افریقہ (رپورٹس)

مالی کے ریجن سکاسو میں جدید سہولیات سے آراستہ ’احمدیہ کمپلیکس‘ اور ’مسجد ناصر‘ کا افتتاح

مکرم احمد بلال مغل صاحب مبلغ سلسلہ سکاسو ریجن، مالی تحریر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ مالی کو ریجن سکاسو میں ایک خوبصورت اور جدید احمدیہ کمپلیکس کی تعمیر اور افتتاح کی عظیم سعادت حاصل ہوئی۔ یہ کمپلیکس دینی، تبلیغی، تعلیمی، فلاحی اور انتظامی سرگرمیوں کا ایک جامع مرکز ہے جو ریجن سکاسو اور آس پاس کے علاقوں میں احمدیت کے پُرامن پیغام کو وسیع پیمانے پر پھیلانے اور خدمت انسانیت کا ذریعہ بنے گا۔ ان شاء اللہ العزیز

سنگ بنیاد اور تعمیر کا آغاز:اس بابرکت منصوبے کا آغاز مورخہ ۱۸؍فروری ۲۰۲۳ء کو مکرم ظفر احمد بٹ صاحب امیر جماعت احمدیہ مالی کے سنگ بنیاد رکھے جانے کے ساتھ ہوا۔ اس پُر وقار موقع پر ریجن کے جماعتی عہدیداران، احباب جماعت اور مقامی معززین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ مکرم امیر صاحب نے منصوبے کی کامیابی اور بابرکت تکمیل کے لیے خصوصی دعا کروائی جبکہ شکرانے کے طور پر بکروں کی قربانی بھی پیش کی گئی۔ نہایت قلیل عرصے میں یہ وسیع عمارتی منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچا جو بلاشبہ خلافت احمدیہ کی برکات اور جماعت احمدیہ سکاسو کے مخلص احباب کے ایثار و قربانی کا ایک روشن اور منہ بولتا ثبوت ہے۔

پروقار افتتاحی تقریب:مورخہ ۸؍فروری ۲۰۲۶ء کو ریجنل جلسہ سالانہ سکاسو کے بابرکت موقع پر مکرم امیر صاحب نے احمدیہ کمپلیکس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ تقریب پُرمسرت اور تاریخی حیثیت کی حامل تھی جس میں جماعتی عہدیداران، مبلغین و معلمین کرام، ریجن بھر سے تشریف لانے والے کثیر تعداد میں احباب جماعت، حکومتی نمائندگان اور مقامی معززین و عمائدین نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر مجموعی طور پر ۵۱۲؍سے زائد افراد موجود تھے۔ غیر از جماعت مہمانوں اور سرکاری نمائندگان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی دینی، تعلیمی، فلاحی اور انسانی ہمدردی پر مبنی خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہا اور انہیں علاقے کی ترقی، امن اور باہمی ہم آہنگی کا ضامن قرار دیا۔

مسجد ناصر۔ کمپلیکس کا مرکزی حصہ:احمدیہ کمپلیکس کا مرکزی اور نمایاں ترین حصہ مسجد ناصر ہے جو شہر کی ایک بلند اور ممتاز جگہ پر تعمیر کی گئی ہے۔ اپنے دو بلند و بالا میناروں کے باعث یہ مسجد دُور دراز کے علاقوں سے بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے اور روحانیت و وقار کی علامت ہے۔

مسجد کا کُل مسقف حصہ ۳۴۵؍مربع میٹر پر مشتمل ہے۔ اس میں بیک وقت ۵۰۰؍سے زائد افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ مسجد کے دو مینارے تقریباً ۱۸؍میٹر بلند ہیں جو اس کی شان و شوکت میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ مسجد کے اندرونی حصے میں اعلیٰ معیار کے قالین بچھا کر نمازیوں کے لیے نرم اور آرام دہ صفوں کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ نمازیوں کی سہولت کے لیے مسجد میں جدید ساؤنڈ سسٹم نصب کیا گیا ہے جبکہ ایم ٹی اے کی براہ راست نشریات کے لیے جدید ٹی وی سسٹم کا بھی اہتمام موجود ہے۔ مسجد سے متصل ایک وسیع وضو خانہ اور ۷؍جدید ٹوائلٹس تعمیر کیے گئے ہیں جن میں حضرات اور خواتین کے لیے علیحدہ علیحدہ انتظامات کیے گئے ہیں۔

