تازہ ترین:بطور وقفِ نَو آپ نے اپنے اخلاق کے اعلیٰ معیارحاصل کرنے ہیں (واقفین نو برطانیہ کے سالانہ اجتماع ۲۰۲۶ء کے اختتامی خطاب کا خلاصہ)

٭…حضرت مسیح موعودؑ نے کامیابی کی پہلی سیڑھی نماز کو قرار دیا ہے۔ پس نماز کی حفاظت کرنا، خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنا، خدا کی خوشنودی کے حصول کے لیے نماز ادا کرنا، یہ سب نہایت ضروری ہے
٭…اگر آپ اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم ہوں اور اس پر عمل کرنے والے ہوں تو معاشرے میں آپ کی پہچان اور عزت میں اضافہ ہوتا ہے
٭…حقیقت یہ ہے کہ انسان اسلام کو سمجھ کر ہی صحیح طور پر سائنس اور منطق کو سمجھ سکتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو ہمیں حضرت مسیح موعودؑ نے سمجھائی ہے۔ یہ آپ سب واقفین کے لیے چیلنج ہے کہ آج جب دہریت کے دلدادہ اس فکر میں ہیں کہ خدا کی وحدانیت اور اس کی ہستی کو گہنا سکیں تو آپ نے اس کے برعکس سائنس کو ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت کے لیے ایک دلیل بنا دینا ہے۔ مذہب کے خلاف کیے جانے والے اعتراضات کو آپ نے دلیل اور منطق اور جدید تعلیم کے ذریعے دُور کرکے دکھانا ہے
(۲۶/اپریل ۲۰۲۶ء، اسلام آباد، ٹلفورڈ،نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) اللہ تعالی کے فضل و کرم سے آج واقفین نو برطانیہ کا سالانہ اجتماع اسلام آباد ٹلفورڈ میں منعقد ہوا جس میں دوہزار سات سو سے زائد افراد نے شرکت کی۔ اس اجتماع کے اختتامی اجلاس میں برطانیہ کے علاوہ کینیڈا سے مناظر بھی دکھائے گئے جہاں واقفین نو کا اجتماع منعقد ہو رہا تھا۔
اجلاس کی صدارت کے لیے امیر المومنین حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز ایوانِ مسرور میں پانچ بج کر ایک منٹ پر تشریف لائے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالی نے تمام افراد کو السلام علیکم ورحمة اللہ کا تحفہ پیش کیا۔
کرسئ صدارت پر تشریف فرمانے کے بعد اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا جو احسان احمد صاحب نے سورۃ الرعد کی آیات ۲۰تا۲۳سے کی۔ متلوّ آیات کا انگریزی ترجمہ غالب خان صاحب نے پیش کیا۔ بعد ازاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کے منظوم کلام
وہ دیکھتا ہے غیروں سے کیوں دل لگاتے ہو
جو کچھ بتوں میں پاتے ہو اس میں وہ کیا نہیں
سے منتخب اشعار عبد الحئی سرمد صاحب نے پیش کیے- ان اشعار کا انگریزی ترجمہ فراست چیمہ صاحب نے پیش کیا-
بعدہ اجتماع رپورٹ عبد القدوس عارف صاحب نیشنل سیکرٹری وقف نو برطانیہ نے پیش کی-
پانچ بج کر ۱۹/ منٹ پر حضور انور منبر پر رونق افروز ہوئے اور السلام علیکم ورحمة اللہ کا تحفہ عنایت فرمانے کے بعد انگریزی زبان میں اختتامی خطاب کا آغاز فرمایا-
خلاصہ خطاب حضور انور ایدہ اللہ
تشہد، تعوذ اور سورت فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالی نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج آپ یہاں وقفِ نَو کے نیشنل اجتماع کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ اسی طرح آج ہمارے ساتھ واقفینِ نَو کینیڈا بھی شامل ہیں۔ وقفِ نَو ہونے کی وجہ سے آپ کو ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے یعنی یہ کہ آپ کے والدین نے آپ کو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی خدا کی راہ میں وقف کردیا تھا۔ پھر بُلوغت کی عمر کو پہنچ کر آپ نے اپنے اس وقف کو نبھانے کے عہد کا اعادہ کیا۔ پس اب آپ کی زندگی کا مقصد اس عہد کو نبھانا ہے اور یہ کوئی زبردستی لیا گیا عہد نہیں بلکہ بُلوغت کی عمر کو پہنچ کر آپ نے ازخود یہ فریضہ ادا کرنے کا عہد اپنی آزاد مرضی سے باندھا تھا۔
