ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۸)(قسط ۱۴۳)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
سنکونا آفیشی نیلس
(چائنا)
Cinchona officinalis
(China)
ملیریا بخار کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی کمزوری اور دیگر علامات کو دور کرنے کےلیے بھی چائنا بہت مفید دوا ہے۔ اس کا مریض چھونے سے سخت زود حس ہوجاتا ہے،حرکت سخت تکلیف دیتی ہے اور ٹھنڈی ہوا ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ تمام اعصاب زیادہ حساس ہوجاتے ہیں۔ (صفحہ۳۰۰)
چائنا کے مریض میں خون بہنے کا رجحان ہوتا ہے۔ گلے،ناک اور رحم سے خون جاری ہوجاتا ہے جس کے ساتھ تشنجی علامات بھی پائی جاتی ہیں۔ حیض وقت سے بہت پہلے شروع ہوجاتا ہے۔ لیکوریا میں بھی خون کی آمیزش ہوتی ہے۔ وضع حمل کے وقت سیلان خون کی وجہ سے درد رک جائے اور تشنج ہوجائے تو چائنا ایک اہم دوا ہےبشرطیکہ مریض میں اس کی دیگر علامتیں بھی پائی جائیں۔ نفاس کا خون بھی لمبا عرصہ جاری رہتا ہےجس میں سخت بدبو ہوتی ہے۔ (صفحہ۳۰۰-۳۰۱)
چائنا کے مریض کے بازوؤں اور ٹانگوں میں موچ آنے کی طرح کا درد ہوتا ہے اور جھٹکے لگتے ہیں۔ عضلات میں مرگی کی طرح کا تشنج اور فالجی کمزوری بھی چائنا کی علامت ہے۔ خون کا دوران سر کی طرف ہوتا ہے، کانوں میں گھنٹیاں بجتی ہیں اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ ہیجانی کیفیت میں مریض بے ہوش ہو جاتا ہے۔ جریان خون کے بعد کمزوری کی وجہ سے مریض بے چین رہتا ہے اور بے خوابی کا شکار ہو جاتا ہے۔ عورتوں میں سیلان خون اور بچوں کو دودھ پلانے کے نتیجہ میں خون کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ رات کے وقت بہت پسینہ آتا ہے۔ جلد پر ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔ (صفحہ۳۰۱)
سسٹس کیناڈینسس
Cistus Canadensis
(Rock Rose)
سسٹس برفانی علاقوں میں اگنے والے پھولوں کے ایک پودے سے تیار کی جانے والی دوا ہے۔ یہ دوا بہت سرد مزاج ہے۔ اس کی ہر بیماری میں ٹھنڈک کا احساس پایا جا تاہے۔ سسٹس بہت گہرا اثر کرنے والی اینٹی سورک (Antipsoric) دوا ہے یعنی وہ دوا جس کا تعلق اصلاً جلدی بیماریوں سے ہے۔ ایسی بیماریاں خواہ غدودوں (Glands) پر حملہ کریں یا لعابی جھلیوں پر بنیادی طور پر وہ سورک ہی کہلاتی ہیں۔ سسٹس بھی ان دواؤں میں شامل ہے جو سورا (Psora) کو جڑ سے اکھیڑنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ بہت اہم اور انتہائی خطرناک بیماریوں میں کار آمد ہے۔ لیوپس اور کینسر بھی اس کے دائرہ کار سے باہر نہیں رہتے۔ یہ کلکیریا کے مقابلہ میں قدرے نرم مزاج رکھتی ہے لیکن بعض بیماریوں میں کلکیریا سے بہتر کام کرتی ہے اور غدودوں پر زیادہ اچھا اثر ڈالتی ہے۔ انتڑیوں کی بیماریوں میں بہت مفید ہے۔ اگر کسی کو اسہال لگ جائیں اور کسی دوا سے آرام نہ آئے، غدودوں میں بھی سوزش ہو تو سسٹس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح پرانے نزلے کے مریض جو سسٹس کی بعض دوسری علامات بھی رکھتے ہوں وہ کسی اور دوا سے ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ایسے مریض عموماً ڈھیلے ڈھالے جسم والے اور زرد رو ہوتے ہیں، بہت جلد سانس چڑھتا ہے اور اونچائی پر چڑھنے سے سانس پھولتا ہے۔ (صفحہ۳۰۳)
مریض جسم کے مختلف حصوں میں سردی محسوس کرتا ہے۔ کھانا کھانے سے قبل اور بعد معدہ اور تمام پیٹ میں ٹھنڈک کااحساس ہو تا ہے۔ (صفحہ۳۰۴-۳۰۵)
