آسٹریلیا (رپورٹس)

جماعت احمدیہ فجی کے اکاون ویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۵ء کا بابرکت انعقاد

٭… پنجوقتہ نمازوں، نماز تہجد، دروس، تقاریر از علمائے سلسلہ، مجلس سوال و جواب نیز نمائش کتب کا اہتمام

٭… تین جزائر کی ۱۰؍جماعتوں اور تین ممالک سے آنے والے ۲۶۰؍احباب کی شمولیت

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جزائر فجی کی جماعتوں کو مورخہ ۱۳و۱۴؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو اپنا ۵۱واں جلسہ سالانہ جماعتی روایات کے مطابق بمقام مسجد فضلِ عمر، صووا منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمد اللہ

جلسہ کے انتظامات کی تیاری دعاؤں کے ساتھ کئی ہفتوں سے شروع کر دی گئی تھی اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں جلسہ کی کامیابی کےليے دعا کی درخواست بھی کی گئی۔ متعدد وقارِ عمل کے ذریعہ خدام، انصار و ممبرات لجنہ اماءاللہ نے دن رات مسجد کے احاطہ کی تیاری و صفائی کی، جلسہ سالانہ کےليے باقاعدہ سٹیج تیار کیا گیا اور مسجد کو خوبصورت بینرز، جھنڈیوں، پھولوں اور روشنی سے سجایا گیا۔

جائزہ انتظامات: مورخہ ۱۲؍دسمبر بروز جمعۃ المبارک بعداز نماز مغرب و عشاء مکرم نعیم احمد اقبال صاحب امیر و مبلغ انچارج فجی نے افسر صاحب جلسہ سالانہ اور افسر صاحب جلسہ گاہ کے ہمراہ انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے منتظمین اور معاونین کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور دعا کروائی۔

پہلا دن- ۱۳؍دسمبر بروز ہفتہ

جلسہ کے پہلے دن کا آغاز باجماعت نمازِ تہجد سے ہوا اور بعد از نمازِ فجر ’گھر کے آداب‘ کے موضوع پر قرآن وحدیث، حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے ارشادات کی روشنی پر مشتمل درس بھی پیش کیا گیا۔

پرچم کشائی و افتتاحی اجلاس: مہمانوں کی آمد پرصبح ساڑھے دس بجے مکرم امیر صاحب اور جماعت کے بزرگ ممبر مکرم ڈاکٹر علی بریبو صاحب نے پُر جوش نعروں کی گونج میں لوائے احمدیت اور فجی کے پرچم کو ہوا میں بلند کیا اور دعا کرواکر باقاعدہ جلسہ کا آغاز کیا۔ بعدہٗ مسجد کے ہال میں تلاوت قرآن کریم کے ساتھ افتتاحی اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔ نظم کے بعد مکرم امیر صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر میں شاملین جلسہ کے سامنے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جلسہ سالانہ کے موقع پر ارسال کردہ خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا۔ نیز آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کے اقتباسات کی روشنی میں جلسہ سالانہ کی برکات کو بیان کیا۔

اس کے علاوہ دوتقاریر بعنوان ’’خلافت سے مضبوط تعلق ہی تمام کامیابیوں کی کنجی ہے‘‘اور ’’انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال‘‘ پیش کی گئیں۔

