آئیے!اس رمضان میں خدا سے دوستی کریں
رمضان کا مہینہ ہمیں وہ مواقع فراہم کرتا ہے جن میں ہم نسبتاً آسانی سے اللہ سے دوستی کرسکتے ہیں ایسی دوستی جو نہ صرف سارا سال قائم رہ سکتی ہے بلکہ ہمیشہ بڑھتی چلی جاتی ہے
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ۔(البقرہ:۱۸۷) اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبّیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔

اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ۬ؕ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَوۡلِیٰٓـُٔہُمُ الطَّاغُوۡتُ ۙ یُخۡرِجُوۡنَہُمۡ مِّنَ النُّوۡرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ۔ (البقرہ:۲۵۸) اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے۔ وہ ان کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے۔ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے دوست شیطان ہیں۔ وہ ان کو نور سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں۔ یہی لوگ آگ والے ہیں وہ اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔
ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ اَلۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ الۡمُؤۡمِنُ الۡمُہَیۡمِنُ الۡعَزِیۡزُ الۡجَبَّارُ الۡمُتَکَبِّرُ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ۔ (الحشر: ۲۴) وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ وہ بادشاہ ہے، پاک ہے، سلام ہے، امن دینے والا ہے، نگہبان ہے، کامل غلبہ والا ہے، ٹوٹے کام بنانے والا ہے (اور) کبر یائی والا ہے۔ پاک ہے اللہ اُس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔
ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص نے ایک کم عمر لڑکے کو دیکھا جو پھٹی پرانی چپل پہنے جا رہا تھا۔ اس شخص کو اس پر ترس آیا۔ اس نے اس کے لیے نئی چپل خریدی۔ جب وہ اسے دینے لگا تو بچے نے پوچھا:’’کیا آپ خدا ہیں؟‘‘ اس نے کہا: ’’نہیں۔‘‘بچہ بولا: ’’تو پھر آپ یقیناً خدا کے دوست ہیں!‘‘اس شخص نے پوچھا: ’’تم ایسا کیوں کہتے ہو؟‘‘بچے نے جواب دیا: ’’کیونکہ میں نے کل ہی خدا سے نئے جوتوں کی دعا مانگی تھی‘‘
ایک اور تمثیلی واقعہ ہے کہ ایک بادشاہ اور ملکہ سمندر کے ساحل پر چہل قدمی کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک بظاہر مجذوب شخص کو دیکھا جو ریت کے گھروندے بنا رہا تھا اور آواز لگا رہا تھا: ’’دس روپے کا ایک گھروندا — اور جو اسے خریدے گا اسے جنت میں ایک محل ملے گا!‘‘بادشاہ نےتو اس کی پرواہ نہ کی، مگر ملکہ نے دس روپے دے کر ایک گھروندا خرید لیا۔ رات کو بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ مرنے کے بعد دوسری دنیا میں ہے اور اس کے سامنے ایک شاندار محل ہے وہ اس کے اندر جانا چاہتا ہے مگر یہ کہہ کر روک دیا جاتا ہے کہ یہ محل تو ملکہ کا ہے آپ اس میں داخل نہیں ہوسکتے۔ گھبرا کر اس کی آنکھ کھلتی ہے۔ وہ ملکہ کو خواب سناتا ہے۔ دونوں فوراً ساحل پر جاتے ہیں۔ وہ شخص ابھی بھی گھروندے بیچ رہا ہوتا ہے۔ بادشاہ اب منہ مانگی قیمت میں خریدنا چاہتا ہے، مگر وہ کہتا ہے: ’’یہ بن دیکھے کا سودا تھا۔ اب تو تم حقیقت دیکھ چکے ہو! اب یہ تمہیں نہیں بیچ سکتا‘‘
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے ایک نئے احمدی کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔احمدی ہونے کے دو سال بعد ان کی شادی ہوئی۔ شادی کو ۱۲ سال ہوگئے مگر ان کی اولاد نہیں ہوئی۔ رشتےدار بھی ان کو یہ طعنہ دیتے کہ کیونکہ تم نے احمدیت قبول کی ہے اس لیے تمہارے ہاں اولاد نہیں ہورہی۔ لیڈی ڈاکٹر نے بتایا کہ اس عورت سے اولاد نہیں ہوسکتی۔ تو بیوی نے اپنے خاوند کو دوسری شادی کی اجازت بھی دےدی۔ اسی دوران اس احمدی نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی خدمت میں خط لکھا اور صورت حال بیان کی۔ حضورؒ نے فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا اور آپ کو ضرور اولاد نرینہ عطا فرمائے گا۔‘‘ کچھ عرصے میں ہی ان کی بیوی حاملہ ہو گئی اور پھر اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے چار بیٹوں سے نوازا۔ وہ چاروں آج بھی ہستی باری تعالیٰ کا زندہ ثبوت ہیں۔(رسالہ خالد، سیدنا ناصر نمبر اپریل ، مئی ۱۹۸۳ء صفحہ ۲۹۳،۲۹۲)
