حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

تقویٰ کے معانی اور حصولِ تقویٰ کی راہیں

(انتخاب از خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۹؍مارچ ۲۰۰۴ء)

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ (سورۃ الحجرات آیت۱۴)

اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا لفظ قرآن کریم میں اتنی بار استعمال کیا ہے کہ اس کی کوئی انتہا نہیں اور شاید ہی کوئی اور لفظ اتنی بار استعمال ہوا ہو۔ مختلف پیرایوں اور مختلف شکلوں میں اس کے بارے میں توجہ دلائی گئی ہے۔ بلکہ ایک مسلمان جب شادی کے بندھن میں بندھتا ہے تو اس وقت نکاح کے خطبہ میں پانچ دفعہ تقویٰ کے بارہ میں ذکر آتا ہے۔ تقویٰ کی اہمیت کا اسی بات سے اندازہ کر لیں۔ کیونکہ شادی میں مرد اور عورت ایک نئی زندگی کا آغاز کر رہے ہوتے ہیں اور نہ صرف مرد اور عورت ایک معاہدہ کر رہے ہوتے ہیں بلکہ دو خاندان آپس میں ایک تعلق پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر تقویٰ نہ ہو تو معاشرے میں ایک فساد پیدا ہو جائے۔ پھر ایک مسلمان عورت اور مرد کے ایک تعلق میں بندھنے کے نتیجہ میں نئے وجودوں کی آمد ہوتی ہے۔ اگر ایک مسلمان میاں بیوی تقویٰ پر قائم نہیں رہیں گے تو آنے والی نسل کے متقی ہونے کی کوئی ضمانت نہیں۔ تو خلاصہ یہ کہ تقویٰ ایک ایسی بنیادی چیز ہے جس کے بغیر خداتعالیٰ کے ملنے اور اس سے زندہ تعلق جوڑنے کا تصور ہی غلط ہے۔ آج اسی بارے میں چند باتیں کہوں گا۔

یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے لوگو! یقینا ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ یقینا اللہ دائمی علم رکھنے والا اور ہمیشہ باخبر ہے۔

تو اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا کہ تمہاری چھوٹے قبیلوں یا بڑے قبیلوں میں جو تقسیم ہے یہ صرف تمہاری پہچان کے لئے ہے۔ اب دیکھ لیں یہاں افریقہ میں آپ کے ملک کی طرح چھوٹے چھوٹے علاقوں کے چیف ہیں اور پھر کئی چیف کسی بڑے چیف کے ماتحت ہیں۔ اور پھر یہ سب مل کر ملکی سطح پر ایک قوم ہیں۔ اسی طرح دنیا کے تمام ممالک میں بھی اس طرح کی تقسیم ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جو تقسیم ہے اس کو اپنی بڑائی کی علامت نہ سمجھو۔ تمہاری بڑائی بڑا قبیلہ ہونے یا زیادہ امیر ملک ہونے سے نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہی شخص ہے وہی قبیلہ یا وہی قوم ہے جو تقویٰ میں سب سے آگے ہے اور یاد رکھیں کہ تقویٰ کا معیار اپنی نیکیوں کے اظہار سے نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو ہماری ہر حرکت اور فعل سے باخبر بھی ہے اور اس کا علم بھی رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو سب علم ہے کہ کون سا فعل دکھاوے کی خاطر کیا گیا ہے اور کون سا فعل اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے کیا گیا ہے۔

تقویٰ کے مختصراً معنی بتاتا ہوں۔ تقویٰ کا مطلب ہے نفس کو خطرے سے محفوظ کرنا اور شرعی اصطلاح میں تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ نفس کو ہر اس چیز سے بچانا جو انسان کو گناہگار بنا دے۔ اور یہ تب ہوتا ہے جب ممنوعہ اشیاء سے بچا جائے بلکہ اس کے لئے بعض اوقات جائز چیزوں کو بھی چھوڑنا پڑتا ہے۔ مثلاً رمضان میں پاک اور جائز چیزوں سے بھی مومن اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے رک جاتا ہے۔ تو بہرحال اصل تقویٰ یہ ہے کہ اپنے آپ کو ہر اس چیز سے بچانا جو گناہوں کی طرف لے جائے۔ اور یہ ہر مسلمان کے لئے فرض ہے چاہے وہ کسی قوم کا ہو۔ اللہ تعالیٰ یہ نہیں پوچھے گا کہ تم فلاں قوم کے ہو جو امیر ہے اس لئے تمہیں کچھ چھوٹ دی جاتی ہے۔ یا تم فلاں قوم کے ہو جو ترقی یافتہ نہیں اس لئے چھوٹ دی جاتی ہے۔ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے یہ عذر قابل قبول نہیں ہوں گے۔ اس لئے ہر ایک کو اپنے آپ کو ہر برائی سے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اور ہر نیکی کو بجا لانے کے لئے تمام تر صلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہئے۔ تبھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم امام الزمان کی جماعت میں شامل ہیں۔ یاد رکھیں کہ تمام بری باتوں سے اس وقت بچا جا سکتا ہے جب دل میں خداتعالیٰ کی خشیت ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ایساخوف ہو جس سے اس کی محبت بھی ظاہر ہوتی ہو۔ اور یہ باتیں تب ملتی ہیں جب اس کے آگے جھکا جائے، اس سے مانگا جائے۔ یہ دعا کی جائے کہ اے خدا! میں تیری محبت میں وہ تمام باتیں چھوڑنا چاہتا ہوں جن کے چھوڑنے کا توُ نے حکم دیا ہے۔ اور وہ تمام باتیں اختیار کرنا چاہتا ہوں جن کے کرنے کا توُ نے حکم دیا ہے۔ لیکن تیرا قرب پانے کے لئے بھی تیرا فضل ہونا ضروری ہے۔ اے اللہ! اپنے فضل سے مجھے تقویٰ عطا فرما۔

