محض اپنے خیالات اور آرزو کے مطابق مذہب پر عمل کرنا اطاعت نہیں
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۵؍جنوری ۱۹۱۵ء)
۱۹۱۵ء میں حضورؓ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؓ نے اللہ تعالیٰ کی حقیقی اطاعت کے فلسفہ کو بیان فرمایا ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
اطاعت اسی کا نام ہے کہ جب اپنی عادات، اپنے خیالات، اپنی خواہشات اور اپنی آرزوؤں کے خلاف کوئی حکم پہنچے تو اس پر عمل کر کے دکھایا جائے
حضورؓ نے تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی:
اس کے بعد فرمایا:
ایک بہت بڑی مرض جو انسان کی روح کو کھانے والی ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنے منشاء، اپنے ارادے اور اپنے خیالات اور اپنی آرزو کے مطابق مذہب کی جو بات دیکھتے ہیں صرف اسی پر عمل کرنا کافی سمجھتے ہیں اور اس سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اطاعت ہو چکی ہے۔ چونکہ انسانوں کی فطرتیں ان کے اخلاق اور عادات، مختلف حالات اور صحبتوں کی وجہ سے بدلتے رہتے ہیں اس لئے ہر ایک انسان اپنا ایک خاص ذوق رکھتا ہے۔ اپنے ذوق کو انسان آسانی سے پورا کر لیتا ہے۔
اگر ہندوستان کے ہی مختلف علاقوں میں لوگوں کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض جگہ کے لوگ نمازوں کے زیادہ پابند ہوتے ہیں اور روزوں میں سستی کرتے ہیں اور بعض جگہ کے لوگ زکوٰۃ تو بڑی پابندی سے دیتے ہیں مگر نماز روزہ کی پرواہ نہیں کرتے۔ اسی طرح بعض جگہ نماز روزہ کی تو پابندی کی جاتی ہے مگر زکوٰۃ نہیں دیتے۔ بعض جگہ کے لوگ حج نہیں کرتے اور بعض جگہ تو ایسے ہوتے ہیں کہ اگر حج کے لئے بھی جائیں تو شاید ہی اس سفر میں بھی نماز پڑھیں۔ اب اس نماز، اس روزہ، اس زکوٰۃ اور اس حج کو خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اگر وہ خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتے ہوتے تو جس خدا نے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اسی نے روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ہے۔ اور جس خدا نے زکوٰۃ دینے کا ارشاد فرمایا ہے اسی نے حج کی تاکید فرمائی ہے لیکن ان کے ایک حکم ماننے اور دوسرے کو ترک کرنے، ایک حکم کے قبول کرنے اور دوسرے کو ردّ کرنے نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ ایسے لوگ جس فعل کو خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری سمجھتے ہیں وہ اصل میں فرمانبرداری نہیں بلکہ ان کے نفس اور ذوق کے مطابق وہ بات تھی جس کو انہوں نے کر دیا ہے۔ ہاں
اطاعت اور فرمانبرداری کا ثبوت تب ملتا ہے جبکہ ہر ایک رنگ میں اور ہر ایک رنگ کا مطیع اور فرمانبردار انسان اپنے آپ کو کر دکھائے خواہ وہ حکم اس کے ذوق، منشاء ، خواہش، خیالات، رسم و رواج اور عادات کے مطابق ہو یا مخالف، وہ اس میں اپنی اطاعت اور فرمانبرداری میں سرِمو فرق نہ آنے دے۔
لیکن اگر کوئی انسان احکام کے ایک حصہ کی اطاعت اور ایک حصہ کی مخالفت کرتا ہے تو اسے خوب سمجھ لینا چاہیے کہ اس بات کو اطاعت اور فرمانبرداری سمجھنے سے اس کا نفس اسے دھوکا اور فریب دے رہا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اطاعت کیش ہوں حالانکہ وہ نافرمان ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے دوستوں میں داخل ہوں حالانکہ اس کا دشمنوں سے تعلق ہے۔ کیونکہ
ہر ایک انسان کی فرمانبرداری کا ثبوت تب ہی ملتا ہے جبکہ وہ اپنے عادات، خیالات اور ذوق کے خلاف باتوں میں بھی اطاعت کرے اور ان کے پورا کرنے میں پورا نکلے۔
بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی طبیعتوں میں غصہ نہیں ہوتا۔ ان کے خلاف اگر کوئی بات کہتا ہے تو وہ بڑی خندہ پیشانی سے اس کو برداشت کرتے ہیں۔ اور عفو اور درگزر خدا تعالیٰ کی ان پاک تعلیموں میں سے ہیں جو اس نے انسان کے لئے مقرر فرمائیں۔ تو بے شک ایسے انسان عفو و درگزر کرتے ہیں لیکن اگر ان پر کوئی ایسا موقع آئے جہاں خدا تعالیٰ کے لئے غضب اور ناراضگی کی ضرورت ہے اور وہ وہاں بھی عفو اور درگزر کرتے ہیں تو معلوم ہوا کہ ان کا یہ عفو اور درگزر کوئی اَور چیز ہے کیونکہ ان کا عفو خدا تعالیٰ کے حکم اور منشاء کے ماتحت ہوتا تو جہاں اللہ تعالیٰ کا منشاء تھا کہ عفو کی بجائے غضب ہو وہاں کیوں غضب سے کام نہ لیتے اور عفو کو دور کر دیتے۔ یہ ان کی عادت، ذوق اور طبیعت تھی جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ ایسا کرتے تھے۔ اور اس کو خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری نہیں کہا جا سکتا۔
