حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

خیانت نہ کرو

پھر خیانت کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَھُمْ۔اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ مَنْ کَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًا (النساء:۱۰۸)۔ اور ان لوگوں کی طرف سے بحث نہ کر جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں۔ یقیناً اللہ سخت خیانت کرنے والے گنہگار کو پسند نہیں کرتا۔

ایک حدیث میں ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ جو تمہارے پاس کوئی چیز امانت کے طور پر رکھتا ہے اس کی امانت اسے لوٹا دو۔ اور اس شخص سے بھی ہرگز خیانت سے پیش نہ آئو جو تم سے خیانت سے پیش آچکا ہے۔(سنن ابوداؤد۔ کتاب البیوع۔ باب فی الرجل یاخذ حقہ … )

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’دوسری قسم ترک شر کے اقسام میں سے وہ خلق ہے جس کو امانت و دیانت کہتے ہیں۔ یعنی دوسرے کے مال پر شرارت اور بدنیتی سے قبضہ کر کے اس کو ایذا پہنچانے پر راضی نہ ہونا۔ سو واضح ہو کہ دیانت اور امانت انسان کی طبعی حالتوں میں سے ایک حالت ہے۔ اسی واسطے ایک بچہ شیرخوار بھی جو بوجہ اپنی کم سنی اپنی طبعی سادگی پر ہوتا ہے اور نیز بباعث صغر سنی ابھی بری عادتوں کا عادی نہیں ہوتا اس قدر غیر کی چیز سے نفرت رکھتا ہے کہ غیر عورت کا دودھ بھی مشکل سے پیتا ہے‘‘۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن۔ جلد۱۰۔ صفحہ۳۴۴)

فسادسے بچو

پھر فساد کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے وَابْتَغِ فِیْمَا اٰ تٰـکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ (القصص:۷۸)۔ اور جو کچھ اللہ نے تجھے عطا کیا ہے اس کے ذریعہ دارِآخرت کمانے کی خواہش کر اور دنیا میں سے بھی اپنا معیّن حصہ نظرانداز نہ کر اور احسان کا سلوک کر جیسا کہ اللہ نے تجھ سے احسان کا سلوک کیا اور زمین میں فساد (پھیلانا) پسند نہ کر۔ یقیناً اللہ فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جنگ دو طرح کی ہے۔ ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے امام کی اطاعت کی جاتی ہے۔ایسا شخص اپنا اچھا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتاہے اور اپنے شریک سفر کے لئے سہولت پیدا کرتاہے اور فساد سے اجتناب کرتاہے۔پس ایسے شخص کا سونا جاگنا تمام کا تمام مستوجب اجرہے۔ اور ایک وہ شخص ہوتاہے جو فخرکے لئے اور دکھاوے کے لئے اور اپنی بہادری کے قصے سنانے کیلئے لڑتا ہے۔ایسا شخص امام کی نافرمانی کرتاہے اور زمین میں فساد پھیلاتاہے۔ پس ایسا شخص اوپر والے شخص کا ہم پلّہ ہو کرنہیں لوٹتا۔ (سنن ابی داؤد۔کتاب الجہاد۔ باب فیمن یغزو ویلتمس الدّنیا)

حضرت اسماءؓ بنت یزید روایت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا مَیں تم میں سے بہترین لوگوں کے بارہ میں تم کو نہ بتائوں؟ صحابہؓ نے عرض کیا: کیوں نہیں یارسول اللہ ! ضرور بتائیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جب وہ کوئی اچھا منظر دیکھتے ہیں تو ذکرالٰہی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ پھر فرمایا: کیامَیں تم کو شریر ترین افراد سے نہ آگاہ کروں؟ شریر ترین لوگ وہ ہیں جو چغل خوری کی غرض سے چلتے پھرتے ہیں۔ محبت کرنے والوں کے درمیان بگاڑ پیدا کردیتے ہیں۔ اورفرمانبردار لوگوں کے بارہ میں ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ گناہ میں مبتلا ہوجائیں۔(مسند احمد بن حنبل۔ جلد ۶۔ صفحہ ۴۵۹۔ مطبوعہ بیروت)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’تمہیں چاہئے کہ وہ لوگ جو محض اس وجہ سے تمہیں چھوڑتے اور تم سے الگ ہوتے ہیںکہ تم نے خداتعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں شمولیت اختیار کرلی ہے ان سے دنگہ یا فساد مت کرو بلکہ ان کے لئے غائبانہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی وہ بصیرت اور معرفت عطا کرے جو اس نے اپنے فضل سے تمہیں دی ہے۔ تم اپنے پاک نمونہ اور عمدہ چال چلن سے ثابت کر دکھائو کہ تم نے اچھی راہ اختیار کی ہے۔ دیکھو مَیںاس امر کے لئے مامور ہوں کہ تمہیں باربار ہدایت کرو ں کہ ہر قسم کے فساد اور ہنگامہ کی جگہوں سے بچتے رہو اور گالیا ں سن کر بھی صبر کرو۔ بدی کا جواب نیکی سے دو اور کوئی فساد کرنے پر آمادہ ہو تو بہترہے کہ تم ایسی جگہ سے کھسک جائو اور نرمی سے جواب دو۔ … جب مَیںیہ سنتاہوں کہ فلاں شخص اس جماعت کا ہو کر کسی سے لڑا ہے۔اس طریق کو مَیں ہرگز پسند نہیں کرتا اور خداتعالیٰ بھی نہیں چاہتا کہ وہ جماعت جو دنیا میں ایک نمونہ ٹھہرے گی وہ ایسی راہ اختیار کرے جو تقویٰ کی راہ نہیں ہے۔ بلکہ مَیں تمہیں یہ بھی بتادیتاہوں کہ اللہ تعالیٰ یہاں تک اس امر کی تائید کرتاہے کہ اگر کوئی شخص اس جماعت میں ہو کر صبر اور برداشت سے کام نہیں لیتا تو وہ یاد رکھے کہ وہ اس جماعت میں داخل نہیں ہے۔ نہایت کار اشتعال اور جوش کی یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ مجھے گندی گالیاں دی جاتی ہیں تو اس معاملہ کو خداکے سپرد کردو۔ تم اس کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ میرا معاملہ خدا پر چھوڑ دو۔ تم ان گالیوں کو سن کر بھی صبر اور برداشت سے کام لو‘‘۔(ملفوظات۔ جلد چہارم۔ صفحہ ۱۵۷۔ ایڈیشن۱۹۸۸ء)

