حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ احمدیہ مسلم ویمن سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(AMWSA)کینیڈا کی طالبات کےایک وفد کی ملاقات

اپنی ایک خاص حیثیت بناؤ۔ اپنی identity کوestablish کرو، یہی اصل کام ہے، یہ کر لو گی تو تم ایکambassador بن جاؤ گی۔ کہتے ہیں کہ خلیفۂ وقت کی کس طرح پہچان کریں،
تو خلیفۂ وقت کی پہچان کروانے والے تم لوگ ہو، توپہلے خود سمجھو اور پھر خلیفہ ٔوقت کیambassador بنو اور جماعت کا یہ پیغام پہنچاؤ

مورخہ ۱۹؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ لجنہ اماء الله کینیڈا کے ایک سو سنتالیس (۱۴۷) رکنی وفد کو شرفِ ملاقات حاصل ہوا، جس میں احمدیہ مسلم ویمن سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(AMWSA) کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ۱۰۷؍طالبات، جبکہ دیگر شرکاء میں ارکینِ نیشنل مجلسِ عاملہ لجنہ اماء الله کینیڈا بھی شامل تھیں۔ یہ ملاقات ایوان مسرور ،اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے کینیڈا سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔ پھر صدر صاحبہ لجنہ اماء الله کینیڈا کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں اس وفد کا تعارف پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔

بعد ازاں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت اقدس میں اپنا تعارف اورمتفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

AMWSA کینیڈا کی جنرل سیکرٹری، جو کہ نیوروسائنس کی پانچویں سال کی طالبہ ہیں، نے عرض کیا کہ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ یونیورسٹیز میں لجنہ کی طالباتAMWSAمیں شامل ہونے سے کتراتی ہیں اور ہمارے پروگراموں میں کوئی خاص حاضری نہیں ہوتی۔ اس حوالے سے راہنمائی کی درخواست ہے کہ ہم کیسے اپنی بہنوں کواپنے پروگراموں میں شامل ہونے کی ترغیب دلا سکتی ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے جامع عملی راہنمائی عطا فرمائی کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے جو پروگرام ہوتے ہیں وہ اتنے attractiveنہیں ہوتے۔ AMWSA سٹوڈنٹس جو یونیورسٹیز میں ہیں، ان سے پوچھیں کہ کس قسم کے topicہمیںرکھنے چاہئیں۔ اور ان سٹوڈنٹس کی لسٹ آپ کے پاس ہے، ان میں سے ہر ایک کو ایک questionnaireبھیجیں کہ ہمارا یہ مقصد ہے، تو ہمیں کس طرح اس کو ایک پلیٹ فارم بنانا چاہیے، جہاں ہمارے سارے سٹوڈنٹس participate کریں اور actively ان میںinvolve ہوں۔ اس کے لیے آپ لوگ کیا suggest کرتے ہیں۔پھر انہیں کہیں کہ یہ یہ ہمارے پاس suggestions آئے ہیں، آؤ مل کے بیٹھیں اور ان کوdiscussکریں کہ کون سے ایسے ہیں جو واقعی practical ہیں کہ نہیں اور کون سے ایسے ہیں جن کو ہم improveکر سکتے ہیں یا بعض ایسے ہیں کہ ان کو اسی طرح رکھ کےmodifyکر سکتے ہیں۔

حضورِ انور نے ممبرات سے مشاورت اور ان کی دلچسپی کو مدّنظر رکھتے ہوئے اُن کے لیے علیحدہ علیحدہ گروپس تشکیل دینے کی اہمیت پر توجہ دلائی کہ پہلے اس طرح discussکریں بجائے اس کے کہ straight away آپ کہناشروع کر دیں کہ یہ دینی تعلیم ہے، ہمیں یہ ہونا چاہیے یا وہ ہونا چاہیے۔ ابھی نہیں، پہلے ان کو دیکھو کہ AMWSAکی ممبرز آ جائیں، پھران سے پوچھو، دیکھو اورassessکرو کہ ان میں سے کتنی ایسی ہیں جوreligious-mindedہیں، کتنی ایسی ہیں جن کو مذہب میں دلچسپی ہے، کتنی ایسی ہیں جومذہب کے لیے indifferentہیں اور ان کو پھر ہم کس طرح مذہب کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔ کیونکہ عموماً بہت ساری ایسی سٹوڈنٹ ہیں جن کو مذہب سے دلچسپی کوئی نہیں، نماز اس لیےپڑھتی ہیں کہ امّاں ابّا نے کہہ دیا کہ نماز پڑھو، اس لیےنماز پڑھتی ہیں کہ جماعت کے فنکشن میں آئی ہیں تو نماز پڑھ لو، ان کو یہ پتا ہی نہیں کہ نماز کی اہمیت کیا ہے، خدا تعالیٰ کیا ہے، تواس لیے ان کو پہلے تو اپنےقریب لاؤ، پھر جو ان کی religious knowledge ہے یاcapacity ہے یا potentialہے، اس کے مطابق ان کےعلیحدہ علیحدہ گروپ بناؤ اور ان گروپس میں ان کی discussions ہوں۔

مزید برآں حضورِ انور نے ممبرات کو قریب لانے کے حوالے سے گروپ ڈسکشن کی اہمیت کو بھی اُجاگر فرمایا کہ گروپ ڈسکشن بھی ہوتی ہے۔اب بہت سارے دنیامیں جو سیمینارز ہوتے ہیں، فنکشنز ہوتے ہیں یا میٹنگز ہوتی ہیں، اس میں ایک item انہوں نے سائیڈ میٹنگ رکھا ہوتا ہے۔ اس میں کیا ہوتا ہے کہ وہ مختلف گروپ بنا دیتے ہیں، پھر مختلف گروپ different topics پرdiscuss کر رہے ہوتے ہیں، تو آپ بھی اس طرح گروپ بنائیں کہ وہ discussکر رہے ہو ں۔جو مذہبی ہیں، ان کا ایک گروپ بنا دو، جن کوبالکل خالصتاً مذہب کا پتا ہی نہیں ہے، ان کا ایک گروپ بنا دو۔ جو زیادہ academic بننے کی کوشش کرتے ہیں، ویسے ہوتے تو کوئی نہیں، بننے کی کوشش کرتے ہیں، ان کو ایک گروپ بنا دو تاکہ پتا لگ جائے کہ ان کی کیا صلاحیتیں ہیں۔ تو اس طرح آہستہ آہستہ وہ قریب آئیں گی۔ جب قریب آئیں گی تو پھر ان سے suggestions بھی لیں کہ کس قسم کےtopic ایسے ہیںجو اگر ہم ایسے پلان بنائیں کہ جس میں ہم سیمینار بھی کر سکیں اور دوسروں کو attract بھی کرسکیں۔

