بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط ۱۰۵)

(مرتبہ:ظہیر احمد خان۔انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

٭… نشوز کی حتمی صورت میں بیوی کو بدنی سزا دینے کے بارے میں راہنمائی۔

٭…حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے حضرت موسیٰ کا معراج قرار دیا ہے، اس کا حوالہ بھجوانے نیزFive Volume Commentaryکے بارے میں مرسلہ نگار کا اپنے خیالات کا اظہار اور راہنمائی کی درخواست۔

٭…جب عورتیں اپنی باجماعت نماز پڑھیں تو کیا کوئی عورت اقامت کہے گی، نیز جن نمازوں میں اونچی آوازمیں تلاوت ہوتی ہے، ان میں عورت امام اونچی آواز میں تلاوت کرے گی؟

٭…سورۃ النساء کی آیت ۱۳۶ میں جو گواہی دینے کا ذکر ہے، وہ کس کو گواہی دینے کے بارے میں ہے۔ اور جو اسلام کا پردہ پوشی کا حکم ہے، کیا وہ اس آیت کے حکم کے خلاف نہیں ہو گا؟

سوال: نشوز کی حتمی صورت میں بیوی کو بدنی سزا دینے کے بارہ میں ایک سوال پر حضور انور کے جواب کے حوالے سے مراکش سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں لکھا کہ آنحضورﷺ سے جب آپ کی بیویوں نے اخراجات بڑھانے کا مطالبہ کیا تو آپؐ نے انہیں زدوکوب نہیں کیا۔اسی طرح آپ ﷺنے کبھی کسی عورت یا خادم یا کسی بھی شخص پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ قرآن کریم میں جو ضرب کا لفظ آیا ہے اس کے عربی میں کئی معانی ہیں۔ یہ کہنا کہ مغرب میں رہنے والے مرد عورتوں کو نہ ماریں کیونکہ یہاں کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ایسی صورت میں تو پھر عورتیں یورپ کے قانون کو اس قرآنی حکم پر ترجیح دیں گی۔اس بارے میں راہنمائی کی درخواست ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۰؍نومبر۲۰۲۳ء میں ان امور کے بارہ میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: یہ ٹھیک ہے کہ حضورﷺنے کبھی اپنی کسی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔لیکن دوسری طرف یہ بات بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ آپ کی ازواج تقویٰ اور دینداری میں جس مقام پرفائز تھیں، وہ کبھی نشوز کی مرتکب نہیں ہوئیں۔ازواج مطہرات نے دنیاوی مال و متاع کے متعلق جو مطالبہ کیا تھا، اس پر حضورﷺنے جس طرح ناراضگی کا اظہار فرمایا،ازواج مطہرات نے آپ کی اس ناراضگی سے نصیحت حاصل کر کے اپنے دنیاوی مطالبات کو ترک کر کے حضورﷺکے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔پس جب پہلے مرحلہ پر ہی آپ کی ازواج نے اپنی غلطی تسلیم کر کے اپنی اصلاح کر لی تو پھر آپ انہیں بلاوجہ زدو کوب کیوں کرتے؟قرآن کریم میں بدنی سزا کا مرحلہ تو تیسرے نمبر پر آتا ہے، پہلے دو مرحلوں میں تو نصیحت اور بستر الگ کرنے کا حکم ہے۔ جس کی تفصیل میں اپنے پہلے خط میں آپ کو لکھ چکا ہوں۔

