متفرق مضامین

ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے

(درثمین احمد۔جرمنی)

تقویٰ تو یہ ہے کہ بار یک دربار یک پلید گی سے بچے اور اس کے حصول کا یہ طریق ہے کہ انسان ایسی کامل تدبیر کرے کہ گناہ کے کنارہ تک نہ پہنچے اور پھر نری تدبیر ہی کو کافی نہ سمجھے بلکہ ایسی دعا کرے جو اس کا حق ہے کہ گداز ہو جاوے۔ بیٹھ کر، سجدہ میں، رکوع میں، قیام میں اور تہجد میں غرض ہر حالت اور ہر وقت اسی فکر و دعا میں لگا رہے کہ اللہ تعالیٰ گناہ اور معصیت کی خباثت سے نجات بخشے۔ (حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام)

اللہ تعالیٰ نے انسان کی کامیابی اور فلاح کے لیے جو بنیادی اصول مقرر فرمایا ہے، وہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ محض ایک اخلاقی وصف نہیں بلکہ تمام نیکیوں کی بنیاد، جڑ اور اصل ہے۔ قرآنِ کریم، احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیائے امت کے ارشادات اس حقیقت پر متفق ہیں کہ جس دل میں تقویٰ نہیں، وہاں نیکیوں کی عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ۔ (آل عمران: ۱۰۳) ترجمہ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا ایسا تقویٰ اختیار کرو جیسا اس کے تقویٰ کا حق ہے اور ہر گز نہ مرومگر اس حالت میں کہ تم پورے فرمانبردار ہو۔

پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ (آل عمران: ۱۳۱) اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ان آیات سے واضح ہے کہ کامیابی، نجات اور فلاح کی شرط تقویٰ ہے۔

تقویٰ دل میں ہوتا ہے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تقویٰ کو محض ظاہری اعمال تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کی اصل کو دل سے جوڑا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’آپس میں حسدنہ کرو۔ آپس میں نہ جھگڑو۔ آپس میں بُغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے دشمنیاں نہ رکھو۔ اور تم میں سے کوئی ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔ اے اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اُس پر ظلم نہیں کرتا۔ اُسے ذلیل نہیں کرتا اور اُسے حقیر نہیں جانتا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ اپنے دل کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ’’تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے‘‘۔ فرمایا ’’کسی آدمی کے شر کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔‘‘ (صحیح مسلم کتاب البروالصلۃوالٓاداب باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ…. حدیث: ۶۵۴۱)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ تقویٰ کا حقیقی معیار انسان کا باطنی حال اور اس کا معاشرتی رویّہ ہے۔

تقویٰ اور نیکی کا باہمی تعلق

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہامی شعر اس حقیقت کو نہایت خوبصورتی سے واضح کرتا ہے۔

ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے

اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے

یہاں ’’جڑ‘‘ کا لفظ تقویٰ کے مفہوم کو نمایاں کرتا ہے۔ نیکی ایک پودے کی مانند ہے اور تقویٰ اس کی جڑہے۔ جیسے پودا جڑ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، اسی طرح تقویٰ کے بغیر نیک اعمال بارآور نہیں ہو سکتے۔ اعمال پانی اور کھاد ہیں، مگر جڑ سلامت نہ ہو تو سب بے فائدہ ہے۔

انسان کے لیے سب سے اہم اور ضروری چیز تقویٰ ہی ہے اُسے اپنی نیکیوں کو بڑا کرنے اور پھیلانے کے لیے اپنے اتقا کی نہ صرف حفاظت کرنی ہے بلکہ اُس کو بڑھانے کی ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے۔

تقویٰ یہ ہے کہ انسان ایک ایسے راستے کی طرف گامزن ہو جو سیدھا خدا کی طرف جاتا ہو۔ پس خدا کا قرب پانے کے راستے کا نام تقویٰ ہے۔ خدا تعالیٰ کے خوف کا نام تقویٰ ہے۔ خدا تعالیٰ کی رضا کا نام تقویٰ ہے۔