حضورِ انور نے اعتماد سازی کے ضمن میں اس پہلو کی بھی نشاندہی فرمائی کہ پھر بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ صرف ایکcomplex ہوتا ہے۔ جب آپ ایسے پلان کریں کہ مختلف topics پربُلائیں اور دوسرے لوگ بھی آئیں، اور آپ کے topics ایسے ہوںجس کوappreciateکرنے والے ہوں تو اس سے اُن کا جو کمپلیکس ہے وہ دُور ہو جائے گا۔ تو اس طرح یہ پلان بنانے چاہئیں۔ اس لیے اس complexکی کوئی ضرورت نہیں، آپ نے ان کا complex دُور کرنا ہے۔

حضورِ انور نے خود اعتمادی پیدا کرنے کے سلسلے میں اپنی تقاریر کی تیاری پر مبنی واقعے کی روشنی میں عاجزی کا عملی سبق پیش فرمایا کہ مجھے کسی نے بتایا کہ آسٹریلیا میں مَیں گیا، تو ایک صاحب بڑا academic بننے کی کوشش کرتا تھا، lawپڑھ رہا تھا یا شاید اس نےlaw پڑھ لیا تھا۔ تو احمدی ہونے کے باوجود یہ حال تھا کہ اس نے میرے بارے میں کسی سے پوچھا کہ ان کی تقریریں کون لکھتا اورتیار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود ہی تیار کرتے ہیں، خود ہی لکھواتے ہیں یاdictate کروادیتے ہیں۔ اور ٹھیک بات بھی یہی ہے کہ عموماً مَیں dictateکرواتا ہوں۔ تواس نے کہا کہ نہیں نہیں! کسیexpertکو دکھانی چاہئیں کیونکہ باقی جتنے جتنے بڑے لوگ لیڈر ہیں،ان کے speechwriter ہوتے ہیں، ان سے لکھوانی چاہئیں تاکہ ذرا اچھی بیان ہوں۔ خیر! اس وقت توفنکشن ہو گیا، وہاں مَیں نے address کیا اور اسلام کی ٹیچنگ اورpeace اور سارا کچھ جو مَیں عموماً بیان کرتا ہوں، وہ بیان کیا۔اس کا ایک پروفیسر مشن میں موجود تھا، وہ بعد میں وہاں آیا، پاس ایک دوسرا احمدی بیٹھا ہوا تھا، تو وہ پروفیسراس سے پوچھنے لگا کہ ان کی تقریر کون لکھتا ہے؟ اس نے کہا کہ آپ خود ہی لکھتے ہیں۔ کہنے لگا کہ ایسی تقریر جس میں ہر پہلو کو انہوں نے اکٹھا کر کے اس طرح بیان کیا کہ ایک بڑا اچھا لیکچرر بھی اس طرح لیکچر نہیں تیار کرتا، تو وہ احمدی جوبے چارہ یہ کہہ رہا تھا کہ کسی سے تقریر لکھوانی چاہیے، وہ شرمندہ ہو گیا۔

حضورِ انور نے دینی شعور پیدا کرنے اور ذہنی یا سماجی احساسِ کمتری سے بچنے کی بابت تلقین فرمائی کہ اس لیےcomplex ہوتا ہے۔ شرمندگی کی کوئی بات نہیں۔ اگر ہم قرآن، حدیث،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنّت، اسلام کی تعلیم اورحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پر عمل کریں اور اس کے مطابق اس کو لوگوں کو سمجھانے کے لیے elaborate کرنے کی کوشش کریں تو وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اچھی چیز ہے۔ مگر ہمیں آپ خود سمجھ نہیں ہوتی، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اوہو! اگر ہم کہیں گے کہ ہم religious-mindedہیں، تو لوگ کہیں گے کہ backward ہیں۔ تو یہ complex دُور کرنا پڑے گا۔

آخر میں حضورِ انور نے سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں اس نصیحت کا اعادہ فرمایا کہ اس لیے ان سے اس بارے میں خود یہ suggestion لو۔

ایک بائیومیڈیکل انجینئرنگ اور ہیلتھ سائنسز کی طالبہ نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ کہا جاتا ہےکہ نماز کے دوران توجہ قائم رکھنے کے لیےانسان کو یہ تصوّر کرنا چاہیےکہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ پھر انسان کو ایسے درجے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں وہ یہ تصوّر بھی قائم کر سکے کہ وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کوئی جسمانی ہستی نہیں ہےتو انسان کو کس طرح اللہ کا تصوّر قائم کرنا چاہیے تا کہ وہ اس درجے کی توجہ حاصل کر سکے؟

اس پرحضور ِانور نے مفصّل راہنمائی عطا فرماتے ہوئے مختلف مثالوں کے ذریعے سمجھایا کہ بات یہ ہے کہ بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جو کہ موجود ہیں مگر نظر نہیں آتیں۔ مثلاً آپ کوہوا نظر آرہی ہے ؟ سانس لے رہی ہو، سمجھتی ہو کہ بغیر ہوا اَور آکسیجن کے مَیں زندہ نہیں رہ سکتی، بائیو میڈیکل سائنس پڑھ رہی ہو، تو کیا آکسیجن کے بغیر زندہ رہ سکتی ہو؟ کہاں ہے آکسیجن، نظر آ رہی ہے؟ مجھے تو نظر نہیں آرہی، لیکن پھر بھیbelieveکررہی ہوکہ ہے۔ یہاں اگرsuffocationہوتی ہے، تو باہر open air میں چلی جاتی ہو کہ شاید مجھے بہتر آکسیجن ملے، تو مَیں بہترfeel کروں گی۔ کوئی ایکسیڈنٹ ہوتا ہے، کوئی بندہcollapseہو جاتا ہے، توتم لوگ کہتے ہو کہ پرے ہٹ جاؤ اور اس کو ہوا آنے دو، کہاں ہے وہ ہوا جو آ رہی ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ ہر چیز نظر آنے والی نہیں ہوتی۔

