ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۹)(قسط ۱۳۴)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
برائیٹا کارب
Baryta carb
برائیٹا کارب کی علامتیں رکھنے والے بچے عموماً بہت جھینپنےوالے ہوتے ہیں۔سکول میں پیچھے پیچھے رہتے ہیں او ر کوئی اجنبی آجائے تو فورا ًچھپ جاتے ہیں۔اگر اس کے ساتھ کچھ جسمانی ساخت کی خرابیاں بھی ہوں تو لازماً برائیٹا کارب دینی چاہیے۔بچوں کی ٹانگوں میں کمزوری کے لیے برائیٹاکارب اور کلکیریا کارب دونوں مشہور دوائیں ہیں لیکن ان میں ایک فرق بہت واضح ہے۔کلکیریا کارب کے بچوں کی ٹانگیں کمزور ہوتی ہیں۔ان میں ہڈیوں کی صحیح نشوو نما نہیں ہوتی اس لیے صاف پتہ چلتا ہےکہ کمزور ٹانگوں والا بچہ ہے جو جلدی چل نہیں سکتا لیکن پیٹ موٹا اور سر بڑا ہوتا ہے۔ برائیٹاکارب کے مریض بچوں میں جسمانی لحاظ سے ٹانگیں ٹھیک بھی ہوں تو ان میں کمزوری پائی جاتی ہے۔اور بہت دیر سے چلنا سیکھتے ہیں۔ٹانگوں کی کمزوری اور دیر سے چلنے کی علامت بوریکس اور نیٹرم میورمیں بھی پائی جاتی ہے۔نیٹرم میور میں دو کمزوریاں اکٹھی ہوجاتی ہیں۔مریض صرف چلنے میں نہیں بلکہ بولنے میں بھی دیر کرتا ہے۔اگر مریض چلنے میں تو دیر نہ کرے مگر محض بولنا دیر سے سیکھے تو ایسے مریض کے لیے کالی فاس بہت بہتر دوا ہے۔میرا تجربہ ہے کہ کالی فاس ۶x نیٹرم میور سے ملا کر دینا دیر سے چلنے اور بولنے والے بچوں کے لیے بہت مفید نسخہ ہے۔ (صفحہ۱۲۶)
بعض بچیوں میں یہ علامت پائی جاتی ہے کہ ان میں بلوغت کے آثار بہت دیر سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس علامت میں برائیٹا کارب بہت مفید ہے۔ اس دوا کا سب سے زیادہ اثر گلینڈز پر ظاہر ہوتا ہے۔ گلینڈ ز (غدود) میں سوزش ہو جاتی ہے۔ جہاں جہاں بھی گلینڈ ز ہوں، خصوصاً گلے کے اوپر والے حصہ میں، وہاں مستقل سوجن ہو جاتی ہے۔ ہر دفعہ بیماری کا حملہ اس سوجن میں اضافہ کر دیتا ہے۔ اسی طرح جسم پر چربی کے ٹیومر بن جاتے ہیں۔ پیٹھ اور جسم کے دیگر حصوں پر موٹی موٹی گلٹیاں نظر آئیں گی۔ بعض لوگوں کے جسم پر بہت بھدے چھوٹے چھوٹے گول ابھار بن جاتے ہیں لیکن ان کا برائیٹا کارب سے کوئی تعلق نہیں ہو تا۔ ان کے لیے مزاج کو پرکھ کر زیادہ گہری دوا تلاش کرنی پڑتی ہے۔ برائیٹا کا رب میں جو گلینڈ ایک دفعہ موٹا ہو جائے وہ کم نہیں ہو تا۔ باقی جسم سوکھ بھی جائے تو سوجی ہوئی گلٹیاں یا بڑھا ہوا پیٹ کم نہیں ہوں گے۔ ایسی صورت میں بار بار برائیٹا کارب اونچی طاقت میں دینی پڑتی ہے۔ برائیٹا کارب لمبے عرصہ تک مسلسل دی جا سکتی ہے۔ (صفحہ۱۲۶-۱۲۷)
برائیٹا کارب اوپر کے بلڈ پریشر (Systolic)میں مفید ہوتی ہے لیکن نچلے بلڈ پریشر (Diasystolic)پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ جو مریض لمبے عرصہ تک برائیٹا کارب استعمال کرے اس کا بلڈ پریشر متواتر چیک کرتے رہنا چاہیے کہ کہیں اوپر کا بلڈ پریشر زیادہ تو نہیں گر گیا۔اگر اوپر کا بلڈ پریشر زیادہ گر چکا ہو تو کچھ عرصہ تک برائیٹا کارب روک کر حسب ضرورت دوبارہ استعمال کی جاسکتی ہے۔ (ص۱۲۷)
