ایشیا (رپورٹس)

جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کے ایک سو ایک ویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کا بابرکت انعقاد

٭… نماز تہجد، پنجوقتہ نمازوں، دروس اور علمائے سلسلہ کی مختلف موضوعات پر تقاریر کا اہتمام

٭… لائبیریا، سیرالیون اور ملائیشیا وغیرہ مختلف ممالک سے مبارکباد کے پیغامات ٭…۱۱؍ہزار ۵۸۵؍احباب کی شمولیت

اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کو سمیٹتے ہوئے جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کا ۱۰۱ واں جلسہ سالانہ ۱۶؍تا۱۸؍جنوری ۲۰۲۶ء منعقد ہوا۔ الحمدللہ علیٰ ذالک

ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے ڈھاکہ بخشی بازار دارالتبلیغ میں یہ جلسہ منعقد ہوا۔ جبکہ ملک بھر کے دیگر ۱۷؍مقامات سے لائیو سٹریم کے ذریعہ جلسہ میں شمولیت کا انتظام کیا گیا تھا۔ سارے ملک کی تمام جماعتوں کو تقسیم کر کے ان ۱۷؍سنٹرز میں شامل ہونے کے لیے کہا گیا جبکہ ڈھاکہ اور گرد و نواح کی جماعتوں کو ڈھاکہ کی مرکزی جلسہ گاہ میں شرکت کے لیے بلایا گیا۔ ڈھاکہ دارالتبلیغ کے جلسہ گاہ سے جلسہ کے تمام اجلاسات مواصلاتی رابطوں سے دیگر جلسہ گاہوں میں دکھانے اور سنانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ لائیوسٹریم کے ذریعہ دیگر جلسہ گاہوں سے بھی ویڈیو کا انتظام تھا۔ اس طرح سارے ملک کے احمدی احباب کو ایک دوسرے کو دیکھنے کا موقع ملا۔ حفاظتی پہلو کے پیش نظر جلسہ کو کسی بھی سوشل میڈیا یا دوسرے ذرائع سے دیکھنے کا انتظام نہیں تھا۔ صرف جلسہ گاہوں میں شامل ہونے والے احباب ہی جلسہ کے اجلاسات سے فیضیاب ہوئے۔ البتہ اختتامی اجلاس کو یوٹیوب پر براہ راست نشر کیا گیا جسے دنیا بھر سے ہزاروں افراد نے دیکھا۔ الحمدللہ

جلسہ سالانہ کے تینوں دن باجماعت نماز تہجد، نماز فجر اور درس کا سلسلہ جاری رہا۔ پہلے روز درس کا موضوع ’’قرآن مجید خاتم کتب سماوی‘‘، دوسرے روز ’’آنحضرت ﷺ کی فضیلت‘‘ اور تیسرے روز ’’حضرت امام مہدیؑ کی صداقت‘‘ تھا۔ بخشی بازار کے مرکزی جلسہ گاہ کے علاوہ تمام ریجنل جلسہ گاہوں میں بھی یہی نظام اپنایا گیا۔

پہلا دن:۱۶؍جنوری بروز جمعۃ المبارک

جلسہ کا آغاز نماز جمعہ و عصر کی ادائیگی کے بعد دوپہر دو بج کر ۴۵؍منٹ پر تقریب پرچم کشائی سے ہوا۔ مکرم عبدالاول خان چودھری صاحب امیر جماعت احمدیہ بنگلہ دیش و مبلغ انچارج نے لوائے احمدیت جبکہ بنگلہ دیش کا قومی پرچم مکرم حاجی پروفیسر ڈاکٹر عبد اللہ شمس بن طارق صاحب افسر جلسہ سالانہ نے لہرایا۔ اس موقع پر جلسہ سالانہ کے دیگر افسران اور دوسرے معززین بھی حاضر تھے۔ دعا کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا۔

افتتاحی اجلاس کا آغاز مکرم امیر صاحب کی صدارت میں تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم فراد احمد صاحب مبلغ سلسلہ نے پیش کی۔ دعا کے بعد حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا منظوم کلام مکرم جی ایم عرفان احمد صاحب نے پیش کیا۔

