اکرا(Accra)، گھانا میں نئے ریجنل ہیڈکوارٹر، مشن ہاؤس اور نئی تعمیرشدہ عظیم الشان ریجنل مسجدآدم پر مشتمل تین منزلہ عمارت کا افتتاح
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ گھانا کو مورخہ ۱۶؍نومبر ۲۰۲۵ء بروز اتوار اشالے بوچے (Ashaley Botwe)نیو ٹاؤن روڈ، ایڈنٹا مدینہ، گریٹر اکرا ریجن میں ریجنل ہیڈکوارٹر، مشن ہاؤس اور ریجنل مسجد ’’مسجد آدم‘‘پر مشتمل تین منزلہ عظیم الشان عمارت کے افتتاح کی بابرکت سعادت حاصل ہوئی۔ یہ مقام احمدیہ مسلم مشن اکرا سے ۲۰؍کلومیٹر جبکہ بستان احمد (وہاب آدم سٹوڈیو) سے ۸؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

مسجد کا اندرونی احاطہ ۴۵× ۲۹ فٹ ہے جس میں تینوں منازل پر بیک وقت ۶۰۰؍سے زائد افراد نماز پڑھ سکتے ہیں۔ ہر منزل ایئرکنڈیشنڈ ہے اور ایم ٹی اے دیکھنے کے لیے بڑے LEDٹی وی نصب کیے گئے ہیں۔ عمارت میں نماز ہال برائے احباب و خواتین، کانفرنس ہال، لجنہ ہال، دفتر مجلس خدام الاحمدیہ، علیحدہ وضو و غسل خانے، گیسٹ ہاؤس، ریجنل مبلغ کی رہائش گاہ اور ۳۰؍KVA جنریٹر روم شامل ہیں۔
مسجد کو سفید، سنہرے اور نیلے رنگ سے مزین کیا گیا ہے جبکہ عربی رسم الخط میں قرآنی آیات کی خطاطی نے اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ منارۃ المسیح، قادیان کے طرز پر ایک بلند منارہ بھی تعمیر کیا گیا ہے جو دور سے نمایاں نظر آتا ہے۔

مورخہ ۱۶؍نومبر ۲۰۲۵ء کو افتتاحی تقریب کا آغاز صبح ساڑھے دس بجے مکرم امیر و مبلغ انچارج گھانا مولانا نور محمد بن صالح صاحب کی تشریف آوری سے ہوا۔ اکرا اور سینٹرل ریجن سے سینکڑوں مرد و خواتین شامل ہوئے۔ تلاوت قرآن کریم، مقامی زبان میں نغمات احمدیت اور حضرت مسیح موعودؑ کے ایک قصیدہ کے بعد افتتاحی کلمات مکرم مولوی مسرور احمد صاحب مظفر ریجنل مبلغ نے پیش کیے جن میں دعوت الیٰ اللہ، ذکر الٰہی اور مجالس ذکر کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
الحاج کوفی آدم یامواہ ریجنل صدر گریٹر اکرا ریجن، نے مسجد آدم کی تعمیر کی تاریخ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ۲۰۰۵ء میں زمین خریدی گئی، ۲۰۱۹ء میں مسجد و مشن ہاؤس کی تعمیر کا فیصلہ ہوا، ۲۰۲۰ء میں نقشوں کی منظوری ملی اور ۲۰۲۳ء میں سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس منصوبے پر ۳۰؍لاکھ سے زائد امریکی ڈالر لاگت آئی۔ انہوں نے مالی قربانی میں مرحومہ اہلیہ، اہل خانہ اور عزیزوں کی خدمات کا بھی ذکر کیا۔

تقریب میں دینی، سماجی اور سیاسی شخصیات نے خیرسگالی کے پیغامات پیش کیے جن میں نیشنل چیف امام کے نمائندہ امام علی صاحب، ڈاکٹر اسارے، مقامی چیف نانا کوبینا امپونسا اور دیگر شامل تھے۔ شرکائے تقریب نے مسجد کو امن، اتحاد، مذہبی رواداری اور روحانی تربیت کا مرکز قرار دیا۔
مکرم امیر صاحب گھانا نے اپنی تقریر میں تعمیر مساجد کے روحانی، معاشرتی اور معاشی اثرات بیان کیے اور ابراہیمی دعاؤں کی قبولیت کا ذکر کیا۔ آپ نے مسجد تعمیر کرنے والوں کے لیے اجر عظیم اور پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم کے خاتمے کے لیے خصوصی دعا کی درخواست کی۔ مزید کہا کہ مساجد کی تعمیر اور خدمت دین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہر احمدی کا فرض ہے۔
آخر پر مکرم امیر صاحب نے بتایا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ازراہ شفقت اس مسجد کا نام ’مسجد آدم‘ رکھا ہے۔ اجتماعی دعا کے بعد فیتہ کاٹ کر مسجد اور مشن ہاؤس کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ بعدازاں نماز ظہر و عصر باجماعت ادا کی گئیں اور حاضرین کے لیے طعام و ریفریشمنٹ کا اہتمام تھا۔ تقریب سہ پہر تین بجے اختتام پذیر ہوئی جو بلاشبہ ایک بابرکت اور روحانی طور پر مؤثر پروگرام تھا۔
اللہ تعالیٰ اس مسجد کو پورے گھانا میں امن، محبت، تبلیغ اور ہدایت کا مرکز بنائے۔ آمین
(رپورٹ: احمد طاہر مرزا۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
مزید پڑھیں: کونگو کنشاسا کے ریجن Kikwit میں Mangai میں مسجد بیت الکریم کا افتتاح