اجلاس دوم: نماز ظہرو عصر اور ظہرانہ کے بعد مستورات اپنے جلسہ کے پروگرامز کے ليے جلسہ گاہ مستورات میں میں تشریف لے گئیں جبکہ لوکل فجیئن ممبران کے ليے لائبریری میں علیحدہ انتظام کیا گیا تھا جس میں انگریزی اور فجیئن زبان میں پروگرام کیا جاتا ہے۔ فجیئن اجلاس میں ’عبادت کی اہمیت‘ اور ’جماعت کے عالمی تعلقات اور خلافت کی برکات‘ کو بیان کرتے ہوئے اپنی زندگیوں میں نیک نمونے قائم کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی اور بتایا کہ حضور انور کے ارشاد کے مطابق ہمیں اپنے ماحول میں اس سچائی اورہدایت کی روشنی کا پیغام آگے دوسروں تک بھی پہنچانا چاہيے جس کے بعد آنے والے مہمانوں نے اسی مناسبت سے سوال وجواب بھی کيے۔ اس اجلاس میں بعض غیر از جماعت مہمان بھی شامل تھے۔ مین جلسہ گاہ میں دوسرے اجلاس میں تلاوت کے ساتھ دو نظمیں اور چار تقاریر بعنوان آنحضرت محمد ﷺ کی انسانیت کے لیے بے مثال محبت اور شفقت۔ توحید باری تعالیٰ۔ اصلاح بین الناس-امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور حضرت مسیح موعودؑ-موجودہ زمانہ کے مصلح پیش کی گئیں۔ دوسرے اجلاس کا اختتام شام چار بجے ہوا۔

مجلس سوال وجواب: نماز مغرب اور عشاءکے بعد احبابِ جماعت کے ساتھ مجلس سوال وجواب کا اہتمام کیا گیا جس میں شاملین مرد و زن نے اختلافی مسائل اور علمی سوالات کيے جن کے مبلغین کرام نے جواب دیے۔ الحمدللہ، یہ پروگرام بھی نہایت کامیاب رہا۔

دوسرا دن- ۱۴؍دسمبر بروز اتوار

جلسہ سالانہ کے دوسرے دن کا آغاز بھی با جماعت نماز تہجد سے ہوا بعد از نمازِ فجر ’کھانے کے آداب‘ کے عنوان پر درس پیش کیا گیا۔

اختتامی اجلاس:اختتامی اجلاس کا آغاز مکرم امیر صاحب کی زیرِ صدارت تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا۔ اس اجلاس میں تین نظمیں جن میں ایک گروپ نظم بھی پیش کی گئی جس میں کلمہ لا الٰہ الا للّٰہ کو انگریزی، فجیئن اور بنابن زبان کے تراجم کے ساتھ ترنم میں پیش کیا گیا۔ نیز اس اجلاس میں تقاریر بعنوان نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور خلافت کے ساتھ وابستگی، ’’مساجد کی تعمیر‘‘،’’عبادت الٰہی میں استقامت‘‘ اور ’’مالی قربانی تزکیہ نفس کا ذریعہ‘‘ پیش کی گئیں۔

مکرم امیر صاحب نے اپنی اختتامی تقریر میں احباب جماعت کو حضرت مسیح موعودؑ کے ارشادات کی روشنی میں تقویٰ میں بڑھنے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کے بارے میں نصائح کیں۔ تقریر کے اختتام پر آپ نے گذشتہ سال میں وفات پانے والے احباب جماعت کے نام بغرضِ دعا پیش کیے نیز بیمار افراد جماعت کے لیے بھی دعا کی درخواست کی اور دعا کروائی۔

نمائش کتب:احبابِ جماعت کے علم وایمان کی ترقی کےليے جلسے کے پروگرامز میں تقاریر کے علاوہ جماعت کے علمی خزانے پر مشتمل کتابوں کی نمائش کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ اِسی طرح مختلف قرآنی ارشادات، احادیث اور سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کے ارشادات کے خوبصورت رنگوں کے بینرز بھی آویزاں تھے جو ہر ایک کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔

اس جلسہ میں تین جزائر کی ۱۰؍جماعتوں اور تین ممالک سے آئے ہوئے احباب نے شمولیت اختیار کی۔ جلسہ کی کُل حاضری ۲۶۰ رہی۔ الحمدللہ علیٰ ذالک