قرآنی تعلیم کی روشنی میں حضورِ انور نے رؤیتِ الٰہی کے حقیقی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تو پہلے ہی قرآن شریفِ میں کہہ دیا ہے کہ تم میرے تک تو نہیں پہنچ سکتے، لیکن مَیں اپنے بندوں تک پہنچتا ہوں، وہ کس طرح پہنچتا ہے ؟ وہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک طریقہ رکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میری باتیں مانو، جو مَیں کہتا ہوں ان پر عمل کرو، میرے اتنے احکامات ہیں، ان پر عمل کرو، میری عبادت کرو اور اس کا حق ادا کرو۔ تو پھر مَیں تمہاری آنکھوں تک پہنچوں گا، تمہاری نظر تک مَیں پہنچوں گا، پھر مَیں نظر آؤں گا۔

حضورِ انور نے جہادِ نفس کے بغیر معرفتِ الٰہی کا حصول ناممکن قرار دیتے ہوئےفرمایا تو اس کے لیے پہلے کوشش کرنی پڑتی ہے۔آپ کو ہر کام کرنے کےلیے کوشش کرنی پڑتی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے بھی قرآنِ شریف میں یہی فرمایا ہے کہ تم نے میرے رستوں کو تلاش کرنا ہے، تو میرے رستوں کو تلاش کرنے کے لیے جہاد کرو، اب یہ دیکھیں کہ آپ نے جہاد کیا ہے؟ آپ میں سے بہت ساری ایسی ہیں، اگر فجر کی نمازmiss ہو جائے تو کہتی ہیں کہ کوئی بات نہیں باقی چار پڑھ لیں گی۔ ظہر عصر کی missہو جائے تو کہتی ہیں کہ کوئی بات نہیں، ہم دیکھیں گے شام کو اگر یاد رہا تو مغرب کے ساتھ جا کے پڑھ لیں گے۔ سردیوں کے دن آگئے ہیں، دن چھوٹے ہو گئے ہیں، تو وقت کوئی نہیں ہے۔ بس یا ٹرین پرہم بیٹھے ہیں تو ہمیں complex ہوتاہے کہ لوگ کہیں گے کہ بیٹھی نماز پڑھ رہی ہے۔ مگر وہاں تو ٹرین نہیں ہے۔ یہاں تو بسیں زیادہ چلتی ہیں یا خود ڈرائیو کر رہی ہیں، تو اس میں مسئلہ ہے اور جو وقت ہے، دن چھوٹے ہو گئے، تو اس میں کیا کریں؟ تو بجائے اس کے کہ کسیcorner پرکھڑے کر کے، کسی سروس اسٹیشن پر کھڑا کر کے یا اپنی یونیورسٹی میں یا کہیں کسی جگہ نماز پڑھیں،complex میں نماز نہیں پڑھتیں۔ تو جب ایسی باتیں ہوں تو اللہ میاں کہاں سے نظر آئے گا ؟

حضورِ انور نے ایمان بالغیب کے مفہوم کو نہایت پُرمغز انداز میں واضح فرماتے ہوئے وسیع نظامِ کائنات پر غور و فکر کرنے کی جانب توجہ مبذول کروائی کہ پہلے تو ایمان پیدا کرنا پڑتا ہے، یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ کا اللہ تعالیٰ نے پہلے حکم دیا ہے، پہلے یقین رکھو کہ مَیں ہوں اور یہ دیکھو کہ ہماری جو یہ ساری دنیا ہے، مختلفplanets ہیں یاuniverse ہے، اس میں یہ سارا systemکس طرح چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ شریف میں فرماتا ہے کہ دیکھو !یہ سارا system جو مَیں چلا رہا ہوں، یہ تمہاری وہ تمہاری بنائی ہوئی buildings یا walls کی طرح نہیں ہیں کہ تم pillars کھڑے کر کے اس کے اُوپر roof ڈالتے ہو۔ اللہ کہتا ہے کہ آسمان تمہارے سر پر ہے اور بغیر کسیsupport کے ایکsystemہے، وہ gravitational force کے تحت کھڑا ہے اور سارا system چل رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ توقرآنِ شریف میں یہ بھی فرماتا ہے کہ آگے بھی چل رہا ہے۔تو سائنس نے بتا دیا ہے کہ اس اپنے سائیکل میںmoveبھی کر رہا ہے اور اس کی آہستہ آہستہmovement بھی ہے، اتنیslow ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ جب ہو سکتا ہے کہ ذرا سا بھی فاصلہ disturb ہو جائے تو قیامت آ جاتی ہے۔

اسی تناظر میں حضورِ انور نے کائنات میں معمولی انسانی حیثیت کے شعور کے ذریعے اللہ کی عظمت اور نعمتوں کے شکر کی طرف مزید توجہ دلائی کہ ہماری حیثیت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ تم لوگ جو earth پررہنے والے ہو، تم سوچتے ہو کہ مَیں اللہ کی عبادت کس طرح کروں، اسی بات کو سوچ لو کہ اللہ تعالیٰ نے universe پیدا کیا اور اس طرح کے کئی universeپیدا کیے ہیں، جو ہماری galaxy ہے اس میں ہمار ی earth کی تو اتنی حیثیت بھی نہیں ہے کہ اس کو کوئی پہچان سکے۔ اب اگر galaxy کا map دیکھیں تو اس پر لکھا ہوتا ہےکہ Our earth is somewhere here مختلفdots نظر آتے ہیں، تو اتنی حیثیت میں اگر یہ سوچ ہو تو پھر اگلے آدمی کا خیال ہوتا ہے کہ ہاں! اللہ تعالیٰ مَیں تو اتنیminute سی چیز ہوں، مَیں ایک ایسی چیز ہوں، جس کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے، اس کے باوجود اللہ نے ہمیں اتنی چیزوں سے نوازا ہوا ہےاور اس بات کو سوچ کے پھر اللہ کا خیال بھی آتا ہے۔

حضورِ انور نے ہر کام اور ہر حال میں اللہ کو یاد رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تاکید فرمائی کہ صرف اللہ تعالیٰ سے یہ کہو کہ مَیں نے امتحان میں پاس ہونا ہےتو اس وقت نمازوں کا خیال آ جائے اور پانچ نمازیں پڑھنے لگ جاؤ، باقی دن چھوڑ دو یا رمضان میں تیس دن کے روزوں کا خیال آجائے تو روزے رکھ لیے اور پھر قرآنِ شریف پڑھنا بھی چھوڑ دیا، پھرقرآن کہاں اور مَیں کہاں اور اللہ کون؟ تو اس سے تو اللہ نظر نہیں آتا۔آپ پڑھائی کے لیے اپنی اپنی effortکر رہی ہیں، اس میں اگر آپ کوئی لیکچر miss کرتی ہیں یا ایک لیکچر کےپوری طرح نوٹس تیار نہیں کر پاتیں یا اس کی تیاری نہیں کر پا رہی ہوتیں، تو وہpaperآپ کا خراب ہو جاتا ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ اوہو! paper اچھا نہیں ہوا، seven questions مَیں نے attempt کرنے تھے اور مَیں نے سات میں سے صرف چھ کیے ہیں اور ایک رہ گیا ہے، ہو سکتا ہے کہ میراgrade نیچے ہو جائے اور اس کے اُوپر رونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہی ہوتا ہے۔ یا یہ question صحیح نہیں ہوا، اس پررونا شروع کر دیا، تو جب اللہ کو اس طرح دیکھو گی تو پھر سمجھ آئے گا کہ ہاں! اللہ ہے اور مَیں نے اس کے آگے رونا ہے۔ جب میں روؤں گی، تو حالات بدلیں گے اور اللہ تعالیٰ بدل دیتا ہے۔