اطاعت اسی کا نام ہے کہ جب اپنی عادات، اپنے خیالات، اپنی خواہشات اور اپنی آرزوؤں کے خلاف کوئی حکم پہنچے تو اس پر عمل کر کے دکھایا جائے۔
یہود کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے ان کا یہی حال تھا۔ یہ بڑے بڑے گناہ تو کر لیتے تھے اور بڑے ضروری احکام کی خلاف ورزی کرنے کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ لیکن چھوٹی باتوں اور حکموں کے متعلق کہہ دیتے تھے کہ ہم ان کی پابندی کرتے ہیں کیونکہ یہ خدا کے حکم ہیں۔ ان کو حکم تھا کہ دیکھو قتل مت کرو۔ جس طرح ہمیں حکم ہے اسی طرح ان کو تھا کہ وہ لوگوں پر ظلم نہ کریں، انہیں قتل نہ کریں اور اپنے لوگوں کو گھروں سے نہ نکالو۔ یہی حکم مسلمانوں کو ہے مگر یہود لڑائی جھگڑے میں خوب ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ ان کے تین قبیلے مدینہ میں رہتے تھے۔ بنو نضیر، بنو قینقاع، بنو خزاعہ۔ ان کے نام تھے۔ بنونضیر مشرکین کے ایک گروہ کے ساتھ تھے۔ اور بنو قینقاع اور بنو خزاعہ ایک دوسرے کے حلیف تھے۔ جب مشرک آپس میں لڑتے تو انہیں بھی ساتھ ہی لڑنا پڑتا تھا۔ ایک دوسرے کے آدمی بھی مارے جاتے تھے۔ جلا وطن کیے جاتے تھے۔ یہاں تک تو کوئی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے قتل کرنے اور جلا وطن کرنے سے منع کیا ہوا ہے۔ اس لئے نہ کریں۔ لیکن جب ان کا کوئی آدمی قید ہو جاتا تو پھر وہ چندہ کر کے اس کے چھڑانے کی فکر کرتے اور کہتے کہ بائبل کا چونکہ حکم ہے کہ کوئی یہودی غیر قوم کے پاس قیدی نہ رہے اس لئے ہم اس حکم کی تعمیل کے لئے اسے چھڑاتے ہیں۔ انہیں قتل کرنے اور جلا وطن کرنے کے وقت تو بائبل کا حکم یاد نہ آیا لیکن قیدی کے لئے یاد آگیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بھلا ان کی اس اطاعت سے ہم خوش ہو سکتے ہیں، ہرگز نہیں۔
ایسی اطاعت کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔ جو حکم اپنی مرضی کے مطابق دیکھا اس کی تعمیل کر لی اور جو نہ دیکھا اس کو پسِ پشت ڈال دیا۔ ایسی اطاعت سے ہم خوش نہیں ہو سکتے بلکہ اور غصہ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ہم ذلیل اور خوار کریں گے۔
یہ شریر آدمی جب اپنی مرضی کے خلاف بات دیکھتے ہیں تو بڑے بڑے احکام کی پرواہ نہیں کرتے اور ان کی خلاف ورزی کر لیتے ہیں اور جب اپنی مرضی کے مطابق پاتے ہیں تو مان لیتے ہیں۔ مومن کی شان سے یہ بات بعید ہے۔
مومن تو ہر ایک بات اور ہر ایک حکم میں خواہ اس کی مرضی کے مطابق ہو یا نہ ہو خدا تعالیٰ کی رضامندی کے حاصل کرنے کی سعی اور کوشش کرتا ہے۔
یہ بہت گندی مرض ہے کہ جو بات اپنی مرضی کے مطابق دیکھی اس کو مان لیا اور جو خلاف ہوئی اس کو ترک کر دیا۔
مومن خدا تعالیٰ کے احکام میں اپنی مرضی نہیں دیکھتے وہ ہر بات میں خدا تعالیٰ کی مرضی کو مدنظر رکھتے ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ فرماتے تھے کہ ایک شخص زانی تھا۔ میں نے اس کو نصیحت کی کہ یہ کام چھوڑ دے۔ وہ کہنے لگا میں نے اس عورت سے عہد کیا ہوا تھا کہ تم سے بے وفائی نہیں کروں گا۔ اچھا اب آپ فرماتے ہیں تو میں بے وفائی کا جرم کرلیتا ہوں۔ اس شخص نے بے وفائی اور عہد کے توڑنے کو تو گناہ سمجھا لیکن زنا کرنے کے وقت اسے کسی گناہ کا خیال نہ آتا تھا۔ تو بعض انسان ایسے ہوتے ہیں کہ ایک حد تک جب اپنی خواہشات کو پورا کر لیتے ہیں اور جوش نکال لیتے ہیں تو پھر کسی چھوٹی سی بات کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ خداتعالیٰ کا حکم اس کے خلاف ہے اس لئے ہم اس گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے۔ لیکن مومن کے لئے ضرورت ہے کہ وہ ہر وقت ہوشیار رہے اور خدا تعالیٰ کے تمام حکم خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، اس کی مرضی کے مطابق ہوں یا خلاف، سب میں فرمانبرداری اور اطاعت کرے اور کسی بات کی بھی خلاف ورزی نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب لوگوں کو اپنے تمام احکام کی فرمانبرداری کرنے کی توفیق دے اور ہر قسم کی نافرمانی سے بچائے۔
( الفضل ۲۱؍ جنوری ۱۹۱۵ء )
مزید پڑھیں: حفاظتِ ایمان