خدا سے دوستی کرنےسے پہلے اس پر یقین اور ایمان ہونا لازمی ہے۔ یقین کی منزل مشکل ضرور ہے مگر ناممکن ہرگز نہیں۔ جتنا یقین کامل ہوگا اتنی دوستی مضبوط ہوگی۔ دوستی کے انتہائی درجہ کے لیے محنت کی ضرورت ہے۔ پھر اللہ چاہے تو اس کا فضل شامل حال ہوجاتا ہے۔
دنیا میں قبولیت دعا کے واقعات تو آج بھی رونما ہوتے ہیں جن میں سے کچھ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ مختلف مواقع پر بیان بھی فرماتے رہتے ہیں۔آپ پڑھنے والوں میں سے بھی بہت سے افراد نے یقیناً قبولیت دعا کا تجربہ کیا ہوگا۔ ایسے واقعات و تجربات ایمان و یقین کو تازہ کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ کمزوری آ جاتی ہے اور بعض اوقات شکوک بھی پیدا ہونے لگتے ہیں۔خاص طور پر آج کے ماحول میں جہاں مادہ پرستی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اللہ پر یقین کم ہوتا جا رہا ہے۔ جو چیز ظاہری طور پر نظر آجائے یا سائنسی طور پر ثابت ہو جائے، اسی کو درست مانا جاتا ہے، اور جو ان آنکھوں سے نظر نہ آئے اسے ردّ کر دیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے بعض نوجوان بچے اور بچیاں بھی اس معاشرے کے زیر اثر اسی سوچ کے حامل ہیں۔ اور افسوس یہ ہے کہ یہ سوچ بڑھتی جارہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ واقعی مطمئن ہیں۔ کیا وہ اسی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں؟ اور کیا ان کے نزدیک اس زندگی کے بعد کوئی زندگی نہیں؟
حقیقت تو یہ ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہستی کے بہت سے ثبوت انسان کی محدود عقل اور شعور کو مد نظر رکھتے ہوئے ظاہری اور مادی چیزوں سے ہی دیے ہیں اور اپنے نشانات کے طور پر پیش کیے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ زمین اور آسمان اور اس میں موجود ہر چیز پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، دن اور رات کے ادل بدل کر آنے، زمانے اور وقت پر غور کی دعوت دیتا ہے، انسان اور دوسری مخلوقات کی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، پانی، سمندر، پہاڑ اور موسموں کے ادلنے بدلنے پر غور کی دعوت دیتا ہے۔ پودوں، پھلوں اور پھر شہد پر غور کرنےکی دعوت دیتا ہے۔ اور اسی طرح اور بہت کچھ۔ جس نے بھی ان پر غور کیا اسے ان کے خالق پر یقین لانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔
مگر آج کا انسان عموماً ان نشانا ت پر یا تو بالکل غور نہیں کرتا یا پھر سرسری طور پر غور کرکے نتیجے اکٹھے کرلیتا ہے۔ دراصل بات یہی ہے کہ سرسری غور کرنے سے وہ نتائج حاصل نہیں ہوتے جو تہ میں اتر کر غور کرنے سے حاصل ہوتے ہیں۔ کوانٹم فزکس کے ایک بانی نے بھی یہ واشگاف الفاظ میں کہا تھا سائنس کے گلاس سے پہلا گھونٹ پیتے ہی آپ دہریہ ہوجائیں گے، لیکن اسی گلاس کے پیندے میں خدا آپ کا انتظار کر رہا ہے۔یعنی وہ غور و خوض جو خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت کے لیےضروری تھا وہ نہیں کرتے اور زیادہ تر لوگ نام نہاد تحقیق پر یقین کرکے اور علم کی تہ میں اترے بغیر ہی خدا کا انکا ر کربیٹھتے ہیں۔ بس یہی بیماری کی جڑ ہے جو اللہ پر ایمان اور یقین میں کمزوری کا باعث بن رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ خدا تو ان کی ترجیحات میں ہی نہیں رہا۔
ذرا غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ قرآن میں چودہ سو سال پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی (انبیاء :۳۱) مگر سائنس نے یہ بات کئی صدیوں بعد ثابت کی۔ پھر قرآن میں ہی اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ انسان کی پیدائش مختلف مراحل سے گذرنے کے بعد ’’نطفہ امشاج‘‘ سے ہوئی (الدھر: ۳)یعنی ایک مرکب نطفہ سے جس میں ماں اور باپ دونوں کا نطفہ شامل ہے۔ یہ بات آج کی سائنس کو تقریباً ڈیڑھ صدی پہلے معلوم ہوئی۔ اس سے پہلے کئی خیالات پائے جاتے تھے مثلاً یہ کہ ایک سپرم میں ہی ایک مکمل وجود پایا جاتا ہے جو عورت کی بچہ دانی میں صرف پروان چڑھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ہر چیز جوڑا جوڑا بنائی ہے (یٰس:۳۷) آج یہ حقیقت نہ صرف جانوروں اور پودوں کے لیےدرست ہے بلکہ سائنس نے اسے جمادات کے لیےبھی درست پایا ہے۔