آخر میں حضورِ انور نے اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے اور دعا کی حقیقی تاثیر کی اہمیت کو اِس طرح سے واضح فرمایا کہ کیونکہ میرے ساتھ تو یہی experience ہوا ہے، مَیں نے خود بھی تجربہ کیا ہوا ہے کہ جب مَیں سٹوڈنٹ تھا، میرا paper بہت خراب ہوا تو مَیں رویا اور نماز پڑھی۔ اور ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ مَیں پاس ہو گیا، وہ یونیورسٹی نے کوئی فیصلہ کر دیا کہ کیونکہpaper مشکل تھا، اس لیےان سب کو grace marks ملیں گے۔ مجھے grace marks مل گئے تو مَیں پاس ہو گیا، نہیں تو مَیں پاس نہ ہوتا۔تو یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نظر آتا ہے۔ یہ باتیں سامنے رکھو تو پھر اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ مَیں ہوں اور پھر جب اس طرح آدمی دعا کر رہا ہوتا ہے، پھر دعا کرنے کا مزہ بھی آتا ہے۔

ہیلتھ سائنسز اور نفسیات کی ایک طالبہ نے حضورِ انور سے دریافت کیا کہ وہ اپنے زمانۂ طالب علمی میں دباؤ اور پریشانی کے حالات سے کس طرح نبرد آزما ہوتے تھے؟

اس پرحضورِ انور نے اپنےمؤخّر الذکر جواب کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ جب کوئی بات غلط ہوجائے یا ذہنی دباؤ پیدا کرے، تو سب سے مؤثر حل اللہ کی طرف رجوع کرنا اور خلوصِ دل کے ساتھ دعا کرنا ہوتاہے۔ نیز اس بات پر زور دیا کہ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کی جائے۔ جب انسان خدا کی بارگاہ میں ایسی حالت میں دعا کرتا ہے کہ اس کے پاس کوئی اور امید نہیں رہتی، تو اللہ تعالیٰ اپنی بے پناہ رحمت سے اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔ حضورِ انور نے طالبہ کو اس مسلمہ اصول کی تصدیق کے طور پر اس کی سابقہ قبول شدہ دعاؤں کے تجربات بھی یاد دلائے۔ حضورِانور نے اس حقیقتِ حال کو بھی اُجاگر فرمایا کہ آجکل کے لوگ ماضی کی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ جلد جذباتی ہو کر دباؤ میں آجاتے ہیں، اس لیے روحانی اور جذباتی مضبوطی پیدا کرنا بھی اشد ضروری ہے۔

ایک طالبہ نے سوال کیا کہ ہم پیدائشی احمدی ہونے کے ناطے بچپن سے ہی یہ سیکھتے ہیں کہ خلافت کی بہت اہمیت ہے، لیکن یہ بات ہمیشہ وضاحت سے نہیں بتائی جاتی کہ کیوں؟ جب ہم بڑے ہوتے ہیں اور ہماری سمجھ بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے، تو ہم کس طرح خلافت کی اہمیت پر اپنے ایمان کو مزید مضبوط اور پختہ کر سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انورنے فرمایا کہ اگر صرف یہی بتایا جاتاہے کہKhilafat is important اور یہ نہیں بتایا جاتا کہ کیوں؟ تو پھر تمہارےparentsبھی غلط کرتے ہیں۔ ہرجو بھی آرگنائزیشن ہے، اس میں کوئی لیڈرشپ ہوتی ہے۔

دنیاوی لیڈر شپ کی مثال کے ذریعے حضورِ انور نے روحانی لیڈر شپ کی اہمیت کو واضح فرمایا کہ کسی بھی جگہ آپ کو assignmentsملتی ہیں یا آپ کو بہت دفعہ یونیورسٹی میں ایک ایسیassignmentملتی ہے، جو گروپ کی صورت میں ہوتی ہے، اس میں آپ کا ایک لیڈر بنا دیا جاتا ہے کہ discussکرو اور اس کا جو بھی outcome ہو یا جسconclusion پرپہنچو، اِس پر پھر اُس کی رپورٹ بنا کے تو لیڈر جا کے پیش کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خلافت کا نظام رکھا ہے۔ نبی کے بعد اس نظام کو چلانے کے لیے کوئیsuccessorچاہیے، نہیں تو ہر ایک اپنی اپنی مسجد بنا لے گا۔ جس طرح مسلمانوں میں اب دیکھو کہseventy two sects بن چکی ہیں، ہر school of thought نے اپنیjurisprudenceکے حساب سے، اپنے اپنے فقہ کے حساب سے، اپنے دین بنا لیے کہ کوئی حنفی ہے، کوئی مالکی ہے اور کوئی شیعہ ہے۔ اب ان میں بھی مختلف گروپس ہیں، شیعوں میں بھی کئی گروپس ہیں، سنیوں میں بھی کئی گروپس ہیں اور کوئی ایک لیڈر نہیں۔

نظامِ خلافت کی اہمیت کو مزید اُجاگر فرماتے ہوئے حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم جماعت سے وابستہ رہنا اور جماعت اس وقت ہوگی کہ جب تم اپنا ایک لیڈر بناؤ گے۔اور پھر یہ بھی بتایا کہ چودھویں صدی میں مسیح موعودؑ آئیں گے اور جب وہ claimکرے گا، تو اس کے بعد پھر خلافت کا نظام چلے گا تاکہ اسsystem کو جاری رکھے۔ خلافت کا جو systemآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے مسیح موعودؑ کو ملا اور مسیح موعود ؑنے اس کو furtherآگےelaborateکیا، بیان کیا اور پھیلایا۔ وہی مشن جو ہے، اس کو آگے چلانا ہے اور اس مشن کو چلانے کےلیے خلافت ہے اور خلافت کے لیے پھر ساتھ چلنے کے لیے ایک ٹیم اور ایکsystemہونا چاہیے، وہ سارا system جماعتِ احمدیہ میں تمہیں نظر آتا ہے، آج کل دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتا کہ ساری دنیا میں ایکsystem ہو۔

