خطبہ عید

خطبہ عید الفطر سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ20؍مارچ 2026ء

اگر ہم نے کوئی نیکی کی ہے تو اب ہم ان نیکیوں کو جاری رکھنے کے لیے مزید شکرگزاری کے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لائیں اور پھر اس سے مدد مانگیں کہ اے اللہ !ہمیں آئندہ بھی مستقل مزاجی سے ان عبادات کو بجا لانے کی توفیق عطا فرما۔ ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں کہ ہم پر کبھی شیطان کا حملہ نہ ہو اور جو عبادتیں اور نیکیاں ہم نے رمضان میں کی ہیں وہ ضائع نہ ہوں تاکہ ہم عید کا حقیقی فیض پانے والے بنیں اور کوئی چور ہمارے اس خزانے پر نہ پڑے۔پس جب ہماری یہ سوچ ہوگی تب ہی ہماری عیدیں کامیاب عیدیں ہوں گی

ہم آج رمضان کے مہینے سے گزر کر عید منا رہے ہیں لیکن یہ عید ہمارے رمضان کے مہینے سے گزرنے پر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے طور پر منانے والی ہونی چاہیے کہ اس نے ہمیں رمضان میں روزوں اور عبادت کی توفیق دی

مَیں امید کرتا ہوں کہ احمدیوں کی اکثریت نے رمضان کی برکات سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی ہوگی تاکہ
وہ تقویٰ میں بڑھیں، رشد اور ہدایت میں بڑھیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بڑھیں اور نیکیاں ادا کرنے کی طرف ان کی توجہ پیدا ہو

اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں جو سورہ فاتحہ سکھائی ہے اور اسے بار بار پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے اور ہر نماز اور ہر رکعت میں اسے پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے تو یہ کیوں ہے؟ یہ اس لیے ہے کہ ہم ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی عبادت کا حق ادا کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہنا ہے اور اس کے حکموں پر عمل کرنے کی ہمیشہ کوشش کرنی ہے

اس نکتےکو ہمیشہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم رمضان کی برکات سے مستقل فیض پانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے لیے کوشش کرنی ہوگی۔ مستقل اللہ تعالیٰ کی طرف قدم بڑھانے ہوں گے، اس کی طرف چل کر جانا ہوگا، اس کی آغوش میں آنے کے لیے کوشش اور دعا کرنی ہوگی

اے اللہ تعالیٰ !تُو نے ہمیں آج عید منانے کی توفیق دی ہے ہمارے روزوں کے بعد تُو نے ہم پر یہ فضل کیا ہے اب اس رمضان سے جڑی ہوئی تمام خوشیاں بھی ہمیں دکھا اور عید کی جو حقیقی خوشیاں ہوتی ہیں وہ بھی ہمیں دکھا۔ ہماری اصل عید تو وہ ہوگی جب ہم تیری توحید اور تیری حکومت کو دنیا میں قائم ہوتا دیکھیں گے۔ آج کل مسلمانوں کی حالت قابل رحم ہے ہر ایک کو پتہ ہے اور جب ہم اس قابل رحم حالت کو پُر وقار حالت میں بدلتا دیکھیں گے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا کے ہر فرد کے دل میں قائم ہوتا دیکھیں گے۔ آپؐ کے غلام صادق کے مشن کو پورا ہوتا دیکھیں گے اور دجالی قوّتوں کی تمام طاقتوں کو پارہ پارہ ہوتا دیکھیں گے تبھی وہ حقیقی عید ہوگی جو ایک مومن کی عید ہوتی ہے ورنہ یہ صرف باتیں ہیں

ہم صرف رمضان کے ایک مہینے میں یہ کوشش کر کے عید کی خوشیاں نہ منانے لگ جائیں کہ اب ہم نے جو کچھ کرنا تھا کر لیا اور اب اللہ تعالیٰ ہمیں سب کچھ دے دے گا۔ یہ بالکل غلط بات ہے اور ایک مومن سے ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ مومن کو تو اس کوشش، عبادت، ذکرالٰہی، نیکی کی باتوں اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف ہمیشہ توجہ رکھنی ہوگی تبھی اس کا حقیقی فیض حاصل ہوگا

شیطانوں، برائیوں اور گناہوں سے بچنے اور نیکیوں سے فیض پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کا ورد کرتا رہے۔ آج ہماری حقیقی عید تبھی ہوگی جب ہم اس شیطان کو مکمل طور پر اپنے سے دور کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جائیں گے اور اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کے ذریعہ بار بار مدد مانگتے رہیں گے

اگر تم نے رمضان میں کچھ کمایا نہیں تو تمہارا فخر فضول ہے اور اگر کچھ کمایا ہے تو یاد رکھو!کہ اب ڈاکہ ضرور پڑے گا۔ اب تمہارے گھر میں خزانہ ہے جسے شیطان چرانے کی کوشش کرے گا

آج ہم تو عید کی خوشیاں منا رہے ہیں لیکن حقیقی خوشی اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے میں ہی ہے
اللہ تعالیٰ یہ عید ہم سب کے لیے دینی اور دنیاوی لحاظ سے مبارک فرمائے

خطبہ عید الفطر سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ20؍مارچ 2026ءبمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، (سرے) یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

ہم آج رمضان کے مہینے سے گزر کر عید منا رہے ہیں لیکن یہ عید ہمارے رمضان کے مہینے سے گزرنے پر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے طور پر منانے والی ہونی چاہیے کہ اس نے ہمیں رمضان میں روزوں اور عبادت کی توفیق دی۔

بہت سے لوگوں کو تہجد پڑھنے کی توفیق ملی۔ بعض کو تراویح پڑھنے کی توفیق ملی بلکہ لوگ کافی تعداد میں تراویح پڑھنے آتے ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم باقاعدہ پڑھنے اور ختم کرنے کی توفیق ملی۔ درس سننے کی توفیق ملی۔ جماعتوں میں قرآن کریم کے درس بھی ہوتے ہیں۔ ذکر الٰہی کی توفیق ملی۔ بعض لوگوں کو اعتکاف بیٹھنے کی بھی توفیق ملی۔

جہاں آزادی ہے وہاں تو ہم اعتکاف بیٹھ سکتے ہیں لیکن پاکستان جیسے ملکوں میں اعتکاف بیٹھنا بھی مشکل ہے کیونکہ وہاں ہم عبادت کر نہیں سکتے اور قانون ہمیں پکڑتا ہے۔ بہرحال ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جلد ایسے سامان پیدا فرمائے کہ یہ پابندیاں ختم ہوں اور ہم آزادی کے ساتھ پاکستان میں بھی عبادت کا حق ادا کرنے والے بن سکیں۔

بہرحال جو مقصد میں نے بیان کیا ہے یہی رمضان سے گزرنے اور اس کے دن گزارنے کا مقصد ہے۔ اگر ان دنوں میں اس مقصد کو حاصل کرنے کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوئی تو ایسے لوگوں کے لیے عید صرف ایک تہوار ہے جسے وہ منا رہے ہیں۔ خوشی کے لیے اکٹھے ہوئے، نئے کپڑے پہنے، دعوتیں اڑائیں اور بس مقصد پورا ہو گیا حالانکہ یہ عید کا ہرگز مقصد نہیں ہے۔ یہ تو ایک شکرانہ ہے۔ شکر گزاری کے طور پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنا عرصہ ہمیں قربانیوں کی جو توفیق دی، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی جو توفیق دی اور پھر آج ہمیں اس کے لیے عید منانے کا حکم دیا اس پر ہم اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کریں۔