آج مَیں وقفِ نَو کے حقیقی مقصد اور اس تحریک کی اغراض کو بیان کروں گا۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑکی اعلیٰ ترین خواہش یہ تھی کہ آپؑ کے ماننے والے اخلاق کے اعلیٰ معیاروں کو حاصل کریں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ آپؑ کے ماننے والے دنیا کے لیے اخلاق کے اعلیٰ معیار کا عملی نمونہ بن جائیں، دنیا اُن کے اخلاق کے معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش اور خواہش کرے۔ پس
بطور وقفِ نَو آپ نے اپنے اخلاق کے اعلیٰ معیارحاصل کرنے ہیں۔
آپ کا خدا پر ایمان بہت مضبوط ہونا چاہیے۔ خدا کی توحید کے لیے آپ کے اندر ایک غیرت ہونی چاہیے۔
یاد رکھیں اسلام کی جڑتقویٰ ہے۔ پس آپ کے اندر تقویٰ ہونا چاہیے۔
حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے تقویٰ پر بہت زور دیا ہے۔ اگر ہمارے اندر تقویٰ ہوگا تو ہی ہمارے عمل میں اخلاص پیدا ہوگا۔ اگر ہمارے اعمال خدا کے لیے نہیں تو یہ خدا کی ناراضی کا موجب ہوں گے، اور دنیا دکھاوے کے لیے کیے جانے والے اعمال توویسے بھی منافقت ہیں۔
موجودہ زمانے میں ٹیکنالوجی کی ترقی سے جہاں انسانیت کو فائدہ ہو رہا ہے وہیں ان ذرائع سے انسان گناہوں کی طرف بھی راغب ہورہے ہیں۔ سوشل میڈیااور آن لائن کھیلوں میں مگن رہنا اخلاقی ابتری کا باعث بن رہا ہے۔ نَوجوانوں کے ذہنوں کو یہ سرگرمیاں آلودہ کر رہی ہیں، فحاشی کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کا غلط اور نامناسب استعمال ہمیں ہمارے پیدائش کے مقصد سے دُور لے جارہا ہے۔ ان برائیوں سے بچنے کے لیےضروری ہے کہ ہم اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم یہ کوشش کریں گے تو خدا سے اجر کے مستحق ہوں گے کیونکہ خدا نے قرآن کریم میں بڑا واضح فرمایا ہے کہ قد افلح المؤمنون۔ یعنی مومن کامیاب ہو گئے۔
حضرت مسیح موعودؑ نے کامیابی کی پہلی سیڑھی نماز کو قرار دیا ہے۔ پس نماز کی حفاظت کرنا، خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنا، خدا کی خوشنودی کے حصول کے لیے نماز ادا کرنا، یہ سب نہایت ضروری ہے۔
خلوصِ دل کے ساتھ یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی استعدادوں کو ایسے رنگ میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ آپ اُس کی رضا اور اُس کی خوشنودی کو حاصل کرسکیں۔ اس دَور میں جہاں لوگ بےصبری اور پریشانی کا اظہار کرتےنظر آتے ہیں، بطور واقفِ زندگی آپ کا فرض ہے کہ آپ معمولی معمولی باتوں پر شکوہ شکایت کرنے والے نہ ہوں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں یہ طریق سکھایا ہے کہ قرآن کریم سے روشنی حاصل کریں۔ جو شخص قرآن کریم کو پیشِ نظر رکھتا ہے وہ کبھی مایوس اور ناامید نہیں ہوسکتا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اوامر و نواہی کی بڑی واضح نشاندہی فرمائی ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی میں ان باتوں پر عمل درآمد کرے تو وہ لوگوں کے درمیان ممتاز طور پر دکھائی دے گا۔
