از افاضاتِ خلفائے احمدیت

رمضان المبارک کی برکات

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۳۱؍جنوری ۱۹۳۰ء)

حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے اس معرکہ آرا خطبہ جمعہ میں رمضان کی برکات نیز اس کے روحانی اور جسمانی فوائد کے فلسفہ کو انتہائی خوب صورت پیرائے میں بیان فرمایا ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے اس کا متن شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)

رمضان سے انسان کی روحانی تربیت مکمل ہوتی ہے جس سے اس کی روحانی بصیرت تیز ہو جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ایسے فیوض جذب کرنے کے قابل ہو جاتا ہے جن کو وہ رمضان کے بغیر نہیں کرسکتاتھا۔ رمضان ہی کے متعلق خداتعالیٰ فرماتا ہے اگر میرے بندے سوال کریں خدا کہاں ہے تو تُو کہہ دے میں قریب ہی ہوں

تشہد تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

…میں نے اپنے تجربہ کی بناء پر یہ بات دیکھی ہے کہ رمضان کے بارے میں مسلمانوں میں افراط و تفریط سے کام لیا جاتا ہے۔ کئی تعلیم یافتہ لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ رمضان کی برکات کے قائل ہی نہیں اور بغیر کسی بیماری، بڑھاپے یااور عُذر ِشرعی کے روزہ کے تارک ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو سارا اسلام روزہ میں ہی محدود سمجھتے ہیں اور ہر بیمار، کمزور، بوڑھے،بچے، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت سے بھی یہی امید رکھتے ہیں کہ روزہ ضرور رکھے خواہ بیماری بڑھ جائے یا صحت کو نقصان پہنچ جائے یہ دونوں افراط و تفریط میں مبتلاء ہیں۔

اسلام کا منشاء یہ نہیں کہ انسان کو اس راستہ سے ہٹنے دے جو اُس کی کامیابی کا ہے۔ اگر تو شریعت چٹّی ہوتی یا جُرمانہ ہوتا تو پھر بے شک ہر شخص پر خواہ وہ کوئی بوجھ اُٹھا سکتا یا نہ اُٹھا سکتا اسے اُٹھانا ضروری ہوتا۔ جیسے حکومت کی طرف سے جُرمانہ کردیا جاتا ہے اُس وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ جس پر کیا گیا ہے اُس میںادا کرنے کی استطاعت بھی ہے یا نہیں اور جس پر جرمانہ ہو اُسے خواہ گھر باربیچنا پڑے، بھوکا رہنا پڑے، غرضیکہ وہ رہے یا مرے جُرمانہ کی رقم ادا کرنااس کے لیے ضروری ہے۔ مگر

قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے احکام چٹّی نہیں بلکہ وہ انسان کے اپنے فائدہ کے لیے ہیں اور ان پر عمل کرنے سے خود انسان کو ہی آرام ملتا اور اُس کی ترقی کے رستے کھلتے ہیں۔

جن مذاہب نے شریعت کو چَٹی قرار دیا ہے ان کے ماننے والوں کے لیے ضروری ہے کہ خواہ کچھ ہو اپنے مذہبی احکام کو ضرور پورا کریں۔ لیکن جس مذہب کے احکام کی غرض محض انسانی فائدہ ہو اس میں نفع اور نقصان کا موازنہ ہوتا ہے اور جو صورت زیادہ مفید ہو اسے اختیار کر لیا جاتا ہے۔

اسلام نے بعض شرائط مقرر کر دی ہیں اگر وہ کسی میں پائی جائیں تو وہ ایک حکم پر عمل کرے اور اگر نہ پائی جائیں تو نہ کرے۔

