الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

حضرت چودھری سرمحمد ظفراللہ خانصاحبؓ

(گذشتہ سے پیوستہ)

محترم بشیر احمد رفیق خان صاحب رقمطراز ہیں کہ

٭…حضرت چودھری صاحبؓ نے اپنے نفس کو اس قدر مطیع کیا ہوا تھا کہ فرمایا کرتے تھے کہ مَیں اکیلے میں اپنے نفس کو خوب جھاڑتا ہوں کہ دیکھ تجھ میں یہ کمزوریاں ہیں انہیں دُور کرنے کی طرف توجہ دے۔ ایسا کرنے سے میری طبیعت اس بات کی طرف شدّت سے مائل ہو جاتی ہے کہ میں اپنی کمزوریوں کی اصلاح کرسکوں۔ اسی بات نے آپ کو انکساری اور تواضع میں ایک خاص مقام پر پہنچا دیا۔

آپ اپنے نفس کے لیے اتنے سخت الفاظ استعمال فرماتے کہ اب آپ کی وفات کے بعد دل بھی نہیں چاہتا کہ ان الفاظ کو اپنی زبان سے ادا کیا جائے مگر حضرت چودھری صاحبؓ کی عظمت کی بلندیوں کا صحیح اظہار کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ سخت ترین الفاظ بھی بجنسہٖ درج کیے جائیں۔ ایک مرتبہ یورپ کے ایک صاحب نے آپ کو خط میں شکوہ کیا کہ شاید آپ اس وجہ سے ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے کہ آپ بڑے آدمی ہیں اور ہم کم حیثیت کے ہیں وغیرہ۔ حضرت چودھری صاحبؓ کو خط کے آخری فقرے سے سخت تکلیف ہوئی۔ اگلے دن آپ نے ان صاحب کے نام ایک خط لکھا اور فرمایابے شک آپ اسے پڑھ بھی لیں۔ مَیں یہ خط پڑھ کر سرسے پاؤں تک کانپ گیا۔ آپؓ نے ان کے پاس نہ جانے کی معذرت کرنے کے بعد تحریر فرمایا کہ جب میں آپ کے خط کے اس فقرے پر پہنچا کہ میں اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہوں تو میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ ظفراللہ خان تم اپنے نفس کو اچھی طرح ٹٹول کرجواب دو کہ تمہاری حیثیت کیا ہے۔ چنانچہ میں نے اس وقت خط کا جواب فوری طور پر دینا ملتوی کردیا اور اس سوال پر پورا ایک دن اور ایک رات غور کرتا رہا۔ اب مَیں آپ کے اس سوال کا جواب دے رہا ہوں جبکہ میرے نفس نے مجھے جواب دیا ہے کہ میر ی حیثیت درحقیقت کیا ہے۔ اور وہ جواب یہ ہے کہ میرے نفس نے مجھے کہا کہ ظفراللہ خان تیری حیثیت ایک مرے ہوئے کتّے سے بھی بدتر ہے۔ تم میں کوئی بڑائی نہیں جو کچھ تمہیں ملا ہے وہ محض فضلِ خداوندی ہے۔

٭…حضرت چودھری صاحبؓ جہاں بھی رہے وہاں آپ نے مربیانِ سلسلہ سے احترام کا خصوصی تعلق قائم رکھا۔ ایک بار آپ کے دہلی میں قیام کے زمانہ کے ایک باورچی نے (جو لندن میں مقیم ہے)آپ کو کھانے کی دعوت دی جو آپ نے قبول فرمالی۔ خاکسار بھی اس دعوت میں شریک تھا۔ غریب باورچی خوشی سے پھولا نہ سماتا تھا۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد باورچی نے ایک تھیلا خاکسار کو پکڑاتے ہوئے کہا کہ اس میں حضرت چودھری صاحبؓ کے لیے مرغ مسلّم ہے۔ حضرت چودھری صاحبؓ نے یہ بات سن کر تھیلا جھپٹ کر میرے ہاتھ سے لے لیا اور باورچی سے مخاطب ہوکر فرمایا:تم نے بڑی گستاخی کی ہے۔ امام صاحب برطانیہ میں جماعت احمدیہ کے نمائندہ ہیں۔ اس لحاظ سے مَیں ہر وقت ان کے ماتحت ہوں۔ تمہیں یہ تھیلا اِنہیں نہیں پکڑانا چاہیے تھا۔ ان کا احترام لازم ہے۔ حضرت چودھری صاحبؓ باورچی کو یہ نصیحت فرما رہے تھے اور مَیں شرم سے زمین میں گڑا جارہا تھا۔ بھلا حضرت چودھری صاحبؓ کے سامنے میری کیا حیثیت!