مَیں امید کرتا ہوں کہ احمدیوں کی اکثریت نے رمضان کی برکات سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی ہوگی تاکہ وہ تقویٰ میں بڑھیں، رشد اور ہدایت میں بڑھیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بڑھیں اور نیکیاں ادا کرنے کی طرف ان کی توجہ پیدا ہو۔

اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ مدد بھی مانگتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نیکیوں، عبادتوں اور حقوق العباد کی ادائیگی کی جو توفیق عطا فرمائی ہے اسے ہماری زندگیوں میں ہمیشہ جاری رکھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے تاکہ صرف رمضان ہی نہیں بلکہ ہمارا ہر دن اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرتے ہوئے اور اس کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے گزرے اور حقوق العباد کی ادائیگی کرتے ہوئے گزرے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں جو سورہ فاتحہ سکھائی ہے اور اسے بار بار پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے اور ہر نماز اور ہر رکعت میں اسے پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے تو یہ کیوں ہے؟ یہ اس لیے ہے کہ ہم ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی عبادت کا حق ادا کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہنا ہے اور اس کے حکموں پر عمل کرنے کی ہمیشہ کوشش کرنی ہے۔

سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ کی بنیادی صفات کا ذکر ہے اور اس حوالے سے اس کی شکر گزاری کا اظہار ہے۔ہدایت کا راستہ تلاش کرنے، انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہونے اور اللہ تعالیٰ کے غضب اور گمراہی سے بچ کر اس کی پناہ میں آنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں توجہ دلائی ہے کہ ان نیکیوں کے حصول اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننے اور اس کی ناراضگی اور سزا سے بچنے کے لیے اس بات پر اپنی توجہ رکھو کہ یہ ہمارا مقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں فرمایا ہے کہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔(الفاتحہ: 5)کہ اے اللہ !ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تیری عبادت کرنا چاہتے ہیں اور تیری عبادت کا دم بھرتے ہیں لیکن اس کے لیے ہم میں طاقت اور توجہ تیرے فضل اور تیری مدد سے ہی پیدا ہو سکتی ہے۔پس اے اللہ !ہمیں اس کے لیے مدد عطا فرما۔

اس دعا سے انسان کامکمل انحصار خدا تعالیٰ کی طرف ہو جاتا ہے۔ پھر کبھی یہ خیال نہیں آتا اور نہ آ سکتا ہے کہ مجھے میری کسی قابلیت کی وجہ سے یہ انعامات اور عبادت کی توفیق ملی ہے یا مل سکتی ہے یا مل رہی ہے۔

لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ہی ارشادہے کہ پہل بندے کی طرف سے ہو، ابتدابندے کی طرف سے ہو۔ پھر جب بندہ خدا تعالیٰ کی طرف آنے کی کوشش کرتا ہے تو جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب انسان ایک بالشت خدا کی طرف آتا ہے تو وہ دو بالشت آتا ہے۔بندہ ایک قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دو قدم اٹھاتا ہے۔ بندہ جب چل کر اس کے پاس آتا ہے تو خدا تعالیٰ دوڑ کر آتا ہے۔

(صحیح البخاری کتا ب التوحیدباب ذکر النبی ﷺ و روایتہ عن ربہ حدیث 7536)

پس اس نکتےکو ہمیشہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم رمضان کی برکات سے مستقل فیض پانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے لیے کوشش کرنی ہوگی۔ مستقل اللہ تعالیٰ کی طرف قدم بڑھانے ہوں گے، اس کی طرف چل کر جانا ہوگا، اس کی آغوش میں آنے کے لیے کوشش اور دعا کرنی ہوگی۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کے حوالے سے جو پُرمعارف وضاحت مختلف جگہوں پر فرمائی ہے اس میں سے مَیں بعض پیش کرتا ہوں آپؑ نے فرمایا :’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی امداد چاہتے ہیں۔‘‘ فرماتے ہیں کہ’’ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پر اِیَّاکَ نَعْبُدُ کو تقدم اس لیے ہے ‘‘یعنی اِیَّاکَ نَعْبُدُ اس لیے پہلے آیا ہے کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد مانگنے کا بعد میں ذکر اس لیے آیا ہے’’ کہ انسان دعا کے وقت تمام قویٰ سے کام لے کر خدائے تعالیٰ کی طرف آتا ہے‘‘ یعنی جو انسانی طاقتیں ہیں جو اسباب ہیں ان کو استعمال کرنا ہے اور ان کو استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف آنا ہے۔ پہلے یہ انسان کا کام ہے۔ یہ عبادت کا حق اد ا کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔ فرمایا کہ ’’یہ ایک بے ادبی اور گستاخی ہے کہ قویٰ سے کام نہ لے کر اور قانون قدرت کے قواعد سے کام نہ لے کر آ وے مثلاً‘‘ آپؑ نے مثال دی کہ’’ کسان اگر تخم ریزی کرنے سے پہلے ہی‘‘ دعا کرے، بیج نہ ڈالے کھیت میں اور‘‘یہ دعا کرے کہ الٰہی اس کھیت کو ہرا بھرا کر! اور پھل پھول لا تو یہ شوخی اورٹھٹھا ہے۔ ’’کام تو اس نے کیا نہیں، بیج ڈالا نہیں، زمین کو تیار کیا نہیں اور یہ دعا شروع کر دی کہ اللہ تعالیٰ اس میں پھل لگا دے، فصل لگا دے۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ بہرحال کوشش کرنی پڑے گی۔ فرمایاکہ ’’اسی کو خدا کا امتحان اور آزمائش کہتے ہیں جس سے منع کیا ہے۔‘‘ یعنی خود کچھ نہ کرنا اور اللہ سے صرف مانگتے رہنا کہ یہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوشش نہ کرو، عمل نہ کرو، اسباب کو استعمال نہ کرو، اور پھر صرف دعا کر دو۔ یہ تو تم اللہ تعالیٰ کی آزمائش اور امتحان لینا چاہتے ہو اور اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور یہ سخت گناہ ہے۔ فرمایا کہ’’ اور کہا گیا ہے کہ خدا کو مت آزماؤ ‘‘یعنی اِیَّاکَ نَعْبُدُ میں بھی یہی بات کہی ہے کہ خدا کو آزماؤ مت بلکہ کام کرو۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ’’ یہ سچی بات ہے کہ جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا وہ دعا نہیں کرتا بلکہ خدائے تعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے اس لیے دعا کرنے سے پہلے اپنی تمام طاقتوں کو خرچ کرنا ضروری ہے اور یہی معنی اس دعا کے ہیں۔ پہلے لازم ہے کہ انسان اپنے اعتقاد، اعمال میں نظر کرے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ اصلاح اسباب کے پیرایہ میں ہوتی ہے…‘‘ اسباب استعمال ہوں گے تو اصلاح بھی ہوگی۔ کوشش ہوگی تو اس کا مقصد بھی حاصل ہوگا۔’’وہ لوگ اس مقام پر ذرا خاص غور کریں۔جو کہتے ہیں کہ جب دعا ہوئی تو اسباب کی کیا ضرورت ہے۔ وہ نادان سوچیں کہ دعا بجائے خود ایک مخفی سبب ہے جو دوسرے اسباب کو پیدا کر دیتا ہے اور اِیَّاکَ نَعْبُدُ کاتقدم اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پر جو کلمہ دعائیہ ہے اس امر کی خاص تشریح کررہا ہے۔‘‘

