حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

وقف جدید کی مالی قربانی کے ایمان افروز واقعات

(انتخاب از خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۳؍جنوری ۲۰۲۵ء)

تنزانیہ میں ایک دوست ابراہیم صاحب ہیں۔ وہ کہتے ہیں، جب مجھے چندے کی برکت کا علم ہوا تو میں نے ہر ماہ ایک مخصوص حصہ مالی قربانی کے لیے مقرر کر دیا اور اس کی برکت سے میرے کام میں اضافہ ہوتا رہا۔ اللہ تعالیٰ میرے رزق میں اضافہ کرتا رہا۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ چندے کے لیے معلم نے مجھے کہا تو میرے پاس کچھ رقم تھی جو میں نے ایک کام کے لیے رکھی ہوئی تھی۔ کاروبار تھا اس کے لیے وہ رقم رکھی ہوئی تھی لیکن تحریک ہونے پر میں نے وہ چندے میں دے دی اور اگلے دن فون کر کے اس مال بیچنے والے کو، جس سے میں نے خریدنا تھا میں نے کہا کہ میرے پاس اب پیسے نہیں ہیں اس لیے میں تمہارے سے مال نہیں اٹھا سکوں گا جو میں نے لینا تھا۔ اس پر اس نے مجھے کہا کہ کوئی بات نہیں تمہارا مال جو تم نے لینا تھا اس کی آدھی رقم تو ادا ہو چکی ہے اور باقی پیسے تم بعد میں دے دینا۔ کہتے ہیں مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ یہ آدھی رقم کہاں سے ادا کی۔کس نے ادا کی، آج تک مجھے یہ راز سمجھ نہیں آیا۔ تو اللہ تعالیٰ کبھی اس طرح بھی مدد کر دیتا ہے کہ پتہ ہی نہیں لگتا۔ بعضوں کو اللہ تعالیٰ نے مالی قربانیاں کرنے سے نوکریاں دلوا دیں۔

چیک ریپبلک سے ایک خادم بتاتے ہیں۔ وہاں چیک ریپبلک کے لوکل آدمی ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ مجھے مالی قربانی کا فلسفہ سمجھا رہا ہے۔ کہتے ہیں مجھے مالی قربانی کی بدولت ایک نئی روحانی زندگی عطا ہوئی ہے۔ میں اپنے ساتھی طلبہ کو دیکھتا ہوں وہ پریشانیوں میں گرفتار ہیں لیکن میں بڑے سکون میں ہوں۔ جہاں ہر ایک پیسے جمع کرنے میں مصروف ہے وہاں خدا کے فضل سے میری عادت یہ بن چکی ہے کہ جو بھی پیسہ ہاتھ میں آتا ہے وہ خدا کی راہ میں قربان کر دیتا ہوں۔ میرے دوست کہتے ہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے مگر میرا خدا گواہ ہے کہ میری زندگی اس سے وابستہ ہے۔ کہتے ہیں میں اپنی فیلڈ میں نوکری کی تلاش میں تھا، مشکل پیش آ رہی تھی۔ خدا کے فضل سے چندے کی برکت سے وہ دور ہو گئی۔ رہائش نہیں تھی، اللہ تعالیٰ نے رہائش کا انتظام فرما دیا۔ کہتے ہیں کہ پہلے میری جیب ہر وقت خالی رہتی تھی لیکن اب میری جیب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر وقت بھری رہتی ہے۔ چندے بھی دیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ پھر کہیں سے بھر دیتا ہے۔

انڈیا سے وہاں کے ایک انسپکٹر صاحب لکھتے ہیں۔ ایک دوست ہیں ان کا وقف جدید کا چندہ چوبیس ہزار تھا۔ چند دن رہ گئے تھے انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ رقم ہے لیکن ایک اہم کام میں مَیں نے یہ رقم دینی ہے۔ تو انہیں میں نے کہا کہ یہ وقفِ جدید کے سال کا آخر ہے۔ آپ دیکھ لیں جو بھی آپ مناسب سمجھتے ہیں کہ ابھی دینی ہے یا بعد میں دینی ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ اللہ پر توکل کرتا ہوں اور رقم چندے کی ادائیگی میں دے دی۔ دوسرے دن ہی موصوف کا فون آیا کہ کاروبار کی ایک بہت بڑی رقم کہیں پھنسی ہوئی تھی وہ اچانک مل گئی ہے اور پوری رقم تو نہیں ملی لیکن اس میں سے پچاس ہزار مل گئے ہیں اور باقی کا بھی دینے والے نے وعدہ کیا ہے کہ جلدی دے دوں گا۔ تو دیکھیں اللہ تعالیٰ نے ان کو کہا کہ اچھا تم میری خاطر مال کی محبت کو چھوڑ رہے ہو اور ذاتی ضروریات کو چھوڑ رہے ہو، جماعتی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہو تو میں تمہاری مدد کرتا ہوں تو اس طرح اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے۔

جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ جو اخراجات ہو رہے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جس طرح فرمایا کہ کوئی دنیا میں نبی نہیں گزرا جس نے جماعتی نظام کو چلانے کے لیے مالی تحریک نہ کی ہو۔ جماعت احمدیہ میں بھی جماعتی نظام کو چلانے کے لیے تحریکات کرنی پڑتی ہیں۔ تحریکِ جدید اور وقفِ جدید کے جو چندے ہیں وہی خالصةً مرکز میں آتے ہیں باقی تو مقامی ملکوں میں ہی خرچ ہو جاتا ہے لیکن افریقن ممالک میں اتنے لوگ امیر نہیں ہیں باوجود اس کے وہ چندہ دیتے ہیں لیکن اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ ہمارے دنیا میں جتنے مشن ہاؤس ہیں، مساجد ہیں جو چل رہی ہیں۔ افریقہ میں اس وقت 7 ہزار 953 مساجد بن چکی ہیں اور 306 مساجد زیر تعمیر ہیں اور اسی طرح ہر سال درجنوں مساجد کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ 1860مشن ہاؤس چل رہے ہیں۔ کچھ کرائے پہ بھی ہیں، کچھ اپنے ہیں۔ مرکزی مبلغین چار سو کی تعداد میں ہیں جو وہاں کام کر رہے ہیں۔ دو ہزار سے زیادہ معلمین کام کر رہے ہیں۔

پھر قادیان ہے، پھر ساؤتھ امریکہ کے ملکوں میں، جزائر میں مرکز سے خرچ کیا جاتا ہے وہاں ان کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ مشن کے اخراجات پورے کرنے کے لیے running expenditure بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

لٹریچر کی تقسیم کے لیے اخراجات ہیں۔ لٹریچر بھی بعض دفعہ یہاں سے بھجوایا جاتا ہے۔ بڑی کتابوں کے علاوہ اکثر ان میں سے بھی بہت ساری کتابیں مفت تقسیم ہوتی ہیں، چھوٹا لٹریچر تو مفت ہوتا ہے۔ کچھ لٹریچر کی وہاں اشاعت بھی ہوتی ہے ۔ تو یہ ساری رقمیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے خرچ کے لیے دیتا چلا جاتا ہے۔ بعض دفعہ سمجھ نہیں آتی کہ اتنے وسیع پروگرام ہیں، اتنے اخراجات ہو رہے ہیں اور آمد تھوڑی ہے۔ اب تحریکِ جدید اور وقفِ جدید کے چندے کو اگر ملا لیں جو خالصةً مرکز میں آتا ہے تو وہ تقریباً تیس اکتیس ملین پاؤنڈ بنتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی یہ خرچ ہورہا ہے۔ 106ممالک کے مشنز کو جو سالانہ گرانٹ دی جا رہی ہے وہی تقریباً اس کے برابر ہے۔

پھر جامعات ہیں، ان میں کئی ملین خرچ ہوتے ہیں، ان کی گرانٹ دی جاتی ہے۔ ایم ٹی اے ہے، اس پر کئی ملین خرچ ہوتے ہیں۔ پھر مرکز کے اخراجات ہیں تو یہ خرچے اللہ تعالیٰ اس طرح پورے کرتا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ کس طرح پورے کر رہا ہے۔

بعض دفعہ یہ خیال آتا ہے کہ شاید بہت زیادہ اخراجات ہیں،کس طرح پورے ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اخراجات پورے کرتا چلا جاتا ہے اور اس میں کبھی کمی نہیں آنے دیتا۔ یہ مشن اللہ تعالیٰ کے فضل سے جاری ہیں۔ ان پہ کام ہو رہے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا تھا کہ مال تو میں تجھے دوں گا اور وہ مال اللہ تعالیٰ دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ جماعت کو اس کو صحیح مَصرف میں لانے کی بھی توفیق ہمیشہ دیتا رہے، صحیح خرچ کرنے کی توفیق دے اور اس میں کبھی کسی قسم کی بےقاعدگی نہ ہو۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’تمہارے لیے ممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔ صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔ پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے۔ اور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔ پس جو شخص خدا کے لیے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا لیکن جو شخص مال سے محبت کر کے خدا کی راہ میں وہ خدمت بجا نہیں لاتا جو بجا لانی چاہیے تو وہ ضرور اس مال کو کھوئے گا۔ یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجا لا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کے لیے بلاتا ہے۔ اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تم سب کے سب مجھے چھوڑ دو اور خدمت اور امداد سے پہلو تہی کرو تو وہ ایک قوم پیدا کر دے گا کہ اس کی خدمت بجا لائے گی۔ تم یقیناً سمجھو کہ یہ کام آسمان سے ہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لیے ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ تم دل میں تکبر کرو اور یہ خیال کرو کہ ہم خدمت مالی یا کسی قسم کی خدمت کرتے ہیں۔ میں بار بار تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تمہاری خدمتوں کا ذرا محتاج نہیں۔ ہاں تم پر یہ اس کا فضل ہے کہ تم کو خدمت کا موقعہ دیتا ہے۔‘‘(مجموعہ اشتہارات جلد3صفحہ497-498)

مزید پڑھیں: وقف جدید کی مالی قربانی کے ایمان افروز واقعات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button