قرآن کریم میں بیان کردہ تبلیغ کا ایک زریں اصول
حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب آیت قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَبَیۡنَکُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَلَا نُشۡرِکَ بِہٖ شَیۡئًا (آل عمران:۶۵)کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’اس آیت میں کلمہ سَوَاء جو آیا ہے اس کے معنی قَصْدًاہیں۔ یعنی عادلانہ بات جو دونوں کے درمیان مشترکہ ہو۔ یہ معنی ابو عبیدہؓ نے کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ۷۲، ۷۲۲) آیت میں دعوتِ توحید ہے اور دعا ئےمباہلہ کی طرف اہل کتاب کو بلایا گیا ہے۔ فرماتا ہے کہ عیسیٰؑ سے متعلق یہی حق ہے جو بیان کر دیا گیا ہے۔ وہ خدا یا خدا کے بیٹے نہ تھے۔ مثلِ دیگر انبیاء مقدس رسول تھے۔ اگر اس حق کے بعد کوئی حجت بازی سے کام لے اور نہ مانے اور باطل عقیدہ پر مصر رہے تو ایک طریق فیصلہ باقی رہ جاتا ہے وہ عاجزانہ دعا ہے۔ ‘‘
(صحیح البخاری، کتاب التفسير/آل عمران جلد ۱۰ صفحہ ۱۳۸)




