اے میرے سانسوں میں بسنے والو!

(منظوم کلام حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ علیہ۔ جلسہ سالانہ یو کے ١٩٨٦ء پر پڑھا گیا)
دیارِ مغرب سے جانے والو! دیارِ مشرق کے باسیوں کو
کسی غریب الوطن مسافر کی چاہتوں کا سلام کہنا
ہمارے شام و سحر کا کیا حال پوچھتے ہو کہ لمحہ لمحہ
نصیب اِن کا بنا رہے ہیں تمہارے ہی صبح و شام کہنا
تمہاری خوشیاں جھلک رہی ہیں مرے مقدّر کے زائچے میں
تمہارے خونِ جگر کی مے سے ہی میرا بھرتا ہے جام کہنا
الگ نہیں کوئی ذات میری، تمہی تو ہو کائنات میری
تمہاری یادوں سے ہی مُعَنوَن ہے زیست کا انصرام کہنا
اے میرے سانسوں میں بسنے والو! بھلا جدا کب ہوئے تھے مجھ سے
خدا نے باندھا ہے جو تعلق رہے گا قائم مدام کہنا
تمہاری خاطر ہیں میرے نغمے، مری دعائیں تمہاری دولت
تمہارے درد و اَلم سے تر ہیں مرے سجود و قیام کہنا
تمہیں مٹانے کا زعم لے کر اُٹھے ہیں جو خاک کے بگولے
خدا اُڑا دے گا خاک اُن کی، کرے گا رُسوائے عام کہنا
(کلام طاہر صفحہ۲۶و۲۷)
مزید پڑھیں: خدامِ احمدیت




