اپریل فول بُری رسم ہے
قرآن نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے۔ اور نیز فرمایا ہے کہ جھوٹے شیطان کے مصاحب ہوتے ہیں اور جھوٹے بے ایمان ہوتے ہیں اور جھوٹوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور صرف یہی نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ مت بولو بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ تم جھوٹوں کی صحبت بھی چھوڑ دو اور ان کو اپنا یاردوست مت بنائو اور خدا سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ اور ایک جگہ فرماتا ہے کہ جب تو کوئی کلام کرے تو تیری کلام محض صدق ہو ٹھٹھے کے طور پر بھی اس میں جھوٹ نہ ہو۔ اب بتلائو یہ تعلیمیں انجیل میں کہاں ہیں۔ اگر ایسی تعلیمیں ہوتیں تو عیسائیوں میں اپریل فول کی گندی رسمیں اب تک کیوں جاری رہتیں۔ دیکھو اپریل فول کیسی بُری رسم ہے کہ ناحق جھوٹ بولنا اس میں تہذیب کی بات سمجھی جاتی ہے۔ یہ عیسائی تہذیب اور انجیلی تعلیم ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی لوگ جھوٹ سے بہت ہی پیار کرتے ہیں۔ چنانچہ عملی حالت اس پر شاہد ہے۔ مثلاً قرآن تو تمام مسلمانوں کے ہاتھ میں ایک ہی ہے مگر سنا گیا ہے کہ انجیلیں ساٹھ سے بھی کچھ زیادہ ہیں۔
(نورالقرآن نمبر۲، روحانی خزائن جلد۹ صفحہ۴۰۸-۴۰۹)
مزید پڑھیں: اعمال صالحہ میں کسی قسم کا فسادنہیں ہوتا