تقویٰ کا فتویٰ سے بلند مقام

حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے متعلق آتا ہے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے آپ سے سوال کیا کہ اگر راستے میں آتے ہوئے گندی گیلی مٹی کے کچھ چھینٹے کپڑوں پر لگ جائیں تو اس سے نماز ہو جاتی ہے ؟ آپ نے فرمایا۔ ہو جاتی ہے۔ ایک دن اتفاقاً راستہ گزرتے ہوئے آپ پر گندی مٹی کے چھینٹے پڑ گئے۔ تو آپ مسجد میں بیٹھ کر پانی کے ساتھ اس کپڑے کی جگہ کو دھونے لگ گئے۔ اس شخص نے دیکھا تو پوچھا امام صاحب آپ نے تو اس حالت میں نماز پڑھنی جائز قرار دی تھی اور خود صاف کر رہے ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ میر افتویٰ تھا اور یہ میرا تقویٰ ہے۔ یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ تقویٰ محض جواز پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ خدا کی خوشنودی کے اعلیٰ معیار کو تلاش کرتا ہے۔

تقویٰ کیسے حاصل ہوتا ہے؟

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ضروری امر یہ ہے کہ پہلے یہ سمجھ لے کہ تقویٰ کیا چیز ہے اور کیونکر حاصل ہوتا ہے۔ تقویٰ تو یہ ہے کہ بار یک دربار یک پلید گی سے بچے اور اس کے حصول کا یہ طریق ہے کہ انسان ایسی کامل تدبیر کرے کہ گناہ کے کنارہ تک نہ پہنچے۔ اور پھر نری تدبیر ہی کو کافی نہ سمجھے بلکہ ایسی دعا کرے جو اس کا حق ہے کہ گداز ہو جاوے۔ بیٹھ کر، سجدہ میں، رکوع میں، قیام میں اور تہجد میں غرض ہر حالت اور ہر وقت اسی فکر و دعا میں لگا رہے کہ اللہ تعالیٰ گناہ اور معصیت کی خباثت سے نجات بخشے۔ اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہے کہ انسان گناہ اور معصیت سے محفوظ اور معصوم ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں راست باز اور صادق ٹھہر جاوے۔ لیکن یہ نعمت نہ تو نری تدبیر سے حاصل ہوتی ہے اور نہ نری دعا سے بلکہ یہ دعا اور تدبیر دونوں کے کامل اتحاد سے حاصل ہو سکتی ہے۔ جو شخص نری دعا ہی کرتا ہے اور تدبیر نہیں کرتا وہ شخص گناہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کو آزماتا ہے۔ ایسا ہی جو نری تدبیر کرتا ہے اور دعا نہیں کرتا وہ بھی شوخی کرتا اور خدا تعالیٰ سے استغنا ظاہر کر کے اپنی تجویز اور تدبیر اور زور بازو سے نیکی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

لیکن مومن اور سچے مسلمان کا یہ شیوہ نہیں وہ تدبیر اور دعا دونوں سے کام لیتا ہے۔ پوری تدبیر کرتا ہے اور پھر معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ کر دعا کرتا ہے اور یہی تعلیم قرآن شریف کی پہلی ہی سورت میں دی گئی ہے چنانچہ فرمایا ہے۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ جو شخص اپنے قویٰ سے کام نہیں لیتا وہ نہ صرف اپنے قویٰ کو ضائع کرتا اوران کی بے حرمتی کرتا ہے بلکہ وہ گناہ کرتا ہے۔ (ملفوظات جلد ۶ صفحہ ۳۳۷-۳۳۸ ایڈیشن ۱۹۸۴ء)

