شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
نفسانی جوشوں سے مغلوب نہ ہو
پھر اسی شرط دوئم میں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ نفسانی جوشوں کے وقت اس کا مغلوب نہیں ہوگا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’روحانی وجود کا چوتھا درجہ وہ ہے جس کو خداتعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا ہے۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ یعنی تیسرے درجہ سے بڑھ کر مومن وہ ہیں جو اپنے تئیں نفسانی جذبات اور شہوات ممنوعہ سے بچاتے ہیں۔ یہ درجہ تیسرے درجہ سے اس لئے بڑھ کر ہے کہ تیسرے درجہ کا مومن تو صرف مال کو جو اس کے نفس کو نہایت پیارا اور عزیز ہے خداتعالیٰ کی راہ میں دیتا ہے لیکن چوتھے درجہ کا مومن وہ چیز خداتعالیٰ کی راہ میں نثار کرتا ہے جو مال سے بھی زیادہ پیاری اور محبوب ہے یعنی شہوات نفسانیہ۔ کیونکہ انسان کو اپنی شہوات نفسانیہ سے اس قدر محبت ہے کہ وہ اپنی شہوات کے پورا کرنے کے لئے اپنے مال عزیز کو پانی کی طرح خرچ کرتا ہے اور ہزارہا روپیہ شہوات کے پورا کرنے کے لئے برباد کر دیتا ہے اور شہوات کے حاصل کرنے کے لئے مال کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتا۔ جیسا کہ دیکھا جاتا ہے ایسے نجس طبع اور بخیل لوگ جو ایک محتاج، بھوکے اور ننگے کو بباعث سخت بخل کے ایک پیسہ بھی دے نہیں سکتے شہوات نفسانیہ کے جوش میں بازاری عورتوں کو ہزارہا روپیہ دے کر اپنا گھر ویران کر لیتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ سیلاب شہوت ایسا تند اور تیز ہے کہ بخل جیسی نجاست کو بھی بہا لے جاتا ہے۔ اس لئے یہ بدیہی امر ہے کہ بہ نسبت اس قوت ایمانی کے جس کے ذریعہ سے بخل دور ہوتا ہے اور انسان اپنا عزیز مال خدا کے لئے دیتا ہے یہ قوت ایمانی جس کے ذریعہ سے انسان شہوات نفسانیہ کے طوفان سے بچتا ہے نہایت زبردست اور شیطان کا مقابلہ کرنے میں نہایت سخت اور نہایت دیرپا ہے کیونکہ اس کا کام یہ ہے کہ نفس امارہ جیسے پرانے اژدھا کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالتی ہے۔ اور بخل تو شہوات نفسانیہ کے پورا کرنے کے جوش میں اور نیز ریاء اور نمود کے وقتوں میں بھی دُور ہو سکتا ہے۔ مگر یہ طوفان جو نفسانی شہوات کے غلبہ سے پیدا ہوتا ہے یہ نہایت سخت اور دیرپا طوفان ہے جو کسی طرح بجز رحم خداوندی کے دُور ہوہی نہیں سکتا اور جس طرح جسمانی وجود کے تمام اعضاء میں سے ہڈی نہایت سخت ہے اور اس کی عمر بھی بہت لمبی ہے اسی طرح اس طوفان کے دُور کرنے والی قوت ایمانی نہایت سخت اور عمر بھی لمبی رکھتی ہے تا ایسے دشمن کا دیر تک مقابلہ کر کے پامال کر سکے اور وہ بھی خداتعالیٰ کے رحم سے۔ کیونکہ شہوات نفسانیہ کا طوفان ایک ایسا ہولناک اور پرآشوب طوفان ہے کہ بجز خاص رحم حضرت احدیت کے فرو نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے حضرت یوسف کو کہنا پڑا وَمَآ اُبَرِّیُٔ نَفْسِیْ۔ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِالسُّوْٓئِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا۔ نفس نہایت درجہ بدی کا حکم دینے والا ہے اور اس کے حملہ سے مخلصی غیرممکن ہے مگر یہ کہ خود خداتعالیٰ رحم فرما دے۔ اس آیت میں جیسا کہ فقرہ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْہے۔ طوفان نوح کے ذکر کے وقت بھی اسی کے مشابہ الفاظ ہیں کیونکہ وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِاللّٰہِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ طوفان شہوات نفسانیہ اپنی عظمت اور ہیبت میں نوح کے طوفان سے مشابہ ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن۔ جلد ۲۱۔ صفحہ ۲۰۵-۲۰۶)