حضورِ انور نے خلافتِ احمدیہ کو دنیا بھر کے اتحاد اور مسائل کے حل کا واحد ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ مصر میں دین کا اپنا ایک نظام چل رہا ہے، الازہروالے اپنا کہتے ہیں، پاکستان میں سُنّیوں کی علیحدہ تنظیم ہے، ہندوستان میں سُنّیوں کی علیحدہ تنظیم ہے۔جو دنیا کے سارے سُنّی ہیں، ایک بہت بڑی تعداد میں ہیں، لیکن under one banner کوئی بھی نہیں ہے۔ صرف جماعتِ احمدیہ ایک خلافت کے تحت دنیا میں دو سو سے زیادہ ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ تو یہی خلافت کا مقصد ہے اور یہی اس کی importance ہے کہ آپ کو ایک لیڈرشپ ملی ہوئی ہے، جو آپ کو گائیڈ کرتی رہتی ہے، جو آپ دنیا کی خبریں لیتی ہے اور اس کے مطابق تربیت بھی کرتی رہتی ہے اور یہی مجھے بہت سارے لوگ خط بھی لکھتے ہیں۔

عالمی یکجہتی کے تناظر میں حضورِ انور نے برکاتِ خلافت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ آج مَیں ایک بات پرخطبہ دیتا ہوں کہ کینیڈا میں اگر کسی کے matrimonialمسائل ہیں، تو اس کو baseبنا کے مَیں کہتا ہوں کہ یہ یہ مسئلے پیدا ہو رہے ہیں، تو یو کے والے کہتے ہیں کہ ہاں! ہمارا بھی یہ مسئلہ ہے۔ ترکی میں ترکش لوگ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارا بھی یہ مسئلہ ہے، رشیا سےevenرشین لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے یہ مسئلے ہیں، آپ نے بتایا تو ہمارے مسائل حل ہو گئے۔ ساؤتھ امریکہ میں جاؤ، تو وہ کہتے ہیں کہ یہ سوال جواب جو آپ نے کیا اس سے ہمارا جواب بھی مل گیا اور مسئلہ حل ہو گیا۔ تو ایکunity ہے اور وہ کس لیے کہ under one banner خلافت کے تحت ہیں۔ [حضورِ انور نے اپنے دونوں دستِ مبارک کو باہم ملاتے ہوئے فرمایا کہ]یہی خلافت کا مقصد ہے کہ ہاتھ کو جوڑ کے رکھنا، اس کو سمجھ لو گے، تو ٹھیک رہو گے، نہیں تو ہر ایک کی اپنی اپنی ڈیڑھ اِنچ کی مسجد ہو گی اور کامیابی نہیں ہوگی۔

آخر میں حضورِ انور نے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے خلافت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کیوں مسلمانوں پر اتنے ظلم ہو رہے ہیں، آخر دنیا میں نائن بلین population ہے، اس میں almost two billion مسلمان ہیں اور countries ‘fifty four مسلمانوں کی ہیں اور پیسہ بھی ہے، دولت بھی ہے، تیل بھی ہے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کو مارا، کوئی کھڑا نہیں ہوا، کس لیے کہ کوئی گائیڈ نہیں تھا، راہنمائی کرنے والا نہیں تھا اور کوئی اُن کوprotect کرنے والا نہیں تھا۔ ہر ایک کے اپنے western interest تھے، تو ان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ تو اگر ایک بینر کے اندر ہوتے، تو یہ چیزیں پیدا نہ ہوتیں، یہی خلافت کا فائدہ ہے۔

نفسیات کی ایک طالبہ نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ رشتہ کے عمل میں عموماً لڑکی کے گھر والے پردہ یا حجاب میں تصویر بھیجتے ہیں، اکثر لڑکے والوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اس طرح لڑکی کی شخصیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے، اس لیے وہ بغیر حجاب کے تصویر کی درخواست کرتے ہیں۔ ایسے مواقع پر خاندان یہ سمجھ نہیں پاتے کہ کیا ایسی تصویر دینا درست ہے یا نہیں؟

اس پرحضورِ انور نے استفہامیہ انداز میں دریافت فرمایا کہ کیا انہوں نے شادی شکل سے کرنی ہے، اس کے اخلاق سے کرنی ہے، اس کی تعلیم سے کرنی ہے یا اس کے جسم کو دیکھ کے یا اس کے بالوں کو دیکھ کے رشتہ کرنا ہے؟

رشتہ طے کرتے وقت لڑکی کی شکل دیکھنے کی شرعی اہمیت کے حوالے سے حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ شکل ضرور دیکھنی چاہیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا تھا، بہت، سو دفعہ آپ یہ واقعہ سن چکے ہیں، ہر جگہ بیان بھی ہوتا ہے کہ وہ کہنے لگا کہ فلاں جگہ رشتہ کرنا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے لڑکی کو دیکھا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ وہ گیا اور اس نے جا کے اس کے والد کو باہر بُلایا اور کہا کہ اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تو مَیں رشتہ کرنا چاہتا ہوں، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ پہلے لڑکی کو دیکھ لو۔ اس وقت پردے کا حکم آ گیا تھا، والد ناراض ہوا کہ تم میری لڑکی کو دیکھنے والے کون ہوتے ہو، وہ اس طرح سے کوئی جانور ہے، جس کو مَیں تمہارے سامنے بیچنے کے لیے رکھوں گا۔ لڑکی یہ سُن رہی تھی، وہ فورا ًگھر کے دروازے سے باہر نکلی، پردے سے اپنا منہ دکھایا اور اس نے کہا کہ مجھے دیکھ لو، اگر تمہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے، تو کوئی انکار نہیں، میرا باپ غلط کہہ رہا ہے۔ اس لڑکے پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے نظر جھکا لی، وہ کہنے لگا کہ اتنی نیک لڑکی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مان رہی ہے، ِاس کی شکل دیکھنے کی مجھے ضرورت نہیں۔

نیز اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ پہلی بات تو یہ ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رشتوں کو دیکھنے کے لیے نیکی کو دیکھا کرو، نہ شکل دیکھو، نہ دولت دیکھو، نہ خاندان دیکھو، صرف دین دیکھو۔ اگر دین ہے اور اگر لڑکے اتنے نیک ہو جائیں تو پھر ٹھیک ہے۔

