از افاضاتِ خلفائے احمدیت

حفاظتِ ایمان

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۹؍جون ۱۹۲۲ء)

۱۹۲۲ء میں حضورؓ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؓ نے حصولِ ایمان کے بعد اس کی حفاظت کرنے کے فلسفہ کو بیان فرمایا ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)

میں یہ کہتا ہوں کہ تم اپنے ایمان کی بنیاد محض دلائلِ عقلی پر مت رکھو۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ تم ایک بات کو دلیل سے مانو اور دوسرے دن تم ایک ایسی دلیل سنو جو تمہیں اُس کے خلاف معلوم ہو تو تم اُس کو چھوڑ دو۔ میرا مطلب یہ ہے کہ ایمان کی بنیاد دلائل سے گزر کر مشاہدہ پر ہونی چاہیے

حضورؓ نے تشہدو تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

جب ایک شخص کوئی کام کرتا ہے تو اُس کی حفاظت اور بقا کے لیے بھی کچھ نہ کچھ تدبیر کرتا ہے۔ ایک درخت لگانے والا اُس کے گرد باڑ بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس باڑ کی وجہ سے جانور اس میں منہ نہیں ڈالیں گے اور اس کے نرم پتے نہیں کھائیں گے۔ کبھی اُس کے گرد اینٹوں کی دیوار بناتا ہے جبکہ سمجھتا ہے کہ درخت قیمتی ہے اور اُس کے متعلق خطرہ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کبھی زیادہ محنت اور صرف برداشت کرتا ہے اور اُس درخت کی حفاظت کے لیے آدمی مقرر کرتا ہے جو شب و روز اُس کی دیکھ بھال میں مصروف رہتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کوئی جانور اس کو نقصان نہ پہنچائے، کوئی اُس کے پھل نہ چرائے، کوئی کیڑا مکوڑا یا کوئی پرندہ اُس کی جڑوں یا شاخوں یا پھل کو خراب نہ کرے۔ کیڑوں مکوڑوں کا علاج کرتا اور پرندوں کو نقصان کرنے سے روکتا ہے۔ آندھی سے بچانے کے لیے درخت کے نیچے ایسی روکیں لگاتا ہے جن کے باعث درخت ٹوٹتا نہیں۔ غرض جتنا درخت قیمتی ہوتا ہے اُتنی ہی وہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اسی طرح کھیت کی حفاظت کی جاتی ہے۔ بارش بعض اوقات مفید ہوتی ہے، بعض اوقات مُضر۔ اگر مفید ہو تو پانی کو روکنے کے لیے کھیت کے اردگرد منڈیر بناتا ہے تا کہ پانی کھیت کے اندر جمع رہے اور اس سے کھیت کی نشوونما ہو۔ اور کبھی بارش کا پانی مُضر ہوتا ہے اُس وقت وہ اس کو کھیت کے اندر نہیں رہنے دیتا بلکہ اس کو نکالنے کے لیے منڈیر توڑ دیتا ہے پھر باڑیں لگاتا ہے کہ جانور داخل ہو کر کھیت کو برباد نہ کریں اور لوگ راستہ نہ بنائیں۔ اور جب کھیتی پک جاتی ہے تو کوّے وغیرہ جانوروں سے حفاظت کے لیے کھیتوں کے درمیان جھونپڑی بنا کر بیٹھتا ہے یا پہاڑوں پر مکی کے کھیت کی ریچھ سے حفاظت کے لیے رات دن زمیندار مصروف رہتے ہیں۔ اِسی طرح ایک شخص دکان کرتا ہے۔ اس میں مال لا کر ڈالتا ہے۔ وہ اس مال کی حفاظت کرتا ہے۔ اور محض دکان میں مال بھر دینے سے خوش نہیں ہو جاتا۔ یا مکان بناتا ہے تو اس کی حفاظت کی فکر رکھتا ہے۔ غرض ایک درخت لگانے والا اپنے درخت کی، زمیندار اپنے کھیت کی، دکاندار اپنی دکان کی، مکان تعمیر کرنے والا اپنے مکان کی اور اس کے فرنیچر کی حفاظت کرتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر میں اس کی حفاظت نہیں کروں گا تو میرا لاکھوں روپیہ تباہ ہو جائے گا۔ اور دکاندار خیال کرے گا کہ اگر میں اپنی دکان کی حفاظت نہیں کروں گا تو میرے ہزاروں روپیہ برباد ہو جائیں گے۔ کیونکہ نقصان پہنچانے والے اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ اور ہر چیز کو کئی طریق سے نقصان پہنچاتے ہیں۔