یہ شرائط صرف جسمانی عبادت کے لیے ہی نہیں بلکہ مالی عبادت کے لیے جیسے زکوٰۃ ہے، وطنی قربانی اور اتّصال و اتحاد کی کوشش کے لیے جیسے حج ہے سب کے لیے ہیں اور جتنے مسائل اسلام سے تعلق رکھتے ہیں اور جتنے احکام واجب و فرض ہیں ان سب کے لیے یہ شرط ہے کہ جب انسان کو طاقت ہو اُنہیں ضرور ادا کرے۔ لیکن جب اس کی طاقت سے بات بڑھ جائے تو وہ معذور ہے۔ اگر حج انسان کے مالدار ہونے اور امن و صحت سے مشروط ہے اور اسی طرح اگر زکوٰۃ کے لیے یہ شرط ہے کہ ایک خاص مقدار میں کسی کے پاس ایسا مال ہو جو اس کی ضروریات سے ایک سال تک بڑھا رہے اور اگر نماز کے لیے یہ شرط ہے کہ جو کھڑا نہ ہو سکے بیٹھ کر اور جو بیٹھ نہ سکے لیٹ کر ادا کرے تو رمضان کے لیے بھی یہ شرط ہے اگر انسان مریض ہو خواہ وہ مرض لاحق ہو یا ایسی حالت ہو جس میںروزہ رکھنا یقیناً مریض بنا دے گا جیسے حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت یا ایسا بوڑھا شخص جس کے قویٰ میں انحطاط شروع ہو چکا ہے یا پھر اتنا چھوٹا بچہ کہ جس کے قویٰ نشوونما پا رہے ہیں تو اسے روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ اور ایسے شخص کو اگر آسودگی حاصل ہو تو ایک آدمی کا کھا نا کسی کو دے دینا چاہیے اور اگر یہ طاقت نہ ہو تو نہ سہی ایسے شخص کی نیت ہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے روزہ کے برابر ہے۔ اگر روک عارضی ہو اور بعد میں وہ دور ہو جائے تو خواہ فدیہ دیا ہو یا نہ دیا ہو روزہ بہرحال رکھنا ہو گا۔

فدیہ دے دینے سے روزہ اپنی ذات میں ساقط نہیں ہو جاتا بلکہ یہ تو محض اس بات کا بدلہ ہے کہ ان دنوں میں باقی مسلمانوں کے ساتھ مل کر میں اس عبادت کو ادا نہیں کر سکتا

یا اس بات کا شکرانہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ عبادت کرنے کی توفیق بخشی ہے کیونکہ

روزہ رکھ کر بھی فدیہ دینا مسنون ہے اور نہ رکھ کر بھی۔ روزہ رکھ کر جو فدیہ دیتا ہے وہ زیادہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے کیونکہ روزہ رکھنے کی توفیق پانے پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور جو روزہ رکھنے سے معذور ہو وہ اپنے اس عُذر کی وجہ سے دیتا ہے۔

آگے یہ عُذر دو قسم کے ہوتے ہیں عارضی اور مستقل۔ ان دونوں حالتوں میں فدیہ دینا چاہیے پھر

جب عُذر دور ہو جائے تو روزہ بھی رکھنا چاہیے۔

غرضیکہ خواہ کوئی فدیہ بھی دے دے لیکن سال دو سال تین سال جب بھی صحت اجازت دے اسے پھر روزہ رکھنا ہو گا سوائے اس صورت کے کہ پہلے مرض عارضی تھا اور صحت ہونے کے بعد وہ ارادہ ہی کرتا رہا کہ آج رکھتا ہوں کل رکھتا ہوں کہ اس دوران میں اس کی صحت پھر مستقل طور پر خراب ہو جائے۔ باقی جو بھی طاقت رکھتا ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ دوسرے ایام میں روزے رکھے۔

روزہ خود انسان کی اپنی نجات کا موجب اور خود اس کے اپنے فائدہ کے لیے ہے۔ یہی نہیں کہ اس سے انسان اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے کی وجہ سے اس کے فضلوں کا وارث ہوتا ہے بلکہ اس کے علاوہ اس کے اندر ایسی قابلیتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو اسے خدا تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہیں۔