(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 1صفحہ207)

کہ اسباب کو استعمال میں لاؤ اور پھر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ ان اسباب میں برکت ڈالے گا اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو کہ اس میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا چلا جائے۔ پس آپؑ نے فرمایا کہ یہ انسانی کوشش کبھی کم نہیں ہونی چاہیے۔

ہم صرف رمضان کے ایک مہینے میں یہ کوشش کر کے عید کی خوشیاں نہ منانے لگ جائیں کہ اب ہم نے جو کچھ کرنا تھا کر لیا اور اب اللہ تعالیٰ ہمیں سب کچھ دے دے گا۔ یہ بالکل غلط بات ہے اور ایک مومن سے ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے بلکہ مومن کو تو اس کوشش، عبادت، ذکر الٰہی، نیکی کی باتوں اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف ہمیشہ توجہ رکھنی ہوگی تبھی اس کا حقیقی فیض حاصل ہوگا۔

بعض لوگوں کا خیال یہ ہوتا ہے کہ رمضان میں ہم نے جو کوشش اور قربانی کر دی ہے اب خدا تعالیٰ کا فرض ہے کہ وہ اس کے بدلے ہمیں تمام زندگی نہیں تو کم از کم اگلے رمضان تک اپنے فضلوں سے نوازتا رہے۔ بعض لوگ ایسی سوچ رکھتے ہیں اور ہر زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ کے زمانے میں بھی تھے تو آپؓ نے اپنے عید کے ہی ایک خطبہ میں ایسی سوچ رکھنے والوں کی ایک مثال دی ہے۔ آپؓ نے واقعہ بیان کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں دعا کروا رہا تھا۔ آخری رمضان کی دعا ہو گی۔ کہتے ہیں کہ میرے کان میں کسی شخص کی یہ آواز آئی، کوئی شخص کہہ رہا تھا کہ اے خدا !تُو جانتا ہے کہ ہم نے کس طرح تکالیف اٹھا کر تیرے لیے روزے رکھے ہیں۔ آپؓ نے فرمایا: حالانکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں مومن تکلیف محسوس نہیں کرتا۔ بے شک اسے جسمانی طور پر کچھ تکلیف بھی ہوتی ہے مگر وہ اس کا احساس نہیں کرتا وہ تو خدا تعالیٰ کے راستے میں انتہائی تکلیف اٹھا کر بھی شرمندہ ہوتا ہے کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ اور یوں بھی اگر دیکھا جائے تو ہم نے خدا تعالیٰ کے لیے کیا تکلیف اٹھائی ہے۔ ہزاروں لوگ ایسے ہیں جن کو روٹی نہیں ملتی، فاقے پرمجبور ہوتے ہیں لیکن جسے ملتی ہے وہ اگر روزہ رکھ کر یہ کہے کہ اس نے تکلیف اٹھا کر روزہ رکھا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی ہزاروں راہیں ہیں اور طریقے بھی ہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ مانگنے کے لیے بے ادبی کا طریق اختیار کیا جائے اور اس طرح انسان اپنے لیے اس کے فضلوں کے دروازے بند کر لے۔ یاد رکھو کہ روزے رکھنے کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ملتی ہے۔ پس اگر اس دعا کرنے والے کی نیّت غلط نہیں بھی تھی تب بھی کم علمی اور کم غور کی وجہ سے یہ الفاظ اس کے منہ سے نکلے۔ اس لیے

دعاؤں میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے میں بھی سوچ سمجھ کر دعا کرنی چاہیے اور مناسب الفاظ استعمال کرنے چاہئیں۔

حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے اس بارے میں لکھا ہے کہ اگر ہم نے روزے رکھے ہیں تو خود کوئی تکلیف نہیں اٹھائی بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا ہے کہ ہمیں نیکی کا موقع دیا۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ اگر میرے دل میں اس قسم کا خیال آتا کہ روزوں کے حوالے سے دعا مانگوں تو اس طرح نہ کہتا بلکہ یوں کہتا کہ اے خدا !تُو نے ہمیں توفیق دی کہ روزے رکھ سکیں۔ اب تُو اپنے اس فضل کو مکمل کر دے۔ خدایا !اس سارے مہینے میں تُو نے ہم پر فضل کیا ہے۔ اب عید کو ہمارے لیے مکمل کر کے اپنے فضل کو مکمل کر دے۔ یعنی عید کی جو برکات ہیں وہ بھی ہمیں ملیں اور تیرے فضل سے روزہ رکھنے کی جو توفیق ملی ہے اب اسے بھی قبول فرما۔ ان برکات اور فضلوں کا تسلسل قائم رہے اور اس عید میں بھی ہم ان برکات سے فائدہ اٹھانے والے ہوں۔ تو آپؓ نے لکھا ہے کہ یہ دعا بے شک اچھی ہے اس شخص کی نیّت بھی اچھی ہوگی لیکن قلت تدبر اور سوچ کی کمی کی وجہ سے اس نے دعا کی شکل بگاڑ دی۔ بجائے یہ کہنے کے کہ تکلیف اٹھا کر روزے رکھے ہیں اگر وہ یہ کہتا کہ اے اللہ !تُو نے کتنا فضل کیا ہے کہ روزے رکھنے کی توفیق عطا کی ہے مگر اب اس فضل کو ادھورا نہ رکھیو۔ اسے مکمل کر کے ہمیں عید بھی دکھا دے تو یہ کیسی خوبصورت دعا ہو جاتی۔ مومن کے اعمال اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ماتحت ہوتے ہیں اس کے بغیر وہ انہیں مکمل نہیں کر سکتا۔

(ماخوذ از خطبات محمود جلد اول صفحہ 312-313)