پھر آپ نے لکھا ہے کہ حضورﷺنے کبھی کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ زکوٰۃ اسلام کا ایک بنیادی حکم ہے جس کے لیے کئی شرائط ہیں۔ لیکن چونکہ حضورﷺپر زکوٰۃ کی پابندی کی یہ شرائط کبھی لاگو ہی نہیں ہوئیں، اس لیے آپ نے کبھی اس مروّجہ طریق پر زکوٰۃ ادا نہیں کی۔ تو کیا اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست ہے کہ چونکہ حضورﷺنے کبھی زکوٰۃ ادا نہیں کی اس لیے ہم میں سےاس شخص کو بھی زکوٰۃ ادا نہیں کرنی چاہیے جو صاحب نصاب زکوٰۃ ہے؟نہیں اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جن حالات میں حضورﷺنے زکوٰۃ ادا نہیں فرمائی اگر ایسے ہی حالات ہم میں سے کسی کے ہیں تو اس پر بھی زکوٰۃ کی ادائیگی واجب نہیں ہو گی۔ بعینہ جس شخص کی بیویوں کی دینداری اور تقویٰ کا مقام آنحضورﷺ کی ازواج مطہرات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شریعت کے عین مطابق ہو، اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ اپنی کسی بیوی کو بدنی سزا دے۔ اسلام نے بیوی کو سرزنش کی جو تعلیم دی ہے اس کی کئی شرائط ہیں، جن کا ذکر میں اپنے پہلے خط میں کر چکا ہوں۔

دنیاوی قانون تو انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں، جن میں بہت سی خامیاں بھی ہوتی ہیں۔اسی لیے ان میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ جبکہ قرآنی شریعت اللہ تعالیٰ کی نازل فرمودہ اور ہر قسم کے نقص سے پاک ہے اور اس میں وقت کے ساتھ کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں، یہ دائمی اور قیامت تک کے لیے بنی نوع انسان کی راہنمائی کے لیے ہے۔پس اصل تعلیم تو اسلامی شریعت ہی کی تعلیم ہے۔ اس لیے جہاں ضرورت ہوگی وہاں پہلےاسی پر عمل ہو گا۔اسی لیے میں نے اپنے پچھلے خط میں یہ نہیں کہا تھا، جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ مغرب میں رہنے والے مرد عورتوں کو نہ ماریں، بلکہ میں نے یہ کہا تھا کہ جہاں ملکی قانون اجازت نہ دے وہاں ضرورت کے باوجود بھی بدنی سزا دینے سے اجتناب کیا جائے۔ اس لیے اگر کسی جگہ ملکی قوانین ضرورت کے باوجود بدنی سزا دینے کی اجازت نہ دیتے ہوں تو وہاں اس سے اجتناب کرنا چاہیے لیکن پھر بھی شریعت کی بیان کردہ پہلی دو تدابیر پر تو بہرحال عمل ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ انہی کے ذریعہ اصلاح ہو جائے۔ کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر معاملہ میں بدنی سزا دینے تک ہی نوبت آئے، اس کے بغیر بھی تو اصلاح ہو سکتی ہے۔

پھراسلام نے عورت کی طرف سے ناپسندیدہ فعل کے ارتکاب پر اس کی اصلاح کے لیے یہ تعلیم بھی دی ہے کہ تمہاری عورتوں میں سے جو کسی معروف ناپسندیدہ فعل کے قریب جائیں ان کے متعلق ان پر اپنے (یعنی رشتہ داروں یا ہمسایوں) میں سے چار گواہ طلب کرو۔ پس اگر وہ (چار گواہ) گواہی دے دیں تو تم انہیں (اپنے) گھروں میں اس وقت تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کے لیے کوئی (اور) راہ نکالے روکے رکھو۔(سورۃ النساء:۱۶)

کوئی اور راہ سے مراد ہے کہ یا تو اس عورت کی اصلاح ہو جائے، یااگر اس کی اصلاح نہیں ہوتی تو خاوند اسے طلاق دے کر اپنے سے علیحدہ کر دے یا وہ عورت خود اپنے خاوند سے خلع لے کر اس سے علیحدہ ہو جائے۔