پھر جسمانی طور پر بھی اس میں فوائد ہیں انسان کو دُنیوی لذائذ سے بچنے کا موقع ملتا ہے گویا یہ ایک قسم کی چلّہ کشی ہوتی ہے۔ انسان عموماً تیس دن چلّہ کشی کرتا ہے اور اپنے آپ کو ایک حد تک لذائذ سے روکتا ہے اس سے اس میں روحانی قابلیت پیدا ہو جاتی ہے۔

انسان کے لیے حکم ہے کہ وہ اخلاقِ الٰہیہ اپنے اندر پیدا کرے اور روزہ رکھنے سے ایک رنگ میں خدا تعالیٰ سے مشابہت پیدا ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ذات کھانے پینے سے کُلّی طور پر مُنزّہ ہے لیکن انسان چونکہ کُلّی طور پر کھانا پینا ترک نہیں کر سکتا اس لیے روزہ سے اسے اس حد تک اللہ تعالیٰ سے مشابہت پیدا کرنے کا موقع دیا گیا ہے جس حد تک اس کے لیے ممکن ہے۔ گویا ان دنوں میں انسان ایک رنگ میں ملائکہ سے مشابہ ہوتا ہے جو مادی غذاؤں سے پاک ہیں اور ایک رنگ میں خدا تعالیٰ سے جو کھانے پینے سے بکلّی پاک ہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ

روحانی وجود بھی غذا کے ایسے ہی محتاج ہوتے ہیں جیسے جسمانی کیونکہ اگر وہاں غذا ضروری نہ ہوتی تو جنت میں غذاؤں کا ذکر کیوں آتا جہاں صرف روحیں ہی جائیں گی۔

ملائکہ بھی غذا کھاتے ہیں مگر اور قسم کی۔ غرضیکہ دنیا کا ہر چھوٹے سے چھوٹا ذرہ اور مرکّب سے مرکّب چیز بھی اپنے رنگ کی غذا کی محتاج ہے اور تمام مادی اور روحانی اشیاء کے لیے خوراک ضروی ہے لیکن دونوںکی غذا میں فرق ہے۔ غذا سے بالکل پاک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے باقی چیزیں جنّ، فرشتے، آسمان، زمین، زندے، مُردے سب غذاؤں کے محتاج ہیں لیکن ہر ایک کی غذا الگ الگ ہے۔

صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو غذا کی محتاج نہیں کیونکہ اسے فنا نہیں۔

ہر فنا ہونے والے کے لیے بدل مَایَتَحَلَّل ضروری ہے۔ تو روزہ کے دنوں میں غذا سے ایک حد تک اجتناب اللہ تعالیٰ سے مشابہت پیدا کر دیتا ہے۔ غذا کم ہونے سے انسان کی روحانی بصیرت تیز ہوتی ہے۔ روحانی وجودوں کی غذائیں چونکہ لطیف تر ہوتی ہیں اس لیے وہ رؤیتِ الٰہی کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رؤیتِ الٰہی کا کمال مرنے کے بعد ہی حاصل ہوسکتا ہے کیونکہ وہاں غذا لطیف ہو گی جس سے روحانی بصیرت بڑھ جاتی ہے۔ ملائکہ کی جسمانی آنکھیں نہیں ہوتیں لیکن ان کی روحانی بینائی انسان کی نسبت بہت تیز ہوتی ہے۔ تو رمضان سے انسان کی روحانی تربیت مکمل ہوتی ہے جس سے اس کی روحانی بصیرت تیز ہو جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ایسے فیوض جذب کرنے کے قابل ہو جاتا ہے جن کو وہ رمضان کے بغیر نہیں کر سکتاتھا۔ رمضان ہی کے متعلق خداتعالیٰ فرماتا ہے اگر میرے بندے سوال کریں خدا کہاں ہے تو تُو کہہ دے میں قریب ہی ہوں۔(البقرۃ: ۱۸۷) یوں تو ہمیشہ ہی خدا تعالیٰ قریب ہوتا ہے اور پھر جو بندہ اسے پکارتا ہے وہ تو اسے پہلے ہی مانتا ہے پھر یہاں سَأَلَکَ کا کیا مطلب ہوا؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ جب میرا بندہ رمضان کے متعلق سوال کرتا ہے کہ روزے سے خدا کی رضاء کس طرح حاصل ہو سکتی ہے تو اِس کا جواب یہ دے کہ

