ارفورٹ، جرمنی میں مسجد محمود کا بابرکت افتتاح

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ جرمنی کو صوبہ تھیورنگن کے دارالحکومت ارفورٹ (Erfurt)میں، جو گرجا گھروں کی کثرت کی وجہ سے عیسائیت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، ‘سو مساجد سکیم’ کے تحت مسجد محمود تعمیر کرنے کی توفیق ملی۔ اس مسجد کا افتتاح ۱۳؍فروری ۲۰۲۶ء بروز جمعۃ المبارک مکرم عبداللہ واگس ہاؤزر صاحب امیر جماعت احمدیہ جرمنی نے کیا۔ اگلے روز معززین شہر کے ساتھ تعارفی تقریب منعقد ہوئی جبکہ اتوار کو ۷۰۰؍سے زائد افراد نے مسجد کا دورہ کر کے اسلام اور عبادات سے تعارف حاصل کیا۔
ابتدائی پس منظر و جدوجہد: جرمنی کے متحد ہونے کے بعد ارفورٹ شہر مشرقی حصہ جرمنی کا وہ پہلا شہر ہے جہاں مسیح پاک کے ایک خلیفہ نے نہ صرف قدم رکھے بلکہ ۱۹؍ستمبر ۱۹۹۰ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الربع رحمہ اللہ تعالیٰ نے تبلیغی اجلاس سے خطاب بھی فرمایا۔ اس وقت تک اس شہر میں جماعت کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا۔ حضور انور کے خطاب کے بعد احمدی احباب کی توجہ اس شہر کی طرف ہوئی اور ملک ابراہیم صاحب معہ افراد خاندان ارفورٹ شہر میں آباد ہوئے جس کے بعد یہاں جماعت کا آغاز ہوا۔
مسجد کے لیے زمین کی تلاش کا کام ۲۰۰۹ء میں شروع ہوا مگر مقامی مخالفت، دائیں بازو کے رجحانات اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث متعدد کوششیں ناکام ہوئیں۔ ۲۰۱۵ءتا ۲۰۱۶ء کے حالات میں، جب جرمنی میں پناہ گزینوں کی جتھوں کی صورت میں آمد ہوئی، احمدیہ مسلم میڈیکل ایسوسی ایشن اور ہومیونیٹی فرسٹ نے اس علاقہ کے متعدد شہروں میں ایک سال تک میڈیکل کیمپس لگا کر انتظامیہ کی مدد کی۔ خدمت خلق کی اس کاوش نے انتظامیہ پر بہت مثبت اثر ڈالا جس کے نتیجہ میں ۲۰۱۶ء میں پلاٹ فائنل ہوا اور اپیلوں کے باوجود بالآخر منظوری مل گئی۔ بعدازاں ۳۰؍مارچ ۲۰۱۷ء کو ۶۰۵۰؍مربع میٹر کا پلاٹ ایک لاکھ ۶۵؍ہزار یورو کے عوض خریدلیا گیا اور مسجد کا نقشہ، جو Architecture Musawwa کا تیار کردہ تھا، جمع کروایا گیا۔
سنگ بنیاد: مسجد کا سنگ بنیاد مورخہ ۱۳؍نومبر ۲۰۱۸ء کو رکھا گیا جس میں صوبہ کے وزیر اعلیٰ، لارڈ میئر، اراکین اسمبلی، بشپ اور دیگر معززین شریک ہوئے۔ مسجد کے احاطہ کے قریب تعمیر کے خلاف احتجاج کرنے والے بھی خاصی تعداد میں جمع ہو کر نعرہ بازی کر رہے تھے۔ ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے پولیس بھی خاصی تعداد میں موجود تھی۔
مقررین نے مذہبی آزادی، رواداری اور باہمی احترام پر زور دیا۔ مکرم امیر صاحب نے جماعت کا تعارف پیش کرتے ہوئے امن، محبت اور بھائی چارہ کے فروغ کا پیغام دیا۔ بعد ازاں سب سے پہلے مکرم امیر صاحب نے بنیادی اینٹ رکھی جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی تھی۔ پھر دیگر متعدد معززین نے بنیادی اینٹیں رکھنے کی سعادت حاصل کی اور اجتماعی دعا کروائی گئی۔
تعمیر کے دوران مخالفت: نومبر ۲۰۱۸ء سے ۲۰۲۶ء تک جاری تعمیر کے دوران شدید مخالفت کا سامنا رہا۔ تاہم عوامی مکالمہ، صبر اور مستقل مزاجی کے نتیجہ میں مجموعی فضا میں بہتری آئی۔ اس دوران مختلف کارکنان اور رضاکاران نے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ مسجد کی تعمیر پر تقریباً ۱۴؍لاکھ یورو خرچ آیا۔ پلاٹ کا کل رقبہ جو چھ ہزار پچاس مربع میٹر ہے، اس میں سے ۵۰۱ مربع میٹر پر مسجد، دفاتر، رہائش و دیگر ضروری تعمیر کی گئی ہے۔ مسجد کا ایریا تقریباً ۱۶۰ مربع میٹر ہے جس میں ۱۲۰ نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں۔