پس اسلام نے تو مختلف حالات کے لیے مختلف تعلیمات سے اپنے متبعین کو نوازا ہے۔ لہذا ایک سچے مومن کے لیے شریعت کی پابندی لازم ہے اور چونکہ شریعت نے ہی کہا ہے کہ ایسے ملکی قانون جو ایک مسلمان کے بنیادی مذہبی حقوق کے خلاف نہ ہوں ان پر عمل کیا جائے۔ اس لیے ہم ایسے تمام ملکی قوانین کی پابندی کرنا بھی اپنا شرعی فریضہ سمجھتے ہیں۔

باقی اگر کوئی وقتی اور ظاہری فائدہ کے لیے شریعت کے مقابلہ پر ملکی قانون کو ترجیح دیتا ہے تو اس میں ہم کیا کر سکتے ہیں، لیکن یہ بہرحال حقیقت ہے کہ جہاں انسان نے خدائی احکامات کے مقابلہ پر دنیاوی قوانین کو اپنایا ہے وہاں اس نے ہمیشہ اپنا ہی نقصان کیا ہے۔ مغربی معاشرہ میں دجالی چالوں کے تحت انسان اور خدا کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کے لیے مذہبی احکامات کے بر خلاف جو مختلف قوانین بن رہے ہیں وہ انسان کی اس زندگی کی بربادی کے ساتھ ساتھ اس کی اخروی زندگی جو دائمی زندگی ہےکی بھی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ پس اگر ہم اپنی دنیا اور آخرت سنوارنا چاہتے ہیں تو ہمیں صدق دل سے اسلامی تعلیمات کا پابند ہونا ہو گا۔

یہ ٹھیک ہے کہ ضرب کا لفظ عربی زبان میں کئی معانی میں آتا ہے لیکن اس قرآنی لفظ کے جو معانی آنحضور ﷺاور آپ کے غلام صادق اور اس زمانہ کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائے ہیں، وہی درست اور ہم سب کے لیے قابل عمل ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ النساء کی آیت ۳۵ کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’جن عورتوں کی طرف سے ناموافقت کے آثار ظاہر ہو جائیں پس تم ان کو نصیحت کرو اور خواب گا ہوں میں ان سے جدا رہو اور مارو ( یعنی جیسی جیسی صورت اور مصلحت پیش آوے ) پس اگر وہ تمہاری تابعدار ہو جائیں تو تم بھی طلاق وغیرہ کا نام نہ لواور تکبر نہ کرو کہ کبریائی خدا کے لیے مسلّم ہے یعنی دل میں یہ نہ کہو کہ اس کی مجھے کیا حاجت ہے میں دوسری بیوی کر سکتا ہوں بلکہ تواضع سے پیش آؤ کہ تواضع خدا کو پیاری ہے۔‘‘(آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۵۱)

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ایک سابقہ مکتوب کے حوالے سے حضور انور کی خدمت اقدس میں لکھا کہ سورۃ الکہف میں بیان حضرت خضر والے واقعہ کو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے حضرت موسیٰ کا معراج قرار دیا ہے، حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کا یہ حوالہ مجھے نہیں ملا، یہ حوالہ بھجوانے کی درخواست ہے۔ نیزFive Volume Commentaryکے بارہ میں بھی مرسلہ نگار نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۰ نومبر ۲۰۲۳ء میں اس خط کے جواب میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ سورۃ الکہف کی آیت نمبر ۶۱ ’’اور جب موسیٰ نے اپنے جوان ساتھی سے کہا میں رُکوں گا نہیں جب تک دو سمندروں کے ملنے کی جگہ تک نہ پہنچ جاؤں خواہ مجھے صدیوں چلنا پڑے۔‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ۔ نیل ابیض نیل ازرق مراد ہو سکتے ہیں خرطوم پر۔ میرے نزدیک وہ اصل مراد ہے۔ جہاں دین و دنیا کی بہتری تھی یہ معراج ہے حضرت موسیٰ کا۔ (تشحیذ الاذہان نمبر ۹، جلد ۸، ستمبر ۱۹۱۳ءصفحہ ۴۶۵۔ حقائق الفرقان جلدسوم صفحہ ۲۷،۲۶)