نہ صرف بدی سے بچنا کافی ہے بلکہ نیکی میں آگے بڑھنا بھی ضروری ہے۔

اس بارے میں آپؑ فرماتے ہیں: تقویٰ کے معنے ہیں بدی کی باریک راہوں سے پر ہیز کرنا۔ مگر یاد رکھو نیکی اتنی نہیں ہے کہ ایک شخص کہے کہ میں نیک ہوں اس لیے کہ میں نے کسی کا مال نہیں لیا۔ نقب زنی نہیں کی۔ چوری نہیں کرتا۔ بدنظری اور زنا نہیں کرتا۔ ایسی نیکی عارف کے نزدیک ہنسی کے قابل ہے کیونکہ اگر وہ ان بدیوں کا ارتکاب کرے اور چوری یا ڈاکہ زنی کرے تو وہ سزا پائے گا۔ پس یہ کوئی نیکی نہیں کہ جو عارف کی نگاہ میں قابل قدر ہو بلکہ اصلی اور حقیقی نیکی یہ ہے کہ نوع انسان کی خدمت کرے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں کامل صدق اور وفاداری دکھلائے اور اس کی راہ میں جان تک دے دینے کو تیار ہو۔ اسی لیے یہاں فرمایا ہے اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ (النحل: ۱۲۹) یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو بدی سے پر ہیز کرتے ہیں اور ساتھ ہی نیکیاں بھی کرتے ہیں۔

یہ خوب یاد رکھو کہ نرا بدی سے پر ہیز کر نا کوئی خوبی کی بات نہیں جب تک اس کے ساتھ نیکیاں نہ کرے۔ ( ملفوظات جلد ۶ صفحہ ۲۴۱-۲۴۲ ایڈیشن ۱۹۸۴ء)

تقویٰ کا اسی دنیا میں اثر

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ تقویٰ کا اثر صرف آخرت میں نہیں بلکہ اسی دنیا میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جیسے زہر یا تریاق فوراً اثر دکھاتا ہے، ویسے ہی تقویٰ انسان کی زندگی کو بدل دیتا ہے۔ ( ماخوذ از ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۳۲۴ ایڈیشن ۱۹۸۴ء)

خلفائے کرامؓ کی نظر میں تقویٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ فرماتے ہیں: ’’مومن کو چاہیے کہ جو کام کرے اس کے انجام کو پہلے سوچ لے کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا ؟…انسان اگر یہ یقین کرے کہ کوئی خبیر و علیم بادشاہ ہے۔ جو ہر قسم کی بدکاری، دغا، فریب،سستی اور کاہلی کو دیکھتا ہے اور اس کا بدلہ دے گا تو وہ بچ سکتا ہے۔ ایسا ایمان پیدا کرو۔ بہت سے لوگ ہیں جو اپنے فرائض نوکری، حرفہ، مزدوری وغیرہ میں سستی کرتے ہیں۔ ایسا کرنے سے رزق حلال نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ سب کو تقویٰ کی توفیق دے۔‘‘

مزید فرماتے ہیں ’’متقی کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ خیال اور لحاظ رکھتا ہے کہ خدا سے بگاڑ نہ ہو…پس ہر آن خدا سے تعلق نہ چھوڑ نا چاہیے۔ جو زندگی، موت ،کسی حالت میں ہم سے جدا نہیں ہوسکتا۔‘‘ (حقائق الفرقان جلد۵ صفحہ۲۷۴۔۲۷۵)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’مذہب کی غرض و غایت انسانی دل اور انسانی دماغ، انسانی جذبات اور انسانی افکار میں وہ مادہ پیدا کرنا ہو تا ہے جسے عربی زبان میں تقویٰ کہا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق، ایسی محبت، ایسا عشق اور ایسالگاؤ پیدا ہو جائے اور اس پر اتنا اعتماد، اتنا تو کل اور اتنا یقین حاصل ہو کہ جس کے بعد خدا تعالیٰ کے لیے انسان اس کی توحید اور تفرید کی طرح ہو جائے۔‘‘ (خطبات محمود جلد ۱۵ صفحہ ۱۵۰)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ فرماتے ہیں: ’’اسلام کی اصطلاح میں تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنے نفس کی اس رنگ میں اور اس طور سے حفاظت کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول نہ لینے والا ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا ہو۔ اس کا کرنا اور اس کا ترک کرنا‘‘ ہر دو اس بات پر منحصر ہوں کہ آیا اس چیز کے کرنے سے میرا رب راضی ہو گا۔ آیا اس چیز کو ترک کر دینے کے نتیجہ میں میں اپنے مولا اور اپنے پیدا کرنے والے کی محبت کو حاصل کرلوں گا …پھر تقویٰ ہی یہ بتاتا ہے کہ نیکی اور بدی کا فیصلہ میرے اختیار میں نہیں بلکہ جو چیز اور جب میر ارب کہے کہ کرو مجھے کرنی چاہیے اور جب اور جس چیز کے متعلق وہ کہے کہ نہ کرو مجھے وہ نہیں کرنی چاہیے اسلام کی روح اور حقیقت یہ ہے۔‘‘ (خطبات ناصر جلد اوّل صفحہ۵۲۴۔۵۲۵ خطبہ جمعہ ۱۶ دسمبر ۱۹۶۶ء)

حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ فرماتے ہیں: ’’تقویٰ محض خدا کے فرضی خوف کا نام نہیں، تقویٰ محض نیکی کی اونچی اونچی باتیں کرنے کا نام نہیں ہے۔ تقویٰ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو دل میں چھپا رہتا ہے اور ظاہر نہیں ہوتا۔ تقویٰ ایسا ہے جو کہ نظر بھی آتا ہے غیروں کو، اپنوں کو بھی نظر آتا ہے اور غیروں کو بھی نظر آتا ہے۔ لیکن غیروں کو نظر آنے سے پہلے اپنوں کو تو دکھنا چاہیے، اپنوں کو تو دکھائی دے۔ وہ تقویٰ جو تمہارے دلوں میں پوشیدہ ہے اور ظاہر نہیں ہورہاوہ تقویٰ تقویٰ نہیں ہے۔‘‘ (خطبات طاہر جلد ۵ صفحہ ۲۳۲ خطبہ جمعہ ۲۱ مارچ ۱۹۸۶ء)

ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تقویٰ کے مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:’’تقویٰ کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایسا خوف یا ایسی تڑپ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے بے چین رکھے۔ پس یہ بے چینی دل کو تقویت دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بناتی ہے۔ دنیا دار کی بے چینی اس کے برعکس دلوں پر حملہ کرنے والی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے والا، محسنین میں شمار ہونے والا، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ رکھتا ہے اور اپنے اعمال پر نظر رکھتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مورد بنتا ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ، ۳؍فروری۲۰۱۲ء)

حضور انور ایدہ اللہ مزید فرماتے ہیں: ’’ایک متقی مومن اور احسان کرنے والے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو نہ کوئی خوف ہوگا، نہ غم… بے شک نیک لوگوں کو خوف کی حالت بھی آتی ہے، غم کی حالت بھی آتی ہے لیکن وہ دنیا کے غم نہیں ہوتے، وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے غم ہوتے ہیں۔ وہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنے کا خوف ہوتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک شعر میں فرمایا کہ ؎

اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب

کہ راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب

پس یہ دلدار کو راضی کرنے کی فکر اور خوف ہوتا ہے اور یہ خوف جو ہے ان کی توجہ دعاؤں اور ذکر الہٰی کی طرف مبذول کراتا ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ ۳ فروری ۲۰۱۲ء)

پس اصل کامیابی کا راز یہی ہے کہ انسان اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرے جو اسے خدا کی رضا کے راستے پر ڈال دے۔ نیکیاں اسی وقت بارآور ہوتی ہیں جب ان کی جڑ مضبوط ہو، اور وہ جڑ تقویٰ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اس جڑ کی حفاظت کرنے، اسے مضبوط بنانے اور اپنی زندگیوں میں حقیقی تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: تربیتِ اولاد اور رمضان ۔ تقویٰ کی عملی بنیاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button