تقدیر کے معنے اندازہ کرنا ہے
واضح رہے کہ تقدیر کے معنے صرف اندازہ کرنا ہے جیسے کہ اللہ جلّ شانہ ٗفرماتا ہے وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيرًا (الفرقان:۳)یعنی ہر ایک چیز کو پیدا کیا تو پھر اس کے لئے ایک مقرر اندازہ ٹھہرا دیا اس سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ انسان اپنے اختیارات سے روکا گیا ہے بلکہ وہ اختیارات بھی اسی اندازہ میں آگئےجب خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت اور انسانی خوئے کا اندازہ کیا تو اس کا نام تقدیر رکھا۔ اور اسی میں یہ مقرر کیا کہ فلاں حد تک انسان اپنے اختیارات برت سکتا ہے یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ تقدیر کے لفظ کو ایسے طور پر سمجھا جائے کہ گویا انسان اپنے خدادا د قویٰ سے محروم رہنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔اِس جگہ تو ایک گھڑی کی مثال ٹھیک آتی ہے کہ گھڑی کا بنانے والا جس حد تک اس کا دَور مقرر کرتا ہے اس حد سے وہ زیادہ چل نہیں سکتی۔یہی انسان کی مثال ہے کہ جو قویٰ اس کو دیئے گئے ہیں اُن سے زیادہ وہ کچھ کر نہیں سکتا اور جو عمر دی گئی ہے اس سے زیادہ جی نہیں سکتا۔
(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۳۲)
مزید پڑھیں: درود شریف حصولِ استقامت کا ایک زبر دست ذریعہ ہے