پھر اسی سورت کی آیت نمبر ۸۱ کی تشریح کرتے ہوئے آپؓ فرماتے ہیں:

يُرْهِقَهُمَا : ان دونوں کے ذمے مڑھ دے۔ اس بیان میں تین باتوں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعتراض کیا ہے۔ ۱۔ کشتی کے توڑنے پر ۲۔ لڑکے کے قتل پر۔ ۳۔ بے مزدوری لینے کے دیوار بنانے پر۔ حالانکہ یہ ہر سہ واقعات خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کے گھر میں ہو چکے ہیں۔

لِتُغْرِقَ (کہف : ۷۲) کا اگر کوئی خوف تھا تو کیا موسیٰ کی ماں نے خود موسیٰؑ کو دریا میں نہیں بہا دیا تھا۔ کیا دریا میں بہادینے سے حضرت موسیٰؑ غرق ہو گئے تھے۔ اس کے بعد فرعون کے وقت خود حضرت موسیٰؑ نے ساری قوم کو دریا میں ڈال دیا تھا۔ جہاں بظاہر غرق آب ہو جانے کا خوف تھا۔ ایسا ہی حضرت موسیٰؑ نے مدین میں کنویں پر عورتوں کے( مویشیوں) کو پانی پلایا اوربغیرکسی مزدوری لینے کے خود ہی ان کا کام کر دیا پھر قبطی کے قتل کے وقت اور (بعد ازاں قارون کے قتل کے وقت) ایک جان کو بلا وجہ مار دیا تھا۔

دراصل یہ بیان گونہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معراج کا ہے۔ اس معراج میں وہ عبد بطور ایک فرشتے کے ساتھ تھے۔ اور راہ کے خضر تھے۔ اور یہ سب باتیں آئندہ واقعات کا بیان کرتی ہیں۔ ان میں سمجھایا گیا کہ تمہیں ایک ظالم بادشاہ کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے گا اور اس سے اور اس کے لشکر سے بچنے کے واسطے تمہیں دریا عبور کرنا پڑے گا اور پھر جنگ کرنی پڑے گی جس میں بہتوں کو قتل کرنا ہوگا۔

دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ البرکات والسلام ایک صالح نبی تھے۔ ان کے دو بیٹے تھے۔ ایک بنی اسحاق۔ایک بنی اسمٰعیل۔ حضرت ابراہیمؑ کے دین کو لوگوں نے جب خراب کر دیا تو وہ دیوار ان کی گرنے کو تھی۔ اسکی حفاظت کے واسطے اللہ تعالیٰ نے دو نبی بھیج دئے۔ حضرت موسیٰ اور ہمارے نبی کریم ﷺ۔ یہ اس دیوار کو اٹھانے والے تھے اور اس طرح وہ پاک تعلیمات کا خزانہ محفوظ رہا۔

اس واقعہ کے معراج ہونے کی اس بات سے بھی تائید ہوتی ہے کہ یہودیوں میں اب تک ایک پرانی کتاب چلی آتی ہے جس کا نام ہے معراج موسیٰ۔ اس میں جس فرشتے کو حضرت موسیٰ کا رہبر بتلایا جاتا ہے اس کا نام خضر لکھا ہے۔(دیکھو انسائیکلو پیڈیا ببلیکا۔ حروف موسیٰ۔ وایا کے پس)(ضمیمہ اخبار بدر قادیان شریف مورخہ ۳۰ اپریل و ۰۵ مئی ۱۹۱۰ء، نمبر۲۷ و ۲۸، جلد ۹، صفحہ ۱۶۱) (حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ ۳۲،۳۱)

