متفرق شعراء

میں ادنیٰ سی تری بندی مجھے تُو بخش دے مولا

میں ادنیٰ سی تری بندی مجھے تُو بخش دے مولا
تری چوکھٹ پہ آ بیٹھی مجھے تو بخش دے مولا

بہت تو سننے والا ہے مری عرضی کو سن لے نا
بھکارن ہوں ترے در کی مجھے تو بخش دے مولا

تو مالک دو جہانوں کا زمینوں آسمانوں کا
تو ہی قادر ہے تو والی مجھے تو بخش دے مولا

الٰہی آرزو میری رضا کو تیری پا لینا
مگر شرمندہ ہوں عاصی مجھے تو بخش دے مولا

گناہوں نے مجھے گھیرا مرا دامن نہیں چھوڑا
تو الْمَانِعْ تو الْمُغْنِی مجھے تو بخش دے مولا

مرے دن بھی سنور جائیں مری بگڑی بھی بن جائے
مگر ہے رات یہ لمبی مجھے تو بخش دے مولا

خطائیں معاف کر دینا دعاؤں کو بھی سُن لینا
سمیع ہے تو، ہے الْبَارِی مجھے تو بخش دے مولا

بھٹکتی پھر رہی ہوں میں غمِ دنیا کے میلے میں
ہدایت دے مرے ہادی مجھے تو بخش دے مولا

میں تکتی ہوں تری جانب بڑی حسرت سے اے پیارے
مری آنکھوں میں ہے پانی مجھے تو بخش دے مولا

مرے سجدوں کو زندہ کر سکوں دے روح کو میری
اے الْبَاعِث اے الْمُحْيِي مجھے تو بخش دے مولا

خزانے تیری رحمت کے کبھی بھی کم نہیں ہوتے
مرا کاسہ بھی ہے خالی مجھے تو بخش دے مولا

(منصورہ فضل من۔ قادیان)

مزید پڑھیں: ’’رنگِ تقویٰ سے کوئی رنگت نہیں ہے خوب تر‘‘

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button