رشتہ طے کرنے میں کامل بصیرت اور تربیت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ جو لڑکے یہ کہتے ہیں کہ ہم نے دیکھا نہیں، پھر بعض دفعہ ایسے کیس میرے پاس آتے ہیں، وہ دیکھ لیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہاں ہاں! بڑا ٹھیک رشتہ ہے، پھر جب منگنی ہو جاتی ہے اس کے بعد جب پاکستان سے یا کسی اور ملک سے جا کے وہاں منگنی کر لی اور وہاں گئے تو اس کو کوئی اور بہتر شکل نظر آگئی، تو انہوں نے کہہ دیا کہ نہیں نہیں ! اس میں یہ نقص تھا وہ نقص تھا، لڑکیوں میں نقص نکالنے لگ جاتے ہیں۔ تو یہ کیا گارنٹی ہے کہ آپ کی پوری تصویر دیکھ کے وہ نقص نہیں نکالیں گے؟ ہاں! اگر شکل دیکھنے کے بعد اس طرف inclined ہیں کہ ہم نے رشتہ کرنا ہے تو پھر دعا کریں اور لڑکے کا یہی کام ہے، یہی جماعت کی تربیت اور نظام کا کام ہے، اس لیے رشتہ ناطہ کمیٹی بنائی ہوئی ہے کہ وہ لڑکوں اور لڑکیوں کی بھی counsellingکریں اور وہ دیکھیں اور پوری طرح تربیت کریں کہ نظام یہ ہے کہ اگرتجویز پسند آگئی تو پھر ٹھیک ہے کہ اس وقت لڑکے کی فیملی لڑکی کی فیملی کے گھرآئے، لڑکی سامنے بھی آ سکتی ہے، آپس میں بیٹھ کے بات بھی کر سکتے ہیں، کھانا بھی کھا سکتے ہیں۔ اس میں اس کے behaviour کا، کیریکٹر کا اور etiquettesکا سارا کچھ لڑکی کو بھی لڑکے کو بھی پتا لگ جائے گا کہ کون کیسا ہے۔

کردار اور رویّے کے امور کو رشتہ طے کرتے وقت مقدّم رکھنے کی بابت حضورِ انور نے تلقین فرمائی کہ اگر کوئی جانوروں کی طرح لڑکی کھانا کھا رہی ہے، تو لڑکا کہے گا کہ خداحافظ! اور لڑکا اگر جانوروں کی طرح حرکتیں کر رہا ہے تو لڑکی کہے گی کہ خدا کا واسطہ ہے کہ مَیں ایسی شادی نہیں کرتی۔ جو کیس سامنے آ رہے ہیں، اس سے پتا چلتا ہے کہ پردہ حجاب تو بعد کی بات ہے، عموماً تو یہی ہوتا ہے کہ لڑکیاں انکار کر دیتی ہیں اور لڑکی والوں کا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ لڑکے کی جاب اچھی ہے، اس کا گھر اپنا ہے یا اپنے ماں باپ کے ساتھ رہے گا، یہ دیکھتے نہیں کہ چھ مہینے یا سال اگر ماں باپ کے ساتھ رہنا پڑے تو کوئی ہرج نہیں۔ اسی طرح لڑکا کہتا ہے کہ اچھا زیور آئے گا، جہیز آئے گا، خاندان کیسا ہے، تو یہ باتیں سب بیوقوفوں والی باتیں ہیں۔

حضورِ انور نے رشتہ طے کرنے میں دعا اور اسلامی اصولوں کی پاسداری کو کامیابی کی کلید قرار دیتے ہوئے فرمایا تو دونوں کو دعا کر کے فیصلہ کرنا چاہیے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اصول بتایا ہےاس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ اگر یہ ہوگا تو بڑے کامیاب رشتے ہوں گے۔اگر نہیں! تو پھر دنیاداری ہے۔ تو پھر چاہے آپ چہرہ دکھا لیں یا بیٹھ کے دیکھ لیں، تو پھر آپ کاکیا خیال ہے کہ غیروں میں جو dating ہوتی ہے یا باہر پھرتے رہتے ہیں یا دوستیاں لگاتے رہتے ہیں، وہ شادیاں کامیاب ہوتی ہیں؟ کئی شادیاں ایسی ہیں، مجھ سے بھی لوگوں نے اجازت لی ہے، بعض احمدی لڑکیوں نے بھی کہا کہ فلاں لڑکا اچھا ہے، مسلمان ہے یا کوئی عیسائی ہے، تو احمدی ہونے کو تیار ہے، وہ رشتوں کی خاطر چلو تیار بھی ہو جاتے ہیں، لیکن کیا ہوتا ہے کہ چھ مہینے،سال یا دو سال کے بعد شادی ہو بھی جاتی ہے یا دو بچے پیدا ہو گئے، توتب separation ہو جاتی ہے، تو اس کا فائدہ کیا ہے اورایسی marriages میں separation اور طلاق کی percentage کہیں زیادہ ہے۔

آخر میں حضورِ انور نے اس اہم اور بنیادی اَمر کی جانب بھی توجہ دلائی کہ دعا کرو کہ نیک نصیب اللہ کرے اور سب کے نیک رشتے ہو جائیں اور نیک خاوند مل جائیں۔ نیک نصیب ہونے کی دعا کرنی چاہیے۔حضرت امّاں جان سیّدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ رضی الله عنہا بھی لڑکیوں کویہی نصیحت کرتی تھیں کہ اپنے نیک نصیب ہونے کی دعا چھ سات سال کی عمر میں شروع کر دیا کرو۔

نفسیات کی پہلے سال کی ایک طالبہ نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں مؤدبانہ گزارش کی کہ آپ اپنی یونیورسٹی کے زمانے کی پڑھائی کے کچھ مفید مشورے شیئر فرما دیں۔

اس پر حضورِ انور نے کمال عاجزی اور متانت کے ساتھ فرمایا کہ آپ نوجوانی میں خود اوسط سے کم درجے کے طالبعلم تھے، لیکن زندگی کے تجربے کی بنیاد پر حضورِ انورنے ایک نہایت گہری اور مؤثر نصیحت عطا فرمائی کہ تعلیمی کامیابی کی کلید یہ ہے کہ ایک دن کے لیکچرز کو اسی دن دوبارہ دُہرایا جائے، اس مواد کو باقاعدگی سے اور مسلسل دیکھنے سے مضبوط بنیاد تیار ہوتی ہے جس سے امتحانات کی تیاری آسان اور کم پریشان کُن ہو جاتی ہے۔

حضورِ انور نے طالبات کو تاکید فرمائی کہ اپنی زندگی کو منظّم معمولات کے ساتھ ترتیب دیں، جس میں فجر کی نماز کے لیے جلدی اُٹھنا، قرآنِ شریف کی تلاوت کرنا اور تازہ ہوا میں ہلکی پھلکی ورزش کرنا شامل ہے تاکہ دن بھر کے مطالعے کے لیے دماغ کوتر و تازہ بنایا جا سکے، جو لوگ پڑھائی میں باقاعدگی اور نظم و ضبط رکھتے ہیں وہ بہترین طالبعلم بن جاتے ہیں۔ آخر میں اس بات پر زور دیا کہ دعا اور نماز ہر معاملے میں ناگزیر ہیں، کیونکہ کامیابی دینے والا آخرکار اللہ ہی ہے۔

ایک طالبہ نے سوال کیا کہ مسجد میں بہت سے لوگ لڑکیوں کو تنقیدی نظروں سے دیکھتے ہیں اور ان کے پردے یا جسم کے بارے میں منفی تبصرے کرتے ہیں، ایسی صورت میں اگر کوئی ہمارے بارے میں اس طرح کے تبصرے کرے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نے دو ٹوک الفاظ میں تبصرہ فرمایا کہ پہلے تو یہ جو لوگ ایسی حرکتیں کرتے ہیں وہ بیہودہ ہیں۔ قرآنِ کریم نے اگر عورتوں کو پردے کا حکم دیا ہے، تواس سے پہلی آیت میں مردوں کو کہا ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو، بلا وجہ اپنی lustful eyes عورتوں کی طرف نہ رکھو یا اس قسم کی critical eyes نہ رکھو، جس سے کسی بھی حیثیت سے اُن کو تم کمتر دیکھ رہے ہو، کسی بھی صورت اور کسی بھی حالت میں لڑکی کو undermine نہیں کرنا چاہیے۔ یہ پہلے تو ان کےلیے سبق ہے کہ لوگ اپنی اصلاح کریں۔ دوسرے اگر آپ کا پردہ اور حجاب ٹھیک ہے، تو آپ کو پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

پردے اور حجاب کی شرعی ضرورت اور اس کے تاریخی پسِ منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ پردہ اور حجاب تو اس لیےرکھا تھا کہ یہودی یا غیر مسلم جو تھے، انہوں نے مسلمان عورتوں کا مذاق اڑانا شروع کیا تھا اور بعض دفعہ بعض ایسے incidents ہوئے کہ جس میں عورتوں کو بڑی شرمندگی اُٹھانی پڑی۔ اس کی وجہ سے پھر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں پردے کا حکم بھی اُتارا اور مسلمان عورتوں کو بھی کہا کہ تم لوگ پردہ کیا کرو تاکہ تمہاری ایک identity رہے۔

مزید برآں حضورِ انور نے اسلامی تعلیمات کے مطابق جسم کی زینت چھپانے اور پردے کی بابت عملی راہنمائی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں کہا کہ چادر اوڑھو اور اچھی طرح چادر اوڑھو کہ جو تمہارے سر کو بھی ڈھانکے تمہارے cheeks کو بھی ڈھانکے، تمہارے گلوں کو بھی ڈھانکے اور تمہارے جسم کو بھی ڈھانکے۔ وہ آج کل مشکل ہے، تو اس کا اس لیےsimpleطریقہ یہ نکالا ہے کہ ڈھیلا ڈھالا کوٹ انسان پہن لے اور سر کو حجاب سے ڈھانک لے، تاکہ ہاتھfree ہوں اور وہ کام کر سکے۔ تو اس کےلیے کسیcomplex میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔جو لوگ ایسا کرتے ہیں اور اِس طرح دیکھتے ہیں، اُن کا گناہ اُن کے سر، وہ اللہ تعالیٰ کو آپ ہی جوابدہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آتے ہیں۔ آپ لوگوں کو complex کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تم صحیح پردہ کر رہی ہو تو پھر ٹھیک ہے۔

پردے کے احکام پر حتّی الوسع عمل پیرا ہو نے کے ضمن میں توجہ دلاتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ باقی قرآنِ شریف میں تو یہی آیا ہے کہ پردے سے اپنے جسم کی زینت کو چھپاؤ، جو چیزیں ظاہر ہوتی ہیں ان کو تم مکمل تو چھپا نہیں سکتے، جس حد تکcover کر سکتے ہو وہیcoverکرنا ہے۔ ہاتھ، پاؤں، ناک یا جسم کے مختلف حصّے ہیں، تو ہر ایک کے جسم کی اپنی اپنی جسامت کے حساب سے، physique کے حساب سے، مختلف فیچرز کے حساب سے مختلف حالتیں ایسی ہوتی ہیں کہ بعض دفعہ نہیں چھپ سکتیں۔ تو اس پر اگر کوئی دیکھتا ہے، تو وہ غلط کرتا ہے، اِس لیےاللہ تعالیٰ نے مردوں کو کہا ہے کہ نظریں نیچی کرو، تو پھر مردوں کی اصلاح کرو۔

آخر میں حضورِ انور نے مردوں کی اصلاح کے حوالے سے اس بات پر زور دیا کہ تم لجنہ ایک move چلاؤ کہ اپنے گھروں سے مردوں کی اصلاح کرنی ہے۔ ہر ایک اپنے اپنے گھروں میں مردوں کی اصلاح کر لےتو قوم ٹھیک ہو جائے گی اور پھر عورتیں بھی ٹھیک ہو جائیں گی۔

اکنامکس اور فنانس کی ایک طالبہ نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ آج کل موسیقی کے concerts میں جانا بہت عام ہو گیا ہے۔اس بارے میں پیارے حضور کی کیا راہنمائی ہے؟

اس پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اتنا ویلہ وقت ہے سٹوڈنٹس کے پاس کہ میوزک concerts میں جانا ہے۔اتنا فارغ وقت ہوتا ہے؟پڑھنے کے بعد وقت مل جاتا ہے یونیورسٹی سے آ کے اور کام کر کے کہ concerts جو ہوتے ہیں کہ ان میں چلے جاؤ؟ اور وہاں کیا ہوتا ہے، ہا ہُو، وہ تو کان پھٹتے ہیں، شور شرابا ہی ہوتا ہے اورvolume اتنا اونچی کر کےلگایا ہوتا ہے کہ آدمی جب واپس آتا ہےتو میرا خیال ہے کہ دو دن تو اس کے کانوں میں آوازیں آتی ہوں گی، کیونکہ جس طرح ٹی وی پر دکھا رہے ہوتے ہیں وہ تو کان پھاڑنے والی باتیں ہوتی ہیں۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ ’’ویلہ‘‘ پنجابی زبان کا لفظ ہے جو اُردو میں فارغ یا بےکار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ عموماً اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی شخص کے پاس کوئی کام نہ ہو یا وہ اپنا وقت بے مقصد ضائع کر رہا ہو۔]

