کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

اعمال نیت پر منحصر ہیں

خدا تعالیٰ کا یہ سچا وعدہ ہے کہ جو شخص صدقِ دل اور نیک نیتی کے ساتھ اس کی راہ کی تلاش کرتے ہیں وہ ان پر ہدایت و معرفت کی راہیں کھول دیتا ہے جیسا کہ اس نے خود فرمایا ہے وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں ہم میں ہوکر سے یہ مراد ہے کہ محض اخلاص اور نیک نیتی کی بنا پر خدا جُوئی اپنا مقصد رکھ کر لیکن اگر کوئی استہزا اور ٹھٹھے کے طریق پر آزمائش کرتا ہے وہ بدنصیب محروم رہ جاتا ہے پس اسی پاک اصول کی بنا پر اگر تم سچے دل سے کوشش کرو اور دعا کرتے رہو تو وہ غفور الرحیم ہے لیکن اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی پروا نہیں کرتا وہ بے نیاز ہے۔

(ملفوظات جلد۶ صفحہ۱۵۴، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

بخاری کی پہلی حدیث یہ ہے اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ اعمال نیت ہی پر منحصر ہیں صحت نیت کے ساتھ کوئی جرم بھی جرم نہیں رہتا۔قانون کو دیکھو اس میں بھی نیت کو ضروری سمجھا ہے۔… ہر ایک کام میں نیت پر بہت بڑا انحصار ہے اسلام میں یہ مسئلہ بہت سے امور کو حل کر دیتا ہے۔

پس اگر نیک نیتی کے ساتھ محض خدا کے لئے کوئی کام کیا جاوے اور دنیا داروں کی نظر میں وہ کچھ ہی ہو تو اس کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔

(ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۳۸۶، ایڈیشن ۱۹۸۸ء)

ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میرا بھائی فوت ہو گیا ہے۔میں اس کی قبر پکّی بناؤں یا نہ بناؤں؟ فرمایا: ’’اگر نمود اور دکھلاوے کے واسطے پکّی قبریں اور نقش و نگار اور گنبد بنائے جائیںتو یہ حرام ہے۔لیکن اگر خشک ملّا کی طرح یہ کہا جائے کہ ہر حالت اور ہر مقام میں کچی ہی اینٹ لگائی جائے تو یہ بھی حرام ہے۔اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِعمل نیت پر موقوف ہے۔ہمارے نزدیک بعض وجوہ میں پکی کرنا درست ہے۔مثلاً بعض جگہ سیلاب آتا ہے۔ بعض جگہ قبر میں سے میّت کو کتے اور بجّو وغیرہ نکال لے جاتے ہیں۔ مردے کے لئے بھی ایک عزت ہوتی ہے۔ اگر ایسے وجوہ پیش آجائیں تو اس حد تک کہ نمود اور شان نہ ہو بلکہ صدمہ سے بچانے کے واسطے قبر کا پکا کرنا جائز ہے۔ اللہ اور رسولؐ نے مومن کی لاش کے واسطے بھی عزت رکھی ہے ورنہ عزت ضروری نہیں توغسل دینے،کفن دینے، خوشبو لگانے کی کیا ضرورت ہے۔مجوسیوں کی طرح جانوروں کے آگے پھینک دو ۔مومن اپنے لئے ذلّت نہیں چاہتا۔حفاظت ضروری ہے۔ جہاں تک نیت صحیح ہے۔خد اتعالیٰ مؤاخذہ نہیں کرتا۔دیکھو۔ مصلحت الٰہی نے یہی چاہا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کا پُختہ گنبد ہو۔ اور کئی بزرگوں کے مقبرے پُختہ ہیں۔مثلاً نظام الدین، فریدالدین،قطب الدین،معین الدین رحمۃاللہ علیہم یہ سب صلحاء تھے۔‘‘

(ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۲۹۲-۲۹۳، ایڈیشن ۱۹۸۴ء)

مزید پڑھیں: یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی لوگ زور دے رہے ہیں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button