بعض نَوجوانوں میں اپنے عقیدے کو لے کریہ احساسِ کمتری پیدا ہوجاتا ہےکہ اگر وہ اپنے عقیدے پر عمل کریں گے تو لوگوں کے درمیان تضحیک کا نشانہ بنیں گے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برخلاف ہے۔
اگر آپ اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم ہوں اور اس پر عمل کرنے والے ہوں تو معاشرے میں آپ کی پہچان اور عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے ماننے والوں کو حصولِ علم کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یاد رکھیں حقیقی علم تقویٰ سے حاصل ہوتا ہے۔ ڈاکٹرعبدالسلام صاحب کی مثال آپ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے اپنے علم کو قرآن کریم سے کشید کیا تھا۔ آج بھی بہت سے احمدی ماہرینِ فن ہیں جو اپنے اپنے شعبے میں کمال حاصل کر رہے ہیں مگر اس کے باوجود اب بھی اس حوالے سے بہت گنجائش موجود ہے۔ جماعت کو ایسے سکالرز تیار کرنے چاہئیں جو خداکی قدرتوں سے دنیا کو روشناس کروانے والے ہوں۔ جو اپنی تحقیق کے ذریعے دنیا کی راہ نمائی کرنے والے ہوں۔ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو جب نوبیل انعام ملا تو اُس وقت حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے جماعت میں حصولِ علم کی تحریک کو تیز کرنے کے لیے بڑے جامع منصوبے بنائے تھے، آپؒ کی بڑی خواہش تھی کہ احمدی طلبہ تحقیق اور تعلیم کے شعبے میں بہت مہارت حاصل کریں۔ مومن تو وہی ہے جو اپنی کوشش کے ساتھ دعا کو بھی شامل کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کی کوششوں کو پھل لگاتا ہے۔
سائنس اور مذہب کے درمیان کوئی تضاد نہیں۔ سائنس کی وجہ سے مذہب کو کبھی شرمندہ نہیں ہونا پڑا۔ منطق اور عقل بھی دراصل آسمان سے ہی اترتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کے ذہن کو جِلا بخشا کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ہماری یہی راہنمائی فرمائی ہے کہ بارش کا پانی اگر زرخیز زمین پر نازل ہو تو وہ سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے برخلاف اس کے کہ وہی بارش کا پانی کسی چٹیل میدان پر گرے تواس میں سےکوئی روئیدگی نہیں نکلتی۔ پس خدا ہی ہے جو انسان کے ذہن کو روشنی عطا کرتا ہے۔ وہ خشک ملاں جو مذہب اور سائنس کو متضاد سمجھتے ہیں حضورؑ نے ان کی تردید فرمائی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان اسلام کو سمجھ کر ہی صحیح طور پر سائنس اور منطق کو سمجھ سکتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو ہمیں حضرت مسیح موعودؑ نے سمجھائی ہے۔ یہ آپ سب واقفین کے لیے چیلنج ہے کہ آج جب دہریت کے دلدادہ اس فکر میں ہیں کہ خدا کی وحدانیت اور اس کی ہستی کو گہنا سکیں تو آپ نے اس کے برعکس سائنس کو ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت کے لیے ایک دلیل بنا دینا ہے۔ مذہب کے خلاف کیے جانے والے اعتراضات کو آپ نے دلیل اور منطق اور جدید تعلیم کے ذریعے دُور کرکے دکھانا ہے۔
آپ کاتعلق کسی بھی شعبہ سے ہو، آپ نے اُس شعبے میں اعلیٰ ترین کامیابی حاصل کرنی ہے اور پھر اُس کامیابی کے بعد لوگوں کو یہ بات سمجھانی ہے کہ آپ نے جو کچھ بھی حاصل کیا ہے اس کے لیے آپ نے خدا سے راہنمائی اور توفیق حاصل کی ہے۔
