوں؟ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے لاپروا ہے اور خدا تعالیٰ بھی اِس سے لا پروا ہے۔

پھر

ظلم سے بچنے کی طرف بھی آپؑ نے توجہ دلائی

کہ اگر میری بیعت میں شامل ہو رہے ہو تو ہر قسم کے ظلم سے بچو۔ حضرت مسیح موعودؑ نے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میری تمام جماعت اِس نصیحت کو توجہ سے سنے کہ وہ جو اِس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت و مریدی کا رکھتے ہیں، اِس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد، شرارت اور بد چلنی اُن کے نزدیک نہ آئے۔ وہ پنج وقت نماز باجماعت کے پابند ہوں، جھوٹ نہ بولیں، کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں، کسی قسم کی بدی کے مرتکب نہ ہوں اور کسی شرارت، ظلم، فساد اور فتنے کا خیال بھی دل میں نہ لائیں۔حضور انور نے فرمایا کہ اب یہ بہت بڑی بات ہے کہ خیال بھی دل میں نہ لائیں۔ غرض ہر ایک قسم کے معاصی، جرائم، ایسے جرائم جو ناکردنی اور ناگفتنی ہیں، جو کرنے اور کہنے کے بھی لائق نہیں، تمام نفسانی جذبات اور بے جا حرکات سے مجتنب رہیں۔ اور خدا تعالیٰ کے پاک دل، بے شر اور غریب مزاج بندے ہو جائیں۔ اور کوئی زہریلا خمیر اُن کے وجود میں نہ رہے۔

حضور انور نے اِس ارشاد کی روشنی میں توجہ دلائی کہ پس یہ ہر ایک کے لیے بہت سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ہم اِس زاویے سے اور اِس گہرائی سے اپنی حالت کو درست کرنے کے لیےسوچتے ہیں؟

احمدی ہونے کے لیے خیانت سے بچنا بھی ایک شرط ہے۔

ہم احمدی ہوئے، ہم نے بیعت بھی کی، خواہ نئے آنے والے ہوں یا پُرانے، ہم بیعت کرتے ہیں اور شرائطِ بیعت کے پابند رہنے کا عہد کرتے ہیں، اِن شرائط میں بہت ساری چیزیں ہیں، جنہیں ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ اِس میں ایک چیز یہ بھی ہے کہ خیانت نہیں کرنی۔

فساد سے بچنا بھی ایک احمدی کے لیے ضروری ہے،

اور آپ جو انصار کہلاتے ہیں، اِن کے لیے سب سے اوّل اِس بات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ آپ نے اصلاح کرنی ہے۔

آپ نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہم آپؑ کے انصار ہیں، یعنی حضرت مسیح موعودؑ کےمددگار ہیں، اور مددگار تو وہی ہو سکتا ہے، جو اُن سب باتوں پر عمل کرنے والا ہو جس کا اُنہوں نے عہد کیا ہے کہ ہم ہمیشہ مددگار رہیں گے۔

حضرت مسیح موعودؑ نے فساد سے بچنے کے لیے ایک جگہ فرمایا کہ دیکھو! مَیں اِس اَمر کے لیے مامور ہوں کہ تمہیں باربار ہدایت کروں کہ ہر قسم کے فساد اور ہنگاموں کی جگہوں سے بچتے رہو اور گالیاں سُن کر بھی صبر کرو، بدی کا جواب نیکی سے دو، اور کوئی فساد کرنے پر آمادہ ہو تو بہتر ہے کہ تم ایسی جگہ سے کھسک جاؤ۔ اور نرمی سے جواب دو۔

حضور انور نے توجہ دلائی کہ پس یہ نمونہ دکھانے کے لیے ضروری ہے کہ اِس سے سختی سے بچا جائے۔ اور اِس کے لیے ہمیں اپنے مخالفین کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے، صرف بچنا نہیں بلکہ دعا بھی ضروری ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ پھر ایک احمدی ہونے کے لیے اور خاص طور پر آپ انصاراللہ یا اُن احمدیوں کے لیے، جنہوں نے دنیا کی تربیت کرنی ہے اور اپنی نسلوں کی تربیت کرنی ہے، یہ بہت ضروری ہے کہ