باقی آپ نے Five Volume Commentaryکے بارے میں جو اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے تو اس بارے میں تو میں پہلے ہی آپ کو لکھ چکا ہوں کہ جماعت نے اپنے وسائل کے مطابق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی معرکہ آراء تفسیر القرآن (تفسیر کبیر) کے خلاصہ نیز حضورؓ کے تفسیر کبیر کے لیے تیار کردہ نوٹس کی مدد سے انگریزی زبان سمجھنے والوں کے لیے یہ ایک مختصر سی تفسیرانگریزی زبان میں تیار کی ہے تا کہ انگریزی پڑھنے والے احباب اس کے ذریعہ قرآن کریم کے مضامین کو کسی حد تک سمجھ سکیں۔اور چونکہ یہ خلاصہ کی صورت میں ہے اس لیے اس میں تفصیل درج نہیں کی جا سکی۔

سوال: ناروے سے ایک خاتون نےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ جب عورتیں اپنی باجماعت نماز پڑھیں تو کیا کوئی عورت اقامت کہے گی، نیز جن نمازوں میں اونچی آوازمیں تلاوت ہوتی ہے، ان میں عورت امام اونچی آواز میں تلاوت کرے گی؟حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۲؍نومبر ۲۰۲۳ء میں ان سوالات کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: عورتوں پرچونکہ نماز با جماعت ادا کرنا فرض نہیں اس لیے عورتوں کے اپنی الگ باجماعت نماز پڑھنے کو بہت زیادہ رواج دینا درست نہیں۔ ہاں عورتوں کے کسی جماعتی پروگرام کے وقت اگر عورتیں کبھی مل کر نماز باجماعت پڑھ لیں تو اس میں حرج بھی کوئی نہیں۔ ایسی صورت میں کسی عورت کو اس نماز کے لیے اذان دینے کی اجازت نہیں۔مدینہ میں حضرت ام ورقہؓ کی درخواست پر جب حضور ﷺ نے کچھ وقت کے لیے ا نہیں ان کے گھر میں آنے والی عورتوں کو نماز باجماعت پڑھانے کی اجازت عطا فرمائی، جس کا مقصد غالباً عورتوں کو دینی تعلیم سکھانا تھا۔ تو حضور ﷺ نے ان کے لیے ایک مرد کو مؤذن مقرر فرمایا تھا جو ان کے لیے اذان دیا کرتا تھا۔ (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ بَاب إِمَامَةِ النِّسَاءِ)

پس عورتیں اپنی الگ نماز کے لیے اذان تو نہیں دے سکتیں، لیکن اس صورت میں کوئی عورت نماز کے لیے اقامت کہہ سکتی ہے اگرچہ اس کا کہنا بھی ضروری نہیں جیسا کہ حدیث میں بھی آتا ہے کہ لَیْسَ عَلَی النِّسَاءِ اَذَانٌ وَ لَا اِقَامَۃٌ۔ (السنن الکبریٰ للبیھقی کتاب الصلاۃ باب لیس علی النساء اذان و لا اقامۃ)یعنی عورتوں پر اذان دینا اور اقامت کہنا فرض نہیں۔

علاوہ ازیں عورت امام صف سے آگے اکیلی کھڑی نہیں ہو گی بلکہ پہلی صف کے درمیان میں عورتوں کے اندر ہی کھڑی ہو گی۔ باقی جن نمازوں میں اونچی آواز میں تلاوت کی جاتی ہے عورت امام ان نمازوں میں اونچی آواز میں ہی تلاوت کرے گی۔

عورتو ں کی ایسی باجماعت نماز حسب ضرورت صرف شاذ صورتوں میں ہی ہو سکتی ہے۔ اسے رواج کی شکل دے دینا اور عورتوں کا اس طرح عادتاً نماز با جماعت پڑھنا جس میں عورت امام ہو مناسب نہیں ہے۔