الا ماشاءاللّٰہ۔ پھر اللہ تعالیٰ سورۃالرحمٰن آیت ۸ میں فرماتا ہے۔ ’’ اور آسمان کی کیا ہی شان ہے! اس نے اسے رفعت بخشی اور نمونہ عدل بنایا تاکہ تم میزان میں تجاوز نہ کرو‘‘۔ آج کی سائنس کائنات میں عظیم توازن کی گواہ ہے۔ سورت مومنون میں رحم مادر میں انسان کی پیدائش کے مراحل کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اسے قرآن کا ایک علمی معجزہ قرار دیا ہے اور اس کی تفصیل آپ نے اپنی تصنیف براہین احمدیہ جلد ۵ میں بیان فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح انسانی پیدائش کے مراحل روحانی ترقیات کے مراحل سے ایک مطابقت رکھتے ہیں۔
پھر انسان کا بدن بھی خدا کی ہستی پر گواہ ہے۔ اس کے پیچیدہ اور ترقی یافتہ اعضا جن میں اس کا دل، دماغ، سانس کا نظام، جلد، ناک، کان، آنکھ، نظام انہضام اور فاسد مادوں کے اخراج کا نظام، پٹھے، ہڈیاں، خون، ہارمون اور افزائش نسل کا نظام۔ دفاعی نظام، نزلاتی جھلیاں، پھر ہر ایک سیل کا پیچیدہ نظام، ڈی این اے اور جینز، اور پھر اپی جینز کا نظام شامل ہیں۔ پھر کس طرح جسم اپنی اوسمولیلیٹی اور پی ایچ کو برقرار ریکھتا ہے۔ہر نظام حیرت انگیز طور پر مربوط ہے۔ جسم میں پانی کا تناسب زمین کے پانی کے تناسب سے ملتا جلتا ہے۔ پھر آکسیجن اور خوراک کے جسم کے ہر خلیہ تک پہنچنے کا نظام ہے، اس پر ہی غور کرلیا جائے تو بے اختیا ر انسان فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ کہہ اٹھتا ہے۔ پھیپھٹروں میں ہوا کو اندر لے جانے، اور ہوا میں موجود سب سے زیادہ نائٹروجن گیس کی بجائے صرف آکسیجن کو خون میں شامل کرنے، خون کے ذریعہ ہر خلیہ تک پہچانے، جہاں پر انرجی کے حصول کا عمل ہوتا ہے۔ پھر وہاں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اسی راستہ سے باہر نکالنے میں دل کی دھڑ کن اور ہیموگلوبن کے کمالات کے علاوہ بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں جو ایک صحت مند انسان کو محسوس بھی نہیں ہوتے۔ غرض ہر نظام اتنا پیچیدہ ہے کہ آج کے دور میں ایک ایک نظام کے کئی ایک سپیشلسٹ بلکہ سب سپیشلسٹ تیار ہوتے ہیں مگر پھر بھی اس کی مکمل تہ تک نہیں پہنچ پاتے نہ ہی موت کو ختم کر سکے ہیں اور نہ ہی موت کے بعد کسی نئی زندگی کا تصور دیتے ہیں۔ پھر دنیا کے لاکھوں کروڑوں انسانوں کا بظاہر ایک جیسا نظر آنے والا جسم اور مشترکہ طور پر پائے جانے والے اعضاء کے علاوہ آواز، سوچ، ذوق، نفسیات اور جذبات و احساسات، اسی طرح ہاتھ کی لکیروں، انگلیوں کے نشانات، چہرہ کے خدوخال منفرد ہیں۔کیا ایسے پیچیدہ نظام کو دیکھ کربھی خالق پر ایمان کے سوا کوئی چار ہ باقی رہتا ہے؟ کیا یہ سب کچھ خود بخود اور اتفاق سے وجود میں آنا ممکن ہوسکتا تھا۔ یہ اتنا ہی ناممکن ہے جتنا یہ ناممکن ہے کہ لغت کی ایک ضخیم کتاب پرنٹنگ پریس میں دھماکے سے خود بن جائے۔ کون ہے جو سچے خوابوں کے ذریعہ لوگوں کی راہنمائی کرتا ہے۔ کیا خدا کے علاوہ کوئی اَور غیب کےعلم پر اطلاع دے سکتا ہے؟ افسوس !کہ انسان اپنی تمام تر ذہانت کے باوجود اس قادر مطلق ہستی سے غافل ہے جس کی گواہی کائنات کا ذرّہ ذرّہ دے رہا ہے۔
مضمون کی طوالت کے ڈر سے یہ چند مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ بہت سے ہیں جو اِن مثالوں اور دلائل سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اللہ پر اپنے یقین اور ایمان کو مضبوط کرتے ہیں۔ یقیناً یہ وہی اولو االباب ہیں جو اپنی پیدائش کے مقصد پر غور کرتے ہیں اور اپنے ربّ سے تعلق پیدا کرکے اس کے ساتھ اپنے جوڑ کو مضبوط کرتے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ ان دلائل سے ہر ایک کو تو فرق نہیں پڑتا اور اکثر بے یقینی میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ طرح طرح کی حجتیں نکالتے ہیں، اپنے تئیں عقلی دلائل بھی دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ سب اتفاق سے ہو گیا ہو۔اور ایسا تو نیچر میں ہو ہی سکتا ہے اور یہ بھی کہ بعض دفعہ غیرمعمولی واقعات بھی ہوجاتے ہیں وغیرہ! یہ سب باتیں محض سطحی علم کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ایسے لوگ خود تہ میں جاکر غور نہیں کرتے یا غور کرنا نہیں چاہتے۔ مگر ایسے بھی لوگ ہیں کہ اگر وہ واقعی خدا کی تلاش میں مخلص ہوں اور اس کےلیےخدا سے ہی مدد کے طلب گار ہوں تو اللہ تعالیٰ خود ا ن کو ہدایت دیتا ہے اور سیدھی راہ دکھادیتا ہے۔ جن سے چاہتا ہے کلام کرتا ہے۔اور یوں بھی اللہ تعالیٰ کی معرفت کے گہرے اسرارو رموز الہام سے ہی کھلتے ہیں جو وہ خاص طور پر اپنے انبیاء اور اولیاءکو عطا کرتا ہے۔ یہ سمجھنے کی بات ہے کہ معرفت محض عقل سے مکمل نہیں ہوتی۔ الہام کے بغیر عقل ایسے ہے جیسے آج کل کے دور میں انٹرنیٹ کے بغیر کمپیوٹر۔