مکرم امیر صاحب نے ’’اللہ تعالیٰ کی ہستی اور قرب الٰہی کے حصول کا طریقہ‘‘ کے موضوع پر افتتاحی تقریر کی۔ اس اجلاس میں جامعہ احمدیہ بنگلہ دیش کے طلبہ نے حضرت مسیح موعودؑ کا ایک عربی قصیدہ بھی پیش کیا۔ علاوہ ازیں مکرم صالح احمد صاحب مبلغ سلسلہ و استاد جامعہ احمدیہ بنگلہ دیش نے ’’خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی فضیلت اور عظمت‘‘ اور مکرم مولانا فیروز عالَم صاحب انچارج مرکزی بنگلہ ڈیسک نے ’’قرآن مجید ہمارا راہنما ہے‘‘ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔ اس طرح جلسہ کا پہلا اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا۔

نماز مغرب و عشاء کے بعد بخشی بازار میں تبلیغی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے علاوہ ریجنل جلسہ گاہوں میں بھی مقامی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تبلیغی و تربیتی اجلاسات منعقد ہوئے۔

بنگلہ دیش کے وقت کے مطابق شام سات بجے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ براہ راست جلسہ گاہوں میں دیکھا اور سنا گیا۔

دوسرا دن:۱۷؍جنوری بروز ہفتہ

دوسرے روز کا آغاز نماز تہجد، فجر اور درس سے ہوا۔ صبح ساڑھے نو بجے دوسرا اجلاس مکرم ایس ایم فیض الحق صاحب امیر جماعت احمدیہ ڈھاکہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ مکرم حسن محمد منہاج الرحمٰن صاحب نے تلاوت قرآن کریم اور مکرم مسرور احمد صاحب نے کلام محمود سے نظم پیش کی۔ بعدازاں مکرم مسعود احمد صاحب مبلغ سلسلہ نے ’’انسان کی پیدائش کی اصل غرض عبادت ہے‘‘ جبکہ مکرم سبیر احمد متقی صاحب مبلغ سلسلہ و استاد جامعہ احمدیہ بنگلہ دیش نے ’’مثالی خاندانی/گھریلو زندگی کے قیام میں احمدی عورتوں کا کردار‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ پھر مکرم پروفیسر ڈاکٹر قمر اللہ بن طارق الاسلام صاحب نے ’’اسلام کا اقتصادی نظام اور زکوٰۃ کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ اس کے بعد درّعدن سے مکرم راحول علی صاحب نے ایک نظم پیش کی۔ پھر مکرم امیر صاحب نے جماعت کے سامنے تربیتی حوالے سے درپیش مسائل اور ان کے حل کے بارے میں تقریر کی جس کے ساتھ یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

نماز ظہر و عصر کی ادائیگی اور ظہرانہ کے بعد دوپہر دو بج کر ۴۵؍منٹ پر تیسرا اجلاس مکرم مبشر الرحمٰن صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ بنگلہ دیش کی صدارت میں منعقد ہوا۔ مکرم محمد اِکرام خان فہیم صاحب نے تلاوت قرآن کریم اور مکرم سلطان محمود انور صاحب مبلغ سلسلہ نے حضرت مسیح موعودؑ کے منظوم کلام سے نظم پیش کی۔بعدازاں ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’امن عالم کے قیام میں جماعت احمدیہ کا کردار‘‘ از مکرم پروفیسر ڈاکٹر عبد اللہ شمس بن طارق صاحب نائب نیشنل امیر و افسر جلسہ سالانہ بنگلہ دیش، ’’قرآن مجید کا پیدا کردہ روحانی انقلاب‘‘ از مکرم شیخ مستفیض الرحمٰن صاحب مبلغ سلسلہ اور ’’مذاہب عالم کی پیشگوئیوں سے آخری زمانہ کے موعود اقوام عالم‘‘ از مکرم شاہ محمد نور الامین صاحب مبلغ سلسلہ و افسر جلسہ گاہ ۔درمیان میں مکرم احسان الحبیب صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کے منظوم کلام سے ایک نظم پیش کی۔

نماز مغرب و عشاء کے بعد بخشی بازار میں تبلیغی سیمینار منعقد ہوا۔ اسی طرح دیگر ریجنل جلسہ گاہوں میں بھی تبلیغی و تربیتی اجلاسات منعقد ہوئے۔

تیسرا دن:۱۸؍جنوری بروز اتوار

جلسہ کے تیسرے روز کا آغاز بھی نماز تہجد، فجر اور درس سے ہوا۔ صبح ساڑھے نو بجے چوتھے اجلاس کا انعقاد مکرم محمود عالَم خان صاحب امیر جماعت احمدیہ میرپور کی صدارت میں ہوا۔ مکرم ثناء الحق صاحب نے تلاوت قرآن کریم اور مکرم محبوب احمد رفیع صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کی ایک اردو نظم پیش کی۔