بغاوت کے طریقوں سے بچو

پھر اسی شرط دوئم میںاس بات کا بھی عہد ہے کہ بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ۔(۱) یعنی اس حد تک ان کا مقابلہ کرو کہ ان کی بغاوت دور ہو جاوے اور دین کی روکیں اٹھ جائیں اور حکومت اللہ کے دین کی ہو جائے۔ اور پھر فرمایاقُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌوَصَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَکُفْرٌ بِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاِخْرَاجُ اَھْلِہٖ مِنْہُ اَکْبَرُعِنْدَاللّٰہِ وَالْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَایَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ حَتّٰی یَرُدُّوْکُمْ عَنْ دِیْنِکُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا(۲) یعنی شہر حرام میں قتل تو گناہ ہے لیکن خداتعالیٰ کی راہ سے روکنا اور کفر اختیار کرنا اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو مسجد حرام سے خارج کرنا یہ بہت بڑا گناہ ہے اور بغاوت کو پھیلانا یعنی امن کا خلل انداز ہونا قتل سے بڑھ کر ہے۔(جنگ مقدس۔روحانی خزائن۔ جلد ۶۔ صفحہ ۲۵۵)

فرمایا :’’چونکہ مَیںدیکھتاہوں کہ ان دنوںمیں بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوئوں میں سے اور کچھ مسلمانوں میں سے گورنمنٹ کے مقابل پر ایسی ایسی حرکتیں ظاہرکرتے ہیں جن سے بغاوت کی بو آتی ہے۔ بلکہ مجھے شک ہوتاہے کہ کسی وقت باغیانہ رنگ ان کی طبائع میں پیدا ہو جائے گا۔ اس لئے مَیں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیاہے نہایت تاکید سے نصیحت کرتاہوں کہ و ہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں جو قریباً ۲۶برس سے تقریری اور تحریری طورپر ان کے ذہن نشین کرتاآیاہوں یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ کی پوری اطاعت کریں کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ ہے…۔سو یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ ایسا شخص میری جماعت میں داخل نہیں رہ سکتا جو اس گورنمنٹ کے مقابلہ پر کوئی باغیانہ خیال دل میں رکھے۔ اور میرے نزدیک یہ سخت بدذاتی ہے کہ جس گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہم ظالموں کے پنجے سے بچائے جاتے ہیں اور اس کے زیر سایہ ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے اس کے احسان کے ہم شکرگزار نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتاہے ھَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ یعنی احسان کا بدلہ احسان ہے اور حدیث شریف میں بھی ہے کہ جو انسان کا شکر نہیں کرتا وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا۔ یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جائو تو پھر تمہارا ٹھکانہ کہاںہے۔ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گی۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کے لئے دانت پیس رہی ہے کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو۔ سو تم اس خداداد نعمت کی قدر کرو…۔اب خواہ نخواہ ایسے اعتقاد پھیلانا کہ کوئی خونی مہدی آئے گا اور عیسائی بادشاہوں کو گرفتار کر ے گا یہ محض بناوٹی مسائل ہیں جن سے ہمارے مخالف مسلمانوں کے دل سیاہ اور سخت ہو گئے ہیں اور جن کے ایسے عقیدے ہیں وہ خطرناک انسان ہیں۔ اور ایسے عقیدے کسی زمانہ میں جاہلوں کے لئے بغاوت کا ذریعہ ہو سکتے ہیں بلکہ ضرور ہوں گے۔سو ہماری کوشش ہے کہ مسلمان ایسے عقیدوں سے رہائی پاویں۔یادرکھو کہ وہ دین خدا کی طرف سے نہیں ہوسکتا جس میں انسانی ہمدردی نہیں۔ خدانے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ زمین پر رحم کرو تا آسمان سے تم پررحم کیا جائے‘‘۔(مجموعہ اشتہارات۔ جلد ۳۔ صفحہ ۵۸۲تا ۵۸۵)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۳۸ تا ۴۳)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button