بہرحال اب عید کے حوالے سے ہمیں یہی دعا کرنی چاہیے کہ

اے اللہ تعالیٰ !تُو نے ہمیں آج عید منانے کی توفیق دی ہے ہمارے روزوں کے بعد تُو نے ہم پر یہ فضل کیا ہے اب اس رمضان سے جڑی ہوئی تمام خوشیاں بھی ہمیں دکھا اور عید کی جو حقیقی خوشیاں ہوتی ہیں وہ بھی ہمیں دکھا۔ ہماری اصل عید تو وہ ہوگی جب ہم تیری توحید اور تیری حکومت کو دنیا میں قائم ہوتا دیکھیں گے۔ آج کل مسلمانوں کی حالت قابل رحم ہے ہر ایک کو پتہ ہے اور جب ہم اس قابل رحم حالت کو پُر وقار حالت میں بدلتا دیکھیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا کے ہر فرد کے دل میں قائم ہوتا دیکھیں گے۔ آپؐ کے غلام صادق کے مشن کو پورا ہوتا دیکھیں گے اور دجالی قوّتوں کی تمام طاقتوں کو پارہ پارہ ہوتا دیکھیں گے تبھی وہ حقیقی عید ہوگی جو ایک مومن کی عید ہوتی ہے ورنہ یہ صرف باتیں ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے، جیسا کہ میں نے کہا، بہت جگہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کی پُرمعرفت وضاحت فرمائی ہے۔ ایک جگہ آپؑ مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے فرماتے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے جملہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ کو جملہ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ سے پہلے رکھا ہے اور اس میں (بندہ کے) توفیق مانگنے سے بھی پہلے اُس (ذات باری) کی( صفت) رحمانیت کے فیوض کی طرف اشارہ ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کو جو پہلے رکھا گیا ہے تو اس کا ایک یہ بھی مطلب ہے کہ صفت رحمانیت سے اس کے فیض کی طرف اشارہ ہے ’’گویا کہ بندہ اپنے ربّ کا شکر ادا کرتا ہے اور کہتا ہے اے میرے پروردگار میں تیری نعمتوں پر تیرا شکر ادا کرتا ہوں جو تُو نے میری دعا، میری درخواست، میرے عمل، میری کوشش اور جو (تیری) اس ربوبیت اور رحمانیت سے جو سوال کرنے والوں کے سوال پر سبقت رکھتی ہے‘‘ یعنی جو تُو نے نعمتیں مجھے عطا کی ہیں میں اس کی شکر گزاری کرتا ہوں اور یہ نعمتیں ان سب سے بڑھ گئی ہیں جو تُو نے مجھے عطا کی ہیں۔ میری دعا تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے یعنی تیری ربوبیت اور رحمانیت سوال کرنے والوں کے سوال سے بہت اوپر ہے۔ ’’میری استعانت سے پیشتر تُو نے مجھے عطا کر رکھی ہیں۔‘‘ میرے دعا مانگنے سے پہلے ہی تُو نے مجھے بہت کچھ دے دیا۔تُو نے مجھے اپنی رحمانیت اور ربوبیت کے فیض میرے مانگنے سے پہلے ہی عطا کر دیے جس پر میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔ تو یہ بھی اس کا ایک مطلب ہے۔ اس سےشکر گزاری کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔’’پھر میں تجھ سے ہی(ہر قسم کی) قوّت، راستی، خوشحالی اورکامیابی اور ان مقاصد کے حاصل ہونے کے لیے التجا کرتا ہوں جو درخواست کرنے، مدد مانگنے اور دعا کرنے پر ہی عطا کی جاتی ہیں اور تُو بہترین عطا کرنے والا ہے۔‘‘ اب یہ تو تُو نے اپنی ربوبیت اور رحمانیت کی وجہ سے دے دیا لیکن اب میں یہ التجا کرتا ہوں کہ مجھے ہر قسم کی قوّت بھی عطا کر، میں راستی پر چلنے والا بھی ہوں، خوشحالی بھی رہے، کامیابی بھی رہے، نیک مقاصد میں کامیاب بھی ہوں اور مجھے حاصل بھی ہوں کیونکہ تُو بہترین عطا کرنے والا ہے۔ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کا یہ مطلب ہے۔ اب چونکہ تیری رحمانیت اور ربوبیت سے مجھے بہت کچھ مل چکا ہے اس لیے اب میں تیری عبادت کرتے ہوئے تجھ سے یہ بھی مانگتا ہوں اور مدد چاہتا ہوں کہ جو صحیح راستہ ہے، خوشحالی ہے، کامیابیاں ہیں اور جو میرے مقاصد ہیں انہیں پورا کردے۔ میں یہ دعا مانگتا ہوں کہ اے اللہ !تُو مجھے وہ سب عطا کر دے جو زندگی میں میرے لیے فائدہ مند ہو اور وہ نعمتیں عطا فرما جو مجھے تیری طرف لے جانے والی ہوں تاکہ میں پھر تیری شکر گزاری کرنے والا بن جاؤں۔ جب انسان اللہ کی طرف جائے گا تو دوبارہ شکر گزاری کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔ پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’ان آیات میں ان نعمتوں پرشکر کرنے کی ترغیب ہے ‘‘ فرمایا: ’’…اور جن چیزوں کی تجھے تمنا ہوان کے لیے صبر کے ساتھ دعا کرنے اور کامل اور اعلیٰ چیزوں کی طرف شوق بڑھانے کی (ترغیب ہے)۔‘‘ اس کی یہ بھی ایک تفسیر ہے اس میں دعا کرنے کی طرف ترغیب دی گئی ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ ترغیب دی ہے کہ نعمتوں کے حصول کی جو تمنائیں ہیں انہیں پانے کے لیے دعا کرو ’’تا تم بھی مستقل شکر کرنے والوں صبر کرنے والوں میں شامل ہو جاؤ۔‘‘ پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ’’ پھر ان آیات میں ترغیب دی گئی ہے بندے کے اپنی طرف ہمت اور قوّت کی نسبت کی نفی کرنے کی‘‘یعنی ہماری کوئی طاقت نہیں سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے ’’اور (اس سے) آس لگا کر اور امید رکھ کر ہمیشہ سوال، دعا، عاجزی اور حمدکرتے ہوئے (اپنے آپ کو )اللہ سبحانہ کے سامنے ڈال دینے کی اور خوف اور امید کے ساتھ اس شیر خوار بچہ کی مانند‘‘ دودھ پیتے بچے کی مانند’’جو دایہ کی گود میں ہو (اپنے آپ کا اللہ تعالیٰ کا) محتاج سمجھنے کی (ترغیب ہے) اور تمام مخلوق سے اور زمین کی سب چیزوں سے موت (یعنی پوری لا تعلقی) کی۔‘‘ ترغیب ہے۔ فرمایا کہ اس میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ انسان انتہائی عاجزی سے اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوا اپنے آپ کو اس کے سامنے اس طرح ڈال دے جس طرح ایک دودھ پیتا بچہ دایہ یا ماں کی گود میں ہوتا ہے اور یہی اس دعا کا اصل مقصد ہے۔ اگر اس طرح کرو گے اور اس مقصد کو حاصل کرلوگے تو تبھی حقیقت میں تم اس کی گہرائی تک پہنچ سکتے ہو۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان کا دنیا کی چیزوں پر اسباب سے فائدہ کے لیے جو انحصار ہے اس کو بھی چھوڑو اور اسباب سے فائدہ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو۔

’’اسی طرح ان (آیات )میں اس امر کا اقرار اور اعتراف کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ ہم تو بہت کمزور ہیں۔ تیری دی ہوئی توفیق کے بغیر تیری عبادت نہیں کر سکتے اور تیری مدد کے بغیر ہم تیری رضا کی راہوں کی تلاش نہیں کر سکتے ہم تیری مدد سے کام کرتے ہیں اور تیری مدد سے حرکت کرتے ہیں‘‘ یعنی ہمارا ہر حرکت و سکون تیری مدد کے ساتھ ہی ہے

’’اور ہم تیری طرف جلن کے ساتھ ان عورتوں کی طرح جو اپنے بچوں کی موت کے غم میں گھل رہی ہوتی ہیں اور ان عاشقوں کی طرح جو محبت میں جل رہے ہوتے ہیں تیری طرف دوڑتے ہیں‘‘ یعنی انتہائی محبت، عشق اور فکر کی حالت میں تیری طرف آ رہے ہیں۔ یہ ایک بڑا اہم نکتہ ہے جسے ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔

پھر فرماتے ہیں کہ ’’پھران آیات میں کبر اور غرور کو چھوڑنے کی نیز معاملات کے پیچیدہ ہونے اور مشکلات کے گھیر لینے پر محض اللہ تعالیٰ کی( طرف سے ملنے والی) طاقت اور قوّت پر بھروسہ کرنے کی اور منکسرالمزاج لوگوں میں شامل ہونے کی( ترغیب ہے)۔‘‘ جب یہ عاجزی پیدا ہوگی تو تبھی حقیقت میں دعاؤں کی قبولیت کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی اور دعاؤں کی قبولیت بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور پھر انسان جب مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی گود میں گرے گا تو تبھی یہ مقصد بھی حاصل ہوگا۔ عاجزی انتہائی ضروری چیز ہے ’’گویا کہ (اللہ تعالیٰ) فرماتا ہے اے میرے بندو اپنے آپ کو مُردوں کی طرح سمجھو اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے قوّت حاصل کرو۔ پس تم میں سے نہ کوئی جوان اپنی قوّت پر اتر ائے اور نہ کوئی بوڑھا اپنی لاٹھی پر بھروسہ کرے ‘‘کہ میرا سہارا ہے۔ میں سہارے پر چل سکتا ہوں۔’’اور نہ کوئی عقلمند اپنی عقل پر ناز کرے اور نہ کوئی فقیہ اپنے علم کی صحت اور اپنی سمجھ اور اپنی دانائی کی عمدگی ہی پر اعتبار کرے اور نہ کوئی ملہم اپنے الہام یا اپنے کشف یا اپنی دعاؤں کے خلوص پر تکیہ کرے کیونکہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے جس کو چاہے دھتکار دیتا ہے اور جس کو چاہے اپنے خاص بندوں میں داخل کر لیتا ہے۔اور اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ میں نفس امّارہ کی شر انگیزی کی شدت کی طرف اشارہ ہے جو نیکیوں کی طرف راغب ہونے سے یوں بھاگتا ہے جیسے اَن سدھی اونٹنی …‘‘ایسی اونٹنی جس کو سدھایا نہ ہوا ہو اور وہ قابو میں نہ آئے۔

پس

ہم تمام تر کوششیں کر کے، اسباب استعمال کر کے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے بعد اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کے ذریعے اس لیے مدد مانگتے ہیں تاکہ وہ ہمیں تمام شرور سے بچائے کیونکہ شر کی وجہ سے نیکیوں کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوتی۔

ان سدھی اونٹنی کی مثال عربوں کے لیے تو ہے۔ یہاں آج کل اس زمانے میں غیر تربیت یافتہ گھوڑوں کی مثال ہے جو سوار کو اپنے اوپر بیٹھنے نہیں دیتے یا قابو میں نہیں رہتے۔ تو اسی طرح شیطان بپھرا ہوتا ہے۔ فرمایا کہ ’’یا وہ ایک اژدھا کی طرح ہے جس کا شر بہت بڑھ گیا ہے اور اس نے ہر ڈسے ہوئے کو بوسیدہ ہڈی کی طرح بنا دیا ہے۔‘‘ اژدھا جو اپنے شکار کو بالکل توڑ مروڑ کے رکھ دیتا ہے اور وہ بوسیدہ ہڈی بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ تُودیکھ رہا ہے کہ وہ زہر پھونک رہا ہے۔ شیطان اپنا زہر اژدھے کی طرح اور سانپ کی طرح پھونک رہا ہے۔ پھر آپؑ نے یہ مثال بھی دی کہ’’یا وہ شیر (کی طرح )ہے کہ اگر حملہ کرے تو پیچھے نہیں ہٹتا‘‘ اس وقت ’’کوئی طاقت، قوّت، کمائی، اندوختہ (کارآمد )نہیں سوائے اس خدا تعالیٰ کی مدد کے جو شیطانوں کو ہلاک کرتا ہے۔‘‘ جب ایسے دشمن سے واسطہ پڑتا ہے اور وہ حملہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طاقت ہی ہے جو بچا سکتی ہے اور یہی آج کل مسلمانوں کا حال ہے۔ ان کو بھی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکیں۔

پس شیطانوں، برائیوں اور گناہوں سے بچنے اور نیکیوں سے فیض پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کا ورد کرتا رہے۔ آج ہماری حقیقی عید تبھی ہوگی جب ہم اس شیطان کو مکمل طور پر اپنے سے دور کردیں گے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جائیں گے اور اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کے ذریعہ باربار مدد مانگتے رہیں گے۔

پھر آپؑ نے اسی تسلسل میں ایک جگہ اس طرح وضاحت فرمائی کہ ’’اور نَعْبُدُ کو نَسْتَعِیْنُ سے پہلے رکھنے میں اور بھی کئی نکات ہیں… ‘‘ وہ کیا نکات ہیں؟ فرمایا :’’اوروہ ( نکات) یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک ایسی دعا سکھاتا ہے جس میں ان کی خوش بختی ہے اور کہتا ہے اے میرے بندو! مجھ سے عاجزی اور عبودیت کے ساتھ سوال کرو اور کہو اے ہمارے ربّ! اِیَّاکَ نَعْبُدُ (ہم تیری عبادت کرتے ہیں )لیکن بڑی ریاضت، تکلیف، شرمساری، پریشان خیالی اور شیطانی وسوسہ اندازی اور خشک افکار اور تباہ کن اوہام اور تاریک خیالات کے ساتھ ہم سیلاب کے گدلے پانی کی مانند ہیں یا رات کو لکڑیاں اکٹھا کرنے والے کی طرح ہیں اور ہم صرف گمان کی پیروی کر رہے ہیں ہمیں یقین حاصل نہیں۔ ‘‘ اب ہمارے اندر تو کچھ نہیں گو ہم دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ہمارا حال اسی طرح ہے جس طرح گدلا پانی ہوتا ہے جس میں کچھ نظر نہیں آتا اور کسی استعمال کے قابل نہیں ہوتا۔ انسان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ ہمیں یقین حاصل ہو جائے تاکہ ہم اس سے فیض اٹھانے والے ہوں جواللہ تعالیٰ کی برکات ہیں۔ یعنی مزید وضاحت اس کی یہ ہے کہ ہم تیری عبادت تو کرتے ہیں لیکن ہمارے اندر کوئی خوبی نہیں ہے اور ہم بڑی عجز سے تیرے حضور جھکے ہوئے ہیں کیونکہ ہمارے اندر وسوسے ہیں۔ غلط قسم کی فکریں ہیں اور تباہ کن اوہام ہمارے اندر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ مختلف وہموں میں ہم مبتلا ہو جاتے ہیں۔ بعض قوموں میں تو یہ وہموں کی بیماری بہت زیادہ ہے۔ہمیں پوری طرح تسلی نہیں ہے۔ ہماری حالت تو ایسی ہے جس طرح سیلاب کا گدلاپانی ہوتا ہے جس میں کچھ راستہ نظر نہیں آ رہا ہوتا۔ ہمیں صرف یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ موجود ہے لیکن جیسا کہ تجربہ ہونا چاہیے ویسا نہیں ہے۔ پس ہم تجربہ حاصل کرنے کی جو کوشش کرتے ہیں اس میں ہماری مدد کر۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کا جو واضح اور روشن نشان ہمارے اندر پیدا ہونا چاہیے تھا وہ پیدا نہیں ہوا۔ اے اللہ !وہ تُو ہمارے اندر پیدا کر دے۔ اس لیے ہم تیری عبادت کرتے ہیں کہ وہ نشان ہمارے اندر پیدا ہو جائے اور اس کے لیے ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں کیونکہ ابھی تک تو ہمارا یہ حال ہے کہ ہم صرف سنی سنائی باتوں پر یقین کیے ہوئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ذاتی تجربہ بھی ہو۔ تیرا القاء بھی حاصل ہو۔ ہماری دعاؤں کی قبولیت کا نظارہ بھی نظر آئے اور ہماری عبادت کا پھل بھی ہمیں ملے۔ اس کے لیے ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں کہ اے اللہ تعالیٰ !تُو ہمیں وہ حالت دکھا کہ ہم حقیقت میں تیری عبادت کی حقیقت کو سمجھنے والے ہوں۔