تبلیغی و انتظامی بلاک-ریڈیو احمدیہ، دفاتر اور لائبریری کی عمارت:مسجد سے متصل ایک جدید عمارت میں ریڈیو احمدیہ، مشن ہاؤس، انتظامی دفاتر اور لائبریری قائم کی گئی ہے۔ لائبریری میں دینی کتب، تفاسیر، احادیث، احمدیہ لٹریچر اور مختلف زبانوں میں جماعتی ادب کا وسیع ذخیرہ موجود ہے جو طلبہ و محققین کے لیے نہایت مفید ہے۔ کمپلیکس کا ایک اہم حصہ ریڈیو احمدیہ ہے۔ یہ ریڈیو ۱۵۰؍کلومیٹر کے دائرے میں نشریات کرتا ہے۔ اس کے ذریعے دروس قرآن، خطبات امام، دینی تربیتی و تبلیغی پروگرامز اور اصلاحی مواد نشر کیا جاتا ہے جو ایک وسیع علاقے کو مستفید کر رہا ہے۔

رہائشی اور معاون عمارتیں:احمدیہ کمپلیکس میں دینی، انتظامی اور مہمان نوازی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف رہائشی اور معاون سہولیات مہیا کی گئی ہیں تاکہ خدمت دین کے فرائض احسن انداز میں سرانجام دیے جا سکیں۔

مربی ہاؤس اور معلم ہاؤس جدید طرز تعمیر کے حامل ہیں جن میں سے ہر ایک تین کمروں پر مشتمل مکمل رہائشی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ایک گیسٹ ہاؤس تعمیر کیا گیا ہے جو مہمانوں، مبلغین کرام اور مختلف وفود کے قیام کے لیے نہایت موزوں ہے۔ خدمت پر مامور مددگار کارکنان کے لیے الگ سے دو کمرے تعمیر کیے گئے ہیں تاکہ انہیں مناسب رہائشی سہولت میسر ہو۔ سامان کی محفوظ ذخیرہ اندازی کے لیے دو سٹورز بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کمپلیکس کے احاطے میں پارکنگ اور دیگر ضروریات کی تکمیل کے لیے ۵؍میٹر چوڑا اور ۱۶؍میٹر لمبا ایک مضبوط شیڈ نصب کیا گیا ہے۔

سرسبز احاطہ اور ماحولیاتی خوبصورتی:کمپلیکس کے احاطے میں خوبصورت سبزہ زار اور باغیچے تیار کیے گئے ہیں جن میں پھل دار درخت، پھول دار پودے اور سایہ دار درخت شامل ہیں۔ یہ سرسبز ماحول نہ صرف حسن میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ماحول کو خوشگوار بناتا ہےاور آنے والوں کو راحت و سکون بھی عطا کرتا ہے۔

بجلی اور پانی کی فراہمی کے لیے جدید سولر انرجی سسٹم: پورا احمدیہ کمپلیکس جدید سولر انرجی سسٹم کے ذریعے مکمل طور پر خود کفیل ہے جو یومیہ ۶۰؍کلوواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ افریقہ بالخصوص مالی میں بجلی کی شدید قلت اور بار بار لوڈشیڈنگ کے باعث اس سولر نظام کے ذریعہ کمپلیکس میں چوبیس گھنٹے بلا تعطل بجلی کی فراہمی ممکن بنائی گئی ہے۔ آب رسانی کا نظام بھی جدید سولر انرجی پر مبنی ہے۔ پانی کی فراہمی کے لیے کمپلیکس کے اندر اپنا بور اور سولر پاور سے چلنے والا واٹر پمپ نصب کیا گیا ہے جس کے ساتھ ایک وسیع ٹینک تعمیر کیا گیا ہے جو چوبیس گھنٹے مسلسل پانی کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے

مالی قربانیاں اور جذبۂ اخلاص:مسجد، مشن ہاؤس، ریڈیو سٹیشن اور دیگر مرکزی عمارات کی تعمیر کا بنیادی خرچ مرکز جماعت احمدیہ نے برداشت کیا۔ تاہم ریجن سکاسو کے مخلص احباب نے اپنی غربت اور محدود وسائل کے باوجود غیر معمولی جذبۂ قربانی کا مظاہرہ کیا اور ۸؍ملین فرانک سیفا سے زائد رقم جمع کی۔ اس رقم سے احاطے کی چار دیواری اوردیگر تکمیلی کام سرانجام دیے گئے۔

اللہ تعالیٰ اس عظیم کمپلیکس جو صدقۂ جاریہ ہے کو قبول فرمائے، جماعت احمدیہ مالی کو مزید ترقی عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ خلافت احمدیہ کے زیر سایہ جماعت کو ترقیات سے مزید نوازتا چلا جائے۔ آمین

(رپورٹ:واصف شہزاد۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

مزید پڑھیں: مجلس خدام الاحمدیہ فن لینڈ کا ہیلسنکی میں ایک افطار فوڈ سٹال

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button