فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

ترا عقل تو ہر دم پائے بند کبر میدارد
برو عقلے طلب کن کت ز خود بینی بروں آرد
تیری عقل ہر وقت تجھے تکبر میں گرفتار رکھتی ہے جا اور ایسی عقل تلاش کر جو تجھے خود بینی سے نجات دے۔
ہماں بہتر کہ ما آں علم حق از حق بیاموزیم
کہ ایں علمے که ما داریم صد سہو و خطا دارد
یہی بہتر ہے کہ ہم خدا کے علم کو خدا سے ہی سیکھیں کیونکہ جو علم ہمارے پاس ہے اُس میں سینکڑوں غلطیاں ہیں۔
که گوید بہتر از قولش گر او خاموش بنشیند
کہ دستت اے ناداں گر او دست تو بگذارد
اگر خدا خاموش رہے تو اُس سے بہتر بات کون کہہ سکتا ہے اگر وہ تجھے چھوڑ دے تو پھر کون تیری دستگیری کر سکتا ہے
برو قدرش بہ بیں وز حجتِ بے اصل دم درکش
کہ ایں حجت که می آری بلاہا بر سرت آرد
جا اور اُس کی قدر پہچان اور حجت بازی کو چھوڑ دے کیونکہ جو بات تو پیش کرتا ہے وہ تیرے سر پر مصیبتیں لائے گی
( براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۶۹ بحوالہ درثمین فارسی جلد اوّل مترجم صفحہ ۷۷)




