تازہ ترین: اگر ہم جلد از جلد فتح چاہتے ہیں تو ہمیں متقی بننا ہوگا (خلاصہ خطبہ عید الاضحیٰ ۲۰۲۶ء)

٭…صرف بکرے ذبح کرنے سے عیدالاضحیٰ منانے کا مقصد پورا نہیں ہوجاتا۔ ہاں بکرا ذبح کرنا ایک ظاہری عمل ہے جو انسان کویاد دلاتا ہے کہ تم نے بھی قربانی کر کے اپنی اصلاح کرنی ہے۔ تقویٰ پر چلنا ہے، اپنی روحوں کو پاک صاف کرنا ہے اور اُن باتوں پر عمل کرنا ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی ہے
٭…اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ دلوں میں پاکیزگی پیدا ہو۔ اگر دلوں میں پاکیزگی نہیں ہے تو ان قربانیوں کی عید منانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے
٭…اگر ہم جلد از جلد فتح چاہتے ہیں تو ہمیں متقی بننا ہوگا۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کرنی ہو گی۔ اپنے اخلاق اور باہمی تعلقات کی حفاظت کرنا ہوگی اور دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیداکرنا ہوگا
٭…بعض جگہوں پرسخت حالات ہیں لیکن اس کے باوجود کیونکہ ہم خدا کی خاطر یہ عید منا رہے ہیں اس لیے ہمیں ان قربانیوں کو بھی خوشی سے قبول کرنا چاہیے۔ جب ہم انہیں خوشی سے قبول کریں گے تو اللہ تعالیٰ بھی انہیں خوشی سے قبول فرمائے گا۔
٭…پاکستان کے احمدیوں، اسیران راہ مولیٰ، شہدائے احمدیت کی نسلوں نیز دنیا بھر کے احمدیوں کے لیے دعا کی تحریک
(اسلام آباد، ٹلفورڈ، ۲۷/مئی ۲۰۲۶، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) آج مورخہ ۱۰؍ذو الحجہ برطانیہ میں عید الاضحیٰ منائی جا رہی ہے۔ اسی طرح آج ۲۷؍مئی بھی ہے جو جماعتِ احمدیہ میں یوم خلافت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
اس موقع پر جماعت احمدیہ کا مرکزی اجتماع مسجد مبارک اسلام آباد ٹلفورڈ میں منعقد ہوا جہاں پانچ ہزار سے زائد افرادِ جماعت نے امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی کی اقتدا میں نماز عید ادا کی۔
کئی روز قبل عید کی تیاریوں میں خدام نے بھر پور وقار عمل کیا اور رات کو ہی انتظامات کافی حد تک مکمل ہو چکے تھے۔ اسی طرح آج صبح سے خدام احباب جماعت کی آمد سے قبل ہی اپنی مفوضہ ڈیوٹیاں ادا کرتے دکھائی دیتے رہے۔ برطانیہ میں گذشتہ کئی روز سے غیر معمولی گرمی پڑ رہی ہے۔ گرمی کی شدت کو پیش نظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے اسلام آباد میں مختلف مقامات پر پانی کے سٹالز کا انتظام کیا ہوا تھا نیز ہیٹ سٹروک سے بچاؤ کے لیے سکیننگ اور دیگر داخلی مقامات پر حفظ ما تقدم کے طور پر ہومیو پیتھی ادویات دینے کا انتظام بھی موجود تھا۔ اس مرتبہ خواتین کے لیےنماز عید ادا کرنے کے لیے ایوان مسرور کو مکمل طور پر مختص کیا گیا تھا جبکہ مرد حضرات کے overflow کے لیے اسلام آباد کے گراؤنڈ میں نصب کی گئی مارکی میں نماز عید ادا کرنے کا انتظام تھا۔
نماز عید کی امامت کے لیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ دس بج کر ۳۱؍منٹ پر مسجد مبارک میں تشریف لائے۔ سنت نبوی کی متابعت میں حضور انور نے پہلی رکعت میں سورة الاعلیٰ جبکہ دوسری رکعت میں سورة الغاشیة کی تلاوت فرمائی۔ بعد ازاں دس بج کر ۴۳؍منٹ پر حضور منبر پر رونق افروز ہوئے اور خطبہ عید ارشاد فرمایا۔
خلاصہ خطبہ عید الاضحیٰ