٭…جب بھی کوئی شخص آپؓ کی دعوت کرتا تو آپؓ فرماتے امام صاحب سے پوچھ لیں اگر انہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو میں ان کے ساتھ آجاؤں گا۔ ضمنًا یہ عرض کردوں کہ آپ دعوت کبھی ردّ نہ کرتے حالانکہ بوجہ ذیابیطس پرہیزی کھانا کھانے کی وجہ سے دعوتوں میں جانا آپ کے لیے مناسب نہ تھا۔ فرماتے حدیث میں آیا ہے کہ دعوت کو ردّ نہ کرو۔

٭…حضرت چودھری صاحبؓ صحیح معنوں میں ایک عارف باللہ وجود تھے۔ عبادت آپ کی روح کی غذا تھی۔ اعلیٰ ترین سطحوں کے اجتماعات ، میٹنگز اور ملاقاتوں میں کبھی آپ نے نماز قضاء نہیں ہونے دی۔ دیکھنے اور جاننے والوں نے ہمیشہ آپؓ کو تہجد کا پابند پایا۔ آپ کا قیام لندن مشن کی تیسری منزل پر واقع ایک فلیٹ میں تھا۔ آپ ہر نماز کے لیے تشریف لاتے اور باوجود پیرانہ سالی اور کمزوری کے اتنی ساری سیڑھیاں چڑھتے اور اترتے۔ نماز جمعہ کے لیے اوّل وقت تشریف لاتے اور ہمیشہ پہلی صف میں تشریف فرما ہوتے۔ آپ نے سالہا سال تک قرآن کلاس میں فضائل قرآن پر لیکچرز دیے اور قرآنی علوم و معارف بیان فرماتے رہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غضب کا حافظہ دیا تھااس لیے جس حصہ قرآن پر درس دینا ہوتا تھا وہ حفظ فرما لیا کرتے تھے۔ اس طرح سے آپ کو قرآن کریم کا بہت سارا حصہ حفظ ہوچکا تھا۔

٭…حضرت چودھری صاحبؓ نے جس طرح نظم و ضبط سے ساری زندگی گزاری ہے۔ اس کا ایک اہم پہلو وقت کی انتہائی پابندی ہے۔ اس پر آپ نہ صرف خود عمل پیرا ہوتے بلکہ احباب جماعت کی تربیت اس رنگ میں بھی فرماتے کہ انہیں بھی پابندیٔ وقت کی عادت پڑ جاتی تھی۔ ایک دفعہ کسی کو ملنے تشریف لے گئے۔ جب ہم اس شخص کے مکان پر پہنچے تو مقررہ وقت میں ابھی پندرہ منٹ باقی تھے۔ آپ نے فرمایا پابندیٔ وقت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ کسی کے ہاں مقررّہ وقت سے پہلے بھی نہ جایا جائے۔ اس لیے آیئے تھوڑی دیر سڑک پر ٹہلتے ہیں۔ عین وقت پر فرمایا اب چلیں۔

پابندیٔ وقت کے ضمن میں آپ کو اپنے آرام و آسائش کی قربانی بھی دینا پڑتی تھی۔ آپؓ نے بتایا کہ گول میز کانفرنسوں کے دنوں میں دوپہر کے کھانے کے لیے بڑا مختصر سا وقت ملتا تھا۔ ہندوستانی وفد کے اراکین اکثر کھانے کے وقفہ کے بعد دیر سے آتے جبکہ مَیں عین وقت پر کانفرنس ہال میں داخل ہوا کرتا۔ ایک دن علامہ اقبال نے مجھ سے پوچھا کہ کھانا آپ بھی ہوٹل سے کھاتے ہیں اور ہم بھی۔ پھر آپ بروقت کھانے سے فارغ ہوکر کس طرح کانفرنس میں شامل ہوجاتے ہیں؟ مَیں نے کہا کل میرے ساتھ چلے چلیں۔ چنانچہ اگلے دن میں وفد کے ممبران کو بکنگھم پیلس کے قریب ہی ایک سیلف سروس ریستوران میں لے گیا۔ وہاںقطار میں کھڑے ہوکر کھانا حاصل کیا اور وقت کے اندر اندر کھانے سے فارغ ہوکرعین وقت پر سب لوگ کانفرنس ہال میں پہنچ گئے۔ وفد کے ممبران کو جب اگلے روز مَیں نے ساتھ چلنے کو کہا تو اُن میں سے بعض نے کہا کہ آپ جائیں، ہم سے تو قطار میں کھڑے ہوکر کھانا حاصل نہیں کیا جاتا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ! تو پھر آپ کو وقت پر آنا بھی ممکن نہ ہوگا۔

پابندیٔ وقت کا یہ نتیجہ تھا کہ اقوامِ متحدہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آپؓ کی صدارت کے دوران اقوامِ متحدہ کا اجلاس کرسمس کی تعطیلات سے پہلے پہلے حسبِ پروگرام ختم ہوگیااور اس اعتبار سے بھی یہ سیشن تاریخی اہمیت اختیار کرگیا۔

٭…حضرت چودھری صاحبؓ نے اپنی ساری زندگی اتنی بھرپور گزاری ہے کہ ان کے کام کرنے کی قوّت اور صلاحیت کو دیکھ کر رشک آتا تھا۔ آپ کی زندگی کا ماٹو یہ معلوم ہوتا تھا کہ ’’کام کام اور صرف کام۔‘‘ فرمایا کرتے تھے کہ جب چالیس سال کی عمر میں مجھے ذیابیطس کی تکلیف شروع ہوئی تو ڈاکٹروں نے بہت سی احتیاطیں بتائیں۔ ان دنوںمیں مَیں سوچا کرتا تھا کہ اگر میری عمر ساٹھ سال بھی ہوگئی تو بہت ہوگی۔ اب جب اللہ تعالیٰ نے عمر میں اضافہ فرمادیا ہے تو یہ مہلت اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری میں بسر کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ آپ اسّی پچاسی سال کی عمر میں بھی روزانہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے میز کرسی پر بیٹھ کر تصانیف میں مشغول رہتے تھے۔ دن کو سونے کی عادت نہ تھی۔ آرام کرسی پر بیٹھے بیٹھے کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کرکے استراحت فرما لیا کرتے تھے۔ اکثر تصانیف کے ابتدائی مسودے اپنے ہاتھ سے لکھ کر مجھے دیا کرتے تھے۔ بعد میں جب ڈاکٹروں نے ہاتھ سے لکھنے سے منع کردیا تو پھر تصانیف کو املاءکروانا شروع کیا۔

٭…سلسلہ کے اخبارات ورسائل کا مطالعہ آپ کا خاص شوق تھا۔ الفضل کے مطالعہ میں کبھی ناغہ نہ کرتے۔ انگریزی رسالہ ’’مسلم ہیرلڈ‘‘، ’’الفرقان‘‘ اور ’’لاہور‘‘ بھی بہت شوق اور باقاعدگی سے پڑھتے تھے۔