ہر قسم کی بغاوت کے طریقوں سے بچا جائے۔

کسی قسم کی بغاوت ہماری فطرت یا ہمارے کاموں میں نہیں ہونی چاہیے۔ اطاعت کا جذبہ سب سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔ خواہ وہ جماعتی نظام کے اندر اطاعت کا جذبہ ہو یا حکومت کے قانون کی اطاعت کا معاملہ ہو، ہر صورت میں مکمل اطاعت ہونی چاہیے۔ حکومت کے اُن سب حکموں پر عمل کرنا جو شریعت سے ٹکراتے نہیں ہیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ نفسانی جوشوں سے مغلوب نہ ہونا بھی ایک بنیادی بات ہے

جس کو ایک احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور خاص طور پر آپ جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم مسیح موعودؑ کے مددگار ہیں، ہم انصاراللہ ہیں، آپ کو تو خاص طور پر اِن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے کہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے، جس سے نفسانی جوشوں کا اظہار ہو۔ دیکھیں، جائزہ لیں، کیا یہ معیار آپ کے اندر قائم ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ہمیں اِس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ پھر ایک بہت بڑی اور اہم چیز ایک احمدی کے لیے خاص طور پر یہ ہے کہ

پانچ وقت کی نمازیں اللہ تعالیٰ اور اُس کےرسول ؐ کے حکم کے مطابق ادا کرنی ہیں،

اِس کا ہم نے وعدہ کیا ہے کہ ہم بیعت میں آئے ہیں، تو ہم یہ کریں گے۔ اور ہم جو انصار ہیں، ہم تو خاص طور پر یہ کریں گے، کیونکہ ہم نے مددگار بننے کا اعلان کیا ہے تاکہ یہ پیغام دنیا کو پہنچا سکیں اور پھیلائیں اور اپنی اور اپنی نسلوں کی تربیت بھی کر سکیں۔

حضور انور نے اِس حوالے سے مزید توجہ دلائی کہ اِس طرح سے صرف پانچ نمازیں ہی نہیں بلکہ آپؑ نے فرمایا کہ

تہجد کی طرف بھی توجہ دو۔

حضور انور نے بیان کیا کہ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ نماز کو چھوڑنا انسان کو شرک اور کفر کےقریب کر دیتا ہے۔ پس دیکھ لیں، جائزہ لےلیں، بعضوں سے پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ جی چار نمازیں پڑھتے ہیں، پانچویں نماز نہیں پڑھی جاتی، میرے سامنے آ کر بھی یہ اعتراف کرتے ہیں۔ تو آنحضرتؐ نے فرمایا کہ جو نماز کو چھوڑتا ہے، وہ کفر اور شرک کے قریب ہو جاتا ہے۔

ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہم نمازیں چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے اور رسولؐ کے اِس اِنذار کی لپیٹ میں تو نہیں آ رہے؟ پس بہت خوف کا مقام ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ نے ہم سے کیا اُمیدیں رکھی ہیں اور آپؑ کیا ہم سے چاہتے ہیں، اِس حوالے سے آپؑ فرماتے ہیں کہ اَے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت میں شمار کرتے ہو، آسمان پر تم اُس وقت میری جماعت شمار کیے جاؤ گے، جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔ سو اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو۔ اور اپنے روزوں کو خدا کے لیے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے، وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہوچکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ یقیناً یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا، جو تقوٰی سے خالی ہو، ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے۔ جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔ پس اِس طرف ہمیں خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔

نماز کے بارے میں ہمیں آپؑ نے تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ نماز کیا چیز ہے، وہ دعا ہے، جو تسبیح اور تحمید اور تقدیس اور اِستغفار اور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے۔ سو! جب تم نماز پڑھو، تو بے خبر لوگوں کی طرح اپنی دعاؤں میں صرف عربی الفاظ کے پابند نہ رہو، کیونکہ اُن کی نماز اور اُن کا اِستغفار سب رسمیں ہیں، جن کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں۔ لیکن تم جب نماز پڑھو، تو بجز قرآن کے جو خدا کا کلام ہے، اور یہ ضرور پڑھنا چاہیے، اور بجر بعض ادعیہ ماثورہ کےجو رسول اللہؐ کا کلام ہے، باقی اپنی تمام عام دعاؤں میں اپنی زبان میں الفاظِ تضرعانہ ادا کر لیا کرو تاکہ تمہارے دلوں پر اِس عجز و نیاز کا کچھ اثر ہو۔

یہ عاجزی پیدا ہو گی، رقت پیدا ہو گی، تو تبھی دعاؤں کا مزا بھی آئے گا اور تبھی دعا بھی قبول ہو سکتی ہے۔

آپؑ نے نمازوں کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا اور انصاراللہ کو خاص طور پر اِس طرف توجہ دینی چاہیے کہ نماز ایسی شئے ہے کہ اِس کے ذریعے سے آسمان انسان پر جھک پڑتا ہے، نماز کا حق ادا کرنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ مَیں مَر گیا اور اُس کی روح گُداز ہو کر خدا کے آستانے پر گر پڑی ہے، جس گھر میں اِس قسم کی نماز ہو گی، وہ گھر کبھی تباہ نہیں ہو گا۔ حضورانور نے تاکید فرمائی کہ پس

خاص طور پر اِس طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ بعض انصار بھی نمازوں کی طرف توجہ نہیں دیتے کہ جس طرح دینی چاہیے۔

حضور انور نے اِس اَمر کا اعادہ فرمایا کہ پانچ وقت کی نمازوں کے ساتھ آپؑ نے نمازِ تہجد کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ میری بیعت میں آئے ہو، تو تہجد کی نماز کی طرف بھی توجہ کرو۔

اب جائزہ لیں کہ انصاراللہ کی عمر کو پہنچے ہوئے ہیں، کتنے لوگ ہیں، جو تہجد کی نماز پڑھتے ہیں؟ چالیس سال کے اوپر کے لوگوں کو تو خدا تعالیٰ کی یاد آنی چاہیے، اور اُنہیں کوشش کرنی چاہیے کہ تہجد پڑھیں۔

آنحضرتؐ کی حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں حضور انور نے تہجد کے روحانی و جسمانی فوائد کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ تہجد پڑھنے والا انسان گناہوں سے بھی رک جاتا ہے، یہ عادت نہ صرف بُرائیوں کو روکتی ہے، بلکہ اُن کو ختم بھی کر دیتی ہے۔ اور پھر انسان کو جسمانی بیماریوں سے بھی بچاتی ہے۔ ڈاکٹر بھی آجکل اِس بات کو ثابت کرتے ہیں اور مانتے ہیں کہ جو صبح جلدی اُٹھتے ہیں، تہجد کے لیے اُٹھتے ہیں، اُن میں دل کے حملے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ اور صبح کے وقت وہ نماز پڑھ کر پھر فجر کی نماز پڑھ کر جب ایکسرسائز وغیرہ کرتے ہیں، تو اِن کی صحت بہتر ہوتی ہے، عمر تو اللہ تعالیٰ نے جتنی دینی ہے انسان کو دینی ہے، لیکن کم از کم جو زندگی ہے، وہ صحت مند زندگی ہوتی ہے۔

حضور انور نے اِس بات پر زور دیا کہ پس اِس وقت کا اُٹھنا بھی ایک درد پیدا کر دیتا ہے، جس سے دعا میں رقت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیتِ دعا کا موجب ہو جاتے ہیں۔ نیکی کے راستوں پر چلنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے۔ پس انصاراللہ بننے کے لیے ضروری ہے کہ یہ طریقہ بھی اختیار کیا جائے۔