آرٹیریو سکلروسس (Arteriosclerosis) یعنی ذہن کی شریانوں کے سکڑ جانے سے جو تکلیفیں پیدا ہوتی ہیں ان کے علاج کے طور پر برائیٹا کارب ایک نہایت اہم دوا ہے۔ اسی طرح ایسے مریض کو مستقلاً کریٹیگس (Crataegus) دینا بہت فائدہ مند ثابت ہو تا ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ آرٹیریو سکلروسس کا مریض بہت آہستہ آہستہ بنتا ہے یعنی یہ بیماری سال ہا سال میں اپنی تکمیل کو پہنچتی ہے اور دور بھی آہستہ آہستہ ہی ہوتی ہے۔ پس یہ امید نہ رکھی جائے کہ ادھر برائیٹاکارب دی اور ادھر مریض دو چار مہینے کے اندر بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔ کم سے کم ایک سال یا دو سال تک اسے صبر کے ساتھ استعمال کروانا چاہیے۔ اس پہلو سے یہ اکثر بوڑھوں کی بہترین دوست ثابت ہوتی ہے اور فی الحقیقت یہ ارذل العمر کی دوا ہے۔ پس یا بچوں میں اس کی زیادہ ضرورت پیش آتی ہے یا بہت بوڑھوں میں۔ (صفحہ۱۲۷-۱۲۸)
کینٹ نے لکھا ہے کہ ہر قسم کے چربی کے غدود رسولیاں لیوپس (Lupus) حتی کہ تپ دق کے پھوڑوں میں بھی برائینا کا رب اچھا اثر دکھاتی ہے لیکن مجھے ان امور کا ابھی کوئی تجربہ نہیں۔ جسم کی بیرونی سطح پر ابھرنے والے موٹے موٹے ٹیومر جو بہت بد زیب دکھائی دیتے ہیں اور تکلیف دہ ہوتے ہیں میں نے بارہا ان میں برائیٹا کا رب استعمال کروائی مگر فائدہ نہیں ہوا۔ ممکن ہے وہ چربی کے ٹیومر نہ ہوں کیونکہ برائیٹا کارب کا تعلق صرف چربی کے ٹیومر سے ہوتا ہے اور ان میں واقعتا یہ فائدہ دیتی ہے۔ اسی طرح میرے استعمال میں لیوپس پر بھی اس کا کوئی خاص اثر ظاہر نہیں ہوا۔ کینٹ کی رائے کے مطابق اگر مریض کے مزاج کے موافق علاج کرنا ہو تو برائیٹاکارب کی سب طاقتیں استعمال کرنی چاہئیں۔ صرف ایک ہی پوٹینسی پر انحصار کر کے بیٹھ نہیں رہنا چاہیے کیونکہ بعض دفعہ بہت گہری بیماری میں برائیٹا کارب کی چھوٹی پوٹینسیاں کام نہیں کرتیں۔ کچھ عرصہ کے بعد ہزار پھر دس ہزار پھر پچاس ہزار اور پھر ایک لاکھ پوٹینسی تک بھی مناسب وقفے ڈال کر استعمال کرنی چاہیے۔ جس بیماری میں یہ ابتدا میں کامیاب ثابت ہو اس کو بالآخر کلیۃً جڑ سے بھی اکھیٹر پھینکتی ہے۔(صفحہ۱۲۸)
بعض مریضوں کو سر ہلانے پر یہ احساس ہوتا ہےکہ ان کا دماغ بھی اندر ہل رہا ہے۔یہ علامت خصوصیت سے برائیٹاکارب سے تعلق رکھتی ہے۔اگر دماغ کو خون کی فراہمی کچھ عرصہ تک رک جانے کی وجہ سے مرگی کا مرض پیدا ہو جیسا کہ میننجائٹس (Meningitis) میں ہوجایا کرتا ہےتو اس مرگی میں برائیٹا کارب کو اگر باقاعدہ لمبے عرصہ تک استعمال کیا جائے تو یہ شفا کا موجب بن سکتی ہے۔ اگر خون کی شریان پھٹ جائے اور سرخ رنگ کا خون بہنے لگے تو فاسفورس کے علاوہ برائیٹا کا رب بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔(صفحہ۱۲۸-۱۲۹)
برائیٹا کارب کی آنکھوں کی بیماریوں میں آنکھوں کے پپوٹے ایک دفعہ اندرونی رساؤ کے جم جانے کی وجہ سے موٹے ہو جائیں تو موٹے ہی رہ جاتے ہیں۔ برائیٹا کارب کی یہ علامت ہر قسم کے غدودوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ گلے کے غدود اگر ایک دفعہ سوج جائیں تو پھر کم ہونے کا نام نہیں لیتے اور مستقل سوجے ہی رہتے ہیں۔(صفحہ۱۲۹)
ایک بچے کی ٹانگیں پولیو کے حملہ کی وجہ سے ٹیڑھی ہو گئی تھیں اسے سلفر اور برائیٹا کارب دی گئیں جن سے اتنا نمایاں فائدہ ہوا کہ وہ اب معمول کے مطابق زندگی گزار رہا ہے اگرچہ مکمل صحت نہیں ہے لیکن چلتا پھرتا ہے، حالانکہ ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی یہ تکلیف بڑھتی جائے گی۔ ہومیو پیتھک دوائیں دیکھنے میں معمولی لگتی ہیں مگر یہ بہت گہرے اور دور رس اثرات کی حامل ہوتی ہیں۔(صفحہ۱۳۱)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)
مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۸)(قسط ۱۳۳)