آئیے !آج ان تمام عقلی دلائل سے قطع نظر کیوں نہ ہم خود خدا تعالیٰ کی ہستی کو محسوس کریں، اس کا رحم محسوس کریں، اس کی ستّاری محسوس کریں، اور اس کی دوسری صفات سمجھیں۔ بالکل اس بچے کی طرح جو خدا پر یقین رکھتے ہوئے دعا مانگتا ہے اور اس کا کام ہو جاتا ہے، یا پھر اس بڑے کی طرح جو حق کو قبول کرتا ہے، اس پر قائم رہتا ہے، اس راہ میں ڈگمگاتا نہیں،آزمائشوں میں پورا اترتا ہے، یا پھر اس ملکہ کی طرح جس نے بن دیکھے کا سودا کیا، تب خدا کی نعمتیں اس کے شامل حال ہوتی چلی جاتی ہیں۔
اس بادشاہ کا واقعہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ جس نے اعلان کیا کہ آج کے دن جو کوئی بھی محل کی جس چیز پر ہاتھ رکھے گا وہ اسی کی ہوجائے گی۔ لوگوں نے قیمتی چیزیں ڈھونڈ کر ان پر ہاتھ رکھنے شروع کیے۔ ایک کنیز نے آکر بادشاہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ اس نے کیا خوب سوچا کہ جب بادشاہ ہی اس کا ہوجائے گا تو محل کی ہر چیز اس کی ہوجائے گی۔
اگر پہلے نہیں تو کیوں نہ آج سے ہم خدا سے دوستی کریں جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے اور اس کی تمام نعمتوں کے وارث بنیں۔ اللہ کے دوست ہی ولی اللہ کہلاتے ہیں۔ولی اللہ بنیں اور یہ کام کچھ بھی تو مشکل نہیں۔ذرا کوشش تو کریں، تجربہ تو کرکے دیکھیں۔ یقیناً اللہ ہمیں مایوس نہیں کرے گا۔
رمضان کا مہینہ ہمیں وہ مواقع فراہم کرتا ہے جن میں ہم نسبتاً آسانی سے اللہ سے دوستی کرسکتے ہیں ایسی دوستی جو نہ صرف سارا سال قائم رہ سکتی ہے بلکہ ہمیشہ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ نوافل سے مدد لے سکتے ہیں۔ اعتکاف کرسکتے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے، ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے۔ اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔ یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ مَیں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔ کس دف سے مَیں بازاروں میں مُنادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں۔ اور کس دوا سے مَیں علاج کروں تا سننے کے لیےلوگوں کے کان کھلیں ‘‘۔ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ ۲۱۔۲۲)
اگر ہم خدا تعالیٰ سے دوستی کرنا چاہتے ہیں تو اس کا بنیادی گر تو یہی ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے ہوں، اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارنے والے ہوں۔
حقوق العباد میں سب سے اہم ہر ایک کی جان، مال اور عزّت کی حفاظت ہے۔ آج سے اگر ہم کسی کی ضرورت کو اس کے کہے بغیر پورا کردیں، کسی بھوکے کو کھانا کھلا دیں، کسی پیاسے کو پانی پلا دیں، یہ صرف انسان کی بات نہیں اس میں دوسرے جاندار، چرند پرند، نباتات اور جمادات بھی شامل ہیں، جیسے برف کے دنوں میں پرندوں اور جانوروں کے لیےباہر کھانا رکھ دیں۔کسی بیمار کو دوا یا تیمارداری کی ضرورت ہےتو اس کا خیال کریں، کسی کا مال اور دوسرے حقوق غصب نہ کریں، بلکہ ہر ایک کا حق بغیر اس کے کہنے کے ادا کر دیں۔ پھر کسی کی عزّت کا خیال خاص طور پر اس وقت کریں جب دوسرے اس کی عزت اچھالنے کا ارادہ رکھتے ہوں، کسی کے گناہوں اور کمزوریوں کی پردہ پوشی کریں جبکہ ہم ان کی پردہ دری کرسکتے ہوں، کوئی ہم سے ناراض ہے اور ہمارے پہل کرنے سے صلح ہوسکتی ہو تو اس میں جلدی کریں، اس بات کا خیال رکھیں کہ ہماری باتوں اور ہمارے عملوں سے کسی کا دل نہ دکھے، جانے اَن جانے میں ہم کسی کے ساتھ زیادتی کرنے والے نہ ہوں، خاص طور پر اپنے ماں باپ، بیوی بچوں اور دوسرے رشتے داروں کے حقوق کا خیال رکھیں، عدل سے بڑھ کر احسان اور ایتائ ذی القربیٰ کا سلوک کریں، اپنی نوکریوں اور کاروباروں میں نہ صرف ایمان داری سے کام کریں بلکہ نفل کے طور پر سونپی ہوئی ذمہ داریوں سے بڑھ کر کام کریں۔ اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کریں، صرف زبانی طور پر نہیں بلکہ یہ شکرگزاری عملی طور پر ہونی چاہیے۔ اور اگر اللہ نہ کرے کہ کوئی آزمائش آگئی ہو تو اس پر صبر کریں۔ علیٰ ھذالقیاس۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا: “بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تُو نے میری بیمار پُرسی نہیں کی۔ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مَیں کیسے آپ کی بیمار پرسی کرتا آپ تو رب العالمین ہیں؟اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تُو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی! کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اس کی بیمار پُرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔اے آدم کے بیٹے! مَیں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے مجھے نہیں کھلایا۔وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مَیں کیسے آپ کو کھانا کھلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے اسے کھانا نہیں کھلایا۔ کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے کھانا کھلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا۔ اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے پینے کو کچھ مانگا تُو نے مجھے نہیں پلایا۔وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مَیں کیسے آپ کو پلاتا آپ تو ربّ العالمین ہیں؟اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے پینے کو کچھ مانگا اور تُو نے اسے نہیں پلایا۔ کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے پلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا۔(صحیح مسلم۔ كتاب البروالصلة، باب فضل عيادة المريض، حدیث نمبر: ۵۲۶۹)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں کہ وہ نہ انبیاء میں سے ہیں نہ شہداء میں سے لیکن خدائے تعالیٰ کے نزدیک ان کا مرتبہ ایسا ہو گا کہ قیامت کے دن انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے۔ لوگوں نے عر ض کیا: یارسول اللہﷺ! یہ کون لوگ ہیں؟آپؐ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو صرف رحمت الٰہی کی وجہ سے آپس میں ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں۔ نہ ان کے آپس میں رشتہ ہے نہ مال کا لینا دینا۔ خدا کی قسم !ان کے چہرے نور ہیں اور وہ خود نور پر ہیں ان کو خوف نہیں ہوگا جب لوگ خوف میں ہوں گے اور نہ وہ غمگین ہوں گے جب دوسرے لوگ غمگین ہوں گے پھر حضور اکرمﷺ نے یہ آیت پڑھی: اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ۔خبردار!سنو! بےشک اللہ کے دوستوں پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(سنن ابوداؤد،کتاب الاجارہ،حدیث: ۳۵۲۷)
اللہ سے دوستی کا یہ گُر بھی یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کو تجربہ کرنے کے لیےاس صفت پر خودعمل کرنا ہوگا، اس کا مظہر بننا ہوگا۔ مثلاً اگر ہم چاہتے ہیں کہ خدا ہم پر رحم کرے، ہماری غلطیوں کی پردہ پوشی فرمائے، معاف فرمادے تو ہمیں بھی آج سے دوسرے لوگوں پر رحم کرنا ہوگا، ان کی غلطیوں کی پردہ پوشی کرنا ہوگی، معاف کرنی ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ کی صفات’’الرحمٰن‘‘، ’’الرحیم ‘‘، ’’الستار‘‘ اور ’’الغفار‘‘ نیز دوسری صفات خود اپنانی ہوںگی۔ جب ہم سب اللہ کی صفات اپنا کر حقیقی طور سے عباد الرحمٰن بن جائیں گے تو ہمارے گھر اور ہماری مساجد حقیقی خدا کے بندوں سے بھر جائیں گی اسی طرح معاشرے میں بھی ان صفات کو اپناتے ہوئے نکلیں گے تو خدا نما وجود ہوں گے۔ بغیر کچھ بولے، کچھ کہے ساری صفات ظاہر ہوں گی۔ وہ صفات جن کو اپنانے سے کوئی دعا ردّ نہیں کی جاتی۔ اس سے ایک طرف خدا سے دوستی اور دوسری طرف مخلوق سے محبت ہوگی اور جنت نظیر معاشرہ قائم ہوتا ہوا نظر آئے گا۔ اور ایسی خاموش تبلیغ سے دہریہ بھی کھچے چلےآئیں گے۔ ہمیں خدا کے دلائل دینے اور بحثیں کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑےگی۔
دوستی کا ایک اَور گر یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ شرک کا مطلب صرف یہی نہیں کہ کسی اور کی عبادت کریں بلکہ یہ بھی ہے کہ صرف اسباب پر ہی بھروسہ کیا جائے۔ حق بات کہنے سے اجتناب کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کو بہت بڑا ظلم قرار دیا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیےدوسرے لوگوں پرمکمل انحصار دراصل شرک کے زمرے میں ہی آتا ہے۔