حضور انور نےمزید فرمایا کہ اِسی طرح

درود بھیجنے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے۔

اِس طرف مَیں نے خاص طور پر بھی توجہ دلائی ہوئی ہے۔ آجکل کے جو حالات دنیا کے ہیں، اِس کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور درود بھیجنے کی طرف خاص توجہ کریں۔ پس درود کی طرف خاص طور پر توجہ دیں۔ اِسی سے ہم اُن مشکل حالات سے بھی گزر سکتے ہیں، آجکل دنیا جن باتوں میں ڈوبی ہوئی ہے اور تباہی کی طرف جارہی ہے، اِس تباہی سے بچنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم درود پڑھیں، اور پھر دعائیں کریں، تو آنحضرتؐ کے ارشاد کے مطابق اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں سنے گا۔

حضور انور نے فرمایا کہ پھر

ایک احمدی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ باقاعدگی سے اِستغفار کرے،

مَیں نے اِس طرف بھی کئی مہینے پہلے توجہ دلائی تھی کہ ہمیں خاص طور پر اِس طرف توجہ دینی چاہیے، درود کے ساتھ اِستغفار بھی پڑھنا چاہیے۔ اور

انصار کو اِس کے لیے ایک نمونہ بننا چاہیے، بلکہ مہم چلانی چاہیے کہ نہ صرف انصار بلکہ گھروں میں بھی درود اور اِستغفار کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہو۔

حضور انور نے گناہوں سے پاک ہونے کے ضمن میں اِس بات کی اہمیت کو بھی اُجاگر فرمایا کہ پس اگر گناہ ہو بھی گئے ہوں اور انسان اِستغفار کر رہا ہو اور آئندہ عہد کرتا ہو کہ مَیں گناہ نہیں کروں گا، تو اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے اور گناہوں سے پاک کر دیتا ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ پھر

اللہ تعالیٰ کی حمد بھی ایک احمدی کے لیے بہت ضروری ہے

جس نے بیعت کا عہد کیا ہے، اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ یاد رکھے، آنحضرتؐ نے خاص طور پر اِس کی تاکید فرمائی ہے، آپؐ فرماتے ہیں کہ ہر اہم کام اگر خدا تعالیٰ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے تو وہ ناقص رہتا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر فرشتے بھی تمہاری تعریف کریں تو تم ماریں کھاؤ اور خوش رہو، گالیاں سنو اور شکر کرو، ناکامیاں دیکھو اور پیوند مت توڑو یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق نہ توڑو، تم خدا کی آخری جماعت ہو، سو! وہ عمل دکھلاؤ، جو اپنے کمال میں انتہائی درجے پر ہو۔ ہر ایک جو تم میں سست ہو جائے گا، وہ گندی چیز کی طرح جماعت سے باہر پھینک دیا جائے گا، اور حسرت سے مَرے گا اور خدا کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ دیکھو! مَیں بہت خوشی سے خبر دیتا ہوں کہ تمہارا خدا درحقیقت موجود ہے، اگرچہ سب اُس کی مخلوق ہے، لیکن وہ اُس شخص کو چُن لیتا ہے، جو اُس کو چُنتا ہے۔ وہ اُس کے پاس آ جاتا ہے، جو اُس کے پاس جاتا ہے، جو اُس کو عزت دیتا ہے، وہ اُس کو عزت دیتا ہے، تم اپنے دلوں کو سیدھا کر کے اور زبانوں اور آنکھوں اور کانوں کو پاک کر کے اُس کی طرف آ جاؤ کہ وہ تمہیں قبول کرے گا۔ آپؑ نے فرمایا کہ اِس کے لیے اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری بھی کرنی چاہیے اور اپنے ایمانوں کو قائم رکھنے لیے دعا بھی کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف اور حمد بھی کرنی چاہیے۔

حضور انور نے فرمایا کہ پھر ایک احمدی کے لیے، بیعت کرنے والے کے لیے، بیعت کا حق ادا کرنے والے کے لیے یہ ضروری ہے کہ