روزہ سے انسان خدا تعالیٰ کے قریب ہو جاتا ہے جس کی ظاہری صورت یہ ہے کہ روزہ دار کی دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اُجِیْبُ دَعْوَۃ الدَّاعِیْنَ نہیں فرمایا بلکہ صرف اَلدَّاعِ فرمایا جس کے معنے ہیں کہ ہر پکارنے والے کی نہیں بلکہ روزہ دار پکارنے والے کی دُعا سنی جاتی ہے۔

پس رمضان کی ایک برکت تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اور ملائکہ سے مشابہت پیدا ہوتی ہے دوسرے خدا تعالیٰ کی قُربت حاصل ہو جاتی ہے اور تیسرے یہ کہ دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ یہ تو روحانی فوائد ہیں اور جسمانی طور پر یہ فائدہ ہوتا ہے کہ انسان تکالیف اور شدائد کا عادی ہو جاتا ہے۔ جسمانی ترقیات بھی روحانی ترقیات کی طرح مجاہدات پر مبنی ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مہذّب حکومتیں جو فوجیں رکھتی ہیں ان کے سپاہیوں سے باقاعدہ پریڈ کراتی رہتی ہیں جس سے ان کے اندر شدت پیدا ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ سے گہرے تعلقات رکھنے والے لوگوں کی غذائیں ہمیشہ کم ہوتی ہیں

یعنی وہ اپنے ہی جیسے سامان، حالات، صحت اور معدے رکھنے والے انسانوں سے کم خوراک کھاتے ہیں۔ یہ نہیں کہ اگر ایک انسان کا معدہ خراب ہو اور وہ زیادہ نہ کھا سکے تو کہا جائے اس میں روحانیت زیادہ ہے کیونکہ شرط یہ ہے کہ دوسرے سامان بھی ایک ہی جیسے ہوں ایک ہی حالت میں وہ انسان جس میں روحانیت ہو گی دوسرے سے کم کھائے گا۔ اسی لیے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے مومن ایک انتڑی سے کھاتا ہے تو کافر دس انتڑیوں سے ۔ (ترمذی ابواب الاطعمۃ باب ان المؤمن یا کل فی معًی واحد) خود رسول کریم ﷺ کے حالات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کی غذا بہت کم تھی۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے آپ بمشکل ایک پُھلکا کھاتے تھے۔ یہ نہیں کہ بھوکے رہ کر ایسا کرتے تھے بلکہ آہستہ آہستہ رغبت سے استغناء پیدا ہوتے ہوتے یہ عادت ہو گئی تھی اور توجہ اور خیالات کی رَو کے اس طرف سے ہٹ جانے سے آہستہ آہستہ کھانا بہت قلیل رہ گیا تھا۔ لیکن جو لوگ روحانیت کے اعلیٰ مقام پر نہیں ہوتے اور جن پر اللہ تعالیٰ کا تصرف غالب نہیں ہوتا ان کو کبھی کبھی اس کی مشق کرائی جاتی ہے جیسے ایک باقاعدہ فوج ہوتی ہے اور ایک ٹیریٹوریل (Territorial) جسے سال میں صرف ایک مہینہ کی مشق کرائی جاتی ہے۔ پس رمضان ٹیریٹوریل فوج کی ٹریننگ کی طرح ہے وگرنہ عام طور پر روحانی لوگوں کی غذا کم ہوتی ہے اور وہ اتنا کم کھاتے ہیں کہ نفس موٹانہ ہو جائے اور جسم پر چربی چھا کر روحانیت میں روک نہ پیدا کر سکے۔ لیکن جو لوگ اس مقام پر نہیں ہوتے وہ بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور ان کی اصلاح بھی اس کے ذمہ ہے اس لیے ان کو ٹیریٹوریل (Territorial) کی طرح رمضان میں مشق کرائی جاتی ہے تا وہ بھی روحانی ترقی کر سکیں۔