عورتوں کی چھاتیوں کے گلینڈز کی خرابی میں بھی یہ دوا مفید ہے لیکن اس کی کوئی امتیازی علامت نہیں ہے۔ شاید اس دوا کی دیگر علامتوں کی وجہ سے پہچان ہو سکے۔ چھاتیوں کے غدودوں کا بڑھ جانا جو بعض دفعہ کینسر بن جاتے ہیں ان میں استعمال ہونے والی دواؤں میں سسٹس بھی ہے۔ خنازیر (ہجیریں) یعنی گلے کے باہر گلٹیوں کی زنجیر سی بن جائے اور گلینڈز سوجے ہوئے ہوں تو یہ سسٹس کی خاص علامت ہے۔ (صفحہ۳۰۵)
اس کی تکالیف چھونے سے،حرکت کرنےسے، رات کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے اور دماغی محنت سے زیادہ ہوجاتی ہیں۔ کھانا کھانے سے اور بلغم نکالنے سے کم ہوجاتی ہیں۔ (صفحہ۳۰۶)
کلیمٹس ایریکٹا
Clematis erecta
(Virgin’s Bower)
بہت سی مردانہ امراض میں کلیمٹس استعمال ہوتی ہے۔ خصوصاً دائیں نالی کی سوزش میں جس میں مادہ منویہ حرکت کرتا ہے۔ نیز اس طرف کے خصیے کی سوزش اور ورم میں یہ اونچے درجے کی دوا بتائی جاتی ہے۔ یہ محض دائیں طرف کام کرتی ہے۔ (صفحہ۳۰۷)
سوزاک (Gonorrhoea) کے دب جانے کے نتیجہ میں جو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس سے ملتی جلتی بیماریاں کلیمٹس میں پائی جاتی ہیں۔ (صفحہ۳۰۸)
کلیمٹس کی ایک خاص علامت یہ ہے کہ کھانا کھانے کے بعد سارے جسم میں کمزوری کا احساس ہوتا ہےاور شریانوں میں تپکن اور دھڑکن پائی جاتی ہے۔ کھانا کھاتے ہی سیری کا احساس ہوتا ہے۔ سینہ سے لے کر پیٹ تک چبھنے والا درد ہوتا ہےجو سانس لیتے ہوئے بڑھ جاتا ہے۔ کلیمٹس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کی تکلیفوں کے بارے میں کہا جاتا ہےکہ چاند کی تاریخ بڑھنے سے علامات بڑھتی اور چاندگھٹنے کے زمانے میں کم ہوجاتی ہیں۔ نہانے کے بعد بھی تکلیفوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ (صفحہ۳۰۸)
کاکولس
Cocculus
(Indian Cockle)
اعصابی نظام میں کمزوری پیدا ہونے کی وجہ سے جسم اور دماغ کی چستی ختم ہو جاتی ہے۔ مریض کو تھکاوٹ اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ بعد میں یہ کمزوری فالج میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کیفیت میں عموماً وہ لوگ مبتلا ہوتے ہیں جنہوں نے لمبا عرصہ اپنے قریبی عزیزوں کی تیمار داری کی ہو، رات دن مسلسل جاگنا پڑا ہو اور فکر اور پریشانی دامنگیر رہی ہو۔ اس کے نتیجہ میں جو کمزوری پیدا ہوتی ہے اس کا بہترین علاج کاکولس ہے۔ عام طور پر دائیوں اور نرسوں کو ایسی کمزوری لاحق نہیں ہوتی کیونکہ وہ تیمار داری بطور پیشہ کرتی ہیں۔ مریض سے ان کا ذاتی قلبی تعلق نہیں ہو تا۔ ان کی جسمانی تھکاوٹ اعصابی دباؤ میں تبدیل نہیں ہوتی۔ اگر ذہنی دباؤ کی وجہ سے جسمانی تھکاوٹ ہو یا جسمانی تھکاوٹ کے ساتھ ذہنی دباؤ بھی ہو تو جسم میں بھی کمزوری پیدا ہونے لگتی ہے۔ نیند نہیں آتی۔ ہر وقت فکر اور پریشانی لاحق رہتی ہے جس کی وجہ سے سر درد ہو جاتا ہے۔ (صفحہ۳۰۹)
کاکولس کے مریض کے لیے کھانے کی بو نا قابل برداشت ہوتی ہے بلکہ اس سے متلی شروع ہو جاتی ہے۔ کو لچیکم میں بھی یہ علامت ہے۔ اگر کسی غدود میں سوزش ہو تو اس کے لیے کرئیوزوٹ (Kreosotum) اور بعض اور دوائیں اہم ہیں لیکن کاکولس میں یہ تکلیف فالجی کیفیت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اسی طرح انتڑیوں اور پیٹ کے عضلات کی فالجی کمزوری کی وجہ سے قبض ہو جاتی ہے اور فضلہ بہت مشکل سے خارج ہو تا ہے۔ (صفحہ۳۱۱)
کاکولس میں مریض ہوا کے جھونکے برداشت نہیں کرسکتا۔ ٹھنڈی اور گرم دونوں ہواؤں سے زود حس ہوجاتا ہے۔ کھلی ہوا،دھوپ اور بستر کی گرمی میں تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ نیز رات کے وقت تکلیفوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ (صفحہ۳۱۲)
کوکس کیکٹائی