اللہ تعالیٰ تمام شاملین کو جلسہ کے مقاصد اور برکات اور نیک نصائح سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے اور نیک نتائج سے نوازے اورتمام کارکنان کی خدمات کو قبول فرمائے جنہوں نے ہرلحاظ سے اس جلسہ کو کامیاب بنانے میں محنت کی اور ان کو اخلاص وایمان میں مزید بڑھائے۔ آمین

(رپورٹ:سیف اللہ مجید۔مبلغ سلسلہ جزائر فجی)

٭…٭…٭

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے جلسہ سالانہ فجی ۲۰۲۵ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم

پیارے احباب جماعت احمدیہ فجی،

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ اپنا ۵۱واں جلسہ سالانہ ۱۳و۱۴؍دسمبر۲۰۲۵ء کو منعقد کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو بہت کامیاب کرے اور آپ سب بےپناہ روحانی برکتیں حاصل کریں، اپنے علم اور ہمارے دین، اسلام کی خوبصورت اور پُرامن تعلیمات نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی ہدایات کے متعلق فہم کو بڑھائیں۔

تمام شاملین کو دعا کرنی چاہیے کہ اللہ انہیں جلسہ میں شرکت کے حقیقی مقصد کو حاصل کرنے والا بنائے۔ آپ کو یہ سوچ کر اکٹھا نہیں ہونا چاہیے کہ یہ محض ایک میلہ ہے یا صرف ایک عام اجتماع، بلکہ آپ کو یہ دن اپنے دینی علم کو بڑھانے اور اپنے روحانی معیار کو بہتر کرنے میں گزارنے چاہئیں۔ آپ سب کو چاہیے کہ اپنا وقت دعا اور اللہ کی یاد میں صرف کریں اور خاص طور پر ہماری جماعت کی ترقی اور اسے ہر نقصان سے محفوظ رہنے کے لیے دعا کریں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ’’اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض تو یہ ہے کہ تا ہر ایک مخلص کو بالمواجہ دینی فائدہ اٹھانے کا موقع ملے اور ان کے معلومات وسیع ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے ان کی معرفت ترقی پذیر ہو۔ پھر اس کے ضمن میں یہ بھی فوائد ہیں کہ اس ملاقات سے تمام بھائیوں کا تعارف بڑھے گا اور اس جماعت کے تعلقات اخوّت استحکام پذیر ہوں گے…‘‘ (اشتہار۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۲ء، مجمو عہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۳۶۰، ایڈیشن ۲۰۱۹ء)

مجھے امید ہے کہ گذشتہ سال کے آپ کے ۵۰ویں جلسہ سالانہ کے تاریخی سنگ میل پر میرے بھیجے گئے پیغام میں دی گئی ہدایات پر آپ نے عمل کرنے کی کوشش کی ہے جس میں مَیں نے کہا تھا کہ آپ کو صرف اپنی تاریخ کے اس اہم سنگ میل تک پہنچنے پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے، بلکہ آپ کو خود سے پوچھنا چاہیے کہ ہم نے کیا حاصل کیا ہے اور ہم کس طرح زیادہ تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں اور مزید ترقی کر سکتے ہیں اور ہم اپنی کمزوریوں کو کیسے دور کر سکتے ہیں؟ میں نے آپ کو تلقین کی تھی کہ جماعت کی خدمت کے لیے خود کو نئے جوش، توانائی اور لگن کے ساتھ وقف کریں۔ خاص طور پر میں نے آپ کو تبلیغ کے لیے نئی حکمت عملیاں بنانے کا کہا تھا اور یہ کہ جماعت کے ہر ممبر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عظیم کام میں شامل ہو۔

یاد رکھیں کہ آنحضرت محمد صلى الله عليه وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسلام کا پیغام پہنچانے کا حکم دیا تھا جسے آپؐ نے زندگی بھر مکمل وفاداری کے ساتھ پورا کیا۔ ہم قرآن کریم میں پڑھتے ہیں:یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ (المائدۃ:۶۸)اے رسول! اچھی طرح پہنچا دے جو تیرے ربّ کی طرف سے تیری طرف اتارا گیا ہے۔ اور اگر تُو نے ایسا نہ کیا تو گویا تُو نے اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔

اس حوالہ سے میں نے احباب جماعت کو مسلسل تبلیغ سے متعلق ہماری ذمہ داری کی یاددہانی کروائی ہے۔ میں نے کہا تھا: ’’جس حق کو اور ہدایت کو اور سچائی کو تم نے قبول کیا ہے اس کو دنیا میں پھیلاؤ اور بتاؤ۔ اور یہ پرواہ نہیں ہونی چاہيے کہ لوگ مانتے ہیں کہ نہیں مانتے۔ پیغام یہاں کے ہر شہری تک پہنچ جانا چاہيے۔ ہر ملک کے ہر شہری تک ہر احمدی کو پہنچا دینا چاہيے اور یہی وہ کام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمارے سپرد فرمایا ہے۔‘‘(اختتامی خطاب، جلسہ سالانہ بیلجیم ۱۶؍ ستمبر ۲۰۱۸ء)

ایک خطبہ میں مَیں نے احباب جماعت کو درج ذیل الفاظ میں نصیحت کی تھی:’’بعض لوگ کہہ دیتے ہیں …کہ ہمارے پاس علم نہیں ہے اس لئے ہم تبلیغ نہیں کر سکتے۔ …ہمیں علمی لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایسے دلائل سے لیس کر دیا ہے…کہ معمولی سی کوشش بھی کافی حد تک علمی مضبوطی عطا کر دیتی ہے۔ پھر سوال و جواب کی صورت میں آڈیو ویڈیو مواد موجود ہے۔ پھر ویب سائٹس ہیں۔ …پس ایک تو پہلے اپنا علم بڑھانے کی ضرورت ہے …دوسرے یہ پتا ہونا چاہئے کہ اس وقت ہمارے لٹریچر اور ویب سائٹ میں کہاں یہ علمی جواب اور مواد میسر ہے۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ ۸؍ستمبر ۲۰۱۷ء)

لہٰذا میں آپ سب، ہر ایک احمدی مسلمان کو تلقین کرتا ہوں کہ آگے بڑھیں اور اسلام احمدیت کے پرامن پیغام کو فجی کے تمام لوگوں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اللہ آپ کو اس نیک کام میں ہر کامیابی عطا فرمائے۔

اس دور میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں نظامِ خلافت سے نوازا ہے۔ لہٰذا ہر احمدی کو خلافت کا وفادار، مخلص اور فرمانبردار رہنا چاہیے اور خلیفہ وقت کے ساتھ محبت اور اخلاص کے تعلق کو مسلسل مضبوط کرتے رہنا چاہیے۔ یہ ہماری مسلسل ترقی کی کلید اور جماعت کی دائمی ترقی کو مشاہدہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ آپ کو ایم ٹی اے کثرت سے دیکھنا چاہیے اور اپنی فیملی، خصوصاً اپنے بچوں کو، اس کی تلقین کرتے رہیں۔ آپ کو بالخصوص میرے خطبات جمعہ کو باقاعدگی سے سننا چاہیے اور دیگر مواقع پر بھی بیان کی گئی میری باتوں پر عمل کرنا چاہیے۔

آخر پر میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ اس جلسہ کی کارروائی سے بھر پور استفادہ کریں اور اپنے ایمانوں کو مضبوط کریں۔ خدا تعالیٰ آپ کی زندگیوں میں ایک حقیقی تبدیلی پیدا فرمائے اور تقویٰ اور نیک اعمال میں بڑھنے اور خدمت اسلام اور انسانیت کی زیادہ سے زیادہ توفیق دے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب پر فضل فرمائے۔

مزید پڑھیں: عوامی جمہوریہ کونگو کے ریجن باندوندو (Bandundu) کا سترھواں جلسہ سالانہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button