اگر نمازوں میں رو رو کر اپنے رب سے مانگیں گے تو اپنے وعدوں کے مطابق ضرور ہماری دعائیں سنے گا۔ پس سب سے پہلے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اپنی نمازوں کو، اپنی دعاؤں کو، اس کے لئے خالص کرنا ہو گا۔ اور یہی بنیادی چیز ہے۔ اگر نمازوں میں ذوق اور سکون میسر آ گیا تو سمجھیں سب کچھ مل گیا۔ نمازوں میں خاص طور پر یہ دعا کریں جو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے۔ حدیثوں میں آتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے اَللّٰھُمَّ آتِ نَفْسِیْ تَقْوٰھَا وَزَکِّھَا وَاَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکّٰھَا۔ اے اللہ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا کر اور اس کو خوب پاک صاف کر دے، اور تُو ہی سب سے بہتر ہے جو اس کو پاک کر سکے۔ (دل بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی پاک صاف ہو سکتا ہے)۔ (صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء)۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دلوں کو پاک کرنے کی توفیق دے۔

دلوں کو اللہ تعالیٰ کے نور سے بھرنے کے لئے، یہ دیکھنے کے لئے کہ کون سی باتیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور کونسی باتیں ہیں جن کے کرنے کا خداتعالیٰ نے حکم عطا فرمایا ہے ہمیں قرآن شریف سیکھنا اور پڑھنا چاہئے۔ جن کو قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہے وہ دوسروں کو سکھائیں۔ قرآن کریم کے درس کوروزانہ جماعتوں میں رواج دیں، چاہے چند منٹ کا ہی ہو تاکہ جو خود پڑھ اور سمجھ نہیں سکتے ان تک بھی یہ خوبصورت تعلیم و ضاحت کے ساتھ پہنچ جائے۔ تلاوت قرآن کریم تو بہرحال ہر احمدی کو روزانہ ضرور کرنی چاہئے تاکہ قرآن کریم کی برکات نازل ہوں اور دل تقویٰ سے بھرتے چلے جائیں۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو یہ بھی فرمایا ہے اگر کوئی شخص مومن نہ بھی ہواور صرف انصاف سے کام لے کر قرآن دیکھے نہ کہ جہالت، حسد اور بخل سے تو یہ بھی تقویٰ کی ابتدائی شکل ہے تو اگر کوئی شخص انصاف سے قرآن شریف پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کو نور ہدایت دے دیتا ہے۔ تو جو ایمان لے آئے ہیں اور تقویٰ کی نظر سے قرآن کریم پڑھتے ہیں ان کے لئے کس طرح ہو سکتا ہے کہ قرآن کریم ہدایت نہ دے اور تقویٰ پر نہ چلائے۔ اگر ایک ایمان لانے والے کے دل میں قرآن کریم پڑھ کر اور سن کر نور ہدایت کا جوش پیدا نہیں ہوتا تو پھر اس کو فکر کرنی چاہئے کہ تقویٰ میں کہیں کمی رہ رہی ہے۔ یہ سوچنا چاہئے کہ ہماری بڑائیاں اور ہماری خود پسندیاں ہمیں اصل تعلیم سے دور لے جا رہی ہیں اور ہم میں تقویٰ نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے تو یہ کہہ دیا ہے کہ اس میں متقیوں کے لئے ہدایت ہے۔ اگر ہم قرآن کریم کے حکموں پر عمل نہیں کر رہے تو یہ ہماری غلطی ہے اور ہمارے لئے یہ فکر کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ہمیں اجر دینے کا وعدہ بھی کرتا ہے بشرطیکہ ہم اس کی تعلیم کے مطابق ہدایت پر قائم ہوں اور نیکیاں بجالانے والے ہوں جیسا کہ وہ فرماتا ہےوَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّکْفَرُوْہُ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالْمُتَّقِیْنَ(آل عمران : ۱۱۶)اور جو نیکی بھی وہ کریں گے تو ہرگز ان سے اس کے بارے میں ناشکری کا سلوک نہیں کیا جائے گا اور اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے تقویٰ پر قائم رہنے اور نیکیاں بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہم اس کے ہر اس انعام سے حصہ لینے والے ہوں جو اس کے نزدیک ہمارے لئے بہترین ہے۔

مزید پڑھیں: وقف جدید کی مالی قربانی کے ایمان افروز واقعات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button