حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرتﷺ کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یارسول اللہؐ!ہمیں نماز معاف فرما دی جائے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں۔ مویشی وغیرہ کے سبب کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے۔تو آپؐ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو جب نماز نہیں،تو ہے ہی کیا؟وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔ نماز کیا ہے؟یہی کہ اپنے عجزو نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔ کبھی اس کی عظمت اور اس کے احکام کی بجاآوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔اس سے اپنی حاجات کا مانگنا یہی نماز ہے۔ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرناکہ تو ایسا ہے، تو ایسا ہے۔اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کرکے اس کی رحمت کو جنبش دلانا پھر اس سے مانگنا۔پس جس دین میں یہ نہیں، وہ دین ہی کیا ہے۔

انسان ہر وقت محتاج ہے اس سے اس کی رضا کی راہیں مانگتا رہے اور اس کے فضل کا اس سے خواستگار ہو کیونکہ اسی کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جاسکتا ہے۔

اے خدا! ہم کو توفیق دے کہ ہم تیرے ہوجائیں اور تیری رضا پر کاربند ہوکر تجھے راضی کرلیں۔ خدا کی محبت،اسی کا خوف،اسی کی یاد میں دل لگا رہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے۔

پھر جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیاکیا ؟ وہی کھانا پینااور حیوانوں کی طرح سو رہنا۔ یہ تو دین ہرگز نہیں۔ یہ سیرت کفار ہے بلکہ جو دم غافل وہ دم کافر والی بات بالکل راست اور صحیح ہے‘‘۔(الحکم۔جلد۷۔ مؤرخہ ۳۱مارچ ۱۹۰۳ء۔ صفحہ۸)

نماز میں ذوق کس طرح حاصل ہو۔ اس بارہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’اے اللہ تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کیسا اندھا اور نابینا ہوں اور میں اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو میں تیری طرف آجائوں گا۔اس وقت مجھے کوئی روک نہ سکے گا لیکن میرا دل اندھا اور ناشناسا ہے۔ تو ایسا شعلہ نور اس پر نازل کر کہ تیرا انس اور شوق اس میں پیدا ہو جائے۔ تو ایسا فضل کر کہ میں نابینا نہ اٹھوں اور اندھوں میں نہ جا ملوں۔

جب اس قسم کی دعا مانگے گا اور اس پر دوام اختیار کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اس پر ایسا آئے گا کہ اس بے ذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اس پر گرے گی جو رقّت پیدا کردے گی‘‘۔(ملفوظات۔ جلد دوم۔ صفحہ۶۱۶۔ ایڈیشن۱۹۸۸ء)

نماز تہجد کا التزام کریں

پھر اس تیسری شرط میں یہ ہے کہ نماز تہجد پڑھے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ۔ عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۔(بنی اسرائیل آیت۸۰) اور رات کے ایک حصہ میں بھی اس (قرآن) کے ساتھ تہجد پڑھا کر۔ یہ تیرے لئے نفل کے طور پر ہوگا۔ قریب ہے کہ تیرا ربّ تجھے مقامِ محمود پر فائز کردے۔

حضرت بلالؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: تمہیں نماز تہجد کا التزام کرنا چاہئے کیونکہ یہ گزشتہ صالحین کا طریقہ رہا ہے اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہے۔ یہ عادت گناہوں سے روکتی ہے، برائیوں کو ختم کرتی ہے اور جسمانی بیماریوں سے بچاتی ہے۔(سنن ترمذی۔ کتاب الدعوات۔ باب فی دعاء النبیّﷺ)