مسجد کو دیکھنے کی خواہش: سو مساجد سکیم کے تحت تعمیر ہونے والی مساجد میں مخالفت اور رکاوٹوں کا سامنا تو ہر مسجد پر کرنا پڑا لیکن مسجد محمود کی تعمیر پر برسوں جاری رہنے والی مخالفت اور اس کے خبروں میں تذکروں کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مسجد مکمل ہونے سے قبل عوام الناس میں اس مسجد کو دیکھنے کے حوالہ سے دلچسپی پیدا ہونا شروع ہوگئی ۔ سکولوں اور یونیورسٹیز سے بھی طلبہ اساتذہ ،پروفیسر صاحبان اسلام کے تعارف کی لیے مسجد آتے رہے۔ جرمن کیتھولک ڈے، جو گزشتہ ۱۰۳ سال سے ہر دو سال بعد منعقد ہونے والا ایک بڑا مذہبی اجتماع ہے، ۲۰۲۴ء میں ارفورٹ میں منعقد ہوا۔ اس اہم موقع پر مسجد محمود ارفورٹ کا نام مسلمانوں کی عبادت گاہ کے طور پر پروگرام میں شائع کر کے اس کو وزٹ کرنے کی تلقین کی گئی۔ چنانچہ ان ایام میں بڑی تعداد میں لوگوں نے زیر تعمیر مسجد کا دورہ کیا اور اسلام سے متعلق معلومات حاصل کیں ۔
مسجد محمود کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد جماعت جرمنی کی خواہش تھی کہ اس کا افتتاح بھی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے مبارک ہاتھوں سے ہو اس کے لیے سب حضور انور کی آمد کے منتظر تھے۔ اس دوران حضور انور کی طرف سے یہ ارشاد موصول ہوا کہ جو نہی مساجد کی تعمیر مکمل ہو ان کا افتتاح کر دیا جائے۔ اس ارشاد کے بعد مسجد محمود کے افتتاح کے لیے ۱۳؍فروری ۲۰۲۶ء جمعہ کا روز مقرر ہوا اور افتتاحی تقریبات تین روز جاری رہیں۔
مسجد کا افتتاح: مسجد کے افتتاح کے روز صبح سے مشرقی حصہ جرمنی کی جماعتوں کے ممبران کے علاوہ برلن، فرانکفرٹ و دیگر شہروں سے احمدی احباب کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جن کی مہمان نوازی کے لیے ایک بڑی مارکی لگائی گئی تھی۔ ماضی کے تجربات کے پیش نظر خدام بھی ڈیوٹی پر مستعد تھے۔ پولیس بھی اپنے طور پر حفاظتی اقدامات کا جائزہ لے رہی تھی۔ مسجد کا افتتاح تو نماز جمعہ کی ادائیگی سے ہونا تھا البتہ حسب روایت افتتاحی تختی کی نقاب کشائی نماز جمعہ سے قبل ہوئی جو مکرم امیر صاحب نے کی اور دعا کروائی۔

مکرم مبارک احمد تنویر صاحب مبلغ انچارج جرمنی نے خطبہ جمعہ میں عبادات کی اہمیت اور مساجد کو آباد رکھنے کی تلقین کی۔ حضور انور کے لائیو خطبہ جمعہ کے بعد سب شاملین کی تواضع دوپہر کے کھانے سے کی گئی۔

افتتاحی تقریب: افتتاحی تقریب کے لیے تین بجکر پینتالیس منٹ کا وقت مقرر تھا۔ مکرم امیر صاحب جرمنی، مکرم مبلغ انچارج صاحب اور مکرم سلیمان ملک صاحب مقامی صدر جماعت کے سٹیج پر تشریف لانے کےبعد تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم اور اس کے اردو و جرمن ترجمہ سے ہوا۔ نظم اور اس کے جرمن ترجمہ کے بعد مکرم سعید گیسلر صاحب شعبہ سو مساجد اور مقامی صدر صاحب نے مل کر ویڈیوز کی مدد سے تعمیر کے مختلف مراحل پر مشتمل تفصیل بیان کی۔ مکرم امیر صاحب نے اپنی تقریر میں اس علاقہ کی مذہبی تاریخ، یہاں پر جماعت کا قیام اور مسجد کی تعمیر کے دوران پیش آنے والی مخالفت کا ذکر کیا۔ اجتماعی دعا کے بعد گروپ تصاویر ہوئیں۔ پھر تمام حاضرین نے مل کر شام کا کھانا تناول کیا۔
