خطبہ الہامیہ – ایک عظیم الشان نشان
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی کتاب ’’نزول المسیح‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’عید اضحی کی صبح کو مجھے الہام ہو اکہ کچھ عربی میں بولو۔ چنانچہ بہت احباب کو اس بات سے اطلاع دی گئی اور اس سے پہلے میں نے کبھی عربی زبان میں کوئی تقریر نہیں کی تھی لیکن اس دن میں عید کا خطبہ عربی زبان میں پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ایک بلیغ فصیح پُرمعانی کلام عربی میں میری زبان میں جاری کی جو خطبہ الہامیہ میں درج ہے۔ وہ کئی جز کی تقریر ہے جو ایک ہی وقت میں کھڑے ہو کر زبانی فی البدیہہ کہی گئی۔ اور خدا نے اپنے الہام میں اس کا نام نشان رکھا کیونکہ وہ زبانی تقریر محض خدائی قوت سے ظہور میں آئی۔ میں ہرگز یقین نہیں مانتا کہ کوئی فصیح اور اہل علم اور ادیب عربی بھی زبانی طور پر ایسی تقریر کھڑا ہو کر کر سکے۔ یہ تقریر وہ ہے جس کے اِس وقت قریباً ڈیڑھ سو آدمی گواہ ہوں گے۔‘‘ (نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18صفحہ588)
پھر حقیقۃ الوحی میں آپ ذرا تفصیل سے فرماتے ہیں کہ ’’11؍اپریل 1900ء کو عید اضحی کے دن صبح کے وقت مجھے الہام ہوا کہ آج تم عربی میں تقریر کرو تمہیں قوت دی گئی۔ اور نیز یہ الہام ہوا کَلَامٌ أُفْصِحَتْ مِنْ لَّدُنْ رَبٍّ کَرِیْمٍ یعنی اس کلام میں خدا کی طرف سے فصاحت بخشی گئی ہے۔ چنانچہ اس الہام کو اسی وقت اخویم مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اور اخویم حکیم مولوی نور دین صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب اور مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ایم اے اور ماسٹر عبدالرحمٰن صاحب اور ماسٹر شیر علی صاحب بی اے اور حافظ عبد العلی صاحب اور بہت سے دوستوں کو اطلاع دی گئی۔ تب میں عید کی نماز کے بعد عید کا خطبہ عربی زبان میں پڑھنے کے لئے کھڑا ہو گیا اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ غیب سے مجھے ایک قوت دی گئی اور وہ فصیح تقریر عربی میں فی البدیہہ میرے منہ سے نکل رہی تھی کہ میری طاقت سے بالکل باہر تھی اور میں نہیں خیال کر سکتا کہ ایسی تقریر جس کی ضخامت کئی جزو تک تھی ایسی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ بغیر اس کے کہ اول کسی کاغذ میں قلمبند کی جائے کوئی شخص دنیا میں بغیر خاص الہام الٰہی کے بیان کرسکے۔ جس وقت یہ عربی تقریر جس کا نام خطبہ الھامیہ رکھا گیا لوگو ں میں سنائی گئی اس وقت حاضرین کی تعداد شاید دوسو کے قریب ہو گی۔ سبحان اللہ اس وقت ایک غیبی چشمہ کھل رہا تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ مَیں بول رہا تھا یا میری زبان سے کوئی فرشتہ کلام کر رہا تھا کیونکہ مَیں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا۔ خود بخود بنے بنائے فقرے میرے منہ سے نکلتے جاتے تھے اور ہر ایک فقرہ میرے لئے ایک نشان تھا۔ چنانچہ تمام فقرات چھپے ہوئے موجود ہیں جن کا نام خطبہ الہامیہ ہے۔ اس کتاب کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ کیا کسی انسان کی طاقت میں ہے کہ اتنی لمبی تقریر بغیر سوچے اور فکر کے عربی زبان میں کھڑے ہو کر محض زبانی طور پر فی البدیہہ بیان کرسکے۔ یہ ایک علمی معجزہ ہے جو خدانے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیرپیش نہیں کر سکتا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 375-376)
پس یہ چیلنج آج تک قائم ہے۔
(خطبہ جمعہ ۱۱؍اپریل ۲۰۱۴ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲؍مئی ۲۰۱۴ء)
مزید پڑھیں: کیا گاڑی سود پر خریدی جا سکتی ہے؟