پھر فرمایا کہ’’( اورپھر)وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کہو یعنی ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں ذوق، شوق،حضورِقلب، بھرپور ایمان (ملنے)کے لیے، روحانی طور پر (تیرے احکام پر) لبیک کہنے( کے لیے) سرور اور نور( کے لیے) اور معارف کے زیورات اور مسرّت کے لباسوں کے ساتھ دل کو آراستہ کرنے کے لیے (تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں )تا ہم تیرے فضل کے ساتھ یقین کے میدانوں میں سبقت لے جانے والے بن جائیں اور اپنے مقاصد کی انتہا کو پہنچ جائیں اور حقائق کے دریاؤں پر وارد ہو جائیں‘‘ یعنی گدلے پانی سے نکل کر ہم صاف پانی کے سمندر میں تیرنے والے بن جائیں اور ہر طرف تیرے نور اور معرفت کا جلوہ ہمیں نظر آئے۔ حقیقت میں جب یہ حالت ہوگی تو وہی انسان کی کامیابی کی زندگی ہے اور ایک مومن کی کامیابی کی زندگی ہے۔

پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ’’پھر اللہ تعالیٰ کے الفاظ اِیَّاکَ نَعْبُدُ میں ایک اَور اشارہ ہے اور وہ یہ کہ

اللہ تعالیٰ اس( آیت )میں اپنے بندوں کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ اس کی اطاعت میں انتہائی ہمت اور کوشش خرچ کریں اور اطاعت گزاروں کی طرح ہر وقت لبیک لبیک کہتے ہوئے( اس کے حضور) کھڑے رہیں

گویا کہ یہ بندے یہ کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے ربّ !ہم مجاہدات کرنے، تیرے احکام کےبجا لانے اور تیری خوشنودی چاہنے میں کوئی کوتاہی نہیں کر رہے لیکن تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور عُجب اور ریا میں مبتلا ہونے سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔‘‘ ہر قسم کی تصنع اور بناوٹ میں مبتلا ہونے سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔ ہمارے اندرکسی قسم کا کوئی دکھاوا نہ ہو، کسی قسم کی بناوٹ نہ ہو اور ہماری عبادتیں حقیقت میں تیری ہی خاطر ہوں۔ اس لیے ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں کہ ہماری یہ حالت پیدا کر دے کہ حقیقت میں تیری خاطر ہی ہماری عبادتیں ہوں اور ہمارا تیری طرف جھکنا تیری خاطر ہی ہو۔اور ہم تجھ سے ایسی توفیق طلب کرتے ہیں جو ہدایت اور تیری خوشنودی کی طرف لے جانے والی ہو اور ہم تیری اطاعت اور تیری عبادت پر ثابت قدم ہیں۔پس تُو ہمیں اپنے اطاعت گزار بندوں میں لکھ لے۔ ‘‘یہ ثابت قدمی ہونی چاہیے۔ یہ نہیں کہ رمضان کے چند دن گزار لیے تو عبادتیں مکمل ہو گئیں بلکہ انسان ثابت قدم ہو۔ اس میں مستقل مزاجی ہو اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے والا رہے تب ہی حقیقت میں صحیح عابد ہونے کا حق ادا ہوتا ہے۔ فرمایا :’’اور یہاں ایک اَور اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ بندہ کہتا ہے کہ اے میرے ربّ ہم نے تجھے معبودیت کے ساتھ مخصوص کر رکھا ہے اور تیرے سوا جو کچھ بھی ہے اس پر تجھے ترجیح دی ہے۔ پس ہم تیری ذات کے سوا اَور کسی چیز کی عبادت نہیں کرتے‘‘ ہم تجھے ہر چیز پر ترجیح دیتے ہیں اور تیرے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کر رہے ’’اور ہم تجھے واحد اور یگانہ ماننے والوں میں سے ہیں۔ اس آیت میں خدائے عزّوجلّ نے … اس امر کی طرف اشارہ کرنے کے لیےاختیار فرمایا ہے کہ یہ دعا تمام بھائیوں کے لیے ہے نہ صرف دعا کرنے والے کی اپنی ذات کے لیے۔اور اس میں( اللہ نے) مسلمانوں کو باہمی مصالحت، اتحاد اور دوستی کی ترغیب دی ہے اور یہ کہ دعا کرنے والا اپنے آپ کو اپنے بھائی کی خیر خواہی کے لیے اسی طرح مشقّت میں ڈالے جیسا کہ وہ اپنی ذات کی خیر خواہی کے لیے اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے۔ ‘‘

پس جب یہ سوچ پیدا ہو گی تو پھر ہم عید کے دنوں میں اپنے بھائیوں کا خیال بھی رکھنے والے ہوں گے۔ صلح صفائی کی طرف بھی قدم اٹھانے والے ہوں گے۔ چھوٹی چھوٹی رنجشوں اور ہلکے ہلکے اعتراضوں پر آپس میں دوریاں پیدا کرنے والے نہیں ہوں گے بلکہ ایک دوسرے کی خیر خواہی اور بھلائی چاہنے والے ہوں گے۔ بالکل اسی طرح جس طرح انسان خود اپنے لیے خیر خواہی چاہتا ہے اور اپنے آپ کو مشقّت میں ڈالتا ہے۔ انسان اچھائیاں حاصل کرنے کے لیے، اسی طرح بھلائیاں حاصل کرنے کے لیے جس طرح اپنے آپ کو مشقّت میں ڈالتا ہے اسی طرح اپنے بھائی کے لیے بھی کوشش کرے۔ آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا میں یہ بھی سکھایا ہے کہ اپنے آپ کو مشقّت میں ڈال کر اپنے بھائی کے لیے بھی خیر خواہی چاہو۔ اس کے لیے بھی بہتری چاہو اور اس سے بھی حسن سلوک کرو اور فرمایا کہ