وہ مخلوق کی خدمت کرے اور اُن کو تکلیفوں سے بچائے۔

صرف یہ نہیں کہ تکلیف دی نہ جائے بلکہ تکلیفوں سے بچانا ضروری ہے۔ اور مسلمانوں کو خاص طور پر تکلیفوں سے بچانا چاہیے۔ آجکل دنیا کے جو حالات ہیں، خاص طور پر مسلمان دنیا کے، یہ بھی اِس بات کا تقاضا کرتے ہیں اور اُن کی ہمدردی یہ چاہتی ہے اور بیعت کی شرط بھی یہ تقاضا کر رہی ہے کہ ہم اُن کے لیے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اُن پر رحم کرے۔ اور یہ جو تکلیفوں میں مبتلا ہیں، اُن کو اللہ تعالیٰ تکلیفوں سے نکالے اور یہ راستی کی طرف چلنے والے ہوں اور زمانے کے امام کو ماننے والے ہوں تاکہ اِن کی دنیاوی تکلیفیں بھی ختم ہوں اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور بھی وہ سرخرو ہونے والے بن جائیں۔ پس اِس طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔ اور اِس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔

حضور انور نے فرمایا کہ پھر یہ بھی ایک بہت بڑاوصف ہے، اور اِس کا ہم عہد بھی کرتے ہیں کہ

ہم عاجزی اور انکساری اپنائیں گے۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ اے دوستو! اِس اصول کو محکم پکڑو۔ ہر ایک قوم کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔ نرمی سے عقل بڑھتی ہے اور بُردباری سے گہرے خیال پیدا ہوتے ہیں۔ اور جو شخص یہ طریق اختیار نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں، اگر کوئی ہماری جماعت میں سے مخالفوں کی گالیوں اور سخت گوئی پر صبر نہ کرے، تو اِس کا اختیار ہے کہ عدالت کی رُو سے چارہ جوئی کرے، مگر یہ مناسب نہیں کہ سختی کے مقابل سختی کر کے کسی مفسدہ کو پیدا کرے۔ یہ تو وہ وصیت ہے، جو ہم نے اپنی جماعت کو کر دی، اور ہم ایسے شخص سے بیزار ہیں اور اِس کو اپنی جماعت سے خارج کرتے ہیں، جو اِس پر عمل نہیں کرتا۔

حضور انور نے اِس حوالے سے توجہ دلائی کہ پس یہ بہت اہم چیز ہے۔ اور بعض لوگ تبلیغ کے بہانے مخالفین کے اعتراضوں پر جو غلط زبان استعمال کرتے ہیں، اِسی طرح کی زبان استعمال کر لیتے ہیں، جس طرح کی مخالفین کر رہے ہوتے ہیں۔ اِس سے بھی بچنا چاہیے۔ آپؑ نے اِس کی سختی سے مناہی فرمائی ہے۔ بعض لوگ جوش میں آ کر مجھے بھی لکھ دیتے ہیں کہ کیوں نہیں ہم سختی کا جواب سختی سے دیتے؟

حضور انور نے اِس بات پر زور دیا کہ ہمارا یہ کام نہیں ہے۔

ہمارا تو کام ہے کہ حکمت سے، دانائی سے، اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہوئے اِس کا جواب دیں۔ اور اِس طریق پر چلتے ہوئے جواب دیں اور اِس ہدایت پر چلتے ہوئے جواب دیں جو حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں فرمائی ہے۔ نہیں تو یہ کوئی تبلیغ نہیں ہے کہ گالیوں کا جواب گالیوں سے دیا جائے، ہماری طرف سے نرمی بھی ہونی چاہیے، عاجزی اور انکساری بھی ہونی چاہیے۔

حضور انور نے فرمایا کہ پھر

اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے اور کامل وفاداری

کی طرف بھی آپؑ نے توجہ دلائی، یہ بھی احمدی ہونے کے لیےایک شرط ہے، اور وفاداری کے ساتھ جب قائم رہیں گے اور ایمان مضبوط کریں گے، تو پھر اللہ تعالیٰ کے انعاموں کے بھی وارث بنیں گے۔

انواع رنج و مصیبت، دکھ، مصائب، امتحان اورسختی کے حالات سے دلگیر نہ ہونے کے حوالے سے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے ارشاد کی روشنی میں حضور انور نے تلقین فرمائی کہ بعض لوگ جو یہاں ہیں، اُن کے رشتے داروں کو، عزیزوں کو جو پاکستان میں ہیں یا دوسری جگہوں میں ہمارے احمدی ہیں، اُن کو تکلیفیں پہنچتی ہیں، آپؑ نے فرمایا کہ

