حالاتِ حاضرہ

مذاہبِ عالم: خبریں اور تجزیہ

(جنوری /فروری ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (المصلح الموعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۱۹۱۴ء میں اخبار الفضل کے آغاز پر اس کے اجرا کا ایک مقصد احبابِ جماعت کو فی زمانہ دیگر مذاہب سے متعلق امور سے باخبر رکھنا بھی بیان فرمایا تھا۔ اس کے پیش نظر ’’مذاہبِ عالم:خبریں اور تجزیہ‘‘ کے عنوان سے ایک سلسلہ شروع کرنے کی عاجزانہ کاوش کی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس سلسلے میں برکت عطا فرمائے،قارئین اس سے کماحقہ استفادہ کرتے ہوئے تبلیغ اسلام کے لیے جدید اور بہتر طریقے اپنائیں نیز یہ کہ الفضل کو خلافتِ احمدیہ اور بانی الفضلؓ کے ارشادفرمودہ خطوط پر موثر اور مدلل انداز میں اپنے فرائض سرانجام دینے کی توفیق ملے۔ آمین (مدیر)

اسلام

ماہ فروری کے آغاز میں مسلمان معاشروں میں شب برات منائی جاتی ہے، جس میں مساجد اور گھروں میں خصوصی عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لوگ نوافل کی ادائیگی،قرآن خوانی اور دعاؤں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔

مشہور کیا جاتا ہے کہ اس رات کے کچھ لمحات کو خصوصی فضیلت حاصل ہے۔اس رات گناہوں میں ڈوبے بندوں کےلیے توبہ کے دروازے کھول دیےجاتے ہیں۔مسلمان علماء اسلامی کیلنڈر کے ماہ شعبان کی پندرھویں رات کے بے شمارفضائل بتاتے ہیں، کہتے ہیں کہ بندوں کا سال بھرکا رزق،زندگی اورموت سےمتعلق فیصلےبھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے شب برات میں ہی لکھے جاتے ہیں۔لیکن ایک احمدی شاعر نے کیا خوب منظر کشی کی ہے کہ

غیروں کے جو قریب ہیں، اپنوں سے دُور ہیں

حیرانیوں میں غرق ہوں، کیسی یہ بات ہے

یوں تو تمام عمر ہی ظلم و ستم کیے

کیا اک شب برات ہی معافی کی رات ہے

قارئین کرام! حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ اس بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:’’شب برات کا جو بھی رواج ہے اس کی سنّت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ صحابہ کرام ؓنے نہ شب برات منائی، نہ آپ کی بعد کی نسلوں نے، نہ آپ کے بعد کی نسلوں نے۔ پس اگر اتنا ہی اہم ایک دن تھا تو کیا اس دن کا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم نہ ہوا (دن بمعنی چوبیس گھنٹوں کے بات کر رہا ہوں یعنی رات ہی کہہ لیں اس کو ) اتنی اہم رات کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کوئی ایسا ذکر نہیں فرمایا کہ اس کو اس طرح مناؤ۔ مختلف علماء نے اس پر روشنی ڈالی ہے اور قطعی طور پر اُن حدیثوں کو جن حدیثوں میں شب برات کا ذکر ملتا ہے یا کمزور یا جھوٹی یا مصنوعی قرار دیا ہے اور ساتھ یہ استنباط فرمایا ہے کہ اگر ان حدیثوں کو سچا بھی سمجھو جو علماء کے نزدیک درست نہیں ہیں، بعد کی بنائی ہوئی باتیں ہیں، تو پھر بھی جس رنگ میں آج کل شب برات منائی جاتی ہے اس کی کوئی سند نہیں ہے۔ بلکہ یہ صریح گمراہی ہے۔‘‘(پروگرام MTAاردو ملاقات ۶؍مئی ۱۹۹۴ء)

دیکھا گیا ہے کہ مخلوط معاشروں میں رہنے والے اور سوشل میڈیا پر غیر معمولی وقت خرچ کرنے والے بعض احمدی بھی ناسمجھی میں دیکھا دیکھی شب برات کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ ایک بدعت اور رسم ہے جس سے اجتناب ضروری ہے۔

اسماعیلی شیعہ مسلمانوں کا معروف فرقہ ہے جس کی تاریخی، مذہبی اور سماجی اعتبار سے خاص اہمیت ہے۔ اسماعیلیوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے ہیں۔ کہا جا تا ہے کہ ایک کروڑ ۲۰ لاکھ سے ایک کروڑ پچاس لاکھ (۱۲–۱۵؍ملین) اسماعیلی دنیا بھر میں موجود ہیں۔ان میں اکثریت نزاری اسماعیلی ہیں جو آغا خان کے ماننے والے ہیں۔

اسماعیلی زیادہ ترپاکستان، بھارت،تاجکستان، افغانستان، شام، ایران وغیرہ کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں،براعظم افریقہ میں کینیا، تنزانیہ، یوگنڈاا ور مغربی دنیا میں کینیڈا، برطانیہ، امریکہ میں اسماعیلی موجود ہیں۔