ایک اور گر جو خود اللہ نے اپنی محبت حاصل کرنے کا بتایا ہے وہ اس کی پیارےنبی ﷺ کی پیروی ہے: قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ۔ (اٰل عمران: ۳۲) یعنی تُو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر کامل تو تمام نبیوں کے سردار ﷺ ہی ہیں تو آپؐ کی پیروی سے ہی ہم ان صفات کو اپنانے کے طریق سیکھ سکتے ہیں۔
اسی طرح آپ ﷺ کے غلام صادق حضرت مسیح موعودؑ اور آپؑ کے خلفا ءکی پیروی ہمیں خدا سے دوستی کے راستے میں مدد دیتی ہے۔ پھر ان لوگوں کے حالات کا مطالعہ کریں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے دوستی کی۔ اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کی مناجات سنیں۔ان لوگوں میں سے ایک حضرت غلام رسول راجیکی ؓ ہیں۔ ان کی تصنیف ’’ حیات قدسی ‘‘ میں خداتعالیٰ سے دوستی کے ایسے ایسےواقعات درج ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کسی کے پوچھنے پر آپؓ نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ میں تو خدا کو اس وقت تک چھوڑتا نہیں جب تک اس کو منا نہ لوں۔
خدا تعالیٰ سے دوستی کا یہ مضمون مکمل نہیں ہوسکتا جب تک اس میں ابو الا نبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر نہ کیا جائے۔ جنہیں خلیل اللہ یعنی اللہ کا دوست بھی کہا جاتا ہے۔ جنہوں نے وقت کے ظالم حکمران نمرود کے سامنے کلمہ حق کہا تو اس نے آپؑ کو آگ میں ڈال دیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیےاس آگ کو ٹھنڈا کردیا۔ پھر اللہ کے کہنے پر بڑھاپے میں عطا ہونے والے بیٹے کی قربانی کے لیےتیار ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے قربانی قبول کرتے ہوئے آپ کی نسل میں ایک عظیم الشان نبی ﷺ کو ساری دنیا کی ہدایت کے لیےمبعوث فرمایا۔
اگلا مرحلہ حقوق اللہ کی ادائیگی کا ہے جس میں ذکر الٰہی اللہ سے محبت کرنے کا بہترین طریق ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم سے چار ذِکْرُاللّٰہ ثابت ہیں۔ یعنی نماز پڑھنا، قرآن کریم پڑھنا، تنہائی میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا اقرار کرنا۔ اور چوتھا یہ کہ دوسروں کے سامنے بھی خداتعالیٰ کی صفات کا اظہار کرنا۔ ذکرالٰہی کرنے سے آہستہ آہستہ خداتعالیٰ کی محبت دل میں پیدا ہوجاتی ہے۔(ذکرالٰہی،انوارالعلوم جلد۳ صفحہ ۵۰۰)
اللہ تعالیٰ نے عبودیت سے ربوبیت کے تعلق کے راستے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان فرمائے۔ مگر ہم میں سے اکثر ان پر عمل نہیں کرتے، قرآن پر غور نہیں کرتے۔ وقت کا بہانہ بناتے ہیں۔ نمازوں میں سستی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ’’ نماز خواہ نخواہ کا ٹیکس نہیں ہے بلکہ عبودیت کو ربوبیت سے ایک ابدی تعلق اور کشش ہے۔ اس رشتہ کو قائم رکھنے کے لیےخدا تعالیٰ نے نماز بنائی ہے اور اس میں ایک لذت رکھ دی ہے جس سے یہ تعلق قائم رہتا ہے۔ جیسے لڑکے اور لڑکی کی جب شادی ہوتی ہے اگر ان کے ملاپ میں ایک لذت نہ ہو تو فساد ہوتا ہے۔ ایسے ہی اگر نماز میں لذت نہ ہو تو وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ دروازہ بندکرکے دعا کرنی چاہئے کہ وہ رشتہ قائم رہے اور لذت پیدا ہو۔ جو تعلق عبودیت کا ربوبیت سے ہے وہ بہت گہرا اور انوار سے پر ہے جس کی تفصیل نہیں ہو سکتی۔ جب وہ نہیں ہے تب تک انسان بہائم ہے‘‘(ملفوظات جلد۳ صفحہ۵۹۲، ایڈیشن۱۹۸۸ء)
فرض نماز کے بعد نفل نماز اور تہجد کا ذکر ہے جس سے نہ صرف اللہ سے دوستی ہو سکتی ہے بلکہ انسان مقام محمود پر پہنچایا جاسکتا ہے۔سورت بنی اسرائیل آیت ۸۰ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَمِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا۔ اور رات کے ایک حصہ میں بھی اس (قرآن) کے ساتھ تہجّد پڑھا کر۔ یہ تیرے لیےنفل کے طور پر ہوگا۔ قریب ہے کہ تیرا ربّ تجھے مقامِ محمود پر فائز کردے۔