استقبالیہ تقریب: مسجد محمود کے افتتاح کے اگلے روز مورخہ ۱۴؍فروری بروز ہفتہ شام چار بجے پچاس سے زائد معززین شہر کے ساتھ ایک استقبالیہ تقریب مسجد کے اندر رکھی گئی تھی جس میں ہر طبقہ فکر کے نمائندہ افراد شامل ہوئے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد داؤد مجوکہ صاحب سیکرٹری امور خارجہ جماعت جرمنی نے سر انجام دیے۔ آپ نے تمام مہمانوں کے لیے خوش مقدمی الفاظ ادا کیے۔ جس کے بعد تلاوت قرآن کریم ہوئی اور جرمن ترجمہ پیش کیا گیا۔ بعد ازاں مہمانوں کو جماعت احمدیہ سے متعارف کروانے کے لیے ایک ویڈیو فلم دکھائی گئی۔ پھر مقامی صدر صاحب جماعت ارفورٹ نے مسجد کے پروجیکٹ اور اس دوران مرحلہ وار پیش آنے والے مسائل کا ذکر کر کے مقامی حکومت کے بھر پور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا (جن کی اکثریت آج کی تقریب میں موجود تھی)۔ آج کی تقریب میں سابق سپیکر صوبائی اسمبلی Mr.Ruger جنہوں نے ۱۹۹۰ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکی اس شہر میں آمد پر حضور کا استقبال کیا تھا بھی موجود تھے۔ بعد ازاں بعض معزز اراکین حکومت نے باری باری سٹیج پر آ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

جرمن پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر Mr. Bado Ramelow جنہوں میں ماضی میں بحیثیت وزیر اعلیٰ مسجد کی تعمیر کی حمایت کی تھی اور تعمیر کے دوران مخالفت کے نشیب و فراز کا نوٹس لیتے رہے نے آج بھی جذباتی خطاب کیا۔ آپ نے تعمیر کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے عوامی مکالمہ کے اس دن کو یاد کیا جب مسجد کی مخالفت کرنے والے آٹھ سو افراد یہاں جمع تھے۔ لیکن احمدی نوجوان جس صبر و تحمل سے لوگوں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے اور انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو میں نے محسوس کر لیا کہ یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔
صوبہ تھورنگن کے موجودہ وزیر اعلیٰ Mr. Mario Vogit کا ویڈیو پیغام بھی پروگرام کا حصہ تھا جس میں وزیر اعلیٰ نے مسجد محمود کی تعمیر پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ لوگوں نے ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔ مسجد کی تعمیر سوسائٹی اور حکومت کے غیر جانبدار اور کھلے ذہن کی مالک ہونے پر دلیل ہے۔ ہر اقدام کے چند لوگ ضرور مخالفت کرتے ہیں۔ یہ آپ کا گھر ہے جہاں آپ آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض سرانجام دے سکتے ہیں۔

ارفورٹ شہر کے لارڈ مئیر Mr. Horn نے بھی اپنی تقریر میں مبارک باد دینے کے ساتھ اس امر کا بھی ذکر کیا کہ آج اس تقریب میں جو کہ مسجد کے افتتاح کی تقریب ہے دوسرے مذاہب کے سرکردہ افراد کی موجودگی ثابت کر رہی ہے کہ یہ مسجد سارے شہر کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
صوبائی سیکرٹری داخلہ Mr. Andreas Bausenwein جو مسجد کے سنگ بنیاد کے وقت شہر کے لارڈ مئیر تھے کی تقریر ان حالات و واقعات کا اعادہ کیے ہوئے تھی جب اس مسجد کی تعمیر کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ آپ نے اس امید کا اظہار کیا کہ آج حاصل کی جانے والی منزل معاشرہ میں رہنے والے افراد کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گی اور کلچر اور مذہب کے درمیان مکالمہ کا سلسلہ لوگوں میں رواداری کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