مثلاً بعض لوگوں کو بگاڑنے کی عادت ہوتی ہے اور اس میں اُن کا کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہوتا۔ مثلاً ہمارا یہ منارہ ہے۔ اس کے اندر اور باہر لکیریں کھینچ دی گئی ہیں حالانکہ لکیریں کھینچنے والوں کا اس میں کوئی فائدہ نہیں تھا۔ مگر منارے کی خوبصورتی میں اس سے فرق آ گیا ہے اور بیس تیس ہزار روپیہ جو اس پر خرچ ہوا ہے اس میں سے ایک معقول رقم اس کے خوبصورت بنانے میں بھی صَرف کی گئی ہے۔ مگر ایسے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ کوئی محافظ نہیں ہے تو یونہی لکیریں کھینچنے حتّٰی کہ پلستر بھی کھرچنے لگ جاتے ہیں۔ بعض لوگ عداوت سے دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ خواہ اس میں ان کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ مثلاً کھیت پک جاتا ہے۔ زمیندار تمام فصل کو ایک جگہ جمع کرتا ہے اور بہت خوش ہوتا ہے۔ مگر ایک بد طینت شخص آتا ہے اور اُس کے کھلیان میں آ گ لگا دیتا ہے۔ اگر جل جائے تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ اور اگر بچ جائے تو بھی زیادہ حصہ کسی کام کا نہیں ہوتا۔ تو بہت سے لوگ عداوت یا عادت کے طور پر دوسرے کی چیز کو خراب کرتے ہیں اور اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بہت سی چیزوں کو بعض چیزوں سے نفرت ہوتی ہےچیز والوں سے نفرت یا عداوت نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک خاص قسم کے کیڑے جو کپاس کو لگتے ہیں اُن کو ہرگز کپاس والوں سے عداوت نہیں ہوتی۔ مگر کپاس کے پودے سے نفرت ہوتی ہے۔ جہاں کپاس پیدا ہو گی وہ اُس کو خراب کرنے کے درپے ہوں گے۔ پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو نہ تو کسی ایک چیز سے نہ اُس کے مالک سے عداوت ہوتی ہے نہ نفرت مگر اتفاقی طور پر اس کو ان سے نقصان پہنچ جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص اپنے دشمن کو اپنے پیچھے دوڑتے دیکھ کر اپنی جان کی حفاظت کے لیے دوڑتا ہے اور ایک کھیت میں سے گزرتا ہے۔ گو نہ اُس کی نیت ہے نہ ارادہ کہ اُس کھیت کو نقصان پہنچے مگر نقصان ضرور پہنچ جاتا ہے۔ پھر بعض دفعہ کوئی شخص کسی کو نقصان پہنچانے کے خیال سے نہیں بلکہ اپنے فائدہ کے لیے ایک کام کرتا ہے مگر دوسرے کو اُتنا ہی نقصان پہنچ جاتا ہے جتنا اُس کو فائدہ۔ مثلاً چور چوری کرتا ہے۔ اُس کی نیت یہ نہیں ہوتی کہ گھر والے کو نقصان پہنچائے۔ اس کو صرف اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا مقصود ہے۔ لیکن اِس میں کوئی شُبہ نہیں اُس کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ گھر والوں کو نقصان ضرور پہنچ جاتا ہے۔ تو بعض عداوت سے دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں نہ کہ اپنے فائدہ کے لیے جیسے کھلیان جلانے والے۔ بعض نادانی سے نقصان پہنچاتے ہیں جیسے کھیت میں دوڑنے والے۔بعض بالکل جہالت سے نقصان پہنچاتے ہیں جیسے وہ لوگ جو کسی درخت کے پتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور اُن کو مسل دیتے ہیں۔ اُن کا اِس میں نہ فائدہ ہے اور نہ درخت سے عداوت۔ مگر وہ جانتے ہیں کہ اس کے اس فعل کا نتیجہ کیا ہو گا۔ بعض طبعی نفرت کے باعث نقصان کرتے ہیں جیسے کیڑے مکوڑے جو بعض چیزوں کو خراب کر دیتے ہیں۔