Coccus cacti
(Cochineal)
کوکس کے تمام اخراجات لیس دار اور لمبے بٹے ہوئے دھاگہ کی طرح ہوتے ہیں۔ اس کی پیپ کا دھاگہ سویٹر کی اون کی طرح ادھڑتا ہے۔ اخراجات بل کھاتی ہوئی رسی کی طرح بٹے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ (صفحہ۳۱۳)
کوکس کے مریض عموماً سردیوں کے موسم میں بیمار رہتے ہیں۔ جب تک موسم گرما شروع نہ ہوجائے ان کی تکلیفوں کو آرام نہیں آتا اور نزلہ زکام پیچھا نہیں چھوڑتا۔ اگر ان کے اخراجات میں دھاگہ بننے کی علامت موجود ہو تو بے تکلف کوکس دیں جو بہت گہری،فوری اور دیرپا اثر کرنے والی دوا ہے۔ کھانسی اور نزلہ زکام گرم کمرے میں جانے سے بڑھ جاتا ہے اور ٹھنڈ سے اور ٹھنڈا پانی پینے سے آرام آتا ہے لیکن یہ تکلیفیں کچھ عرصہ کے بعد پھر عود کر آتی ہیں۔ ان تضادات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ ورزش کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی گرمی نقصان دہ ہے۔ بیرونی سردی لگنے سے بیماریاں جڑ پکڑتی ہیں اور اندرونی گرمی کے نتیجہ میں علامتوں میں تیزی آجاتی ہے مگر بعض دفعہ بیرونی گرمی سے بھی بیماری میں اضافہ ہو تا ہے۔ (صفحہ۳۱۳-۳۱۴)
کافیا کروڈا
Coffea cruda
(Unrosted Coffee)
ہومیوپیتھی میں کافی سے کافیا کروڈا دوائی بنائی گئی ہے۔ اگر بہت بولنے اور ذہنی ہیجان کی وجہ سے نیند نہ آئے تو کافیا کی ایک دو خوراکیں ہی پرسکون نیند لے آتی ہیں۔ انسان اتنی جلدی سو تا ہےکہ نیند سےپہلے کی ہلکی سی مدہوشی بھی محسوس نہیں ہوتی۔ نکس وامیکا میں بھی یہ علامت ہےکہ یہ دوا اچانک نیند لاتی ہے۔ نکس وامیکا اور بیلا ڈونا کی ایک علامت کافیا میں یہ بھی پائی جاتی ہےکہ شور سے طبیعت گھبراتی ہےاور آوازیں تکلیف دیتی ہیں لیکن کافیا اس لحاظ سے ان دونوں دواؤں سے الگ ہےکہ شور کی تکلیف اعضا کے کناروں پر دردوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہےنیز شور سے ٹانگ یا گھٹنے کا درد یکدم جاگ اٹھتا ہے۔ شور کا یہ اثر کہ سوئے ہوئے دردوں کو جگا دےکافیا کی خاص علامت ہے۔ (صفحہ۳۱۵)
کافیا کی علامات غم کی بجائے خوشی کے جذبات سے پیدا ہوتی ہیں یعنی اچانک خوشی کی خبر ملنے سےجذبات میں جو ہیجان پیدا ہوتا ہے وہ کافیا کی علامت ہے۔ غم کے نتیجہ میں نیند اڑ جائے تو اس کے لیے بالکل اور نوعیت کی دوائیں ہیں۔ (صفحہ۳۱۵)
کافیا آنا ًفانا ًاثر کرنے والی دوا ہے۔ غیر معمولی ہیجان اور ذہنی تھکاوٹ کی وجہ سے نیند اُڑ جائے تو فوری اثر دکھاتی ہے۔ اسی طرح دوسری بیماریوں میں بھی بہت جلد فائدہ پہنچاتی ہے۔ کافیا کے بعض مریضوں کو ہسٹیریا ہو جاتا ہے۔ جذبات کے غلبہ کے نتیجہ میں بے ہوشی طاری ہوتی ہے۔ جذبات کی تحریک سے دندل پڑ جانا (بتیسی بند ہو جانا)، شدید سردرد چہرے کے اعصابی درد اور اسہال جاری ہو جانا بھی کافیا کی علامتیں ہیں۔ (صفحہ۳۱۶)
سونے کے لیے لیٹیں تو نیند کی بجائے دو ر سے کتے بھونکنے کی آوازیں یا دوسرے جانوروں کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ آوازوں کی وجہ سے بھی بعض تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ (صفحہ۳۱۶)
کافیا کا مریض سردی سے بھی زود حس ہوتا ہے۔ منہ اور دانتوں کے درد میں برف کا پانی منہ میں رکھنے سے آرام ملتا ہے۔ دانتوں کا درد اعصابی تکلیف کی وجہ سے ہو تا ہے اس میں کوئی معین قانون نہیں چلتا۔ کافیا کے دانت درد کو ٹھنڈ آرام دیتی ہے۔ (صفحہ۳۱۷)
(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔ قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔ )
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۷)(قسط ۱۴۲)