سوال: جرمنی سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ سورۃ النساء کی آیت ۱۳۶ میں جو گواہی دینے کا ذکر ہے، وہ کس کو گواہی دینے کے بارہ میں ہے۔ اور جو اسلام کا پردہ پوشی کا حکم ہے، کیا وہ اس آیت کے حکم کے خلاف نہیں ہو گا؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۲؍نومبر ۲۰۲۳ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: سورۃ النساء کی جس آیت کا آپ نے ذکر کیا ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے ایماندارو! تم پوری طرح انصاف پر قائم رہنے والے (اور) اللہ کے لیے گواہی دینے والے بن جاؤ۔ گو (تمہاری گواہی) تمہارے اپنے (خلاف) یا والدین یا قریبی رشتہ داروں کے خلاف (پڑتی) ہو۔ اگر وہ (جس کے متعلق گواہی دی گئی ہے) غنی ہے یا محتاج ہے تو (دونوں صورتوں میں) اللہ ان دونوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے۔ اس لیے تم (کسی ذلیل) خواہش کی پیروی نہ کیا کرو۔ تا عدل کر سکو اور اگر تم (کسی شہادت کو) چھپاؤ گے یا (اظہار حق سے) پہلو تہی کرو گے تو (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے یقیناً آگاہ ہے۔

پس اس آیت میں ہی آپ کے سوال کا جواب آ جاتا ہے کہ یہ گواہی اللہ کے لیے یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے دی جائے گی۔ اور دوسری بات اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دی کہ جس کے متعلق گواہی دی جا رہی ہے وہ خواہ امیر ہو یا غریب، دونوں صورتوں میں ہی اللہ تعالیٰ گواہی دینے والے سے زیادہ اس کا خیر خواہ ہے۔ اس لیے جب تمہیں باقاعدہ گواہی کے لیے بلایا جائے تو تم کسی کی پردہ پوشی کے چکر میں حق بات کہنے سے پہلو تہی کر کے یا سچی بات کو چھپا کر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث نہ بننا۔

پھر گواہی دینے اور پردہ پوشی نہ کرنے کے معاملات میں فرق یہ ہے کہ گواہی کسی مقصد کے لیے لی جاتی ہے۔ اس لیے سچی گواہی دینا ایک مسلمان کا دینی فریضہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب تمہیں کسی گواہی کے لیے بلایا جائے تو گواہی دینے سے انکار نہ کرو جیسا کہ فرمایا وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا۔ (البقرہ:۲۸۳) یعنی جب گواہوں کو بلایا جائے تو وہ گواہی دینے سے انکار نہ کریں۔ جبکہ کسی کی پردہ دری کرنا بغیر کسی مقصد کے اور بلاوجہ ہوتا ہے اور ایسا کرنا اسلام میں سخت گناہ قرار دیا گیا ہے جیسا کہ کسی کے عیبوں کی تشہیر کرنے یا کسی کی غیبت کرنے یا کسی پر جھوٹا الزام لگانے کو اسلام نے نہایت ناپسند کیا ہے۔ اور ان برائیوں پر سخت انذار فرمایا ہے۔ (سورۃ الحجرات :۱۳،۱۲)(صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ والاداب بَاب تَحْرِيمِ الْغِيبَةِ)

پس جب کوئی شخص بلا وجہ اور بغیر کسی مقصد کے کسی کی کمزوریوں اور عیبوں کی ادھر ادھر تشہیر کرتا ہے تو یہ پردہ پوشی کے خلاف ہے لیکن جب کسی شخص کو عدالت میں یا قاضی کے سامنے کسی سچی بات کو بتانے کے لیے یا کسی سچی بات کی گواہی دینے کے لیے بلایا جاتا ہے تاکہ اس مسئلہ کو حل کیا جا سکے یا اس مقدمہ میں انصاف تک پہنچا جا سکے تو پھر ایک مسلمان کے لیے ایسی سچی گواہی دینا نہ صرف یہ کہ پردہ پوشی کے خلاف نہیں بلکہ ضرور ی ہے اور قابل ثواب ہے۔

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط۱۰۴)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button