حدیث قدسی میں ہے جو صحیح بخاری (حدیث نمبر ۶۵۰۲) میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’جس شخص نے میرے کسی ولی و دوست سے دشمنی کی، میرااس کے ساتھ اعلان جنگ ہے، اور میں نے جو چیزیں بندے پر فرض کی ہیں ان سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں ہے جس سے وہ میرا قرب حاصل کرے، اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔، اگر وہ مجھ سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں، اور اگر وہ کسی چیز سے میری پناہ چاہتا ہے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں، اور کسی چیز کے کرنے میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا تردد اس مومن کی روح قبض کرنے پر ہوتا ہے جو موت کو ناپسند کرتا ہے، مجھے اسے غمگین کرنا نا پسند ہے۔ ‘‘
عملی ذکر کی طرف بھی توجہ ہونی چاہیے۔ اپنا ہر کام ایمان داری سے کریں۔ہر وقت یہ بات ذہن نشین ہو کہ خدا ہمیں دیکھ رہا ہے جس کی نظر نہ صرف ہمارے ظاہری عملوں پر ہے بلکہ وہ ہماری نیتیں بھی جانتاہے۔ ہر کام کرنے سے پہلے یہ سوچ بھی مفید ہے کہ کیایہ کام اللہ تعالیٰ کو پسند ہے یا پھر یہ کہ کہیں اللہ اس کام سے ناراض تو نہیں ہوگا۔ اگر ہمارا عمل ایسا نہیں ہوگا تو ہم کس طرح سے دوسروں کو اس کی تلقین کرسکتے ہیں، کیسے تبلیغ کرسکتے ہیں، کریں بھی تو اس میں کوئی اثر نہیں ہوگا۔ پھر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ مرنے کے بعد دوسرے لوگ مجھے کیسے یاد رکھیں گے۔ پھر سونے سے پہلے دیکھنا چاہیے کہ ہمارے دل میں کسی کے متعلق کینہ یا بغض تو نہیں ہے۔ اگر ہو تو اس کو دل سے نکال دینا چاہیے۔
اگر ہم اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ اوامرو نواہی پر عمل کرتے رہیں گے، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے بن جائیں گے تو ہم اس ہستی کو بڑے زور سے محسوس کرنے والے ہوں گے، اور اس کی ہستی کا تجربہ کرلیں گے جو ان ظاہری آنکھوں سے بظاہر اوجھل ہے۔ کبھی وہ ہمارے دلوں کے سکون کی شکل میں ہوگا تو کبھی ہماری سلامتی کی شکل میں ہوگا، امن کی شکل میں ہوگا، ہمیں پتا بھی نہیں ہوگا اور وہ ہماری نگہبانی کرنے والا ہوگا، ہمارے ٹوٹے کام بنانے والا ہوگا۔ پھر چٹیوں سے بچانے کی شکل میں ہوسکتا ہے، صحت کی صورت میں، رزق میں برکت کی شکل میں اور ہماری اولاد کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کی صورت میں ہوسکتا ہے، ہماری عبادتوں اورشکر کرنے کی توفیق اور ہمارے باہم تعلقات میں ہم آہنگی کی صورت میں ہوسکتا ہے۔دشمنوں سے حفاظت کی صورت میں ہوسکتا ہے۔ علیٰ ھذا القیاس۔ وہ بادشاہ ہے، پاک ہے، سلام ہے، امن دینے والا ہے، نگہبان ہے، کامل غلبہ والا ہے، ٹوٹے کام بنانے والا ہے (اور) کبر یائی والا ہے۔(الحشر:۲۴)
یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ہم احسان کرنے والے ہوں اور اللہ ہم سے محبت نہ کرے وَاللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ (المائدہ:۹۴)، توبہ کرنے والے ہوں، پاک صاف رہنے والے ہوں اور اللہ ہم سے محبت نہ کرے اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ۔ (البقرہ:۲۲۳)، انصاف کرنے والے ہوں اور اللہ ہم سے محبت نہ کرے اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ۔ (الحجرات:۱۰)، ہم متقی ہوں اور اللہ ہم سے محبت نہ کرے اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَّقِیۡنَ۔(التوبہ:۴)، ہم صبر کرنے والے ہوں اور اللہ ہم سے محبت نہ کرے۔وَاللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیۡنَ۔ (اٰل عمران:۱۴۷) ہم توکل کرنے والے ہوں اور اللہ ہم سے محبت نہ کرے۔اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَوَکِّلِیۡنَ۔(اٰل عمران: ۱۶۰)لیکن اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ الۡمُفۡسِدِیۡنَ۔(القصص:۷۸)، زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ۔ (البقرہ:۱۹۱)، اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡفَرِحِیۡنَ۔ (القصص: ۷۷)، اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا إِنَّهُ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ۔(الاعراف:۳۲)، تکبر کرنے والوں اور شیخی بگھارنے والوں کو پسند نہیں کرتا إِنَّ اللّٰهَ لَایُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا۔(النساء:۳۷)، سرعام بری بات کہنے والے کو پسند نہیں کرتا لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ۔ (النساء:۱۴۹)، خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۔(انفال:۵۹)، اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ۔ (الشوریٰ:۴۱)۔ پھر ہم اس عظیم اجر کے پانے والے ہوں گے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے: اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ۔ نَحۡنُ اَوۡلِیٰٓؤُکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَلَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡۤ اَنۡفُسُکُمۡ وَلَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَدَّعُوۡنَ (حٰم السجدہ :۳۱-۳۲)یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کہا اللہ ہمارا ربّ ہے، پھر استقامت اختیار کی، اُن پر بکثرت فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ خوف نہ کرو اور غم نہ کھاؤ اور اس جنت (کے ملنے) سے خوش ہو جاؤ جس کا تم وعدہ دیئے جاتے ہو۔ہم اس دنیوی زندگی میں بھی تمہارے دوست ہیں اور آخرت میں بھی۔ اور اس میں تمہارے لیےوہ سب کچھ ہوگا جس کی تمہارے نفس خواہش کرتے ہیں اور اس میں تمہارے لیےوہ سب کچھ ہوگا جو تم طلب کرتے ہو۔
یقین جانیں قرب کا یہ میدان خالی ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے۔ ہر ایک قوم دنیا سے پیار کر رہی ہے۔ اور وہ بات جس سے خدا راضی ہو اس کی طرف دنیا کو توجہ نہیں۔ وہ لوگ جو پورے زور سے اس دروازہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں ان کے لیےموقع ہےکہ اپنے جوہر دکھلائیں اور خدا سے خاص انعام پا ویں۔‘‘ (رسالہ الو صیت، روحانی خزائن جلد۲۰صفحہ۳۰۸۔۳۰۹)
اگر ہم ایسا کرلیں گے تو پھر کوئی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر اپنی رحمت کی بارش کردے اور ہمیں اپنا قرب عطا فرما دے، ہماری آنکھوں کے پردے دور کردے اور ہم خدا کی صفات کے مظہر بن جائیں۔ تب ہم اس کا وہ وعدہ پورا ہوتے ہوئے دیکھیں کہ اگر بندہ ایک قدم چل کر خدا کی طرف آتا ہے تو وہ دس قدم بندے کی طرف آتا ہے اور یہ کہ وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے۔ یقیناً اللہ متقیوں کا دوست ہے۔ وَاللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُتَّقِیۡنَ۔(الجاثیہ: ۲۰)
دیکھیں کہ یہ کتنی بڑی خوشخبری ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو بندوں کے حقوق ادا کرنے والے ہیں، کتنے ہیں جو اللہ کے حق ادا کرنے والے ہیں، استغفار کرنے والے ہیں، ذکر الٰہی کرنے والے ہیں، نمازوں کو قائم کرنے والے ہیں، نوافل پڑھتے ہیں، قرآن میں تدبر کرنے والے ہیں، اور کتنے ہیں جو اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے ہیں۔ انفرادی طور پر اور من حیث القوم ہمیں اپنی حالتوں کو بہت بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی حالتوں کو بہتر نہیں کریں گے تو عام قانون قدرت کےتحت ہی ہمارے ساتھ بھی سلوک ہوگا اور اللہ کی طرف سے کسی غیر معمولی سلوک کی توقع عبث ہوگی۔ اکثر ہماری نوجوان نسل کا سوال تو یہی ہوتا ہے کہ اللہ ہم سے، دوسرے مسلمانوں سے غیر معمولی سلوک کیوں نہیں کرتا، معجزے کیوں نہیں دکھاتا، کلام کیوں نہیں کرتا۔ تو اس کا جواب یہی ہے کہ اس میں ہماری ہی کو تاہیوں اور کمزوریوں کا دخل ہے۔ ورنہ معجزے تو آج بھی ہوتے ہیں، دیکھنے والی آنکھ کی ضرورت ہے۔عمل کی ضرورت ہے۔ خدا اپنا آپ محسوس کرواتا ہے، محسوس کرنے والے ریسپٹر بھی ہوں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو حقیقی طور پر ایمان بالغیب کا شرف بخشے، اس پر ہمیشہ قائم رکھے، اور ہمارے قدم کبھی نہ ڈگمگائیں۔ ہمارے نفس امارہ سے نفس لوامہ اور پھر نفس لوامہ سے نفس مطمئنہ کے سفر کو آسان کردے۔ ہم سب کو اپنی محبت عطا فرمائے، ان لوگوں کی محبت عطا فرمائے جن سے وہ محبت کرتا ہے، اور ان کاموں کی محبت جن کاموں میں اس کی محبت اور رضا ہے۔ آمین۔ پھر ہم ان انعامات کے وارث ہوں گے جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے: لَہُمُ الۡبُشۡرٰی فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ (یونس۔۶۴)اُن کے لیےدنیا کی زندگی میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں۔یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
٭…٭…٭
(ڈاکٹر احمد رضوان صادق۔صدر مجلس انصاراللہ ناروے)