اگرچہ اسماعیلی تعداد کے لحاظ سے تو بہت زیادہ نہیں ہیں مگر مختلف شعبوں میں ان کا اثر نمایاں ہے۔اسماعیلی کمیونٹی خصوصاً Aga Khan Development Network۔(AKDN) کے ذریعے دنیا کے کئی ممالک میں یونیورسٹیاں ہسپتال تعلیمی ادارے ترقیاتی منصوبے چلا رہی ہے، خاص طور پر افریقہ اور ایشیا کے ترقی پذیر علاقوں میں ان کا نمایاں کام ہے۔

اسماعیلی عام طور پر تعلیم پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، کاروبار اور پیشہ ورانہ شعبوں میں نمایاں نظر آتے ہیں اور نسبتاً منظم کمیونٹی نظام رکھتے ہیں۔ اور عالمی سطح پر تشخص کی بات کی جائے تو ان کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان (Aga Khan IV) عالمی سطح پر ترقیاتی، تعلیمی اور ثقافتی منصوبوں کے حوالے سے معروف شخصیت رہے ہیں۔ان کے ادارے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں کے ساتھ بھی کام کرتے رہے ہیں۔

خبر ہے کہ شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں نے ۴؍فروری ۲۰۲۶ءکو اپنے موجودہ روحانی پیشوا شہزادہ شاہ رحیم الحسینی آغا خان کی قیادت کی پہلی سالگرہ منائی۔ کیونکہ ۴؍فروری ۲۰۲۵ء کو سابق امام، آغا خان چہارم کے انتقال کے بعد شاہ رحیم الحسینی آغا خان اسماعیلی مسلمانوں کے پچاسویں روحانی پیشوا بنے تھے۔ اس موقع پر اسماعیلی برادری عام طور پر روحانی راہنمائی، وفاداری اور کمیونٹی کی ترقی پر غور و فکر کرتی ہے، اور اسے اپنی قیادت کے تسلسل کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسماعیلی عقیدے میں اس طرح کے مواقع کو عموماً’’امامت ڈے‘‘یا اسی نوعیت کی تقریبات سے جوڑا جاتا ہے، جس میں موجودہ امام کی قیادت سنبھالنے کی یاد منائی جاتی ہے اور کمیونٹی اپنے روحانی تعلق کی تجدید کرتی ہے۔

قارئینِ کرام! کسی بھی جماعت کے لیے ایک آسمانی آقاو مولا کی موجودگی غیر معمولی نعمت ہوتی ہے اور جماعت احمدیہ یقیناً بہت زیادہ خوش نصیب ہے جسے ایسا امام میسر ہے جسے خدائے تعالیٰ کی خاص تائید حاصل ہے، جس کی عطا کردہ راہنمائی میں خدائی نصرت کے آثار نمایاں ہیں اور جس کے وجود سے عالمگیر جماعت کے لیے امن وسلامتی، برکتوں اور ترقیات کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔

یہودیت

بی بی سی اردو نے ’یہودیوں کے گمشدہ قبیلے کی اولاد‘ کے حوالے سے ایک دلچسپ خبر شائع کی جس کے مطابق انڈیا کی شمال مشرقی ریاست میزورام میں آباد ’’بنی مناشے ‘‘ کو اسرائیل میں بسایا جارہا ہے۔

یہ برادری خود کو یہودیوں کے گمشدہ قبیلے کی اولاد سمجھتی ہے۔اس وقت انڈیا میں ان کی تعداد تقریباً پانچ ہزار ۸۰۰؍ہے۔یہ برادری میزورام اور پڑوسی ریاست منی پور میں آباد ہے۔۲۰۰۵ء میں ایک یہودی عالم نے اس برادری کو یہودیت کے گمشدہ قبائل میں سے ایک تسلیم کیا تھا۔

بنی مناشے برادری میزورام کی قدیم مقامی آبادی کا حصہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کے آباء واجداد کو تقریباً ۲۷سو سال قبل قدیم اسرائیل سے جلاوطن کیا گیا تھا۔ان کا دعویٰ ہے کہ جلا وطنی کے بعد ان کے آباء واجداد مشرق کی طرف بڑھے، چین کے راستے شمال مشرقی انڈیا پہنچے اور پہاڑی علاقوں میں آباد ہو گئے۔اس دعویٰ کے تحریری ثبوتوں کی عدم موجودگی میں لوگ اس کو محض ایک زبانی تاریخ قرار دیتے ہیں۔ جبکہ بنی مناشے میں یہودی مذہب سے مشابہت رکھنے والی کئی رسومات، جیسے جانوروں کی قربانی یا مذہبی گیت، وغیرہ موجود ہیں۔

اسرائیل کے گمشدہ قبائل کی اصطلاح کی بات کی جائے تو ملتا ہے کہ یہود کی شمالی سلطنت کے وہ دس قبائل جن پر شاہ ِ اَسوؔر نے تقریباً ۷۲۲قبل مسیح میں حملہ کیا تھا۔ یہ قبیلے روبن، شمعون، لاوی، دان، نفتالی، جد، آشر، اشکار، زبولون اور یوسف (جس کا قبیلہ افرائیم اور منسی کے قبیلوں میں تقسیم ہوا تھا)ہیں۔ شمالی سلطنت کے زیادہ تر لوگوں کو اسیر کرکے قدیم اَسوؔر میں لے جایا گیا تھا۔ (۲سلاطین ۱۷باب ۶آیت )

ایک مدت تک ان گمشدہ قبائل کے معاملے کو ایک معمہ، کہانی اور بھید کہاجاتا رہا۔ یاد رہے کہ بانی جماعت احمدیہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ثقہ اورمضبوط دلائل اور سلسلہ وار تاریخی شواہد اوردیگر ثبوتوں کے ساتھ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے فلسطین میں واقعہ صلیب کے بعد مشرق کی طرف ہجرت کرجانا ثابت فرمایا ہوا ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے اس طویل ترین سفر اور ہجرت کی ایک وجہ فلسطین کے مشرق میں آباد یہود کے جلاوطن قبائل کی موجود گی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مشن ہی ان گمشدہ قبائل کو آنے والے عظیم الشان موعود نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر دینا تھا۔

یوحنا کی انجیل میں ہے کہ عیسیٰؑ نے کہا تھا کہ’’اور میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانہ کی نہیں۔ مجھے ان کو بھی لانا ضرور ہے اور وہ میری آواز سنیں گی۔ پھر ایک ہی گلّہ اور ایک ہی چرواہا ہو گا‘‘( باب۱۰:۱۶) ان الفاظ میں آپ اسرائیل کے دس گمشدہ قبائل کی طرف نشاندہی کر رہے تھے جو افغانستان اور کشمیر وغیرہ کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے تھے۔صلیب پر لعنتی موت سے معجزانہ نجات کے بعد انہی قبائل کی تلاش میں حضرت عیسیٰؑ مشرق کی طرف آئے تھے اور انہی کے درمیان کشمیر سری نگر محلہ خان یار میں مدفون ہیں۔ مستند تاریخی شہادتوں نے یہ حقیقت ثابت کردی ہے کہ سری نگر میں محلہ خان یار کے مقبرہ کا مقدس مکین کوئی اور نہیں بلکہ عیسیٰ ابنِ مریمؑ ہیں۔

بہائیت

World Religion Day پر مختلف مذاہب کے نمائندے اور روحانی راہنما امن، ہم آہنگی اور باہمی احترام کے لیے اجتماعات، عبادات اور گفتگو کرتے ہیں (یہ دن ہر سال جنوری کے تیسرے اتوار کو منایا جاتا ہے اور امسال یہ ۱۸؍جنوری کو منایا گیا۔اس کا آغاز ۱۹۵۰ء کے لگ بھگ بہائیت کی طرف سے کیا گیا تھا۔)

قارئین کرام! حضرت صوفی احمد جان صاحب رضی اللہ عنہ جواپنے وقت کے ایک بہت بڑے گدی نشین تھے، ان کے فرزند حضرت پیر افتخار احمد صاحبؓ بتایا کرتے تھے کہ میرے والد صاحب کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے بہت ارادت و اعتقاد تھا۔وہ یہی تبلیغ کیا کرتے تھے کہ امام زمان دنیا میں ظاہر ہو گیا ہے ان پر ایمان اور یقین لاؤ اور اگر کوئی مرید ہونے کے لیے آتا تو کہتے کہ سورج نکل آیا ہےاب تاروں کی ضرورت نہیں جاؤ حضرت صاحب کی بیعت کرو۔ یہی معاملہ آج کی مذہبی دنیا کا ہے کیونکہ موعود اقوام عالم ظاہر ہوچکا ہے اور اس کے بعد خلافت کا نظام جاری ہے۔ اب دنیا کے امن، مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام سمیت تمام مہمات اسی راہ سے تکمیل پائیں گی۔ کوئی اور کوشش، فورم اور تنظیم اس معاملہ میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی اور نہ کر سکے گی جب تک حقیقی امن کے شہزادے کی اطاعت کا جوا اپنی گردن پر نہ رکھ لے۔

ہندو مت

بھارت میں مگھ میلہ کے نام سے ایک بڑا روحانی اجتماع ۳جنوری سے ۱۵فروری تک منعقد کیا گیاہے، جس میں لاکھوں ہندو عقیدت مند مقدس گنگا و یمنا کے سنگم پر غسل، عبادات اور مذہبی رسومات ادا کررہے ہیں۔مگھ میلہ پریاگ راج (سابقہ الٰہ آباد) میں تین دریاؤں کے سنگم پر ہر سال ماگھ کے مہینے میں منعقد ہونے والا ایک اہم ہندو مذہبی اجتماع ہے۔

قارئین ! اس نوعیت کے دیگر بہت سے مقامی اجتماع بتاتے ہیں کہ عقائد کی چھاپ بہت ہی گہری ہوا کرتی ہے اور عوام الناس محض غسل کرنے اور گناہ دھلانے کے لیے دُور دراز سے سفر کرکے پہنچ جاتے ہیں۔

(اواب سعد حیات)

مزید پڑھیں: ویلنٹائن ڈے کاپس منظراوراس کی مناسبت سےاسلامی تعلیمات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button