اللہ تعالیٰ سے رشتہ کے لئے خیر طلب کرو
اگر اس بات کو لڑکے بھی اور لڑکے کے گھر والے بھی سامنے رکھنے لگ جائیں تو لڑکیاں اور لڑکی کے گھر والے اپنی ترجیح جو ہے وہ دین کر لیں گے اور جب دین ترجیح ہو گی تو بہت سے شکوے اور تحفظات جو لڑکی اور لڑکے اور اس کے گھر والوں کے بارے میں، ایک دوسرے کے بارے میں پیدا ہوتے ہیں وہ دور ہو جائیں گے۔ اور جو لڑکا دیندار لڑکی کی تلاش میں ہو گا اور دین مقدم کر رہا ہو گا اس کو پھر اپنا عمل بھی دینی تعلیم کے مطابق ڈھالنا پڑے گا۔ اور جو دینی تعلیم پر عمل کر رہا ہو گا اس کے گھر میں بلا وجہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر فتنہ اور فساد پیدا نہیں ہو رہا ہو گا اور نہ ہی لڑکے کے گھر والے لڑکی کے لئے مشکلات پیدا کرنے والے ہوں گے۔
پھر اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ دین دیکھنا بیشک ترجیح ہے لیکن بعض دفعہ ہر جوڑ ہر ایک کے لئے مناسب نہیں ہوتا۔ اس لئے رشتوں سے پہلے استخارہ کر لیا کرو۔ (صحیح البخاری کتاب الدعوات باب الدعاء عند الاستخارۃ حدیث 6382)
اللہ تعالیٰ سے رشتہ کے لئے خیر طلب کرو۔ یا پھر یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس رشتے میں خیر نہیں ہے تو اس میں روک پیدا فرما دے۔ اس بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے ایک موقع پر بڑے خوبصورت انداز میں فرمایا کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا ہی احسان فرمایا ہے کہ ہم کو ایسی راہ بتائی ہے کہ ہم اگر اس پر عمل کریں تو ان شاء اللہ نکاح ضرور سُکھ کا موجب ہو گا اور جو غرض اور مقصود قرآن مجید میں نکاح سے بتایا گیا ہے کہ وہ تسکین اور مودّت کا باعث ہو، وہ پیدا ہوتی ہے۔‘‘ (شادی بیاہ اس لئے کیا جاتا ہے تا کہ ایک دوسرے کے لئے تسکین ہو اور اس امر کا باعث ہوتا ہے کہ آپس میں پیار اور محبت پیدا ہو۔) فرمایا کہ ’’سب سے پہلی تدبیر یہ بتائی کہ نکاح کی غرض ذَاتِ الدِّیْن ہو۔‘‘ (پہلے ذکر ہو چکا دین کو تلاش کرنا ہے۔) ’’حسن و جمال کی فریفتگی یا مال و دولت کا حصول یا محض اعلیٰ حسب ونسب اس کے محرکات نہ ہوں۔ پہلے نیت نیک ہو۔ پھر اس کے بعد دوسرا کام یہ ہے کہ نکاح سے پہلے بہت استخارہ کرو۔‘‘ (خطباتِ نور صفحہ 518-519 خطبہ فرمودہ 25 دسمبر 1911ء)
پس رشتے سے پہلے جب بندہ دعا میں اللہ تعالیٰ سے تسکین اور محبت سے زندگی گزارنے کی دعا کرے اور یہ دعا کرے کہ اگر اس میں میرے لئے تسکین ہے اور خیر ہے تو یہ رشتہ ہو جائے اور شادی ہو جائے تو پھر شادی شدہ زندگی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی کامیاب گزرتی ہے لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ شادی کے بعد بھی شیطان مختلف ذریعوں سے حملے کرتا رہتا ہے۔ اس لئے یہ دعا ہمیشہ کرتے رہنا چاہئے کہ شادی ہمیشہ سکون اور محبت اور پیار سے گزرے۔
پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے مزید استخارے کی اہمیت بتائی ہے۔ ایک موقع پر اس کی نصیحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ’’بڑے بڑے کاموں میں سے نکاح بھی ایک کام ہے۔‘‘ (ایک چھوٹا کام نہیں ہے۔ بڑے بڑے کاموں میں سے ایک کام ہے۔) ’’اکثر لوگوں کا یہی خیال ہوتا ہے کہ بڑی قوم کا انسان ہو۔ حسب نسب میں اعلیٰ ہو۔ مال اس کے پاس بہت ہو۔ حکومت اور جلال ہو۔ خوبصورت اور جوان ہو۔ مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کوشش کیا کرو کہ دیندار انسان مل جاوے‘‘ (چاہے وہ لڑکی ہے یا لڑکا ہے۔) ’’اور چونکہ حقیقی علم، اخلاق، عادات اور دیانتداری سے آگاہ ہونا مشکل کام ہے۔ جلدی سے پتا نہیں لگ سکتا۔‘‘ (بعض رشتے ٹوٹتے ہیں تو وہ یہی کہتے ہیں کہ ہم نے بظاہر یہ دیکھ کر رشتہ کر لیا کہ دیندار ہے، اچھے اخلاق ہیں، سب کچھ ہے لیکن بعد میں پتا لگا سب کچھ غلط تھا۔ کیونکہ یہ پتا نہیں لگ سکتا) ’’اس لئے فرمایا کہ استخارہ ضرور کر لیا کرو۔‘‘ (خطباتِ نور صفحہ 254 خطبہ فرمودہ 13 ستمبر 1907ء)
(خطبہ جمعہ ۳؍مارچ ۲۰۱۷ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۴؍مارچ ۲۰۱۷ء)
مزید پڑھیں: مسیح موعودکا روحانی خزائن بانٹنا