اِن باتوں سے دلگیر مت ہو، اللہ تعالیٰ کے پلّو کو، دامن کو پکڑے رکھو تو ان شاء اللہ تعالیٰ کبھی ضائع نہیں ہو گے، یہ نصیحت پاکستان والوں کے لیے بھی اور یہ نصیحت آپ کے لیے بھی ہے۔

مزید برآں حضور انور نے فرمایا کہ پس انصاراللہ کا حق ادا کرنے کے لیے اِس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ آپؑ نے فرمایا کہ میرے قدموں پر چلنے کے لیے پھر اِن تکلیفوں میں سے گزرنا ہی پڑتا ہے، لیکن کامل وفا اور استقامت دکھاؤ گے، تو پھر کوئی تمہیں کچھ نہیں کہہ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اِس کا اجر دے گا۔ آپؑ نے فرمایا کہ ہمیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کریں۔ اور اِس کے لیے ضرورت ہے اخلاص کی، صدق و وفا کی، نہ یہ کہ قیل و قال تک ہی ہماری ہمت و کوشش محدود ہو۔ صرف ہماری باتیں نہ رہ جائیں، ہمیں وفا دکھانی پڑے گی، جب ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ بھی برکت دیتا ہے اور اپنے فیوض و برکات کے دروازے کھول دیتا ہے۔

بعد ازاں حضور انور نے فرمایا کہ پھر

ہَوا و ہَوس سے باز رہنے کی طرف بھی آپؑ نے توجہ دلائی

کہ یہ بھی ایک احمدی کے لیے ایک بنیادی شرط ہے، اگر تم نے بیعت کی ہے، تو اِس بات کو بھی اپنانا ہو گا کہ تم ہمیشہ اپنے آپ کو رسموں اور ہَوا و ہَوس سے باز رکھو گے۔ اور قرآنِ کریم کی حکومت کُلی طور پر اپنے اوپر قبول کرو گے۔ پس ہَوا و ہَوس سے رکنا ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ ہوائے نفس سے اپنے آپ کو روکنا، یہ ہی فنا فی اللہ ہے اور اِس سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کر کےاِسی جہان میں مقامِ جنت کو پہنچ سکتا ہے۔

حضور انور نے آخر پر تاکید فرمائی کہ پس

یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی حالتوں کو بہتر بنائیں، ہَوا و ہَوس سے اپنے آپ کو روکیں، آجکل دنیا کی جو خواہشات ہیں، ہَوا و ہَوس ہے، ماحول ہے، اِس نے تو اب بڑوں چھوٹوں ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، اِس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ اور انصاراللہ کو اِس کے لیے بنیادی کردار ادا کرنا ہو گا۔ دنیاوی خواہشات کی طرف نہ جائیں، بلکہ دین کو ہمیشہ مقدم رکھیں اور تقویٰ کے راستوں پر چلنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم یہ کریں گے تو ان شاء اللہ تعالیٰ ہم وہ لوگ ہو سکیں گے جو نہ صرف اپنی اصلاح کرنے والے ہوں گے بلکہ اپنی نسلوں کی بھی اصلاح کرنے والے ہوں گے بلکہ اِس سے بڑھ کر معاشرے اور دنیا کی بھی اصلاح کرنے والے ہوں گے۔

حضور انور نے اختتامی دعا سے قبل ارشاد فرمایا کہ یہ چند باتیں مَیں نے اختصار کے ساتھ بیان کی ہیں، بیعت کی شرائط میں اَور بھی بہت ساری باتیں ہیں جن کو سمجھنا اور عمل کرنا ضروری ہے۔

انصار کو خاص طور پر اِس کا وقتاً فوقتاً مطالعہ کرتےرہنا چاہیے، جُگالی کرتے رہنا چاہیے تاکہ اُن کو اپنی نسلوں کی تربیت کرنے میں آسانی رہے۔