اس لیے عقلمندوں کا قاعدہ ہے کہ اپنی ہر ایک چیز کی حفاظت کرتے ہیں اور کبھی غفلت نہیں کرتے۔ اور ہر ایک شخص سوائے مجنون کے اپنی چیز کی نگہداشت کرتا اور نقصان سے بچاتا ہے۔ ایک زمیندار کھیت میں بیج بونے سے لے کر غلّہ گھر لے جانے تک حفاظت کرتا ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ ایمان کا بیج ایسا ہے جس کو بو کر اکثر لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں اور اس کی حفاظت کی پرواہ نہیں کرتے۔

لوگ درخت لگاتے ہیں اُس کی حفاظت کرتے ہیں، کھیت بوتے ہیں اُس کی حفاظت کا سامان کرتے ہیں، مکان بناتے ہیں اس کی نگرانی کرتے ہیں مگر ایمان کی کھیتی ہی ایسی ہے جس کی حفاظت نہیں کرتے۔

حالانکہ

اگر کھیتی تباہ ہو جائے،کسی کے تمام کھلیان جل کر راکھ ہو جائیں تو وہ کسی سے قرض لے کر گزارہ کر سکتا ہے۔ اور ایمان ایسی چیز ہے کہ کسی سے قرض نہیں ملتا نہ کسی کا ایمان کسی دوسرے کے لیے کفایت کر سکتا ہے۔

رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو جمع کیا اور اُن کو کہا کہ تم بُتوں کی پرستش چھوڑ کر ایک خدا کی عبادت کرو اور خدا کے رسول کو مانو۔ جو شخص خدا کی مخالفت کرتا ہے میں اس کے لیے کفایت نہیں کر سکتا۔ نہ اپنے بچوں کے لیے کفایت کر سکتا ہوں۔ حضرت نوحؑ نبی بھی تھے مگر ان کا ایمان ان کے بیٹے کے لیے کافی نہ تھا اور وہ اُس کو بچا نہ سکے۔ حالانکہ اُن کے لیے اَور لوگ بچائے گئے مگر بیٹے کو نہ بچایا گیا۔ اِسی طرح حضرت لوطؑ نبی تھے مگر آپ کا ایمان آپ کی بیوی کے کام نہ آیا۔

تو کھیتی کی لوگ حفاظت کرتے ہیں، مکان کی حفاظت کرتے ہیں، درخت کی حفاظت کرتے ہیں، تجارت کی حفاظت کی جاتی ہے مگر

ایمان کا پودا ایسا ہے کہ اس کو بو کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس کی حفاظت کی فکر نہیں کی جاتی۔ بہت لوگ ہیں جو ایمان حاصل کرنے کی تو کوشش کرتے ہیں مگر جب ایمان حاصل ہو جائے تو اس کی حفاظت کی کوشش نہیں کرتے۔ بلکہ اپنے آپ کو ایمان حاصل کرنے کے بعد محفوظ خیال کرلیتے ہیں۔ حالانکہ نازک وقت یہی ہوتا ہے جب ایمان حاصل ہو جائے۔

کیونکہ کئی دشمن پیدا ہو جاتے ہیں جو ایمان کے درپے ہوتے ہیں۔ کہیں شیطان ایمان پر حملہ کرتا ہے۔ کہیں کوئی اپنے فائدہ کے لیے اس کے ایمان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ کہیں کچھ لوگ اپنی نادانی اور جہالت سے اس کے ایمان کے درپے ہوتے ہیں مگر بہت لوگ ہیں جو اِن حملوں سے غافل ہیں اور نہیں سوچتے کہ متاعِ ایمان جب گم ہو جائے تو پھر اس کا ملنا مشکل ہوتا ہے۔

دیکھو

خداتعالیٰ نے جہاں ایمان کے حصول کی دعا سکھائی وہاں اس کی حفاظت کی بھی دعا سکھائی ہے۔ چنانچہ جہاں اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ آیا ہے وہیں یہ بھی ہے غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ بہت لوگ ایمان حاصل کرتے ہیں مگر اس کی حفاظت نہیں کرتے اور کافر مرتے ہیں۔