خلاصہ کلام یہ کہ فرمایا ہے کہ شہوات تم پر ہمیشہ غلبہ پانے کی کوشش کریںگی۔ لیکن تم ان سے ہمیشہ بچو، اللہ تعالیٰ سے رحم مانگتے ہوئے ان سے بچو۔ آج کل کے زمانے میں تو اس کے بہت سے اور راستے بھی کھل گئے ہیں اس لئے پہلے سے بڑھ کر دعائیں کرنے کی، اللہ کی طرف جھکنے کی اور اس کا رحم مانگنے کی ضرورت ہے۔
اَ لَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ۔ وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖ اَوْلِیَآءَ مَا نَعْبُدُھُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی۔ اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ بَیْنَھُمْ فِیْ مَا ھُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ ھُوَ کَاذِبٌ کَفَّارٌ (الزمر:آیت ۴)
خبردار! خالص دین ہی اللہ کے شایانِ شان ہے اور وہ لوگ جنہوں نے اُس کے سوا دوست اپنا لئے ہیں (کہتے ہیںکہ) ہم اس مقصد کے سوا اُن کی عبادت نہیں کرتے کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کرتے ہوئے قرب کے اونچے مقام تک پہنچادیں۔ یقیناً اللہ اُن کے درمیان اُس کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ اللہ ہرگز اُسے ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا (اور) سخت ناشکرا ہو۔
حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اسی خدا کو مانوجس کے وجود پر توریت اور انجیل اور قرآ ن تینوں متفق ہیں۔ کوئی ایسا خدا اپنی طرف سے مت بنائو جس کا وجود ان تینوں کتابوں کی متفق علیہ شہادت سے ثابت نہیں ہوتا۔ وہ بات مانو جس پر عقل اور کانشس کی گواہی ہے اور خدا کی کتابیں اس پر اتفاق رکھتی ہیں۔ خدا کو ایسے طورسے نہ مانو جس سے خداکی کتابوں میں پھوٹ پڑ جائے۔ زنا نہ کرو ، جھوٹ نہ بولو اور بدنظری نہ کرو اورہر ایک فسق اور فجور اورظلم اور خیانت اورفساد اور بغاوت کی راہوں سے بچو۔ اور نفسانی جوشوں سے مغلوب مت ہو اور پنج وقت نماز ادا کرو کہ انسانی فطرت پر پنج طورپر ہی انقلاب آتے ہیں۔ اوراپنے نبی کریم کے شکرگزار رہو، اس پر درود بھیجو کیونکہ وہی ہے جس نے تاریکی کے زمانہ کے بعد نئے سرے خداشناسی کی راہ سکھلائی‘‘۔
فرمایا: ’’یہ وہ میرے سلسلہ کے اصول ہیں جو اس سلسلہ کے لئے امتیازی نشان کی طرح ہیں جس انسانی ہمدردی اور ترک ایذاء بنی نوع اور ترک مخالفت حکاّم کی یہ سلسلہ بنیاد ڈالتاہے دوسرے مسلمانوں میں اس کا وجود نہیں۔ان کے اصول اپنی بے شمار غلطیوں کی وجہ سے اور طرز کے ہیں جن کی تفصیل کی حاجت نہیں اور نہ یہ ان کا موقع ہے‘‘ ۔ (ضمیمہ تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۵۲۴ تا ۵۲۶)
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۴۳ تا ۴۶)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں



