متفرق مضامین

دس شرائط بیعت سے مرصّع نایاب منظوم کلام

(مولانا دوست محمد شاہد۔ مؤرخ احمدیت)

اس عاجز کی طبیعت اس بات سے کراہت کرتی رہی کہ ہر قسم کے رطب ویا بس لوگ اس سلسلہ بیعت میں داخل ہو جائیں اور دل یہ چاہتا رہا کہ اس مبارک سلسلہ میں وہی مبارک لوگ داخل ہوں جن کی فطرت میں وفاداری کا مادہ ہے

یکم دسمبر ۱۸۸۸ء دور آخرین میں ایک انقلاب آفریں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس روز حضرت امام الزمانؑ نے ریاض ہند امرتسر سے سبز اشتہار چھپوا کر اس کے آخر میں برصغیر میں منادی فرمائی کہ

‘‘مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور سچی ایمانی پاکیزگی اور محبت مولیٰ کا راہ سیکھنے کے لیے اور گندی زیست اور کاہلانہ اور غدّارانہ زندگی کے چھوڑنے کے لیے مجھ سے بیعت کریں … انہیں لازم ہے کہ میری طرف آویں کہ میں ان کا غمخوار ہوں گا اور ان کا بار ہلکا کرنے کے لیے کوشش کروں گا اور خداتعالیٰ میری دعا اور میری توجہ میں ان کے لیے برکت دے گا بشرطیکہ وہ ربانی شرائط پر چلنے کے لیے بدل و جان طیار ہوں گے’’

ازاں بعد حضرت اقدسؑ نے اسی پریس سے ۱۲؍جنوری ۱۸۸۹ء کو ایک اور اشتہار شائع کرکے مجمل شرائط کی تشریح کرکے دس شرائط کی تشریح فرمائی جو آپ کی قلم مبارک سے درج ذیل کی جاتی ہے۔

اول بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو جائے۔ شرک سے مجتنب رہے گا۔

دوم یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوںکے وقت ان کا مغلوب نہیں ہو گا۔ اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔

سوم یہ کہ بلاناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا۔ اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اورہر روز اپنے گناہوںکی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خداتعالیٰ کے احسانوں کو یاد کرکے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا۔

چہارم یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔

پنجم یہ کہ ہر حال رنج اور راحت اور عسر اور یسر اورنعمت اور بلا میں خداتعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضا ہو گا اور ہر ایک ذلت اور دکھ کے قبول کرنے کے لیے اس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔

ششم یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آجائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کرے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہر یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔

ہفتم یہ کہ تکبر اورنخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔

ہشتم یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردیٔ اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہریک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔

نہم یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض للہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔

دہم یہ کہ اس عاجزسے عقد اخوت محض للہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقداخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کاہو گا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوںمیں پائی نہ جاتی ہو۔

یہ وہ شرائط ہیں جو بیعت کرنے والوں کے لیے ضروری ہیں۔ جن کی تفصیل یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں نہیں لکھی گئی۔ اور واضح رہے کہ اس دعوت بیعت کا حکم تخمیناً مدت دس ماہ سے خداتعالیٰ کی طرف سے ہو چکا ہے۔ لیکن اس کی تاخیر اشاعت کی یہ وجہ ہوئی ہے کہ اس عاجز کی طبیعت اس بات سے کراہت کرتی رہی کہ ہر قسم کے رطب ویا بس لوگ اس سلسلہ بیعت میں داخل ہو جائیں اور دل یہ چاہتا رہا کہ اس مبارک سلسلہ میں وہی مبارک لوگ داخل ہوں جن کی فطرت میں وفاداری کا مادہ ہے۔ (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۱۸۹۔۱۹۰)

عالمی جماعت احمدیہ کا یہی وہ دائمی چارٹر ہے جس کی بنیاد پر وہ قصر روحانیت تعمیر ہو رہا ہے جو انشاء اللہ نظام خلافت کی برکت سے ہزار سال تک امن عالم کا دائمی مرکز ثابت ہو گا اور اس کے ہمدردیٔ خلائق اور خدمت انسانیت کے میناروں میں سے زمین کے شرق و غرب بقعہ نور بن جائیں گے اور خدا کی بادشاہت ایک بار پھر پوری شان و شوکت سے قائم ہو جائے گی جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے ۴؍مارچ ۱۸۸۹ء کے اشتہار میں خبر دی کہ خداتعالیٰ نے اس گروہ کو اپنا جلال ظاہر کرنے کے لیے اور اپنی قدرت دکھانے کے لیے پیدا کرنا اور پھر ترقی دینا چاہا ہے تا دنیا میںمحبت الٰہی اور توبہ نصوح اور پاکیزگی اور حقیقی نیکی اور امن اور صلاحیت اور بنی نوع کی ہمدردی کو پھیلا دے ۔ سو یہ گروہ اس کا ایک خالص گروہ ہو گا اور وہ انہیں آپ اپنی روح سے قوت دے گااور انہیں گندی زیست سے صاف کرے گا اور ان کی زندگی میں ایک پاک تبدیلی بخشے گا۔وہ جیسا کہ اس نے اپنی پاک پیشین گوئیوں میں وعدہ فرمایا ہے، اس گروہ کو بہت بڑھائے گا اور ہزار ہا صادقین کو اس میں داخل کرے گا۔ وہ خود اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کو نشوونما دے گا یہاںتک کہ ان کی کثرت اور برکت نظروں میں عجیب ہو جائے گی اور وہ اس چراغ کی طرح جو اونچی جگہ رکھا جاتا ہے دنیا کی چاروں طرف اپنی روشنی کو پھیلائیں گے اور اسلامی برکات کے لیے بطور نمونہ کے ٹھہریں گے۔ وہ اس سلسلہ کے کامل متبعین کو ہریک قسم کی برکت میں دوسرے سلسلہ والوں پر غلبہ دے گا اور ہمیشہ قیامت تک ان میں سے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جن کو قبولیت اور نصرت دی جائے گی۔ اس رب جلیل نے یہی چاہا ہے۔ وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ہر یک طاقت اور قدرت اسی کو ہے۔ (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ۱۹۸)

قصِر احمدیت کے بنیادی چارٹرکو نظم کرنے والے پہلے بزرگ

فن شعر و سخن اپنی تاثیر اور جذب و کشش کے اعتبار سے جادوگری سے کم نہیں یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے ایک صحابی اور حضرت چوہدری علی محمد صاحبؓ بی اے بی ٹی اور حضرت مولوی عطا محمد صاحبؓ کارکن بہشتی مقبرہ کے بڑے بھائی حضرت نعمت اللہ صاحب گوہرؓنے پہلی بار ۱۹۲۴ء میں عشاق احمدیت کے لیے ان ربانی شرائط کو شعروں کا جامہ پہنایا۔

آپ اوّلین بزرگ ہیں جنہوں نے یہ اعزاز حاصل کیا جس طرح بعد کو حضرت شیخ رحمت اللہ صاحب شاکرؓ مرحوم نے مطالبات تحریک جدیدکو نظم کرنے کی سعادت عظمیٰ حاصل کی۔

حضرت گوہر خلافت ثانیہ کے ابتدائی دور کے شعراء میں سے تھے۔ آپ نے امام وقت کی رقم فرمودہ شرائط بیعت کو سادہ مگر عقیدت میں ڈوبے ہوئے دلنشیں اور اثر انگیز شعروںمیں ڈھال کر انہیں خوبصورت شکل میں چھپوایا جس کی افادیت کے پیش نظر جماعتی آرگن اورخلافت کے دست و بازو اخبار الفضل نے بھی اپنی ۲۴؍جنوری ۱۹۲۸ء کی اشاعت کے صفحہ۲کی زینت بنایا۔

یہ نایاب اور دلآویز نظم پون صدی کے بعد احمدیت کی موجودہ نسل کے لیے جس کے ذریعہ قلوب عالم کی تسخیر اور اسلام کی بین الاقوامی روحانی و دینی فتوحات مقدر ہیں سپرد اشاعت کی جا رہی ہے جو حق کے طالبوں کے لیے ایک انمول قیمتی تحفہ ہے جو صرف پڑھنے اور روحانی لطف اٹھانے ہی کے لیے نہیں لوح قلب پر نقش کرنے کے لائق ہے کیونکہ اسی سے خدا اور مصطفیٰؐ کی روحانی حکومت کا پوری شان و شوکت سے قیام ازل سے مقدر ہے؎

ہے یہ تقدیر خداوند کی تقدیروں سے

یاد رہے اشعار اگرچہ حضرت گوہرؓ کے ہیں مگر بلاوا خدائے ذوالعرش کے اس قائد آسمانی کا ہے جس کا زمانہ ہزار سال پر محیط ہے۔

منظوم شرائط بیعت

۱۔یہ عہد کرتا ہوں صدق دل سے میں ہاتھ پر اپنے میرزا کے

کہ جب تلک دم میں دم ہے میرے میں شرک سے مجتنب رہوں گا

۲۔بُری نظر۔ جھوٹ اور زنا سے۔ فجور و فسق اور ہر خطا سے

بچوں گا میں ظلم اور جفا سے کبھی بغاوت نہیں کروں گا

نہ ہوں گا مغلوب ہرگز اس سے۔ جو یہ بدی پر مجھے ابھارے

ہو نفس امارہ حملہ آور۔ تو اس کی چھاتی پہ میں چڑھوں گا

۳۔پڑھوں گا اخلاص سے نمازیں۔ سحر کو مانگوں گا میں مرادیں

درود پڑھ پڑھ کے مصطفیٰ پر میں طالب مغفرت رہوں گا

بیاد احسان رب کعبہ۔ جیوں گا لے لے کے نام اس کا

ہمیشہ سیراب آب الحمد۔ کشتِ دل کو رکھا کروں گا

۴۔زباں سے اور ہاتھ سے نہ دوں گا کبھی میں خلقِ خدا کو ایذا

جو ہیں مسلمان بھول کر بھی کبھی نہ ان سے بدی کروں گا

۵۔ہو رنج و کلفت کہ یسر و راحت۔ ہو قعر ذلت کہ تخت عزت

رہوں گا راضی قضا پہ اس کی کبھی نہ اس راہ سے ہٹوں گا

رہوں گا طیار رَہ میں اس کی۔ میں جھیلنے کو ہر ایک سُولی

اٹھے گی آندھی مصیبتوں کی۔ میں اور اخلاص میں بڑھوں گا

۶۔نہ اِتباع رسوم ہو گی۔ نہ کچھ ہوا و ہوس سے رشتہ

میں اور قرآن کی حکومت۔ اسی کے سائے میں مَیں جیوں گا

پس از کلامِ خدا۔ خدا کے نبی نے جو کچھ کہا زباں سے

بنائوں گا خضرِ راہ اس کو۔ اسی کے فرمان پر چلوں گا

۷۔نہ آئیگی نام کو رعونت۔ نہ دل میں میرے غرور و نخوت

فروتنی۔ خوشنوئی حلیمی سے عمر اپنی گزار دوں گا

۸۔جو شے ہے سب سے عزیز و دلبند۔ ہو جان و عزت کہ مال و فرزند

فدائے دیں متین کرکے۔ مہک میں اس کی بسا رہوں گا

۹۔جو طاقتیں حق نے مجھ کو بخشیں۔ جو نعمتیں اپنے فضل سے دیں

وہ نوعِ انساں پہ کرکے قرباں۔ معینِ خلق خدا رہوں گا

۱۰۔ بالآخر اے میرے پیارے آقا۔ یہ مجھ میں اور تجھ میں عقد ہو گا

کہ تیرے ارشاد پر ہمیشہ۔ سرِ اطاعت کو خم کروں گا

نہ بعد تیرے کسی سے رشتہ۔ نہ بن ترے ہو گا کوئی مولیٰ

کسی کی ہو گی نہ مجھ کو پروا۔ میں تیری الفت کا دم بھروں گا

حضرت نعمت اللہ گوہرؓ

(روزنامہ الفضل۱۸؍مارچ۲۰۰۵ء صفحہ۱۲)

(مرسلہ: ڈاکٹر سلطان احمد مبشر)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: رموزالاطباء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کا ذکر خیر

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button