اُن کو جہاد فی سبیل اﷲ اور صدقہ اور انفاق فی سبیل اﷲ کا موقع ملتا ہے۔ مگر جب مرتے ہیں تو خدا کے دشمن ہو کے مرتے ہیں اور ایمان کو کھو کر دوزخ کے ادنیٰ طبقہ کی طرف لے جائے جاتے ہیں۔ کیونکہ چور کو چوری کی سزا دی جاتی ہے۔ لیکن اگر چوری کرنے والا پولیس میں ہو تو اُس کی سزا بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اِسی طرح باغیوں کے لیے سزا ہے لیکن اگر کوئی سرکاری عہدیدار بغاوت کا جُرم کرے تو اُس کے لیے دوسروں کی نسبت زیادہ سزا ہے۔ اِسی طرح

اگر مومن کہلانے والا مومنوں کے کام نہیں کرتا تو وہ ڈرے کیونکہ وہ زیادہ خدا کی گرفت کے نیچے ہے۔

باوجود پانچوں وقت متعدد بار ایمان کے حصول و حفاظت کی دعا کرنے کے افسوس ہے کہ بہت سے لوگ ہیں جو ایمان کی قدر نہیں کرتے اور اس کی حفاظت کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ سالہاسال کی محنت کے بعد حقیقتِ ایمان سمجھتے ہیں۔ اور جب ایمان حاصل ہو جاتا ہے تو اس کی حفاظت نہیں کرتے۔ حالانکہ

بیج کی حفاظت زیادہ ضروری اُس وقت ہوتی ہے جب وہ کونپل نکالتا ہے۔ جب تک کونپل نہیں نکلی تھی اُس کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ کیونکہ اُس کا وجود بھی کوئی نہیں تھا۔ اِسی طرح جب انسان بہت سی تحقیقات کے بعد فیصلہ کرتا ہے تو گویا اُس کا ایمان ایک کونپل نکالتا ہے۔

اُس وقت طرح طرح کے دشمن اُس کو پامال کرنا چاہتے ہیں۔

کہیں نفس اُس کا دشمن ہوتا ہے، کہیں شیطان اپنی ازلی دشمنی سے ایمان کے درخت کو تباہ کرنا چاہتا ہے، بعض عداوت سے اُس کو مٹاتے ہیں، بعض نفرت سے، بعض جہالت سے اور بعض اپنے فائدہ کے لیے اور بعض محض ناواقفی سے۔ یہ وقت ہوتا ہے کہ ایمان کی حفاظت کی جائے مگر عام طور پر لوگ اس وقت کو نہیں سمجھتے۔

درحقیقت ایمان کی حفاظت کا وقت یہی ہوتا ہے کہ انسان دلائل سے نکل کر عرفان کی حد پر آتا ہے۔

جو شخص دلیل سے مانتا ہے وہ دلائل سے چھوڑ بھی دیتا ہے۔

سینکڑوں باتیں ایسی ہیں جو پہلے دلائل سے مانی جاتی تھیں مگر اب دلائل سے ہی ردّ کی جاتی ہیں۔ افلاک کے وجود کا مسئلہ ایسا تھا کہ اِس سے بڑے بڑے اہلِ مذاہب اس مسئلہ کی وجہ سے کانپتے تھے اور بڑے بڑے مفسر اور علمِ کلام والے اس سے پیدا ہونے والے اعتراضات کے جوابات میں لگے رہتے تھے۔ لیکن آج سکول کا ایک بچہ بھی اس خیال کی لغویت پر ہنسے گا اور اس کو بیوقوفوں کی بات کہے گا۔ اسی طرح آج بہت سی باتیں جن کو عقل کی باتیں کہا جاتا ہے ممکن ہے کہ ایک وقت ان کو بیوقوفی کی باتیں اور غلط باتیں کہا جائے اور عقل سے ہی ان کو ردّ کیا جائے۔

اِس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ دینی باتوں کو عقل سے نہ مانو اور بےعقلی کی باتوں کو مانو۔ بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ تم اپنے ایمان کی بنیاد محض دلائلِ عقلی پر مت رکھو۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ تم ایک بات کو دلیل سے مانو اور دوسرے دن تم ایک ایسی دلیل سنو جو تمہیں اُس کے خلاف معلوم ہو تو تم اُس کو چھوڑ دو۔ میرا مطلب یہ ہے کہ