ریجنل بشپ Mrs Sprengler نے اپنی تقریر میں اسلام اور عیسائیت کی ان خوبیوں کا ذکر کیا جو انسانیت کا مشترکہ اثاثہ ہیں۔
آخر پر مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ جرمنی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ آپ نے بعض مشکل حالات میں جب مسجد کے احاطہ میں سور کا سر پھنک دیا گیا اور ایک بار لکڑی کی صلیب گاڑ دی گئی جیسے واقعات پر حکومت کے فوری مثبت اقدام پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ آخر پر اجتماعی دعا ہوئی جس کے بعد تمام مہمانوں نے عشائیہ میں شرکت کی۔ تقریب رات آٹھ بجے تک جاری رہی ۔
اس تقریب میں بشپ Mr. Johann Friedrich Kramer، کیتھولک چرچ کے بشپ Mr. Ulrich Neymayer اور ارفورٹ میں یہودی برادری کے سربراہ Mr. Reinhard Schramm بھی شامل تھے۔
عوامی دورہ (اوپن ڈے): اگلے روز یعنی ۱۵؍فروری بروز اتوار عام پبلک کو مسجد دکھانے اور اسلام سے متعارف کروانے کے لیے مخصوص تھا۔ اس روز نیشنل شعبہ تبلیغ نے مسجد کے احاطہ میں تبلیغی نمائش کا اہتمام کیا تھا۔ شعبہ اشاعت نے کتابوں پر مشتمل بک سٹال لگا یا تھا جہاں سے مہمانوں نے اسلامی کتب خریدیں۔ صبح نوبجے سے مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی تھی جو مغرب تک جاری رہی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سات سو سے زائد مہمانوں نے اس روز مسجد کا مشاہدہ کیا جن کی رہنمائی کے لیے مربیان سلسلہ اور فارغ التحصیل طلبہ جامعہ جرمنی شامل تھے۔ مہمان خواتین کی ضیافت اور رہنمائی کے لیے لجنہ ماء اللہ مقامی نے خدمت سر انجام دی۔ مہمانوں نے باجماعت نمازوں کی ادائیگی کا بھی مشاہدہ کیا۔ اسی طرح پچاس پچاس افراد کے گروپس بنا کر ان کے ساتھ مجالس سوال و جواب بھی منعقد کی گئیں۔ تمام مہمانوں کے لیے ضیافت کا اہتمام بھی کیا گیا۔
مسجد محمود ارفورٹ کے افتتاح کی تین روزہ تقریبات خدا کے فضل سے انتہائی کامیابی سے اختتام کو پہنچیں لیکن علاقہ کے لوگوں کی طرف سے مسجد کو دیکھنے کے لیے آنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے جن کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہی دی جا رہی ہے۔ الحمد للہ
جن ممبران جماعت نے مسجد کی تعمیر کے دوران اہم کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ان میں مقامی صدر جماعت ہیں جنہوں نے شہر کی انتظامیہ سے نقشہ جات و دیگر منظوریوں کا حصول ، مقامی کمپنیوں کی تلاش اور تعمیر کی روز مرہ کی نگرانی کی توفیق پائی۔ اسی طرح مکرم عبدالرحمان سعودی صاحب اس مسجد کے پروجیکٹ انچارج تھے۔ مکرم رانا ندیم احمد صاحب (آف اوسنابروک)، مکرم اشفاق کھوکھر صاحب (آف روڈرمارک) اور مکرم رافع پال صاحب (آف Wolfskehlen) نے بجلی کا کام کرنے کی توفیق پائی۔ مکرم نصیر احمد صاحب (Leipzig) اور مقامی لجنہ ممبرات نے ضیافت کی ڈیوٹی بڑی تندھی سے انجام دی۔ مکرم اسد احمد صاحب اور مکرم شیر افگن صاحب نے وقار عمل میں نمایاں حصہ لیا۔ فجزھم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء
خدا کرے کہ عیسائیت کے گڑھ ارفورٹ میں مسجد کا قیام باعث برکت ہو اور یہاں اسلام کا چرچا عام ہو جائے اور مشرقی حصہ جرمنی میں مزید مساجد کی تعمیر کا موجب ہو۔