’’اور اس کی (یعنی اپنے بھائی کی) ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ایسا ہی اہتمام کرے اور بے چین ہو جیسے اپنے لیے بے چین اور مضطرب ہوتا ہے‘‘ اگر ایسا ہو تو بہت سے امیر لوگ غریبوں کابھی خیال رکھنے والے بن جائیں اور عیدیں ان کے لیے بھی حقیقی عید بن جائیں ان غریبوں کے لیے بھی جو بیچارے کس مپرسی کی حالت میں ہیں خرچ نہیں کر سکتے۔ غربت کا شکار ہیں اور فقر و فاقہ کی حالت میں ہیں۔ ان کے لیے بھی اگر ہم اِیَّاکَ نَعْبُدُ کی دعا کر رہے ہوں تو عبادت کا حق ادا کرنے کے لیے بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے ہوں گے اور پھر ہم حق اداکرنے والے بنیں گے۔ یہ بھی ایک عبادت ہے اور اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی جائے کہ وہ مجھے توفیق دے کہ میں یہ حق بھی ادا کرنے والا بن جاؤں۔

فرمایا :’’اور وہ اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان کوئی فرق نہ کرے اور پورے دل سے اس کا خیر خواہ بن جائے گویا

اللہ تعالیٰ تاکیدی حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے اے میرے بندو !بھائیوں اور محبوں کے (ایک دوسرے کو )تحائف دینے کی طرح دعا کا تحفہ دیا کرو‘‘ جس طرح بھائی اور ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ایک دوسرے کو تحفے دیتے ہیں تاکہ محبت بڑھے،رشتہ مزید مضبوط ہو اسی طرح تم ایک دوسرے کو دعا کاتحفہ دیا کرو۔

اس میں یہ بھی سکھایا گیا ہے۔ تحفے دینے سے محبت بڑھتی ہے اس لیے دعاؤں کا تحفہ بھی محبت بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔ جب ہم دعاؤں کے ذریعے ایک دوسرے سے تعلق قائم کریں گے تو اللہ تعالیٰ بے شمار فضل فرمائے گا۔ جہاں وہ ان غریبوں کی مدد کے لیے ہمیں ذریعہ بنا رہا ہوگا وہاں ہمیں بھی اپنے بے شمار فضلوں سے نوازنے والا ہوگا اور فرمایا کہ ’’(اور انہیں شامل کرنے کے لیے )اپنی دعاؤں کا دائرہ وسیع کرو اور اپنی نیتوں میں وسعت پیدا کرو اپنے نیک ارادوں میں( اپنے بھائیوں کے لیے بھی) گنجائش پیدا کرو اور باہم محبت کرنے میں بھائیوں، باپوں اور بیٹوں کی طرح بن جاؤ۔‘‘

(کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 119 تا 122۔ ترجمہ ازتفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ208 تا 212 حاشیہ)

پس

جب ایسا ہوگا تو ایک خوبصورت ماحول اور ایک بہترین معاشرہ پیدا ہو جائے گا۔ یہی ایک احمدی معاشرہ ہونا چاہیے جس کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔ یہی ایک مسلمان کا کردار ہونا چاہیے اور یہی ایک حقیقی مسلم معاشرہ ہونا چاہیے۔ کاش کہ مسلمان ممالک بھی اس بات کو سمجھیں اور جن لڑائیوں میں وہ الجھے ہوئے ہیں ان سے باہر نکلنے والے ہوں۔

دشمن تو یہی چاہتا ہے کہ ہمیں لڑوا کر آپس میں اپنا فائدہ اٹھاتا رہے۔ اس سے ہم باہر تبھی نکلیں گے جب ایسی محبت پیدا ہوگی۔ میں نے دو ہفتے پہلے بھی خطبہ میں تفصیل سے بیان کیا تھا کہ کس طرح دشمن فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور اب فائدہ اٹھا رہا ہے بلکہ اب تو یہ لوگ خودکہنے لگ گئے ہیں۔ بہرحال جب ہم اس اصول پر عمل کریں گے تو ہماری حقیقی عیدیں ہوں گی اور ہم نہ صرف اپنے آپ کو عید سے فیض یاب کر رہے ہوں گے بلکہ اپنے عزیزوں، قریبیوں، دوستوں اور ضرورت مندوں کو بھی اس سے فیض پانے والا بنانے کی کوشش کر رہے ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ہمیں مزید نوازتا چلا جائے گا۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حوالے سے ایک نکتہ بیان کیا ہے بلکہ اپنا ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ آپؓ کہتے ہیں کہ جب میں بحری جہاز کے ذریعے حج سے واپس آ رہا تھا تو ایک دن جہاز کے کپتان نے مجھ سے کہا کہ میرے نائب کو اسلام کی طرف رغبت ہے۔ آپ میرے پاس آئیں تاکہ اس سے بات چیت کی جا سکے۔ فرماتے ہیں کہ دراصل اس کپتان کو خود بھی اسلام میں تھوڑی سی دلچسپی تھی۔ فرماتے ہیں کہ میں اس کی اجازت سے ان کے کمرے میں گیا۔ کپتان کے کمرے میں ہر کوئی نہیں جا سکتا اس نے بلایا، مَیں گیا۔ اس نے مجھے مشینری وغیرہ دکھائی کس طرح سارا operateکرتے ہیں، سارا دکھایا، سارا تعارف کرایا۔ پھر مجھے چائے بھی پلائی۔ اس کے بعد کہنے لگا کہ میرا نائب اسلام کی طرف مائل ہے اور مسلمان ہونا چاہتا ہے تو میری خواہش ہے کہ یہ آپ کے ذریعے مسلمان ہو جائے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے محسوس کیا کہ اس کی باتوں میں مذاق کا رنگ زیادہ تھا۔ سنجیدگی نہیں تھی بلکہ مذاق تھا اور مذاق سے باتیں کر رہا تھا۔ راستی کی تحقیقات اس کی غرض نہیں تھی اور نہ ہی وہ سچائی کی طرف جانا چاہتا تھا۔ بہرحال وہ مسائل پوچھتا رہا۔ گفتگو کے دوران کپتان نے مجھ سے کہا۔ اب کپتان صاحب خود بھی حضرت مصلح موعود ؓکو کہنے لگے کہ اب تو آپ حج کر کے آئے ہیں۔ اب تو آپ جو عمل بھی کریں وہ جائز ہے۔ میں نے پوچھا کیوں یہ کس طرح ہو گیا؟ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں جو عمل کروں وہ جائز ہوجائے؟ کہنے لگا کہ پہلا تختہ اب صاف ہو گیا ہے اس لیے اب آپ نئے گناہ کر سکتے ہیں۔ مَیں نے اسے ایک مثال دیتے ہوئے پوچھا کہ جس شخص نے نیا سوٹ پہنا ہو وہ اس کی زیادہ حفاظت کرتا ہے یا پہلے سے پہنے ہوئے میلے کپڑوں کی؟تو کپتان نے جواب دیا کہ ہر شخص نئے سوٹ کو داغ لگنے سے بچانے کی زیادہ کوشش کرتا ہے۔ اس پر میں نے کہا پھر آپ مجھے یہ مشورہ کس طرح دے رہے ہیں کہ حج کے نتیجے میں مجھے جو نیا سوٹ ملا ہے اسے میں زیادہ خراب کروں ؟آپؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے اسے یہ جواب دیا کہ میں حج کرکے آیا ہوں تو یہ نیا سوٹ ہے۔ اب اس کا حق زیادہ ہے کہ میں نیکیاں بجا لاؤں نہ یہ کہ میں سمجھوں کہ میرے پرانے گناہ معاف ہوگئے اور میں نئے گناہ کرتا چلا جاؤں۔ آپؓ نے فرمایا کہ اب تو مجھے مزید بچا بچا کے قدم رکھنا ہوگا۔ اسی کی مثال دیتے ہوئے پھر آپؓ نے مزید فرمایا کہ