روزہ اگرچہ روحانی مجاہدہ ہے مگر ساتھ ہی جسمانی فوائد بھی رکھتا ہے کیونکہ کئی ایک زہر اس سے انسانی جسم سے خارج ہو جاتے ہیں اور کئی بیماریاں موٹاپے وغیرہ کی دُور ہو جاتی ہیں اور اب تو ڈاکٹروں نے تحقیقات سے معلوم کیا ہے کہ روزہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہے۔ اور ذیابیطس کے مریضوں کو قریباً چالیس یوم کے روزے رکھوائے جاتے ہیں۔ کئی ایک مریضوں نے خود مجھے بتایا ہے کہ اس طرح ان کا مرض دُور ہو گیا حتیٰ کہ زخم بھی جو اس مرض کی آخری حالت میں پیدا ہو جایا کرتے ہیں اچھے ہو گئے۔ ا س سے معلوم ہوتا ہے کہ

روزہ میں جسمانی طور پر بھی فوائد ہیں۔ روحانی اور جسمانی دونوں مجاہدات کے علاوہ پھر ایک اور مجاہدہ ہوتا ہے جو روحانی اور جسمانی کے درمیان ہوتا ہے جس کے لیے روزہ تیار کر دیتا ہے اور وہ شدائد کی برداشت اور وقت پڑنے پر محنت کی عادت ہے۔

بعض اوقات قومی یا ملکی کاموں کے لیے ایسی حالت بھی آ جاتی ہے اور یہ دنیاوی بھی ہوتی ہے جیسے ملک یا وطن کی خدمت۔ اور دینی بھی ہوتی ہے جیسے جہاد۔ اور روزہ سے یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ انسان اس مجاہدہ کے قابل ہو جاتا ہے۔

پھر رمضان کے اندر یہ فائدہ بھی رکھا ہے کہ انسان معلوم کر سکے کہ اس کے دوسرے فاقہ زدہ بھائیوں کی حالت کیا ہے اور فاقہ میں انسان پر کیا گزرتی ہے۔ اس سے وہ غرباء کی حالت کا اندازہ کر سکتا ہے۔ اور یہ بات اسلام کی سب عبادتوں میں ہے کہ دوسروں کی حالت کا پتہ لگتا رہے۔

نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنے اور باتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ ایک غلامی کی حالت ہے جس سے انسان اندازہ کر سکتا ہے کہ غلاموں کی حالت کیا ہو گی۔ میں حیران ہوتا ہوں جب بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں توجہ نہیں قائم رہ سکتی حالانکہ نماز دس پندرہ منٹ کا کام ہوتا ہے۔ ایسے لوگ غور کریں وہ لوگ جن کو چوبیس گھنٹہ ہی غلامی میں گزارنے ہوتے ہیں اور گھنٹوں گھٹنے ٹیک کر مؤدّب ایک ہی پوزیشن میں رہنا پڑتا ہے ان کا کیا حال ہوتا ہو گا۔ تو نماز انسان کو لوگوں کی حالت سے آگاہ کردیتی ہے۔ حج میں اپنا وطن اور گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے جس سے ان لوگوں کی حالت کا پتہ لگتا ہے جو جلاوطن کر دیے جاتے ہیں۔ صدقہ و خیرات غربت کی حالت کا اندازہ کراتی ہے۔ روزہ سے فاقہ زدہ بھائیوں کا پتہ لگتا ہے۔ اسی طرح جب انسان حج کے لیے جاتا ہے تو اسے ان لوگوں کی حالت کا بھی علم ہوتا ہے جن کے پاس کپڑے نہیں ہوتے۔ انسان کئی کپڑوں کا عادی ہوتا ہے لیکن وہاں صرف ایک ہی چادر باندھنی پڑتی ہے جس میں اِدھر اُدھر سے ٹھنڈی ہوا لگتی اور ان لوگوں کی حالت بتاتی ہے جن کے پاس کپڑے نہیں ہوتے یا کم ہوتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کسی شخص کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ میرا اُن سے تعارف اِس طرح ہوا کہ میں نے حج کے موقع پر انہیں دیکھا۔ ہوا کی وجہ سے باقی لوگوں نے اپنے سر ڈھانپ لیے لیکن انہوں نے اِدھر اُدھر اپنی چیزیں رکھ لیں جس سے میں نے سمجھا کہ ان میں زیادہ احساس ہے۔ اور جس وقت جہاز میں سرد ہوا چلتی ہے تو جسم پر ناکافی کپڑا ہمیشہ ننگے رہنے والوں کی طرف بخوبی متوجہ کر دیتا ہے۔ اس وجہ سے حج امراء کے لیے رکھا گیا ہے تا وہ غریبوں کی حالت سے آگاہ رہ سکیں۔ تو اسلام کی تمام عبادتوں میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ ایک دوسرے کی حالت سے آگاہی حاصل ہوتی رہے کیونکہ اس علم سے واسطہ اور رابطہ بڑھتا ہے جس سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ پھر رمضان کا یہ بھی فائدہ ہے کہ جن کو راتوں کو جاگنا پڑتا ہے ان کی حالت کا علم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح

یہ بھی مشق ہوتی ہے کہ حلال چیزوں کو خدا کی خاطر ترک کر دیا جائے اور جب حلال چھوڑ سکتا ہے تو پھر حرام کو چھوڑنا آسان ہو جاتا ہے۔

غرض اس سے کئی قسم کے سبق حاصل ہوتے ہیں لیکن فائدہ وہی اُٹھا سکتا ہے جو استعمال کرے۔ جو استعمال نہ کرے اسے کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ خالی رمضان میں فائدہ نہیں بلکہ رمضان کی حالت پیدا کرنا فائدہ کا موجب ہے۔ جس طرح کونین کو استعمال کرنے سے ہی بخار کو آرام ہو سکتا ہے جو اسے استعمال نہیں کرتا اس کے اردگرد کے گھروں میں خواہ کتنی استعمال ہوتی ہو اسے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ پس خدا تعالیٰ جن کو توفیق دے انہیں ضرور روزے رکھنے چاہئیں۔

ہماری جماعت کے تعلیم یافتہ لوگوں کو چاہیے کہ تعلیم یافتوں کے لیے نمونہ بنیں اور عوام کو عوام کے لیے نمونہ بننا چاہیے۔ پھر عورتیں روزہ کے معاملہ میں بِلاوجہ تنگی پیدا کرتی ہیں اس لیے انہیں یہ نمونہ دکھانا چاہیے کہ جہاں روزہ جائز نہیں وہاں اعتراض سے ڈر کر یا رسم و رواج کی پابندی کی وجہ سے روزہ نہ رکھیں۔ غرضیکہ جو کمی کرنے والے ہیں ان کے لیے روزہ رکھ کر اور جو سختی کرنے والے ہیں ان کے لیے اس حالت میں جس کی شریعت نے تشریح کر دی ہے روزہ چھوڑ کر نمونہ بننا چاہیے۔

میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح رستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(الفضل ۷؍فروری ۱۹۳۰ء)

مزید پڑھیں: صحیح طریق سے کوشش کرنے پر کامیابی حاصل ہوتی ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button