بعدازاں ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’نظام خلافت کی اطاعت‘‘ از مکرم مشتاق احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ بنگلہ دیش، ’’قرآن مجید و احادیث نبویﷺ کی روشنی میں حقیقی مسلمان کون‘‘ از مکرم محمد صلاح الدین صاحب مبلغ سلسلہ۔ اس کے علاوہ ایک اردو نظم مکرم اشرف سرکار صاحب نے پیش کی۔ اس کے بعد ’’حضرت امام مہدیؑ کا عشق رسول ﷺ‘‘ از مکرم لیفٹیننٹ کمانڈر (رٹائرڈ) ظفر احمد صاحب اور ’’اشاعت اسلام کے لیے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی دلی تڑپ‘‘از مکرم ظہیر الدین احمد صاحب مبلغ سلسلہ و استاد جامعہ احمدیہ بنگلہ دیش پیش کی گئی۔ اس موقع پر ملک کے مختلف ریجنل جلسہ گاہوں سے موصول ہونے والے بعض ویڈیو پیغامات بھی دکھائے گئے۔

نماز ظہر و عصر اور دوپہر کے کھانے کے بعد دوپہر دو بج کر ۵۰؍منٹ پر جلسہ کے پانچویں اور اختتامی اجلاس کا آغاز مکرم امیر صاحب کی صدارت میں ہوا۔ مکرم ناصر احمد صاحب مبلغ سلسلہ نے تلاوت قرآن کریم اور مکرم قاسم حسین صاحب مبلغ سلسلہ نے حضرت مسیح موعودؑ کی اردو نظم پیش کی۔ بعدازاں ’’الٰہی جماعتوں کی مخالفت اور اس کے انجام‘‘ پر مکرم ابو صالح احمد منڈل صاحب مبلغ سلسلہ نے تقریر کی اور مکرم فیروز عالَم صاحب انچارج مرکزی بنگلہ ڈیسک نے ’’جماعت احمدیہ بنگلہ دیش پر خلفائے عظام احمدیت کے بے شمار احسانات اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ ایک نظم کورس کی صورت میں پیش کی گئی۔

اس کے بعد لائبیریا، سیرالیون اور ملائیشیا وغیرہ مختلف ممالک سے موصول ہونے والے مبارکباد کے پیغامات سنائے گئے جن میں مکرم موسیٰ میوا صاحب امیر جماعت احمدیہ سیرالیون اور مکرم عین الیقین صاحب مبلغ سلسلہ ملائیشیا کا پیغام بھی شامل تھا۔ اسی طرح ملک کے مختلف ریجنل جلسہ گاہوں سے موصول ہونے والے ویڈیو پیغامات بھی دکھائے گئے۔

مکرم امیر صاحب نے اپنی اختتامی تقریر میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تحریک کے مطابق دعا، نماز باجماعت اور قرآن مجید کی تلاوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ آخر پر اختتامی دعا کے ساتھ یہ جلسہ اپنے بابرکت اختتام کو پہنچا۔

اختتامی اجلاس یوٹیوب پر براہ راست نشر کیا گیا تھا تا کہ ملک بھر کے احباب جماعت اور بیرون ملک مقیم احمدی احباب بھی جلسہ اور اختتامی دعا میں شامل ہو سکیں۔

ان تینوں دنوں میں ملک بھر کے جلسہ گاہوں میں کُل ۱۲؍بیعتیں ہوئیں۔ الحمدللہ علیٰ ذالک

بخشی بازار میں جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع ہونے والے قرآن مجید کے ۷۶؍زبانوں میں تراجم کی ایک نمائش کا بھی انتظام تھا۔ اس کے علاوہ بک سٹال اور پریس سٹال وغیرہ بھی قائم کیے گئے تھے۔

امسال جلسہ کی کل حاضری ۱۱؍ہزار ۵۸۵ رہی جو معلوم تاریخ کے مطابق جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کے جلسہ سالانہ کی سب سے بڑی حاضری ہے۔ الحمدللہ علیٰ ذالک

(رپورٹ: نوید الرحمٰن۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مالٹا میں بین المذاہب روزہ کی تقریب کا انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button