مومن کو جب نیکیوں کا موقع ملتا ہے تو اسے چاہیے کہ مغرور ہونےکی بجائے زیادہ احتیاط سے کام لے۔ رمضان یا دوسری عبادتوں کے بعد ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہمارا فرض ختم ہو گیا ہے۔ اگر تو رمضان میں ہم نے کچھ کمایا نہیں، کچھ بھی نہیں کمایا، کوئی نیکی نہیں کی تو ہمارے لیے فخر کی کون سی بات ہے؟ کوئی فخر کی بات ہی نہیں ہے اور اگر کمایا ہے تو پھر اس حاصل کردہ خزانے کی حفاظت زیادہ ضروری ہے تاکہ اسے چور نہ لے جائیں۔

آگے آپؓ نے واضح فرمایا کہ دیکھو !ہمیشہ چور وہیں پڑتا ہے جہاں کچھ ہو اور جب تم نے کوئی نیکی کی ہے اور خزانہ جمع کیا ہے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ شیطان حملہ نہیں کرے گا۔

پس اگر تم نے رمضان میں کچھ کمایا نہیں تو تمہارا فخر فضول ہے اور اگر کچھ کمایا ہے تو یاد رکھو!کہ اب ڈاکہ ضرور پڑے گا۔ اب تمہارے گھر میں خزانہ ہے جسے شیطان چرانے کی کوشش کرے گا۔

یہاں چور شیطان ہے۔ پہلے تمہارے پاس کچھ نہیں تھا مگر اب رمضان کی وجہ سے تمہارے ہاتھ میں روحانی خزانہ ہے اور چوروں اور جیب کاٹنے والوں کی طرف سے حملے کا خطرہ ہے۔ اب وہ خزانہ چرانے کی اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ہمارے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کریں گے تاکہ خزانہ ضائع ہو جائے۔ اگر دشمن ہے تو آگ لگانے کی کوشش کرے گا تاکہ خزانہ ضائع ہو جائے اس لیے تمہیں چاہیے کہ زیادہ ہوشیار رہو۔ اب تمہیں زیادہ زور سے اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پکارنے اور فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت زیادہ فکر کے ساتھ اپنے خزانے کی حفاظت کی ضرورت ہے۔

(ماخوذ از خطبات محمود جلد 1 صفحہ 317-318)

جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہت ساری مثالوں سے میں نے بتایا ہے کہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کے بہت وسیع مطالب ہیں۔ پس جہاں عبادت کرو وہاں اپنی عبادتوں کی حفاظت کا بھی انتظام ہمیں کرنا ہوگا۔

پس اگر ہم نے کوئی نیکی کی ہے تو اب ہم ان نیکیوں کو جاری رکھنے کے لیے مزید شکرگزاری کے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لائیں اور پھر اس سے مدد مانگیں کہ اے اللہ !ہمیں آئندہ بھی مستقل مزاجی سے ان عبادات کو بجا لانے کی توفیق عطا فرما۔ ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں کہ ہم پر کبھی شیطان کا حملہ نہ ہو اور جو عبادتیں اور نیکیاں ہم نے رمضان میں کی ہیں وہ ضائع نہ ہوں تاکہ ہم عید کا حقیقی فیض پانے والے بنیں اور کوئی چور ہمارے اس خزانے پر نہ پڑے۔پس جب ہماری یہ سوچ ہوگی تب ہی ہماری عیدیں کامیاب عیدیں ہوں گی۔

اسی طرح یہ بات بھی یاد رکھیں کہ

آج ہم تو عید کی خوشیاں منا رہے ہیں لیکن حقیقی خوشی جیسا کہ میں نے کہا تھا اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے میں ہی ہے۔

اس کے ساتھ ہمیں ہمیشہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج کل مسلمانوں کی جو حالت ہے اور اکثر ملکوں میں جہاں فساد اور فتنہ اور جنگوں کی صورتحال ہے وہاں لوگ اپنا فرض پورا کرنے کے لیے عید تو پڑھ رہے ہیں لیکن ظالمانہ حملوں کی وجہ سے ان کے گھر برباد ہیں اور بے آباد ہو چکے ہیں۔ کوئی بچہ ماں باپ سے محروم ہو گیا ہے تو کوئی ماں باپ اپنے بچوں سے محروم ہو گئے ہیں اور ان پر خوف کی حالت طاری ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور ان کو بھی توفیق دے کہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے صحیح عابد بن کر صرف اسی کی طرف جھکنے والے ہوں۔ دنیاوی خداؤں پر انحصار کرنے والے نہ ہوں۔ یہ دنیاوی خداؤں پہ انحصار کا ہی نتیجہ تھاکہ آج کل عرب ملکوں میں یہ حال ہو رہا ہے اور ان کے پیچھے چلنے والے نہ ہوں تاکہ انہیں دنیا میں آزادی سے رہنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے کی توفیق ملے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ظالموں کے ظلم سے بچائے۔ تمام دنیا میں پھیلے ہوئے جماعت کے سب لوگوں کی حفاظت بھی فرمائے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں اور انسانیت کے لیے بھی دعا کریں۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کہتے رہیں تو ہماری دعائیں بھی قبول ہوں گی اور جب ایسا ہوگا،

جب ہماری دعائیں قبول ہوں گی، جب ہم دنیا کو اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے دیکھیں گےکہ دنیا اللہ تعالیٰ کی طرف جھک رہی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کی طرف آرہی ہے جب ہم ان کو آتا دیکھیں گے تو یہی ہماری حقیقی خوشی ہوگی۔ جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو پورا ہوتا ہوا دیکھیں گے تب ہی ہماری حقیقی عید ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی عید نصیب کرے تاکہ ہم دنیا کے فسادوں کو ختم ہوتا ہوا دیکھیں اور ہر جگہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا لہراتا ہوا دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم ہوتا ہوا دیکھیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان دعاؤں کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ یہ عید ہم سب کے لیے دینی اور دنیاوی لحاظ سے مبارک فرمائے۔

اس کے لیے بھی دعا کرتے رہیں اور

یہ عید مبارک صرف زبانی عید مبارک نہ ہو بلکہ حقیقت میں ہم سب کے لیے مبارک عید ہو۔ بعض ملکوں میں کل عید ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ ان کو بھی خیریت سے عید منانے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی حفاظت میں رکھے۔ اور خاص طور پر پاکستان میں ان کو ہرشر سے محفوظ رکھے۔

خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:

اب ہم دعا کریں گے۔ دعاؤں میں جیسا کہ میں نے کہا ہے سب کو یاد رکھیں۔ دعا کر لیں۔(دعا)آمین۔ السلام علیکم ورحمة اللہ

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ جرمنی2024ء کے موقع پر اختتامی اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز خطاب

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button