ایمان کی بنیاد دلائل سے گزر کر مشاہدہ پر ہونی چاہیے۔

اگر ایک شخص نے اپنی ذات کے متعلق دیکھا ہو اور دوسرے بیسیوں آدمیوں کے لیے دیکھا ہو کہ ان کو ایک خاص قسم کے بخار میں کونین فائدہ دیتی ہے اور اس کے استعمال کرنے سے بخار اُتر جاتا ہے۔ مگر بعض بخاروں میں فائدہ نہیں دیتی۔ اس سے وہ کونین کے فائدہ سے انکار نہیں کر دے گا۔ کیونکہ اُس نے خود تجربہ کر کے اس کے فائدہ کے مشاہدہ کر لیا ہے۔ اِسی طرح اگر ایک شخص کا ایمان عرفان کے درجہ پر ہو تو اُس کے لیے کوئی دلیل ایمان سے ہٹانے والی نہیں ہو سکتی۔

پس

جس شخص کو اﷲ تعالیٰ کی رؤیت حاصل ہو اور وہ کوئی مادی چیز نہیں کہ اُس کو دیکھا جائے بلکہ اس کے فعل کا دل پر اثر ہو اور دل اس کو محسوس کرے، وہ خدا کا ہو جائے اور خدا اُس کا ہو جائے

اور اُس کا نفس اُس کے ماتحت ہو جائے تو اس کا ایمان تمام خطروں سے نکل جاتا ہے اور کسی عزیز رشتہ دار کی جدائی اس کے لیے ایمان کو متزلزل کرنے والی نہیں ہوتی۔ پس

جب ایمان حاصل ہو جائے تو غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ کا مقام بھی حاصل ہونا چاہیے۔

یعنی مشاہدہ کا مقام ہو کہ وہاں سے کوئی دلیل، کوئی تکلیف اس کو نہ ہٹا سکے۔ آگ دلیل سے مانی ہوئی ہو تو اس کا انکار ہو سکتا ہے۔ لیکن

اگر آگ میں ہاتھ ڈالا ہو اور وہ جل گیا ہو، اس پر کھانا پک گیا ہو بجھائی ہو تو بجھ کر کوئلے ہو گئے ہوں۔ اِس قدر مشاہدات کے جمع ہو جانے سے آگ کا کیسے انکار ہو سکتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں کتنے ہی دلائل ہوں مگر ایسا مشاہدہ کرنے والا آگ کے وجود کا اور اس کی تاثیر کا منکر نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح

جب ایمان مشاہدہ کے درجہ تک پہنچ جائے تو پھر اُس کو مال و دولت، علم اور عزت، رشتہ داری اور دوسرے ہر ایک قسم کے تعلقات دین سے نہیں پھرا سکتے۔ وہ ایسا محفوظ ہو جاتا ہے جیسا کہ بچہ ماں کی گود میں ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ پر ہی کفایت نہ ہو بلکہ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ پر بھی عمل ہو۔

یعنی ایمان کی حفاظت کی جائے۔کوئی عقلمند پسند نہیں کرے گا کہ بڑی جدوجہد اور سخت تکلیف کے ساتھ موتی نکالے اور نکال کر کُتّے کے آگے ڈال دے۔ اگر کوئی ایسا کرے تو وہ بیوقوف ہو گا۔ تم نے ہر ایک قسم کے اعتراض سنے اور ان سب کو طے کرکے حق کو قبول کیا اور ایمان پایا۔ اب ایمان کو دشمنوں کے آگے مت پڑا رہنے دو تا ایسا نہ ہو کہ تباہ ہو جائے اور تمہاری مثال اُس عورت کی سی نہ ہو جس کے متعلق آیا ہے الَّتِیۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَہَا (النحل:۹۳)جوسُوت کات کر ضائع کر دیتی تھی۔پس جب تم نے ایمان حاصل کیا ہے تو اس کی حفاظت کی فکر بھی کرو اور ہر ایک مخالف اثر سے بچاؤ۔مشاہدہ کا مقام حاصل کرو جس کے بعد کوئی خطرہ نہیں رہتا۔

(الفضل ۱۵؍جون ۱۹۲۲ء)

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ کا پروگرام عبادتیں کرنا اورقربانیوں میں ترقی کرنا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button