اللہ تعالیٰ اِس کی توفیق عطا فرمائے اور ہر ناصر کو صحیح ناصر بننے کی توفیق دے اور

’نَحْنُ اَنْصَارُاللّٰہ‘ کا جو نعرہ لگاتے ہیں وہ حقیقت میں ایسا نعرہ ہو جو حضرت مسیح موعودؑ کے مشن کو پورا کرنے والے لوگوں کا نعرہ ہے اور اِس کے لیے ہر ناصر، مجلس انصاراللہ کا ہر ممبر جماعت کے لیے ایک مفید وجود بن جائے اور اپنی نسلوں کو سنبھالنے والا بھی ہو جائے تاکہ جماعت ترقی کی راہوں پر گامزن رہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اِس کی توفیق عطا فرمائے۔

حضور انور کا خطاب پانچ بج کر چالیس منٹ تک جاری رہا۔ بعد ازاں حضور انور نے دعا کروائی۔ دعا کے بعد حضورانور نے فرمایا کہ کینیڈا کے انصار کی حاضری تین ہزار ۸۳۹ ہے۔ پچھلے سال سے سات سو لوگ زیادہ شامل ہوئے ہیں۔

یوکے میں لجنہ اور ناصرات کی حاضری کے حوالے سے حضور نے اعلان فرمایا کہ ان کی حاضری آٹھ ہزار ۲۴۴ ہے۔

بعد ازاں پانچ بج کر ۴۳ منٹ پر حضور انور اجتماع گاہ سے تشریف لے گئے۔

رپورٹ صدر مجلس انصاراللہ

جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ حضور انور کے خطاب سے قبل صدر صاحب مجلس انصاراللہ برطانیہ نے اجتماع کی رپورٹ پیش کی۔یہ رپورٹ حسب ذیل ہے۔

پیارے حضور! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے آج ہم اس اجتماع کے اختتامی اجلاس میں موجود ہیں اور خاکسار حضور انور کی خدمت اقدس میں مختصر رپورٹ پیش کرنا چاہتاہے۔

اس اجتماع کا موضوع ’’یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ‘‘ (ایمان بالغیب) تھا۔ امسال کے اہم پروگرامز میں نمائش زون اور کیمپ فائر مشاعرہ تھا۔ صحت کی بنا پر شامل نہ ہونے والوں کے لیے آن لائن شمولیت کا انتظام تھا۔ امسال اجتماع کی حاضری ۳ہزار۶۴۸؍انصار اور ۲ ہزار۲۰۴ مہمانان سمیت ۵ہزار ۸۵۲؍رہی۔ ۵۳؍فیصد انصار اجتماع میں شامل ہوئے ہیں۔ خاکسار عکاشہ بدر صاحب ناظم اعلیٰ اور اجتماع کمیٹی کا شکرگزار ہے جنہوں نے پسِ پردہ بےانتہا مساعی کی۔ اسی طرح جماعت احمدیہ یوکے، مجلس خدام الاحمدیہ یوکے، جلسہ سالانہ یوکے اور ایم ٹی اے کی ٹیمز کا شکر گزار ہوں۔

سب سے بڑھ کر میں مجلس انصاراللہ کی جانب سے حضورانور کا شکر گزار ہوں کہ حضور انور کی موجودگی، دعائیں اور راہنمائی ہمارے شاملِ حال رہتی ہے۔ خاکسار حضورانور کی خدمت میں مجلس کے لیے دعا کی درخواست کرنا چاہتا ہے۔ نیز دعا کی درخواست ہے کہ ہم حقیقی طور پر صالح بندوں میں شامل ہو جائیں۔ جزاکم اللہ

ادارہ الفضل انٹرنیشنل محترم صدر صاحب مجلس انصاراللہ برطانیہ، انتظامیہ اجتماع اور ممبران مجلس انصاراللہ برطانیہ کو اس کامیاب اجتماع کی مبارک باد پیش کرتا ہے نیز دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام انصار کو حضور انور کی زرّیں نصائح پر کماحقہٗ عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 5؍ستمبر 2025ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button