ایک حدیث ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب رات کا آخری پہر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ سماء دنیا پر نزول فرماتاہے اور فرماتاہے کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے اور مَیںاس کی دعا قبول کروں۔کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو مَیں اس کو بخش دوں۔کوئی ہے جو مجھ سے رزق طلب کرے تو مَیں اسے رزق عطا کروں۔ کوئی ہے جو مجھ سے اپنی تکلیف کے دور کرنے کے لئے دعا کرے تو مَیں اس کی تکلیف کو دور کروں۔اللہ تعالیٰ یونہی فرماتا رہتاہے یہاں تک کہ صبح صادق ہو جاتی ہے۔ (مسند احمد بن حنبل۔ جلد نمبر۲۔ صفحہ ۵۲۱۔ مطبوعہ بیروت)

بہت سارے لوگ دعائوں کے لئے لکھتے ہیں۔ خود بھی اس طریق پر عمل کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش بھی نازل ہوتے دیکھیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے ایک دفعہ فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ میرا بندہ جتنا میرا قرب اس چیز سے، جو مجھے پسند ہے اور مَیں نے اس پر فرض کردی ہے، حاصل کرسکتا ہے، اتنا کسی اور چیز سے حاصل نہیں کرسکتا اور نوافل کے ذریعہ سے میرا بندہ میرے قریب ہوجاتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ اور جب میں اس کو اپنا دوست بنا لیتا ہوں توا س کے کان بن جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پائوں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ یعنی میں ہی اس کاکارساز ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کو دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ چاہتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔(صحیح بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب التواضع)

حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺنے فرمایا :اللہ تعالیٰ رحم کرے اس شخص پر جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو اٹھائے۔ اگر وہ اٹھنے میں پس وپیش کرے تو اس کے منہ پرپانی چھڑکے تاکہ وہ اٹھ کھڑی ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ رحم کرے اس عورت پر جو رات کو اٹھی، نماز پڑھی اور اپنے میاں کوجگایا۔ اگر اس نے اٹھنے میں پس وپیش کیا تو اس کے منہ پر پانی چھڑکا تا کہ وہ اٹھ کھڑا ہو۔

(سنن ابوداؤد۔ کتاب التّطوّع۔ باب قیام اللّیل)

حضرت اقد س مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کر لیں۔ جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع بہر حال مل جائیگا۔ اس وقت کی دعائوں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے کیونکہ وہ سچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں۔ جبتک ایک خاص سوز اور درد دل میں نہ ہو اس وقت تک ایک شخص خواب راحت سے بیدار کب ہو سکتا ہے؟ پس اس وقت کا اٹھنا ہی ایک دردِ دل پیدا کر دیتا ہے جس سے دعا میں رقت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی اضطراب اوراضطرار اور قبولیت دعا کا موجب ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر اٹھنے میں سستی اور غفلت سے کام لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ درد اور سوز دل میں نہیں کیونکہ نیند تو غم کو دور کر دیتی ہے۔ لیکن جبکہ نیند سے بیدار ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی درد اور غم نیند سے بھی بڑھ کر ہے جو بیدار کر رہا ہے‘‘۔ (ملفوظات۔ جلد دوم۔ صفحہ۱۸۲۔ ایڈیشن۱۹۸۸ء)

حضرت اقد س مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’راتوں کو اٹھواور دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی راہ دکھلائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بھی تدریجاً تربیت پائی۔ وہ پہلے کیا تھے۔ ایک کسان کی تخم ریزی کی طرح تھے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آبپاشی کی۔ آپ نے ان کے لئے دعائیں کیں۔ بیج صحیح تھا اور زمین عمدہ تو اس آبپاشی سے پھل عمدہ نکلا۔ جس طرح حضور علیہ السلام چلتے اسی طرح وہ چلتے۔ وہ دن کا یا رات کا انتظار نہ کرتے تھے۔ تم لوگ سچے دل سے توبہ کرو۔ تہجد میں اٹھو، دعا کرو، دل کو درست کرو، کمزوریوں کو چھوڑ دو اور خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق اپنے قول و فعل کو بنائو‘‘۔ (ملفوظات۔ جلد اول۔ صفحہ ۲۸۔ ایڈیشن۱۹۸۸ء)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۵۱ تا ۵۶)

مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button