علمی ترقی سے آپ میں کبھی تکبر پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ حصولِ علم کے ساتھ اپنی عبادات کو کبھی فراموش نہ ہونے دیں۔
اہم بات یہ ہے کہ آپ نے پنجوقتہ نمازوں کی پابندی کرنی ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت کو روز کا معمول بنانا ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں کامطالعہ آپ کے روز کے معمول کا حصہ ہونا چاہیے۔ پھر دیگر جماعتی لٹریچر ہے،اسے بھی پڑھنا چاہیے۔
اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہمیشہ نرمی اور پیار سے پیش آئیں۔ اس طرح آپ کے گھر کا ماحول دوستانہ اور پیارو محبت والا بن جائے گا۔ حضورؑ نے ہمیں یہی سمجھایا ہے کہ ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے۔ تقویٰ کے حصول کے لیے ہمیشہ کوشاں رہیں۔ یہ تب ہی ہوسکتا ہے کہ جب آپ خدا کے حکموں پر عمل کرنے والے ہوں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ خدا کے انعامات کے حقدار ٹھہریں گے اور جنت نظیر معاشرے کے قیام میں اپنا حصہ ڈالنے والے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو توفیق دے کہ آپ اپنے وقف کے عہد کو نبھانے والے ہوں۔ خدا کے فضلوں کو پانے والے ہوں۔ آپ کے ذریعے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچے اور آپ ان تمام باتوں پر عمل کرنے والے ہوں جو مَیں نے آپ کے سامنے پیش کی ہیں۔
حضور انور کا خطاب پانچ بج کر ۵۵؍منٹ تک جاری رہا۔ بعدازاں حضور انور نے دعا کروائی۔ پانچ بج کر ۵۶؍منٹ پر حضور انور ایوان مسرور سے تشریف لے گئے-
اجتماع رپورٹ
حضور انور کے خطاب سے قبل عبد القدوس عارف صاحب نیشنل سیکرٹری وقف نو نے اجتماع رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیدی !خاکسار واقفینِ نو یوکے کی طرف سے، نہایت عاجزی کے ساتھ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا تہ دل سے شکر گزار ہے کہ حضور نے آج ہمارے نیشنل اجتماع کو ازراہِ شفقت برکت بخشی۔ ہم اس بات پر بھی انتہائی شکر گزار ہیں کہ ہمیں اسلام آباد کی مبارک سرزمین پر یہ اجتماع منعقد کرنے کی سعادت ملی۔ الحمدللہ، یہ ایک نہایت بابرکت تجربہ رہا۔
حضور کی دعاؤں سے یہ اجتماع واقفینِ نو کی تعلیم و تربیت پر مشتمل ایک جامع پروگرام کے تحت منعقد ہوا۔ اجتماع کا آغاز مکرم عابد خان صاحب کی افتتاحی تقریر سے ہوا، جس میں انہوں نے اس موضوع پر روشنی ڈالی کہ خلافت وقف کی زندہ روح اور کا عملی مظہر ہے۔ اس کے بعد شرکاء کو ان کی عمر کے مطابق مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا اور دن بھر ان کے لیے موزوں سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔
اطفال کے لیے پروگرام میں متعدد دلچسپ اور تعلیمی سرگرمیاں شامل تھیں، جن میں سائنس شو، وقف سے متعلق ’’ڈریگنز ڈین‘‘، جس میں اطفال نے ٹیموں کی صورت میں مختلف موضوعات پر خیالات تیار کیے اور انہیں ایک پینل کے سامنے پیش کیا، ٹیم کوئزز، اور تعلیمی مشقیں مثلاً ’’میرا وقف جرنل‘‘ شامل تھیں۔ ایک پوسٹر سرگرمی بھی منعقد کی گئی، جس میں کم عمر اطفال نے دینی موضوعات پر پوسٹرز تیار کیے اور حضورِ انور کے نام خطوط لکھے، جس سے ان میں خلافت کے ساتھ ذاتی تعلق مضبوط ہوا۔ انہوں نے گروپ مباحثوں اور ’’فیتھ فِٹ چیلنج‘‘ میں بھی حصہ لیا۔ مزید برآں، خدمتِ خلق کے عملی پہلو سے روشناس کرانے کے لیے انسانی ہمدردی اور آفات سے امداد سے متعلق ایک سرگرمی بھی منعقد کی گئی۔