حضورِ انور نے اپنا فارغ وقت کسی تعمیری اور مفیدکام میں صَرف کرنے کی بابت نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے کوئی constructive کام کرنا چاہیے۔ فنانس اور اکنامکس پڑھنے والے کو تو ویسے ہی یہ چیزیں فضولیات لگتی ہیں۔ ان کو وقت ہی نہیں ملتا۔ وہ تو اپنے حساب کتاب میں بھی زیادہ مصروف ہوتا ہے۔اسے creative mind ہونا چاہیے کہ مَیں نے کیا کیا پیدا کرنا ہے، کس طرح موجودہ economyکو بہتر کرنا ہے اور کس طرح مَیں یہ کر سکتا ہوں، کس assignmentکو مَیں نے کس طرح لکھنا ہے اور اس کو کس طرح میں نے کرنا ہے۔ سو یہ ساری چیزیں اگر کرنے کا وقت ہے،سنجیدگی سے کرو، تو کانسرٹ وغیرہ کے اُوپر جانے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ پہلے ہیconcerts جو ہیں، بعض لوگ وہاں کھڑے ہو کے ڈانس بھی شروع کر دیتے ہیں، پھر تم کہو گی کہ چلو ہم بھی ڈانس کر لیں۔

آخر میں حضورِ انور نے مذکورہ نصائح کی روشنی میں متنبّہ فرمایا کہ یہ ساری چیزیں غلط ہیں۔ ایسی چیزیں جس سے بُرائی پھیلنے کا خیال ہو اس سے رُکنا بہتر ہوتا ہے۔ اور بہتر یہی ہے کہ رُک جاؤتو تمہارے مستقبل کےلیے بہتر ہوگا۔

بعد ازاں حضورِ انور نے بعض لجنہ ممبرات سے ازراہِ شفقت گفتگو بھی فرمائی اور انہیں نمازوں کی اہمیت کے بارے میں خصوصی تلقین بھی فرمائی۔

دورانِ گفتگوایک لجنہ ممبر نے حضورِ انور کے دریافت فرمانے پر عرض کیا کہ وہ اَکاؤنٹنگ پڑھ رہی ہے۔ اس پر حضورِ انور نے ازراہِ شفقت فرمایا کہ اچھا! ماشاء اللہ، بیچلرز کر رہی ہو، پھر ماسٹرز کروگی؟ اثبات میں جواب سماعت فرمانے کے بعد حضورِ انور نے مزید دریافت کیا کہ پھر کیا کرو گی، اپنی اکاؤنٹنگ فرم کھولو گی؟ جس پر موصوفہ نے ان شاء الله کے دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے اپنے مصمم ارادے کا اظہارکیا۔ جس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ اچھا، ماشاءالله! تمہارے بڑے ambitions ہیں۔

پھر حضورِ انور نے شاملینِ مجلس سےمخاطب ہوتے ہوئے دریافت فرمایا کہ یہاں آ کر کسی کو کوئی فائدہ بھی ہوا ہے یا وقت ضائع ہوا ہے، کس کا یہاں وقت ضائع ہوا ہے؟سب کا نفی میں جواب سماعت فرمانے کے بعد حضورِ انور نے پُر شفقت انداز میں فرمایا کہ اچھا! کسی کا وقت ضائع نہیں ہوا اَور ساروں کو فائدہ ہوا ہے۔ پھر حضورِ انور نے فرمایا کہ باتیں کرنے کا اتنا ہی وقت ہے، اب ظہر کی نماز پڑھیں،یہاں آتے ہیں تو نمازیں پڑھنی پڑتی ہیں۔یہی ہمارا اصل کام ہے۔

ملاقات کے اختتامی لمحات میں حضورِ انور نے طالبات کو انتہائی پُرمغز اور زرّیں نصائح سے نوازتے ہوئے فرمایا کہ اس کام کو پکڑ لو، اللہ تعالیٰ کو پکڑ لو، تو باقی نمازوں میں بھی اور پڑھائیوں میں بھی مزے آنے لگ جائیں گے۔تمہاری identity ہونی چاہیے کہ ایک احمدی کی حیثیت سے ہم کیا ہیں اور کس طرح ہم نے اسلام اور احمدیت کے پیغام کو دنیا میں پہنچانا ہے۔ جو سٹوڈنٹس پڑھی لکھی ہیں، وہ اپنے اپنے سرکل میں اپنے کیریکٹر سے اور اپنی ایک خاص identity سے پیغام پہنچائیں اور بتائیں، تاکہ دنیا آپ کی طرف attract ہوکہ پڑھنے لکھنے کے باوجود کہ کسی نے سی اے کیا ہے، کسی نے میڈیسن کی ہے، کسی نے لاء کیا ہے اور مختلف برانچز ہیں لاء کی ہیں، کوئی انجنیئر بن رہی ہے، کوئی ٹیچر ہے، ہر ایک احمدی لڑکی ایک خاص حیثیت رکھتی ہے۔

حضورِ انور نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ بس اپنی ایک خاص حیثیت بناؤ۔ اپنی identity کوestablish کرو، یہی اصل کام ہے، یہ کر لو گی تو تم ایکambassador بن جاؤ گی۔ کہتے ہیں کہ خلیفۂ وقت کی کس طرح پہچان کریں، تو خلیفۂ وقت کی پہچان کروانے والے تم لوگ ہو، توپہلے خود سمجھو اور پھر خلیفہ ٔوقت کیambassador بنو اور جماعت کا یہ پیغام پہنچاؤ۔

ملاقات کے اختتام پر حضورِ انور نے وفد کے قیام و طعام کے انتظامات کے بارے میں دریافت فرمایا اور ازراہِ شفقت تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب امام کے دستِ مبارک سے قلم کا تحفہ بطورِ تبرک حاصل کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی، حضورِ انور نے ان دعائیہ کلمات کے ساتھ اس نشست کا اختتام فرمایا کہ چلوجی، اللہ حافظ! اور یوں یہ ملاقات بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ناصرات الاحمدیہ اور واقفاتِ نَو کے ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button