تشہد،تعوذ ،سورة الفاتحہ اور سورة الحج آیت۳۸ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یاد رکھو کہ ان قربانیوں کے گوشت اور خون ہرگز اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچتے لیکن تمہارے دل کاتقویٰ اللہ تک پہنچتا ہے۔ درحقیقت اس طرح اللہ نے ان قربانیوں کو تمہاری خدمت میں لگا دیا ہے تاکہ تم اللہ کی ہدایت کی وجہ سے اُس کی بڑائی بیان کرو۔ اور تُواسلام کے احکام کو پوری طرح ادا کرنے والوں کو بشارت دے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ قانونِ قدرت قدیم سےایسا ہی ہےکہ یہ سب کچھ معرفتِ کاملہ کےبعد ملتا ہے۔ خوف اور محبت اور قدردانی جڑ معرفتِ کاملہ ہے۔ پس جس کو معرفتِ کاملہ دی گئی اس کو خوف اور محبت بھی کامل دی گئی، اور جس کو خوف اور محبت کامل دی گئی ہے اس کو ہر ایک گناہ سے جو بےباکی سے پیدا ہوتا ہے نجات دی گئی۔ ہم اس نجات کے لیے نہ کسی خود کے محتاج ہیں اور نہ کسی صلیب کے حاجت مند، نہ کسی کفارے کی ہمیں ضرورت ہے بلکہ صرف ایک قربانی کے محتاج ہیں جو اپنےنفس کی قربانی ہے، جس کی ضرورت کو ہماری فطرت محسوس کر رہی ہے۔ ایسی قربانی کا دوسرے لفظوں میں نام اسلام ہے۔ اسلام کے معنی ہیں ذبح ہونے کے لیے گردن آگے رکھ دینا۔
فرمایا:
دلوں کی پاکیزگی سچی قربانی ہے۔ گوشت اور خون سچی قربانی نہیں۔ جس جگہ عام لوگ جانوروں کی قربانی کرتے ہیں خاص لوگ دلوں کو ذبح کرتے ہیں اور خدا نے یہ ظاہری قربانیاں اس لیے بند نہیں کیں تامعلوم ہو کہ ان قربانیوں کا بھی انسان سے تعلق ہے۔
فرمایا: ظاہری نماز اور روزہ اگر اُس کے ساتھ صدق نہ ہو تو کوئی خوبی اپنے اندر نہیں رکھتا۔ جوگی اور سنیاسی بھی اپنی جگہ بڑی ریاضتیں کرتے ہیں…لیکن یہ ظاہری تکلیفیں ان کو کوئی نُور نہیں بخشتیں اور نہ کوئی سکینت اور اطمینان ان کو ملتا ہے… پس
اللہ تعالیٰ کو تقویٰ پہنچتا ہے اور حقیقت میں اللہ تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ مغز چاہتا ہے۔
پس
صرف بکرے ذبح کرنے سے عیدالاضحیٰ منانے کا مقصد پورا نہیں ہوجاتا۔ ہاں بکرا ذبح کرنا ایک ظاہری عمل ہے جو انسان کویاد دلاتا ہے کہ تم نے بھی قربانی کر کے اپنی اصلاح کرنی ہے۔ تقویٰ پر چلنا ہے، اپنی روحوں کو پاک صاف کرنا ہے اور اُن باتوں پر عمل کرنا ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی ہے۔
تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ یہی ہے کہ نمازوں کی اُن کے وقت پر صحیح ادائیگی کی جائے۔ نمازیں پڑھتے ہوئے اگر توجہ اِدھر اُدھر ہوجائے تو دوبارہ خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے توجہ نماز کی طرف کی جائے۔ انسان جو الفاظ ادا کر رہا ہے، خواہ وہ مسنون دعائیں ہیں یا قرآنی الفاظ ہیں، اُن پر غور کرے اور پھر اللہ تعالیٰ سے مانگے کہ وہ اسے ان سے فیضیاب کرے۔

حقوق العباد کے ضمن میں حضورؑ نے فرمایا کہ تم تقویٰ اختیارکرو۔ تقویٰ یہی ہے کہ ایک دوسرے سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ کسی سے غرور نہ کرو، کسی کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھو۔ کسی کا چڑ کر نام نہ لو اور کسی سے غلط قسم کے جھگڑے نہ کرو۔ زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کرو۔ خدا کے کلام سے یہی پایا جاتا ہے کہ متقی وہی ہوتا ہے جو غریبی اور مسکینی سے چلتے ہیں۔ وہ مغرورانہ گفتگو نہیں کرتے بلکہ اُن کی گفتگو ایسے ہوتی ہے جیسے چھوٹا بڑے سے گفتگو کر رہا ہو۔
پس
اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ دلوں میں پاکیزگی پیدا ہو۔ اگر دلوں میں پاکیزگی نہیں ہے تو ان قربانیوں کی عید منانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
پس
اصل چیز تقویٰ ہے اور تقویٰ کے لیے اصل چیز یہ ہے اپنے اخلاق اچھے کرو اور اپنی عبادتوں کے معیار بڑھاتے چلے جاؤ۔