٭…۱۹۶۵ء میں آپ عالمی عدالت انصاف میں بطور جج متعین تھے۔ خاکسار نے مرکز سے اجازت حاصل کرلی تھی کہ اگر انگلستان کی کسی فرم سے قرضہ مل جائے تو لندن مشن ہاؤس کی توسیع کرلی جائے۔ ایک فنانس کمپنی سے ایک سال سے زائد عرصہ کی بات چیت میں جب شرائط طے ہوگئیں اور معاہدہ پر دستخط کرنے کا وقت آیا تو مذکورہ کارپوریشن نے بغیر کوئی وجہ بتائے قرضہ دینے سے انکار کردیا جس سے سخت پریشانی ہوئی۔ آپؓ کے دریافت فرمانے پر مَیں نے تفصیل سے سارے حالات بتائے تو اگلے دن فرمایا کہ جن شرائط پر فنانس کمپنی آپ کو قرضہ دے رہی تھی اُنہی شرائط پر مَیں آپ کے لیے ذاتی طور پر قرضہ کا انتظام کردوں؟ خاکسار نے یہ بات حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی خدمت میں لکھ کر منظوری لے لی۔ اس کے بعد ہم نئے مشن ہائوس کی تعمیر میں لگ گئے جو ایک بڑے محمود ہال کے علاوہ تین فلیٹس اور دفاتر وغیرہ پر مشتمل ہے۔ سوا لاکھ پونڈ کے خرچ سے ایک سال میں یہ کام مکمل ہو گیا تو ایک معاہدہ مابین تحریک جدید اور چودھری صاحب تیار ہوا۔ جس دن معاہدہ پر دستخط ہونے تھے اُس دن ناشتہ پر آپؓ نے فرمایا کہ ’’میں نے رات کو اس معاہدہ کا مطالعہ کیا ہے ۔ مجھے جو کچھ بھی ملاہے وہ محض فضل خداوندی ہے ورنہ گھر سے تو کچھ نہ لائے تھے۔ میرے ضمیر نے اس بات پر مجھے ملامت کی کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہوئے کسی معاہدہ کی ضرورت کیوں پیش آئے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں یہ رقم واپس نہیں لوں گا‘‘۔ نیز فرمایا کہ حضورؒ کے علاوہ میری زندگی میں کسی اَور کو اس بات کا علم نہ ہونے پائے کہ اس تعمیر کا خرچ میں نے دیا ہے۔

٭…۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف طوفان اٹھایا گیا تو ایک پاکستانی روزنامہ کے نمائندہ نے لندن میں حضرت چودھری صاحبؓ سے انٹرویو میں پوچھا کہ اب تو پاکستان میں جماعت احمدیہ کی تبلیغ و اشاعت پر قانوناً پابندی لاگو کر دی جائے گی اور تبلیغ بند ہو جانے کے بعد جماعت کی وسعت پذیری کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ بات کہہ کر اس نے حضرت چودھری صاحبؓ کا عندیہ معلوم کرنا چاہا۔ آپؓ نے فرمایا کہ احمدیت کی ترقی و اشاعت بہرحال جاری رہے گی۔ نمائندہ نے کہاکہ جب آپ عوام سے تبلیغی رابطہ ہی قائم نہیں کر سکیں گے تو عوام آپ کی جماعت میں کیسے شامل ہوں گے۔ آپؓ نے فرمایا: جو تحریکات اللہ تعالیٰ خود پیدا کرتا ہے ، ان کی حفاظت کا ذمہ بھی خود لیتا ہے۔ اگر ہماری تبلیغ کو کلیۃً روک بھی دیا گیا تب بھی اللہ تعالیٰ رؤیائے صادقہ کے ذریعہ لوگوں کو مسیح و مہدی کے آنے کی اطلاع دے گا۔ خود میری والدہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک رؤیا کے ذریعہ قبول کیا تھا۔ اُنہیں کسی نے کوئی تبلیغ نہیں کی تھی۔ جماعت احمدیہ میں ہزاروں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں خوابوں کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کرنے کی ہدایت ملی۔ احمدیت خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے۔ یہ پھلے گا اور پھولے گا اور ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔ انشاء اللہ

٭…نمازوں کی ادائیگی اور نماز تہجد میں التزام آپؓ کے خاص وصف تھے۔ جب بھی ہم سفر پر جاتے اور کہیں قیام ہوتا تو شام کو کھانے کے بعد بیڈ روم میں جانے سے قبل آپ عموماً یہ پوچھا کرتے تھے کہ فجر کی نماز کا کیا وقت ہوگا اور نماز میرے کمرہ میں آکر پڑھیں گے یا مَیں آپ کے کمرہ میں آجائوں؟

ایک دفعہ ایک نوجوان نے دوران گفتگو کہا کہ فجر کی نماز یورپ میں اپنے وقت پر ادا کرنی بہت مشکل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگرچہ مجھے اپنی مثال پیش کرتے ہوئے سخت حجاب ہوتا ہے لیکن آپ کی تربیت کے لیے یہ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے قریباً نصف صدی کا زمانہ یورپ میں گزارنے کے باوجود فجر تو فجر میں نے کبھی نماز تہجد بھی قضا نہیں کی۔

(باقی آئندہ سوموار کے شمارے میں۔ان شاءاللہ)

………٭………٭………٭………

مزید پڑھیں: گھانا کی اہنسن(Ahinisn) جیل کا دورہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button