پیارے حضور! بڑی عمر کے واقفینِ نو کے لیے پروگرام میں روحانیت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انہوں نے ایوان مسرور میں مختلف پریزنٹیشنز میں شرکت کی، جن میں تبلیغ و تربیت میں ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے کردار پر ایک نشست، اور ’’وقفِ نو: ٹائٹل یا ذمہ داری‘‘ کے عنوان سے ایک سیشن شامل تھا، جس میں حضورِ انور کی یہ راہنمائی پیش کی گئی کہ وقفِ نو محض ایک اعزازی لقب نہیں بلکہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جسے عملی طور پر ادا کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جامعہ احمدیہ کا تعارف بھی پیش کیا گیا۔
پیارے حضور! مزید نشستوں میں مرکز کی جانب سے مکرم لقمان کشور صاحب نے راہنمائی فراہم کی۔ نیز نومبائعین کے ایمان افروز واقعات بھی پیش کیے گئے، جن میں مکرم جوناتھن بٹرورتھ صاحب اور مکرم حمزہ الیاس صاحب نے اسلام احمدیت قبول کرنے کے اپنے ذاتی تجربات بیان کیے۔
پیارے حضور! اعتراضات کے جوابات پر مشتمل ایک سوال و جواب کی نشست مکرم آصف باسط صاحب کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس کے بعد مکرم امیر صاحب کے ساتھ ایک خصوصی نشست ہوئی، جس میں انہوں نے خلافت سے حاصل ہونے والی خصوصی راہنمائی واقفین کے ساتھ شیئر کی۔
پیارے حضور! اس سال کے اجتماع کا مرکزی موضوع ’’نماز‘‘ تھا، جو ہمارے ایمان کا ستون ہے۔ یہ موضوع تمام تقاریر اور نمائش میں نمایاں طور پر منعکس ہوا۔ دن کی سب سے بابرکت اور نمایاں سعادت حضورِ انور کی اقتدا میں مسجد مبارک میں نماز ظہر و عصر ادا کرنا تھا۔
میرے پیارے حضور! میں اجتماع کمیٹی کے تمام اراکین کا تہ دل سے شکر گزار ہوں، جن کی قیادت مکرم عاطف خلیل صاحب نے بطور ناظمِ اعلیٰ کی۔ میں ان تمام افراد کی کوششوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں جنہوں نے ورکشاپس کا انعقاد کیا۔ نیز اسلام آباد انتظامیہ، جماعت احمدیہ یوکے، ضیافت ٹیم اور ایم ٹی اے ٹیم کی گرانقدر معاونت پر بھی بے حد شکر گزار ہوں۔ پرنسپل صاحب جامعہ احمدیہ یوکے اور امیر صاحب یوکے کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔
میرے پیارے حضور! اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال کے اجتماع میں واقفینِ نو کی کل حاضری ۲۱۴۴ رہی، جو کہ تجنید کا ۶۲ فیصد بنتا ہے، جبکہ ۲۰۲۵ء میں یہ شرح ۴۴ فیصد تھی۔ مہمانوں سمیت کل حاضری تقریباً ۲۷۰۰ رہی۔
پیارے حضور! ہم تمام واقفینِ نو حضورِ انور کے بے حد شکر گزار ہیں کہ حضور نے ہم پر اپنی بے پایاں محبت اور شفقت نچھاور فرمائی اور اپنی بابرکت موجودگی سے ہمیں نوازا۔ ہم حضور کے نہایت شکر گزار ہیں کہ حضور نے ہمیں اسلام آباد میں یہ اجتماع منعقد کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے اور اپنے پیارے حضور کی توقعات پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آخر میں، میں ایک مرتبہ پھر حضورِ انور کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور عاجزانہ درخواست دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور کا سچا سلطان نصیر بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
٭…٭…٭