حضورؑ نے فرمایا کہ قبولیتِ دعا کا سُرور بھی تمہیں تب ہی ملے گا جب تم اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والے ہو گے۔ جب تک تم تقویٰ کی راہوں پر قدم نہیں مارو گے تب تک تم دعاؤں کی قبولیت کا فائدہ نہیں اٹھا سکو گے اور نہ اس کا اثر دیکھ سکو گے۔ تقویٰ کی راہیں یہی ہیں کہ اللہ کا حق بھی پورا کرو اور اس کے بندوں کے حقوق بھی پورے ادا کرو۔
جب ہم کہتے ہیں کہ تقویٰ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہےتو تقویٰ کس طرح اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے؟ حضورؑ فرماتےہیں کہ اپنے اخلاق ہمسایوں سے بھی درست کرو۔ جو شخص اپنے ہمسائے کو اپنے اخلاق میں درستی دکھلاتا ہے کہ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے وہ گویا ایک کرامت دکھاتا ہے۔
آپؑ نے فرمایا کہ ہر ایک قسم کے ظاہری اور مخفی بتوں سے اپنے دل اور سینے پاک کرو۔ اس کے بغیر انسان تقویٰ حاصل نہیں کرسکتا۔ دینی علم حاصل کرو اور پھر اس کو پھیلاؤ کہ یہی تقویٰ ہے۔ پھر جہاں تک اللہ تعالیٰ کے خوف کا تعلق ہے تو اس کے لیے جہاں فرض نمازوں کی طرف توجہ کرنی چاہیے وہیں تہجد اور نوافل کی طرف بھی توجہ کرو۔
اگر تم فتح چاہتے ہو تو متقی بن جاؤ کیونکہ متقی بنے بغیر تمہاری فتح نہیں ہوسکتی۔
پس
اگر ہم جلد از جلد فتح چاہتے ہیں تو ہمیں متقی بننا ہوگا۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کرنی ہو گی۔ اپنے اخلاق اور باہمی تعلقات کی حفاظت کرنا ہوگی اور دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیداکرنا ہوگا۔
فرمایا: تقویٰ اس کو بھی کہتے ہیں کہ اپنے اخلاق اور اعمال میں ترقی کرو۔ فرمایا مجھے بار بار یہ الہام ہوا کہ تم لوگ متقی بن جاؤ۔ یعنی تمہاری جماعت کے لوگ متقی بن جائیں۔ تم لوگ تقویٰ کی باریک راہوں پر چلو تو خدا تمہارے ساتھ ہوگا۔ فرمایا
میرے دل میں بڑا درد پیدا ہوتا ہے کہ مَیں کیا کروں کہ ہماری جماعت سچا تقویٰ اور طہارت اختیار کرلے۔
جب تک کوئی جماعت خدا تعالیٰ کی نگاہ میں متقی نہ بن جائے خدا تعالیٰ کی نصرت اس کےشاملِ حال نہیں ہوسکتی۔
فرمایا: چاہیے کہ تقویٰ خالص ہو اور اس میں شیطان کا کچھ حصّہ نہ ہو ورنہ شرک خدا کو پسند نہیں۔… خدا کے پیاروں کو جو دکھ آتا ہے وہ مصلحتِ الہٰی سے آتا ہے۔ ورنہ ساری دنیا اکٹھی ہوجائے تو ان کو ایک ذرّہ بھر تکلیف نہیں دے سکتی کیونکہ وہ دنیا میں نمونہ قائم کرنے کے لیے آتےہیں۔ یہ تکلیفیں اس لیے آتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ آزمانا چاہتا ہے کہ آیاتمہارے اندر قربانی کی روح ہے بھی یا نہیں اور یہی تقویٰ ہے ۔
فرمایا: جب تک واقعی طور پرانسان پر بہت سی موتیں نہ آجائیں وہ متقی نہیں بنتا۔ فرمایا: تم الہامات اور رؤیا کے پیچھے نہ پڑو بلکہ حصولِ تقویٰ کے پیچھے لگو۔
حضورِانور نے فرمایا کہ
یہ چند باتیں ہیں جو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئیں اور یہ وہ سبق ہے جو عیدِ قربان ہمیں دیتی ہے۔ اگر ہم ان باتوں کی طرف توجہ نہیں دیں گے تو یہ قربانیاں ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں۔ صرف قربانیاں کرنا اس بات کا کوئی معیار نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہوگیا ہے بلکہ اصل چیز یہ ہے کہ ان قربانیوں کے ساتھ ہم میں یہ روح پیداہوجائے کہ ہم اپنی جان مال وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہیں ۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ہوں اور عید قربان ہمیں یہ سبق دے کہ ہم نے حقیقت میں دین کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار رہنا ہے۔ ہم نے اپنی عبادتوں اور اخلاق کے معیار بڑھانے ہیں، دشمنوں کو بھی اپنے اعلیٰ اخلاق سے اپنا گرویدہ کرنا ہے۔ تبلیغ کے میدان میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہی ہدایت ہے کہ اگر تم اعلیٰ اخلاق دکھاؤ گے تو تمہارے دشمن بھی تمہارے گرویدہ بن سکتے ہیں۔پس یہ وہ باتیں ہیں جن کی طرف ہمیں توجہ دینی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی عید منانے کی توفیق عطا فرمائے۔ قربانیوں کی اہمیت کو سمجھنے اور اعلیٰ اخلاق پر قائم ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر لحاظ سے ہمیں وہ لوگ بننے کی توفیق عطا فرمائے جو اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں حضرت مسیح موعودؑ بنانا چاہتے ہیں۔ ہم ہر حالت میں تقویٰ پر چلنے والے ہوں۔ آمین
اب ہم دعا کریں گے۔
دعا میں سب سے پہلے پاکستان کے اُن احمدیوں کو یاد رکھیں
جو ظالمانہ قانون کی وجہ سے جان اور مال کی قربانی تو دے رہے ہیں لیکن ان کی عبادتوں پر روکیں ہیں، پابندیاں ہیں؛ عید پڑھنے پر پابندیاں ہیں۔ جانوروں کی قربانیاں کرنا تو دُور کی بات ہے وہ گھر میں چاردیواری کے اندر بھی عید کی نماز نہیں پڑھ سکتے۔ اس پر بھی روک ہے۔ جن کو توفیق ہے قربانیاں کرنے کی وہ بھی اس سے محروم ہیں، چاہے گھر کے اندر ہی قربانیاں دے رہے ہوں۔ یہ بھی ان کے لیے بہت بڑا جرم ہے اور انتطامیہ حرکت میں آجاتی ہے۔ پولیس کے پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں جیسے انہوں نے بہت بڑا جرم کردیا ہو اور جو اصل مجرم ہیں جنہوں نے ملک میں فساد پیداکیا ہوا ہے انہیں پکڑنے والا کوئی نہیں ہے اور وہ آزادانہ طور پر اپنی من مانیاں کرتے پھر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ پاکستانی احمدیوں کے حالات بہتر کرے۔ انہیں ان ظلموں سے نجات دے اور اُن کی یہ قربانیاں قبول فرمائے۔
اسی طرح اسیران کے لیے دعاکریں
وہ لوگ بھی بہت بڑی قربانیاں دے رہے ہیں۔
شہداء کی نسلوں کے لیے دعاکریں۔
اللہ تعالیٰ انہیں اپنے باپ داداؤں کی قربانیوں کا پاس رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
کُل دنیا کے احمدیوں کے لیے دعا کریں۔
اللہ ہر ایک کے ایمان کو مضبوط کرے اور ہمارے تقویٰ کے معیار کو بڑھاتا چلا جائے۔
اس کے ساتھ ہی مَیں سب کو عید مبارک کہتا ہوں۔
بعض جگہوں پرسخت حالات ہیں لیکن اس کے باوجود کیونکہ ہم خدا کی خاطر یہ عید منا رہے ہیں اس لیے ہمیں ان قربانیوں کو بھی خوشی سے قبول کرنا چاہیے۔ جب ہم انہیں خوشی سے قبول کریں گے تو اللہ تعالیٰ بھی انہیں خوشی سے قبول فرمائے گا۔
آج پاکستان میں بھی عید ہوئی ہے لیکن بہت ساری جگہوں پراحمدیوں کو گھروں میں چھپ کر عید پڑھنی پڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان ظلموں کو دُور کرے اور ہم حقیقی قربانیاں دینے والے ہوں۔ آمین
خطبہ ثانیہ کے بعد گیارہ بج کر ۲۷/ منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اجتماعی دعا کروائی- نماز عید کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ان مقامات میں سے بعض پر تشریف لے گئے جہاں اسلام آباد میں نماز عید ادا کی گئی اور اس طرح مرد و خواتین کو اپنے پیارے امام کی زیارت نصیب ہوئی۔
ادارہ الفضل انٹرنیشنل کی جانب سے حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاور تمام احبابِ جماعت احمدیہ عالمگیر کوعید کی مبارکباد پیش ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اپنے پیارے امام کے ارشادات کی پیروی میں قربانی کی حقیقت کو سمجھنے اورحقیقی عید منانے کی توفیق پائیں۔ آمین
٭…٭…٭
